• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ فرشتوں کا بیان
(۱۳۵۶)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا اور وہ صادق مصدوق تھے :۔ '' تم میں سے ہر شخص کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں تمام کی جاتی ہے۔ چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے پھر اتنے ہی عرصے تک منجمد خون رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک مضغہ گوشت (لو تھڑا) کا رہتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ، فرشتہ بھیجتا ہے۔ اور اسے چار باتوں (کے لکھنے) کا حکم دیا جاتا ہے (۱) اسے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل (۲) اس کا رزق (۳) اس کی عمر (۴) اور (یہ لکھ دے کہ) شقی ہے یا سعید (یعنی خوش بخت ہے یا بدبخت) پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ پس بے شک تم میں سے کوئی شخص (ایسا) عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز (فاصلہ) رہ جاتا ہے پھر اس پر (اللہ کا) نوشتہ (لکھی ہوئی تقدیر) غالب آ جاتا ہے اور وہ وہ دوزخیوں والے عمل کرنے لگتا ہے اور کوئی شخص ایسا عمل کرتا ہے کہ اس کے دوزخ کے درمیں صرف ایک گز (کا فاصلہ) باقی رہ جاتا ہے پھر اس پر اللہ کا نوشتہ (تقدیر) غالب آ جاتا ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے۔ ''

(۱۳۵۷)۔ سیدنا ابو ہریر ہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں شخص کو دوست رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس کو دوست رکھو۔ پس جبریل (علیہ السلام) اس کو دوست رکھنے لگتے ہیں۔ پھر جبریلؑ تمام آسمان والوں میں اعلان کر دیتے ہیں کہ اللہ فلاں شخص کو دوست رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس کو دوست رکھو چنانچہ اس کو تمام آسمان والے دوست رکھتے ہیں پھر زمین (والو ں) میں اس کی قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ ''

(۱۳۵۸)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:'' فرشتے بادل میں اترتے ہیں اور آسمان پر ، اللہ تعالیٰ کے جو حکم احکام (اس دن ہوئے) ان کا ذکر کرتے ہیں۔ پس شیاطین چھپ کر اسے سن لیتے ہیں اور کاہنوں سے آ کر بیان کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کچھ جھوٹ بھی اپنی طرف سے ملا لیتے ہیں۔ ''

(۱۳۵۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے :'' جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے (متعین) ہوتے ہیں اور وہ سب سے پہلے جو آیا اس کا ، پھر اس کے بعد جو آیا اس کا (اسی طرح برابر سب کے نام) لکھتے ہیں۔ پھر جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو وہ صحیفوں کو لپیٹ دیتے ہیں اور خطبہ سننے کے لیے آ جاتے ہیں۔ ''

(۰ ۱۳۶)۔ سیدنا براءؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے حسان (بن ثابت) رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا :۔ '' تم مشرکوں کی ہجو کر و اور جبریل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں :''

(۱۳۶۱)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایا :'' اے عائشہ ! یہ جبریل علیہ السلام تم کو سلام کہتے ہیں۔ '' تو انھوں نے کہا و علیکم السلام رحمۃ اللہ و برکاتہ ، آپ (ﷺ) وہ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھتی۔ '' ترٰی '' سے نبیﷺ کو مراد رکھا۔

(۱۳۶۲)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے جبریل علیہ السلام سے کہا :'' جس قدر اب تم ہمارے پاس آتے ہو اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ ابن عباسؓ کہتے ہیں پس یہ آیت نازل ہوئی '' اور ہم نہیں نازل ہوتے مگر تمہارے پروردگار کے حکم سے ، اسی کا ہے جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور ہمارے پیچھے ہے ''(سورۂ مریم : ۶۴)
(۱۳۶۳)۔ سیدنا ابن عباسؓ روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' مجھے جبریل علیہ السلام نے ایک قرأت میں قرآن پڑھایا تھا پھر میں برابر ان سے زیادہ چاہتا رہا یہاں تک کہ سات قرأتوں تک پہنچ
گیا :''

(۱۳۶۴)۔ سیدنا یعلیٰؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو منبر پر یہ آیت (سورۂ زخرف :۷۷) پڑھتے ہوئے سنا '' اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک۔ ''(مالک نام ہے داروغہ جہنم کا)

(۱۳۶۵)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبیﷺ سے پوچھا کیا احد سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپﷺ پر آیا ہے تو آپﷺ نے فرمایا :'' میں نے تمہاری قوم (قریش) سے جو جو تکالیف اٹھائی ہیں وہ میرا ہی دل جانتا ہے اور سب سے زیادہ سخت دن مجھ پر مقام عقبہ (جو طائف کی طرف ہے) کا دن گز را ہے جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبد کلال (جو طائف کا ریئس تھا) کے سامنے پیش کیا اور اس نے میری خواہش پوری نہ کی پس میں نہایت رنج میں چلا ، میں اپنے ہو ش میں نہ آیا تھا کہ قرن الثعالب (مقام) میں پہنچا۔ اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ابر کے ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کر لیا ہے پھر میں نے دیکھا تو اس میں جبریل (علیہ السلام) تھے۔ انھوں نے مجھے آواز دی کہ اللہ نے آپ کی قوم کی گفتگو سن لی اور وہ جواب جو انھوں نے آپ کو دیا اور اللہ نے آپ کے پاس پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ہے ، آپ اس کو کافروں کی نسبت جو چاہیں حکم دیں۔ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی ، مجھے سلام کیا ، اس کے بعد کہا کہ اے محمد ! جو تم چاہو موجود ہے ، اگر تم چاہو تو میں اخشبین (نامی دونوں پہاڑ) ان پر رکھ دوں ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' نہیں ! میں یہ نہیں چاہتا بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی پشت سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اللہ عزوجل کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے۔

(۱۳۶۶)۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ اس آیت '' پس دو کمانوں کے بقدر فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم ، پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچا ئی جو بھی پہنچائی '' کا مطلب بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے جبریل علیہ السلام کو (ان کی اصلی شکل میں) دیکھا تھا ان کے چھ سو پر تھے۔ (سورۂ النجم : ۹۔ ۱۰)

(۱۳۶۷)۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ (سورۃ النجم آیت:۱۸کہ)'' بے شک انھوں نے اپنے پروردگار کی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ '' (کا مطلب یہ ہے کہ) نبیﷺ نے ایک سبز بچھونا دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو ڈھانک دیا تھا۔ ''(اس پر جبریل علیہ السلام بیٹھے تھے یا ان کے پر تھے)۔

(۱۳۶۸)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ جو شخص خیال کرتا ہے کہ محمدﷺ نے اپنے پروردگار کو دیکھا تو اس نے برا خیال کیا بلکہ آپﷺ نے جبریل علیہ السلام کو ان کی (اصلی) صورت و خلقت میں دیکھا تھا جنہوں نے آسمان کے کنارے بھر دیے تھے۔

(۱۳۶۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جب خاوند اپنی بیوی کو ہم بستری کے لیے بلائے اور وہ انکار کرے پھر وہ (خاوند) ناخوش ہو کر سو جائے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے ہیں۔ ''

(۱۳۷۰)۔ سیدنا ابن عبا سؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جس رات مجھے معراج ہوئی ، میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایک گندمی رنگ ، دراز قامت اور پیچ دار بالوں والے آدمی ہیں ، جیسے قبیلۂ شنوء ۃ کے لو گ ہوتے ہیں۔ اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا کہ وہ میانہ قامت ، میانہ بدن ، سرخ سفید ، سیدھے بالوں والے آدمی ہیں اور میں نے اس فرشتے کو بھی دیکھا جو دوزخ کا داروغہ ہے۔ اور دجال کو بھی منجملہ اور آیات الٰہی کے دیکھا جو اللہ نے مجھے (اس روز) دکھائیں۔ اور (سورۂ سجدہ :۲۳میں) جو ہے '' آپﷺ کو ہر گز اس ملاقات میں شک نہیں کر نا چاہیے'' (اس سے مراد معراج کی رات موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہے)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جنت کے بیان میں کیا وارد ہوا ہے ؟ اور یہ کہ وہ پیدا ہو چکی ہے
(۱۳۷۱)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس (ہر روز) اس کا مقام صبح و شام دکھایا جاتا ہے ، اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو جنت میں اسے اس کا مقام دکھایا جاتا ہے۔ اور اگر وہ اہل دوزخ میں سے ہو تا دوزخ میں اسے اس کا مقام دکھایا جاتا ہے۔ ''

(۱۳۷۲)۔ سیدنا عمر ان بن حصینؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:'' میں نے جنت میں دیکھا تو وہاں کے لوگوں میں اکثر (وہ لوگ پائے جو دنیا میں غریب ، محتاج اور) فقراء پائے اور میں نے دوزخ میں دیکھا تو دوزخ والوں میں عورتوں کی کثرت دیکھی۔ ''

(۱۳۷۳)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبیﷺ کے پاس تھے کہ آپﷺ نے فرمایا :'' اس حالت میں کہ میں سو رہا تھا تو میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا ، ایک عورت ایک محل کے گوشہ میں وضو کر رہی تھی ، میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ عمرؓ کا ہے تو میں نے ان کی غیرت کا خیال کیا اور پیچھے ہٹ آیا۔ '' یہ سن کر سیدنا عمرؓ رونے لگے اور کہا کہ یا رسول اللہ ! (کیا) میں آپ پر غیرت کروں گا ؟

(۱۳۷۴)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ان کی صورت چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہو گی۔ ان لوگوں کو نہ تھوک آئے گا نہ ناک کا لعاب اور نہ وہ وہاں پاخانہ کریں گے ، ان کے برتن وہاں سونے کے ہوں گے اور ان کی کنگھیاں سونے چاندی کی اور ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگے گا اور ان کا پسینا مشک کا (یعنی کستوری جیسا خوشبو دار) ہو گا ، ان میں سے ہر ایک کے لیے ایسی حسین و جمیل اور نازک مزاج دو، دو بیویاں ہوں گی ، جن کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے اندر سے دکھائی دے گا۔ اہل جنت میں نہ باہم اختلاف ہو گا اور نہ دشمنی ، ان سب کے دل ایک ہوں گے وہ صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کریں گے۔ ''

(۱۳۷۵)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' سب سے پہلا گرو جو جنت میں داخل ہو گا ان کی صورت چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہو گی اور جو ان کے بعد داخل ہو ں گے وہ بہت روشن ستارے کی طرح ہوں گے ، ان سب کے دل (بوجہ باہمی محبت کے) مثل ایک شخص کے دل کے ہوں گے نہ ان میں اختلاف ہو گا اور نہ دشمنی ، ان میں سے ہر ایک کے لیے ایسی حسین و جمیل اور نازک مزاج دو، دو بیویاں ہو ں گی، جن کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے اندر سے دکھائی دے گا ، وہ صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کریں گے نہ کبھی بیمار ہوں گے نہ کبھی ناک سے لعاب گرائیں گے نہ تھوکیں گے۔۔۔ اور بقیہ حدیث بیان کی جو کہ گزر چکی ہے (دیکھیے حدیث :۱۳۷۴)

(۱۳۷۶)۔ سیدنا سہل بن سعدؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' بے شک میری امت میں ستر ہزار یا (یہ فرمایا کہ) سات لاکھ آدمی جنت میں ایک ساتھ داخل ہوں گے (آگے پیچھے نہ ہوں گے) جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔ ''

(۱۳۷۷)۔ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس ایک جبہ سند س (ریشمی کپڑے) کا لا یا گیا اور آپﷺ ریشمی کپڑے کے استعمال سے منع فرمایا کرتے تھے تو لوگ اس کو دیکھ کر تعجب کرتے لگے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے کہ جنت میں سعد بن معاذ (رضی اللہ عنہ) کے رومال اس سے کہیں بہتر ہیں۔ ''

(۱۳۷۸)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر سوار اس کے سائے میں چلے تو سو برس تک چلتا رہے اور اگر تم چاہو تو اس آیت کو پڑھو :'' اور لمبے لمبے سائے۔ ''(سورۃ الواقعہ :۳۰)

(۱۳۷۹)۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :''جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر سوار اس کے سائے میں چلے تو سو برس تک چلتا رہے اور اگر تم چاہو تو اس آیت کو پڑھو:''اور لمبے لمبے سائے۔ ''(سورۃ الواقعہ :۳۰)

(۱۳۸۰)۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' اہل جنت اپنے اوپر والوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم روشن ستارے کو جو مشرقی کنارے یا مغربی کنارے کے قریب ہو ، دیکھتے ہو۔ کیونکہ ان میں ایک (جتنی) دوسرے سے افضل ہو گا۔ '' صحابہ کرامؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! یہ انبیاء کے مقامات میں ، کوئی اور وہاں کیسے پہنچ سکتا ہے ؟ تو آپﷺ نے فرمایا :'' (کیوں) نہیں ! قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ کچھ لوگ جو اللہ پر ایمان لائے اور انھوں نے پیغمبروں کی تصدیق کی (وہ بھی وہاں پہنچیں گے)۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ دوزخ کا بیان اور یہ کہ وہ پیدا ہو چکی ہے۔
(۱۳۸۱)۔ ام المومنین عائشہؓ صدیقہؓ نبیﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:'' بخار جہنم کے جو ش سے (پیدا ہوتا ہے) لہٰذا تم اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔ ''

(۱۳۸۲)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' تمہاری آگ (کی گرمی) جہنم کی آگ کی گرمی کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ '' عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ! دنیا کی آگ ہی جلانے کے لیے کافی تھی تو آپﷺ نے فرمایا :'' وہ اس پر انہتر حصے بڑھا دی گئی ہے ، ہر ایک حصہ اسی کے برابر گرم ہے۔ ''

(۱۳۸۳)۔ سیدنا اسامہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' قیامت کے دن ایک شخص لایا جائے گا اور وہ آگ میں ڈال دیا جائے گا پھر اس کی آنتیں آگ میں نکل پڑیں گی اور وہ اس طرح سے گھومے گا جیسے گدھا اپنی چکی گھومتا ہے۔ پھر دوزخ والے اس کے پاس جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ اے فلاں ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ کیا تو ہمیں اچھی باتوں کا حکم نہ دیتا تھا اور ہمیں بری باتوں سے منع نہ کرتا تھا ؟ وہ کہے گا کہ ہاں میں تمہیں اچھی باتوں کا حکم دیتا تھا مگر خود نہ کرتا تھا اور تمہیں بری باتوں سے منع کرتا تھا مگر خود ان کو کرتا تھا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ ابلیس اور اس کے لشکر کا بیان۔
(۱۳۸۴)۔ ام المومنین عائشہؓ کہتی ہیں کہ (ایک مرتبہ) نبیﷺ پر چار کیا گیا (اس کا اثر یہ ہوا کہ) آپﷺ کو خیال ہو تا تھا کہ ایک کام کیا ہے حالانکہ آپﷺ نے اس کو نہ کیا ہو تا۔ آخر آپﷺ نے ایک دن دعا کی اور (بہت) دعا کی۔ اس کے بعد (مجھ سے) فرمایا :'' تم کو معلوم ہے کہ اللہ نے مجھے وہ بات بتا دی جس میں میری شفا ہے۔ دو آدمی میرے پاس آئے ، ان میں سے ایک میرے سر کے پاس اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس پیٹھ گیا۔ پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ اس شخص کو کیا بیماری ہے ؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے۔ اس نے پوچھا کہ کس نے ان پر جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے کہا کہ لبید بن اعصم (یہودی) نے۔ اس نے پوچھا کہ کس چیز میں ؟ دوسرے نے کہا کہ کنگھی میں اور بالوں میں اور نر کھجور کے خوشے کے اوپر والے چھلکے میں۔ اس نے پوچھا کہ وہ کہاں ہے ؟ دوسرے نے کہا کہ ذروان (نامی) کنویں میں۔ '' پس نبیﷺ وہاں تشریف لے گئے۔ جب وہاں سے واپس آئے تو آپﷺ نے ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے فرمایا :'' اس (کنویں) کے (قریب والے) درخت گویا کہ شیاطین کے سرہیں۔ '' (عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ) میں نے پوچھا کہ آپﷺ نے اس کو نکلوا لیا ؟ فرمایا کہ نہیں۔ اللہ نے تو مجھے شفا دے دی اور اس (اس کے نکلوانے میں) مجھے یہ خیال ہوا کہ لوگوں میں فساد پھیلے گا (اور جادو کا چرچا زیادہ ہو جائے گا) اس کے بعد وہ کنواں بند کر دیا گیا۔ ''

(۱۳۸۵)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے (یعنی وسوسہ ڈالتا ہے) کہ یہ کس نے پیدا کیا ہے ؟ وہ کس نے پیدا کیا ہے ؟ آخر میں کہتا ہے کہ بتاؤ تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ پس جب یہاں تک نوبت پہنچ جائے تو وہ شخص اعوذ باﷲ پڑھے اور شیطانی خیال چھوڑ دے۔ ''

(۱۳۸۶)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرماتے تھے کہ فتنہ وفساد اسی طرف سے نکلے گا ، فتنہ وفساد اسی طرف سے نکلے گا جہاں سے شیطان کے سر کا کونا نکلتا ہے۔ ''

(۱۳۸۷)۔ سیدنا جابرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' جب رات کا اندھیرا چھا جائے تو تم اپنے بچوں کو گھر میں روک لو کیونکہ اس وقت شیاطین پھیل جاتے ہیں۔ جب عشاء کے وقت میں سے ایک گھڑی گزر جائے تو اس وقت بچوں کو چھوڑ دو(چلیں پھریں) اور بسم اللہ کہہ کر اپنا دروازہ بند کر لو اور بسم اللہ کہہ کر اپنا چراغ بجھا دو (یعنی ہر طرح کی آگ بجھا دو) پانی کا برتن (صراحی ، کو لر ، زمین دوز ٹینک وغیرہ) بسم اللہ کہہ کر ڈھانک دو اگر ڈھانکنے کے لیے کوئی چیز نہ ملے تو کوئی لکڑی وغیرہ اس کے اوپر رکھ دو۔ ''

(۱۳۸۸)۔ سیدنا سلیمان بن صردؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور دو آدمی باہم گالی گلوچ کر رہے تھے۔ ایک کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور رگیں پھول گئیں۔ پھر نبیﷺ نے فرمایا :'' میں ایک ایسی دعا جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص پڑھے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا ، اگر یہ کہہ دے اعوذ با اللہ من الشیطان الرجیم تو اس کا غصہ جاتا رہے۔ '' لوگوں نے اس شخص سے کہا کہ نبیﷺ نے یہ فرمایا ہے اس لیے تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ ! اس نے کہا :'' کیا مجھے جنون ہے۔ '' (جو میں شیطان سے پناہ مانگو ں ؟) (شاید یہ شخص جاہل گنوار تھا یا منافق اس لیے یہ بات نہ مانی)۔

(۱۳۸۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' جمائی شیطان (کی حرکات میں) سے ہے پس جب تم میں سے کسی کو جمائی (انگڑائی) آئے تو وہ حتی الا مکان اس کو رو کے کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص (جمائی لیتے وقت)'' ہا ''کہتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔ ''

(۱۳۹۰)۔ سیدنا ابو قتادہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' عمدہ خواب اللہ کی طرف سے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے پس جب تم میں سے کسی کو برا خواب آئے (نظر آئے) جس سے وہ ڈر جائے تو (جاگتے ہی) اپنی بائیں طرف تھو کے اور اس کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگے ، پس وہ (خواب) اسے کچھ نقصان نہ پہنچائے گا۔ ''

(۱۳۹۱)۔ سیدنا ابو ہریر ہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں :'' جب کوئی تم میں سے سو کر جا گے اور وضو کرے تو تین بار ناک جھاڑے ، کیونکہ شیطان رات کو ناک کے بانسے (چوٹی) پر رہتا ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' اور اس (زمین) میں ہر قسم کے جانور پھیلائے۔ ''
(۱۳۹۲)۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو منبر پر خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا :'' سانپ (جہاں دیکھو) مار ڈالو اور (سفید) دھاری والے اور دم کٹے سانپ کو زندہ نہ چھوڑ و کیونکہ یہ آنکھ کی بینائی ختم کر دیتے ہیں اور پیٹ والی عورت کا پیٹ گرا دیتے ہیں۔ '' سیدنا عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ میں ایک سانپ کو مارنے کے لیے اس کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ سیدنا ابو لبابہؓ نے مجھے پکارا (اور کہا) کہ اس مت مارو۔ تو میں نے کہا کہ بے شک رسول اللہﷺ نے سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے تو انھوں نے کہا کہ بیشک مگر اس کے بعد آپﷺ نے گھر یلو سانپوں کو مار ڈالنے سے منع فرمایا :'' (زہری نے کہا کہ) ایسے سانپ العوامر (کہلاتے) ہیں۔ (جن چونکہ ایک لمبی مدت گھر میں رہتے ہیں اسی وجہ سے انہیں عوامر یعنی لمبی عمر والے کہا گیا ہے)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مسلمانوں کا بہتر ین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے چوٹیوں پر پھر تا رہے۔
(۱۳۹۳)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' کفر کی چوٹی پورب (مشرق) کی طرف ہے اور فخر اور بڑائی (تکبر) گھوڑے والوں ، اونٹ والو ں اور زمینداروں میں ہے ، سکون
(قلب) اطمینان بکری والوں میں ہے۔ ''

(۱۳۹۴)۔ سیدنا عقبہ بن عمرو ابو مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا پھر فرمایا کہ (سچا) ایمان یمن میں ہے ، سختی اور سخت دلی (بے رحمی) ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں کی دمیں پکڑ ے چلاتے رہتے ہیں ، (پھر مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ) جہاں سے شیطان کی چوٹیاں نمودار ہوں گی یعنی ربیعہ اور مضر کی قوموں میں (سختی اور بے رحمی ہو گی)۔ ''

(۱۳۹۵)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے رویت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' جب تم مرغ کو چیختے (اذان دیتے) ہوئے سنو تو اللہ سے اس کے فضل و کرم کا سوال کرو کیونکہ (اس وقت) مرغ فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب گدھے کی آواز (ہنہنانا)سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ (اس وقت) شیطان کو دیکھتا ہے۔

(۱۳۹۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' بنی اسرائیل میں کچھ لوگ غائب ہو گئے ، کوئی نہیں جانتا تھا کہ انھوں نے کیا کیا ، ان کی صورتیں مسخ ہو گئیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ چوہا بن گئے ، کیونکہ اگر اونٹ کا دودھ چوہے کے سامنے رکھو تو وہ نہیں پیتا (بنی اسرائیل کے دین میں اونٹ حرام تھا) اور جب بکری کا دودھ رکھو تو پی جاتا ہے۔ '' پس میں (ابو ہریرہؓ) نے یہ حدیث سیدنا کعبؓ سے بیان کی تو انھوں نے کہا کہ تم نے یہ حدیث نبیﷺ سے سنی ہے ؟ میں نے کہا ہاں۔ (سیدنا کعبؓ نے) مجھ سے بار بار یہی پوچھا تو میں نے کہا (کہ اگر رسول اللہﷺ سے نہیں سنی) تو کیا میں توراۃ پڑھتا ہوں ؟
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جب کسی کے پانی (یا کھانے) میں مکھی گر جائے تو اس کو ڈبو دے۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے اور دوسرے میں شفاء۔
(۱۳۹۷)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' جب تم میں سے کسی کے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اس کو ڈبو دے پھر نکال ڈالے اس لیے کہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے اور دوسرے میں شفاء۔ ''

(۱۳۹۸)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' ایک بد کار عورت کو اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معاف کر دیا کہ اس نے کنویں کے دھانے پر ایک کتے کو ہانپتے ہوئے دیکھا ، وہ پیاس کی وجہ سے مر نے کے قریب تھا پس اس (عورت) نے اپنا موزہ اتارا پھر اسے اپنی چادر میں باندھ کر اس (کتے) کے لیے (کنویں سے) پانی نکالا (اوراسے پلایا) پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اس نیکی کے بدلے میں جہنم سے بچا لیا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
انبیاء کے حالات کے بیان میں

آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی پیدائش کا بیان۔
(۱۳۹۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ساٹھ ہاتھ لمبا بنایا پھر فرمایا کہ :'' جا ! ان فرشتوں کے گروہ کو سلام کر ، پھر سن کہ وہ تجھے کا جواب دیتے ہیں ، وہی تیر ا اور تیری اولاد کا سلام ہو گا۔ '' آدم علیہ السلام نے کہا :'' السلام علیکم '' تو انھوں نے جواب دیا '' السلام علیک و رحمۃ اللہ ''۔ '' و رحمۃ اللہ '' کا لفظ انھوں نے بڑھایا۔ پس وہ سب لوگ جو قیامت کے دن جنت میں داخل ہوں گے وہ سب آدم علیہ السلام کی صورت (حسن اور قامت) پر ہوں گے (آدم کے بعد) پھر اب تک قد چھوٹے ہوتے رہے

(۱۴۰۰)۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن سلامؓ یہود کے عالم کو نبیﷺ کے مدینہ تشریف لانے کی خبر پہنچی تو وہ آپﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ میں آپﷺ سے تین باتیں پوچھتا ہوں ، پیغمبر کے سوا کوئی اور ان کو نہیں جان سکتا(۱)قیامت کی پہلی نشانی کیا ہے ؟(۲)جتنی لوگ جنت میں جا کر پہلے کیا کھائیں گے ؟(۳)بچہ اپنے باپ کے مشابہ کیوں ہوتا ہے اور اسی طرح اپنے ننہیال کے ؟رسول اللہﷺ نے فرمایا :''ابھی ابھی جبریلؑ نے مجھے یہ باتیں بتا دیں تو سیدنا عبداللہ نے کہا کہ یہ (جبریل) تمام فرشتوں میں سے یہود کا دشمن ہے۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور پہلا کھانا جتنی لوگوں کا مچھلی کے کلیجے پر جو ٹکڑا لگا ہوتا ہے وہ ہو گا۔ بچہ کے مشابہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب مرد عورت سے صحبت کرتا ہے اگر مرد کا پانی آگے بڑھ جاتا ہے (غالب آ جاتا ہے)۔ تو بچہ باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور اگر عورت کا پانی آگے بڑ جاتا ہے تو اس کے مشابہ ہو جاتا ہے۔ '' پس (عبداللہ بن سلام نے یہ سن کر) کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر انھوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ !یہودی نہایت جھوٹے لوگ ہیں ،آپ کے پوچھنے سے پہلے اگر ان کو معلوم ہو جائے کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں تو وہ مجھے جھوٹا (برا) کہیں گے۔ (کبھی میری تعریف نہ کریں گے) یہودی رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور سیدنا عبداللہ بن سلام ایک کوٹھڑی میں چلے گئے۔ رسول اللہﷺ نے ان (یہودیوں) سے پوچھا :'' عبداللہ بن سلام تم میں کیساآدمی ہے ؟'' انھوں نے کہا عبداللہ بن سلام عالم ہیں اور عالم کے بیٹے اور سب سے افضل اور سب سے افضل کے بیٹے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' اگر عبداللہ مسلمان ہو جائے (کیا تم بھی مسلمان ہو جاؤ گے) ؟، انھوں نے کہا کہ اللہ انھیں اس (مسلمان ہونے) سے بچائے رکھے۔ پس سیدنا عبداللہ کوٹھڑی سے نکلے اور کہا کہ '' میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول اللہ ہیں۔ ''اس وقت یہودی کہنے لگے کہ '' تو ہم سب میں برا آدمی ہے اور سب سے برے شخص کا بیٹا ہے '' اور انھیں برا بھلا کہنے لگے۔

(۱۴۰۱)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا اور اگر حواء علیہ السلام نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے دغا (خیانت) نہ کرتی۔ ''

(۱۴۰۲)۔ سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جس شخص کو دوزخ میں سب سے ہلکا عذاب ہو گا ، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ اگر تیرے پاس اس وقت زمین بھر کا مال ہو تو اس کو دے کر تو اپنے آپ کو چھڑانا چاہے گا ؟تو وہ کہے گا کہ بے شک۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تو تجھ سے اس سے بھی بہت آسان سے بات چاہی تھی جب تو آدم کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا ، تو نے نہ مانا اور شرک پر ہی اڑا رہا۔ ''

(۱۴۰۳)۔ سیدنا عبد اللہؓ (بن مسعود) کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جب کوئی شخص دنیا میں ناحق (ظلم سے) مارا جاتا ہے تو اس کے خون کے وبال کا ایک حصہ آدم کے پہلے بیٹے (قابیل) پر پڑتا ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے ناحق خون کی بنا قائم کی تھی۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' یہ لوگ آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ پوچھتے ہیں تو کہہ دیجیے کہ میں ان کا تھوڑا سا حال تمہیں پڑ ھ کر سناتا ہوں ، ہم نے اسے زمین میں قوت عطا فرمائی تھی اور اسے ہر چیز کے سامان بھی عنایت کیے تھے :''(کہف :۴۳،۸۴)۔
(۱۴۰۴)۔ ام المومنین زینب بنت حجشؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ گھبرائے ہوئے ان کے پاس گئے اور فرما رہے تھے :'' لا الہ الا اللہ ! عرب کی خرابی اس آفت سے ہونے والی ہے جو نزدیک آ پہنچی ، آج یا جوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا۔ '' آپﷺ نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے حلقہ کر کے بتلایا۔ ام المومنین زینبؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے جب کہ نیک لوگ بھی ہم میں موجود ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' ہاں جب برائی زیادہ پھیل جائے (تو نیک بد سب لپیٹ میں آ جاتے ہیں)۔

(۱۴۰۵)۔ سیدنا ابوسعید خدریؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) فرمائے گا کہ اے آدم ! پس وہ کہیں گے کہ میں حاضر ہوں اور مستعد ہوں سب بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ '' پھر اللہ کہے گا کہ دوزخ کا لشکر نکال (دوزخی لوگوں کو نکال) وہ پوچھیں گے کہ کتنے لوگوں کو نکالوں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ پس اس وقت (مارے خوف کے) بچہ بوڑھا ہو جائے گا اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا کہ جیسے وہ مست بے ہوش ہیں حالانکہ ان کو نشہ نہ ہو گا بلکہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ '' صحابہ نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! ہزار میں سے ایک (جنتی) ہم میں سے کون ہو گا ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' خوش ہو جاؤ ! تم میں سے ایک آدمی کے مقابلے میں یا جوج ماجوج (دوسرے کافروں) میں سے ہزار آدمی ہوں گے ، پھر فرمایا :'' قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم جنتی لوگوں کے ایک چوتھا ئی ہو گے۔ '' ہم نے (مارے خوشی کے) اللہ اکبر کہا۔ پھر فرمایا :'' مجھے امید ہے کہ تم تمام جنتی لوگوں کے تہائی حصہ ہو گے۔ '' ہم نے پھر اللہ اکبر کہا۔ آپﷺ نے پھر فرمایا :'' مجھے امید ہے کہ تم تمام جنتی لوگوں کے نصف برابر ہو گے۔ '' ہم نے پھر اللہ اکبر کہا۔ پھر آپﷺ نے فرمایا :'' تم (دنیا کے) لوگوں میں ایسے ہو جیسے سفید بیل کی کھال میں ایک کالا بال یا کالے بیل کی کھال میں ایک سفید بال۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان '' اور اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا '' کا بیان
(۱۴۰۶)۔ سیدنا ابن عباسؓ نبیﷺ سے روایت کرتے کہ آپﷺ نے فرمایا :'' تم (قیامت کے دن ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور بغیر ختنہ اکٹھے کیے جاؤ گے۔ '' پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی :
'' جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ کریں گے ، یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے اور ہم اسے ضرور کر کے (ہی) رہیں گے۔ ''(الانبیا ء :۱۰۴)
اور قیامت کے دن سب سے پہلے ابراہیمؑ کو کپڑے پہنائے جائیں گے اور میری امت میں سے کئی لو گ بائیں (دوزخ کی) طرف کھینچ لیے جائیں گے تو میں کہوں گا کہ یہ تو میرے ساتھی ہیں یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ تو کہا جائے گا کہ یہ لوگ ، جب آپﷺ کی وفات ہو گئی تو اسلام سے پھر گئے تھے تو اس وقت میں وہی کہوں گا جو ایک نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا کہ '' اور میں جب تک ان میں رہا ،ان پر گواہ رہا (ان کا حال دیکھتا رہا)۔۔۔ توزبردست ہے ، حکمت والا ہے۔ ''(المائدہ :۱۱۷،۱۱۸)

(۱۴۰۷)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' ابراہیمؑ قیامت کے دن اپنے والد آزر سے ملیں گے اور آزر کے منہ پر پر سیا ہی اور گرد و غبار ہو گا تو ابراہیمؑ ان سے کہیں گے کہ '' میں نے (دنیا میں) تم سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرو۔ '' تو ان کا باپ کہے گا کہ '' آج میں تمہاری نافرمانی نہ کروں گا۔ '' پھر ابراہیمؑ کہیں گے کہ اے میرے رب ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے قیامت کے دن ذلیل نہ کرے گا تو اس سے زیادہ ذلت کیا ہو گی کہ میرا باپ (ذلیل اور) تیری رحمت سے دور ہوا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے کافروں پر جنت حرام کر دی ہے۔ پھر کہا جائے گا کہ اے ابراہیم ! دیکھو تمہارے پاؤں کے نیچے کہا ہے ؟ وہ دیکھیں گے کہ ایک بجو ہے جو نجاست سے لتھڑا ہوا ہے ، پھر اس کے پاؤں پکڑ کر اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ، (یعنی ان کے باپ کو بجو بنا دیا جائے گا)۔

(۱۴۰۸)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ (نبیﷺ سے) کہا گیا کہ یا رسول اللہ ! سب لوگوں میں (اللہ کے نزدیک) کون زیادہ مرتبے والا ہے ؟آپﷺ نے فرمایا :'' جو پرہیز گار ہو ؟ ، لوگوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں پوچھتے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' (نسب اور خاندانی شرافت کے لحاظ سے سب سے افضل) یوسف علیہ السلام تھے (جو) نبی تھے ، باپ نبی ، دادا نبی ، پر دادا نبی ، اللہ کے خلیل (علیہ السلام) انھوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں پوچھتے تو آپﷺ نے فرمایا :'' تم عرب کے خاندان کے بارے میں پوچھتے ہو ؟ جو لوگ جاہلیت کے دَور میں سب میں بہتر تھے وہی سلام میں بھی سب میں بہتر ہیں بشرطیکہ وہ سلام کو اچھی طرح سمجھیں (اور اس کا علم حاصل کریں)۔ ''

(۱۴۰۹)۔ سیدنا سمرہ بن جندبؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' رات کو (خواب میں) میرے پاس دو آنے والے آئے (فرشتے) پھر مجھے ایک اتنے لمبے مرد کے پاس لے گئے کہ قریب تھا کہ میں ان کا سر نہ دیکھ سکوں اور وہ آدمی ابراہیمؑ تھے۔ ''

(۱۴۱۰)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' اگر تم ابراہیمؑ کو دیکھنا چاہتے ہو تو اپنے صاحب (محمدﷺ) کو دیکھ اور لو اور موسیٰ علیہ السلام گھنگھریالے بال ، گندمی رنگ (جو سواری کے لیے ایک) سرخ اونٹ پر ، جس کو کھجور کی چھال کی نکیل لگی ہے ، گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ نالے میں (لبیک کہتے ہوئے) اتر رہے ہیں۔ ''

(۱۴۱۱)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' ابراہیمؑ نے اسّی برس کی عمر میں بسولے سے ختنہ کیا۔ ''

(۱۴۱۲)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ ہی سے دوسری روایت میں لفظ قدوم دال کی تخفیف کے ساتھ آیا ہے۔ ''

(۱۴۱۳)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' ابراہیمؑ نے (ساری عمر) جھوٹ نہیں بولا سوائے تین دفعہ کے۔ دو جھوٹ تو خالص اللہ کے لیے۔ ایک تو ان کا (بطور تو ریہ) یہ کہنا کہ '' میں بیمار ہوں '' دوسرا یہ کہنا کہ '' (میں نے انھیں نہیں توڑا) بلکہ اس بڑے بت سے کیا (توڑا) ہے '' اور بیان کیا (تیسرے یہ کہ) ابراہیمؑ اور سارہ (ان کی بیوی) دونوں (ایک سفر میں)جار ہے تھے کہ ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں پہنچے تو اس(بادشاہ) سے کہا گیا کہ یہاں ایک مرد آیا ہے اور اس کے ساتھ ایک بہت خوبصورت عورت ہے تو اس (بادشاہ) نے ابراہیمؑ کو بلایا اور ان سے اس عورت کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا :'' میری بہن ہے۔ '' پھر ابراہیمؑ سارہ کے پاس آئے۔۔۔ اور (سیدنا ابو ہریرہؓ نے) باقی تمام حدیث بیان کی۔ (دیکھیئے حدیث :۱۰۴۳)
نوٹ:اس حدیث اور قرآن کی اس آیت میں کوئی ٹکرا ؤ نہیں جہاں سیدنا ابراہیمؑ کو سچا کہا گیا ہے اوّلا۔ یہ ظاہراً جھوٹ ہیں حقیقتاً جھوٹ نہیں۔ ثانیاً۔ جھوٹ کی بھی متعدد صورتیں ہیں۔ بعض صورتوں میں جھوٹ صرف مباح ہی نہیں بلکہ شرف کا سبب بنتا ہے جیسا کہ دو آدمیوں میں صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا۔
(۱۴۱۴)۔ سیدہ ام شریکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے گرگٹ کے مارنے کا حکم دیا یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے لیکن یہاں اتنا فاصلہ ہے۔ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' یہ ابراہیمؑ پر آگ پھونکتا تھا(باقی جانور بجھا رہے تھے)۔ ''

(۱۴۱۵)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے ام اسماعیل سیدہ ہاجرہ نے کمر پٹا باندھا ، ان کی غرض یہ تھی کہ سارہ ان کا سراغ نہ پائیں (وہ جلد بھاگ جائیں) پھر سیدنا ابراہیمؑ انھیں اور ان کے بیٹے اسماعیلؑ کو (مکہ میں) لے آئے اور ہاجرہؓ (اسوقت) اسماعیلؑ کو دودھ پلاتی تھیں اور انھیں بیت اللہ کے قریب ایک درخت کے نیچے بٹھا دیا جو اس مقام پر ہے جہاں آب زمزم ہے ، مسجد کی بلند جانب میں۔ ان دنوں مکہ میں کوئی انسان نہ رہتا تھا اور نہ ہی وہاں پانی تھا۔ پس ابراہیمؑ نے ان دونوں کو وہاں بٹھا یا اور چمڑے کا ایک تھیلا کھجوروں کا (بھرا ہوا) اور پانی سے بھرا ہوا ایک چھوٹا مشکیزہ دیا۔ پھر واپس جانے لگے تو ام سماعیل ان کے پیچھے ہوئیں اور کہنے لگیں کہ اے ابراہیم ! ہمیں اس جنگل میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو کہ جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی اور چیز؟ ہاجرہؓ نے بار بار پکار کر یہی کہا لیکن ابراہیمؑ نے انھیں مڑ کر نہیں دیکھا تو ہاجرہؓ نے کہا کہ کیا اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ؟ ابراہیمؑ نے کہا'' ہاں '' انھوں نے جواب دیا کہ پھر اللہ ہمیں ہلاک نہیں کرے گا ، یہ کہہ کر وہ واپس لوٹ آئیں اور ابراہیمؑ چل دیئے یہاں تک جب اس پہاڑی (ثنیہ) پر پہنچے جہاں سے وہ (ہاجرہؓ کو) دکھائی نہ دے سکتے تھے تو انھوں نے کعبہ کی طرف منہ کیا پھر ان کلمات کے ساتھ دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کی کہ
'' اے ہمارے پروردگار ! میں نے اپنی اولاد اس بے آب و گیاہ وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس چھوڑ دیا ہے۔۔۔ تاآنکہ لفظ '' یہ شکر گزاری کرتے رہیں۔ '' تک دعا کرتے رہے۔ ''(ابراہیم :۳۷)
اور ام اسماعیل سیدہ ہاجرہ اسماعیلؑ کو دودھ پلاتی اور خود مشک میں سے پانی پیتی رہیں ، یہاں تک کہ جب مشک میں سے پانی ختم ہو گیا تو انھیں خود کو بھی پیاس لگی اور ان کے بیٹے (بچے اسماعیلؑ) کو بھی اور وہ بچے کو دیکھ رہی تھیں کہ وہ (پیاس کی وجہ سے) اوپر تلے ہو رہا تھا یا یہ کہا کہ تڑپ رہا تھا تو وہ وہاں سے ہٹ گئیں تاکہ بچے کا یہ حال نہ دیکھیں اور ان کے سامنے صفا پہاڑ قریب ہی تھا وہ اس پر چڑھ گئیں پھر وادی میں دیکھا کہ شاید کوئی نظر آئے لیکن کوئی بھی نظر نہ آیا پھر وہ وہاں سے اتریں اور اپنا کر تا سمیٹ کرنا لے کے نشیب میں اس طرح دوڑیں جیسے کوئی مصیبت زدہ دوڑتا ہے یہاں تک کہ نالے کو پار کر کے مروہ پہاڑی پر پہنچیں اور اس پر چڑھ کر دیکھا کہ شاید کوئی آدمی نظر آئے لیکن کوئی نظر نہ آیا ، پھر اسی طرح (صفا و مروہ کے درمیان) سات دفعہ چکر لگایا ، سیدنا ابن عباسؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' یہی ان دونوں (صفا مروہ) کے درمیان سعی کرنا ہے (جو بعد میں حج میں مسلمانوں پر فرض کی گئی) پھر جب ہاجرہ (آخری چکر میں) مروہ پر چڑھیں تو انھوں نے ایک آواز سنی تو اپنے آپ سے ہی کہنے لگیں کہ چپ رہ ، پھر وہی آواز سنی تو کہنے لگیں کہ (اے اللہ کے بندے ! تو جو کوئی بھی ہے) میں نے تیری آواز سن لی ، کیا تو ہماری کوئی مدد کرسکتا ہے ؟ پھر دیکھا کہ آب زمزم (چشمہ والی جگہ) کے قریب ایک فرشتہ (جبریل ؑ) ہے جو اپنی ایڑی مار کر (یا یہ کہا کہ) اپنا پر مار کر زمین کھود رہا ہے یہاں تک کہ اس جگہ سے پانی نکلنے لگا۔ وہ اپنے ہا تھ سے اس کے گرد حوض سا بنانے لگیں اور پانی چلو سے بھر بھر کر اپنی مشک میں ڈالنے لگیں ، جوں جوں وہ پانی لیتیں وہ چشمہ اور جو ش مارتا (پانی زیادہ ہو جاتا)۔ '' سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' اللہ تعالیٰ اسماعیلؑ کی والدہ پر رحم کرے ، اگر وہ زمزم کو اس کے حال پر چھوڑ دیتیں (حوض نہ بناتیں) یا (یوں فرمایا کہ) اگر وہ چلو بھر کر (مشک بھرنے کے لیے) پانی نہ لیتیں تو زمزم ایک چشمہ(کی صورت) بہتا رہتا۔ '' (پھر رسول اللہﷺ نے) فرمایا :'' ہاجرہ نے خود بھی پانی پیا اور بچے کو بھی پلایا۔ '' فرشتے نے ان سے کہا کہ تم اپنی جان کا خوف نہ کرو ، بے شک یہاں اللہ کا گھر ہے ، جسے یہ بچہ اور اس کے والد (مل کر) بنائیں گے اور اللہ اپنے بندوں کو تباہ نہیں کرنے والا۔ اور اس وقت بیت اللہ (کا مقام) ٹیلے کی طرح زمین سے اونچا تھا اور جب برسات کا پانی آتا تو وہ دائیں بائیں سے نکل جا تا۔ سیدہ ہاجرہؓ نے ایک مدت اسی طرح گزاری یہاں تک کہ جرہم قبیلے کے کچھ آدمی یا کچھ گھر والے (خاندان) ان (ہاجرہ اور اسماعیل) پر گزرے جو کداء کے راستے سے آرہے تھے۔ وہ مکہ کے نشیب میں اترے ،انھوں نے ایک پرندے کو وہاں گھومتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ بے شک یہ پرندہ ضرور پانی کے گرد گھوم رہا ہے ، ہم اس میدان سے اچھی طرح واقف ہیں اور یہاں پانی کہیں بھی نہیں ہے۔ پھر انھوں نے ایک یا دو آدمیوں کو بھیجا ، انھوں نے دیکھا کہ پانی موجود ہے ، وہ لوٹ کر گئے اور انھیں پانی کی خبر دی ، وہ بھی (وہاں) آئے۔ '' نبیﷺ نے فرمایا :'' پانی کے پاس ہی ام اسماعیلؓ بیٹھی تھیں۔ ان لوگوں نے کہا کہ کیا تم ہمیں یہاں اترنے کی اجازت دیتی ہو ؟ انھوں نے کہا ں ہاں ، لیکن پانی میں تمہارا کوئی حق نہیں ، انھوں نے قبول کیا۔ '' سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' (جرہم کے) لوگوں نے (وہاں رہنے کی) اس وقت اجازت مانگی جب خود اسماعیل کی والدہ یہ چاہتی تھی کہ یہاں بستی ہو۔ پس وہ لوگ وہیں اتر پڑے اور اپنے اہل و عیال کو بھی بلا لیا ، وہ بھی وہیں ان کے پاس آ گئے یہاں تک کہ جب وہاں کئی گھرانے آباد ہو گئے اور اسماعیلؑ جوان ہوئے اور انھوں نے عربی ان (جرہم کے) لوگوں سے سیکھی اور جوان ہو کر ان کی نگاہ میں بہت اچھے نکلے (جرہم قبیلے کے) لوگ ان سے محبت کرنے لگے اور اپنے خاندان کی ایک عورت سے ان کی شادی کر دی۔ بعد میں جب ام اسماعیل فوت ہو گئیں ، ابراہیمؑ ،اسماعیلؑ کی شادی کے بعد اپنے اہل و عیال کی خبر لینے کو آئے جنہیں وہ چھوڑ کر گئے تھے ، اسماعیلؑ اپنے گھر پر نہ تھے تو ابراہیمؑ نے ان کی بیوی سے ان کے بارے میں پوچھا ، اس نے کہا کہ روزی کی تلاش میں گئے ہیں۔ ابراہیمؑ نے پوچھا کہ تمہاری گز ران کیسی ہوتی ہے۔ اور معاش کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا کہ بہت بری ، بڑی تنگی سے گزران ہو تی ہے اور ان سے خوب شکایت کی۔ ابراہیمؑ نے کہا کہ جب تیرا شوہر آئے تو انھیں میری طرف سے سلام کہنا اور یہ کہنا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں۔ پھر جب اسماعیلؑ گھر میں آئے اور (اپنے باپ کی) کچھ خوشبو محسوس کی تو (بیوی سے) کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی آنے والا آیا تھا ؟ اس نے کہا ں ہاں ، ایک بوڑھا آدمی ایسی ایسی حالت کا آیا تھا۔ اس نے تیرے بارے میں پوچھا تو میں نے کہہ دیا کہ روزی کی تلاش میں گئے ہیں اور اس نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری گزران کیسی ہو تی ہے ؟ تو میں نے کہا کہ بڑی تکلیف اور تنگی سے۔ اسماعیلؑ نے کہا کہ کیا ا نھوں نے تجھے اور بھی کوئی نصیحت کی تھی ؟ اس نے کہا ہاں ! انھوں نے مجھے کہا تھا کہ میں تجھے (ان کی طرف سے) سلام کہہ دوں اور یہ بھی کہا کہ تم اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالو۔ اسماعیلؑ نے کہا کہ وہ میرے والد تھا اور انھوں نے مجھے حکم دیا کہ میں تجھے چھوڑ دوں ، تو اپنے گھر والوں میں چلی جا اور اسے طلاق دے دی اور (جرہم قبیلہ میں سے) کسی دوسری عورت سے شادی کر لی۔ پھر جتنی دیر اللہ کو منظور تھا ابراہیمؑ (اپنے ملک میں) ٹھہرے رہے پھر اس کے بعد دوبارہ آئے تو اسماعیلؑ (پھر بھی اتفاق سے) گھر میں نہ ملے ، پس وہ ان کی (دوسری) بیوی کے پاس گئے اور اس سے اسماعیلؑ کا پوچھا تو اس نے کہا کہ روزی کی تلاش میں گئے ہیں۔ ابراہیمؑ نے کہا کہ تمہارا حال ہے ؟ اور اس سے ان کے گزران اور رہن سہن کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے ہم بہت خیرو خوبی کے ساتھ اور خو ش گزران رہتے ہیں۔ ابراہیمؑ نے کہا کہ تم کیا کھاتے ہو ؟ اس نے کہا گوشت ،پھر پوچھا کہ تم پیتے کیا ہو؟ اس نے کہا ،پانی۔ ابراہیمؑ نے کہا اے اللہ !ان کے گوشت اور پانی میں برکت دے۔ نبیﷺ نے فرمایا : '' ان دنوں مکہ میں اناج کا نام نہیں تھا۔ اگر ہوتا تو ابراہیمؑ اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔ '' (اور)فرمایا :'' (یہ خاصیت اللہ نے مکہ ہی میں رکھی ہے) اگر دوسرے ملک والے صرف گوشت اور پانی پر گزران کریں تو بیمار ہو جائیں (اور فرمایا):'' ابراہیمؑ نے کہا کہ جب تیرا شوہر آئے تو اسے میری طرف سے سلام کہنا اور کہنا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو حفاظت سے رکھے (یہ بہت عمدہ ہے)۔ پھر جب اسماعیلؑ آئے تو بیوی سے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی آنے والا آیا تھا؟ اس نے کہا کہ ہاں ! ایک خوبصورت سے بزرگ سے آئے تھے اور (اس نے) ابراہیمؑ کی بہت تعریف کی ، (پھر کہا کہ) تمہارا پوچھتے تھے تو میں نے بتا دیا۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ تمہاری گزران کسی ہوتی ہے ؟ میں نے بتایا کہ بہت اچھی۔ اسماعیلؑ نے کہا کہ پھر تمہیں کوئی نصیحت بھی کی ؟ اس نے کہا ہاں ! وہ آپ کو سلام کہتے تھے اور کہتے تھے کہ تم اپنے دروازے کی چوکھٹ کو حفاظت سے رکھنا۔ اسماعیلؑ نے کہا کہ وہ میرے والد تھے اور تم دروازے کی چوکھٹ ہو ، انھوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اپنی زوجیت میں رہنے دوں۔ پھر جب تک اللہ کو منظور تھا۔ ابراہیمؑ (اپنے ملک میں) ٹھہرے رہے ، اس کے بعد آئے تو اسماعیلؑ اس وقت چاہ زمزم کے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھے اپنے تیردرست کر رہے تھے ،جب انھوں نے ابراہیمؑ کو دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے ، باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے جو کیا کرتا ہے کیا ، پھر کہا کہ اے اسماعیل ! بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک حکم دیا ہے۔ اسماعیلؑ نے کہا کہ اللہ نے جو حکم دیا ہے وہ بجا لائیں ، ابراہیمؑ نے کہا کہ کیا تو میری مدد کرے گا ؟ انھوں نے کہا میں ضرور مدد کروں گا۔ ابراہیمؑ نے کہا کہ اللہ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اس جگہ پر ایک گھر بناؤں اور ایک اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا کہ اس کے گرد گرد۔ '' ّ(نبیﷺ نے فرمایا کہ) اس وقت دونوں (باپ بیٹے) نے اس گھر کی دیواریں بلند کیں۔ اسماعیلؑ پتھر لاتے جاتے تھے اور ابراہیمؑ تعمیر کرتے تھے ، جب دیواریں اونچی ہو گئیں (زمین پر کھڑے ہو کر تعمیر نہ ہو سکی) تو اسماعیلؑ ایک پتھر (مقام ابراہیم) لے آئے اور اس کو رکھ دیا پھر ابراہیمؑ اس پر کھڑے ہو کر دیوار تعمیر کرتے اور اسماعیلؑ انھیں پتھر لا کر دیتے اور دونوں کہتے :'' اے ہمارے پروردگار ! تو ہم سے (یہ کوشش) قبول فرما تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔ ''(بقرۃ :۱۲۷)

(۱۴۱۶)۔ سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! زمین پر سب سے پہلے کو نسی مسجد بنائی گئی ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' مسجد حرام۔ '' پھر کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ پھر کونسی ؟آپﷺ نے فرمایا :'' مسجد اقصیٰ (بیت المقدس)۔ '' میں نے پھر پوچھا کہ ان دونوں (کے بننے) میں کتنا فاصلہ تھا ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' چالیس برس کا۔ '' (یہ عرصہ غالباً اول بنا کے اعتبار سے بتایا گیا ہے یعنی آدمؑ کے دور میں بھی انکی تعمیر ہوئی کیونکہ سیدنا ابراہیمؑ اور سیدنا سلیمانؑ کے درمیان تو ہزار سال سے زیادہ وقفہ ہے) پھر فرمایا :'' جہاں تجھے نماز کا وقت ہو جائے وہیں نماز پڑھ لے۔ بے شک اس (نماز کو وقت پر پڑھنے) میں بڑی فضیلت ہے۔ ''

(۱۴۱۷)۔ سیدنا ابو حمید الساعدیؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں ؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' کہو اے اللہ محمد ! اور ان کی ازواج پر اور ان کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرمائی تھی اور محمد (ﷺ) اور ان کی ازواج پر اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد پر برکت نازل فرمائی ، بے شک تو خوبیوں والا بڑائی والا ہے۔ ''

(۱۴۱۸)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ سیدنا حسن اور حسین(رضی اللہ عنہما)اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے اور فرماتے :'' بے شک تمہارے دادا ابراہیم (اپنے بیٹوں) اسماعیل اور اسحاق (علیہ السلام) کے لیے ان کلمات کے ساتھ اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے کہ '' اللہ تعالیٰ کے پورے کلموں کے ذریعے سے ہر شیطان اور زہر یلے ، ہلاک کرنے والے جانور سے اور ہر نظر لگانے والی آنکھ سے پناہ مانگتا ہوں۔ ''
 
Top