Aamir
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 16، 2011
- پیغامات
- 13,382
- ری ایکشن اسکور
- 17,099
- پوائنٹ
- 1,033
باب۔ فرشتوں کا بیان
(۱۳۵۶)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا اور وہ صادق مصدوق تھے :۔ '' تم میں سے ہر شخص کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں تمام کی جاتی ہے۔ چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے پھر اتنے ہی عرصے تک منجمد خون رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک مضغہ گوشت (لو تھڑا) کا رہتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ، فرشتہ بھیجتا ہے۔ اور اسے چار باتوں (کے لکھنے) کا حکم دیا جاتا ہے (۱) اسے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل (۲) اس کا رزق (۳) اس کی عمر (۴) اور (یہ لکھ دے کہ) شقی ہے یا سعید (یعنی خوش بخت ہے یا بدبخت) پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ پس بے شک تم میں سے کوئی شخص (ایسا) عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز (فاصلہ) رہ جاتا ہے پھر اس پر (اللہ کا) نوشتہ (لکھی ہوئی تقدیر) غالب آ جاتا ہے اور وہ وہ دوزخیوں والے عمل کرنے لگتا ہے اور کوئی شخص ایسا عمل کرتا ہے کہ اس کے دوزخ کے درمیں صرف ایک گز (کا فاصلہ) باقی رہ جاتا ہے پھر اس پر اللہ کا نوشتہ (تقدیر) غالب آ جاتا ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے۔ ''
(۱۳۵۷)۔ سیدنا ابو ہریر ہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں شخص کو دوست رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس کو دوست رکھو۔ پس جبریل (علیہ السلام) اس کو دوست رکھنے لگتے ہیں۔ پھر جبریلؑ تمام آسمان والوں میں اعلان کر دیتے ہیں کہ اللہ فلاں شخص کو دوست رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس کو دوست رکھو چنانچہ اس کو تمام آسمان والے دوست رکھتے ہیں پھر زمین (والو ں) میں اس کی قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ ''
(۱۳۵۸)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:'' فرشتے بادل میں اترتے ہیں اور آسمان پر ، اللہ تعالیٰ کے جو حکم احکام (اس دن ہوئے) ان کا ذکر کرتے ہیں۔ پس شیاطین چھپ کر اسے سن لیتے ہیں اور کاہنوں سے آ کر بیان کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کچھ جھوٹ بھی اپنی طرف سے ملا لیتے ہیں۔ ''
(۱۳۵۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے :'' جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے (متعین) ہوتے ہیں اور وہ سب سے پہلے جو آیا اس کا ، پھر اس کے بعد جو آیا اس کا (اسی طرح برابر سب کے نام) لکھتے ہیں۔ پھر جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو وہ صحیفوں کو لپیٹ دیتے ہیں اور خطبہ سننے کے لیے آ جاتے ہیں۔ ''
(۰ ۱۳۶)۔ سیدنا براءؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے حسان (بن ثابت) رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا :۔ '' تم مشرکوں کی ہجو کر و اور جبریل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں :''
(۱۳۶۱)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایا :'' اے عائشہ ! یہ جبریل علیہ السلام تم کو سلام کہتے ہیں۔ '' تو انھوں نے کہا و علیکم السلام رحمۃ اللہ و برکاتہ ، آپ (ﷺ) وہ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھتی۔ '' ترٰی '' سے نبیﷺ کو مراد رکھا۔
(۱۳۶۲)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے جبریل علیہ السلام سے کہا :'' جس قدر اب تم ہمارے پاس آتے ہو اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ ابن عباسؓ کہتے ہیں پس یہ آیت نازل ہوئی '' اور ہم نہیں نازل ہوتے مگر تمہارے پروردگار کے حکم سے ، اسی کا ہے جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور ہمارے پیچھے ہے ''(سورۂ مریم : ۶۴)
(۱۳۶۳)۔ سیدنا ابن عباسؓ روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' مجھے جبریل علیہ السلام نے ایک قرأت میں قرآن پڑھایا تھا پھر میں برابر ان سے زیادہ چاہتا رہا یہاں تک کہ سات قرأتوں تک پہنچ
گیا :''
(۱۳۶۴)۔ سیدنا یعلیٰؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو منبر پر یہ آیت (سورۂ زخرف :۷۷) پڑھتے ہوئے سنا '' اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک۔ ''(مالک نام ہے داروغہ جہنم کا)
(۱۳۶۵)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبیﷺ سے پوچھا کیا احد سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپﷺ پر آیا ہے تو آپﷺ نے فرمایا :'' میں نے تمہاری قوم (قریش) سے جو جو تکالیف اٹھائی ہیں وہ میرا ہی دل جانتا ہے اور سب سے زیادہ سخت دن مجھ پر مقام عقبہ (جو طائف کی طرف ہے) کا دن گز را ہے جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبد کلال (جو طائف کا ریئس تھا) کے سامنے پیش کیا اور اس نے میری خواہش پوری نہ کی پس میں نہایت رنج میں چلا ، میں اپنے ہو ش میں نہ آیا تھا کہ قرن الثعالب (مقام) میں پہنچا۔ اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ابر کے ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کر لیا ہے پھر میں نے دیکھا تو اس میں جبریل (علیہ السلام) تھے۔ انھوں نے مجھے آواز دی کہ اللہ نے آپ کی قوم کی گفتگو سن لی اور وہ جواب جو انھوں نے آپ کو دیا اور اللہ نے آپ کے پاس پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ہے ، آپ اس کو کافروں کی نسبت جو چاہیں حکم دیں۔ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی ، مجھے سلام کیا ، اس کے بعد کہا کہ اے محمد ! جو تم چاہو موجود ہے ، اگر تم چاہو تو میں اخشبین (نامی دونوں پہاڑ) ان پر رکھ دوں ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' نہیں ! میں یہ نہیں چاہتا بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی پشت سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اللہ عزوجل کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے۔
(۱۳۶۶)۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ اس آیت '' پس دو کمانوں کے بقدر فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم ، پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچا ئی جو بھی پہنچائی '' کا مطلب بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے جبریل علیہ السلام کو (ان کی اصلی شکل میں) دیکھا تھا ان کے چھ سو پر تھے۔ (سورۂ النجم : ۹۔ ۱۰)
(۱۳۶۷)۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ (سورۃ النجم آیت:۱۸کہ)'' بے شک انھوں نے اپنے پروردگار کی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ '' (کا مطلب یہ ہے کہ) نبیﷺ نے ایک سبز بچھونا دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو ڈھانک دیا تھا۔ ''(اس پر جبریل علیہ السلام بیٹھے تھے یا ان کے پر تھے)۔
(۱۳۶۸)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ جو شخص خیال کرتا ہے کہ محمدﷺ نے اپنے پروردگار کو دیکھا تو اس نے برا خیال کیا بلکہ آپﷺ نے جبریل علیہ السلام کو ان کی (اصلی) صورت و خلقت میں دیکھا تھا جنہوں نے آسمان کے کنارے بھر دیے تھے۔
(۱۳۶۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جب خاوند اپنی بیوی کو ہم بستری کے لیے بلائے اور وہ انکار کرے پھر وہ (خاوند) ناخوش ہو کر سو جائے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے ہیں۔ ''
(۱۳۷۰)۔ سیدنا ابن عبا سؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جس رات مجھے معراج ہوئی ، میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایک گندمی رنگ ، دراز قامت اور پیچ دار بالوں والے آدمی ہیں ، جیسے قبیلۂ شنوء ۃ کے لو گ ہوتے ہیں۔ اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا کہ وہ میانہ قامت ، میانہ بدن ، سرخ سفید ، سیدھے بالوں والے آدمی ہیں اور میں نے اس فرشتے کو بھی دیکھا جو دوزخ کا داروغہ ہے۔ اور دجال کو بھی منجملہ اور آیات الٰہی کے دیکھا جو اللہ نے مجھے (اس روز) دکھائیں۔ اور (سورۂ سجدہ :۲۳میں) جو ہے '' آپﷺ کو ہر گز اس ملاقات میں شک نہیں کر نا چاہیے'' (اس سے مراد معراج کی رات موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہے)۔
(۱۳۵۶)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا اور وہ صادق مصدوق تھے :۔ '' تم میں سے ہر شخص کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں تمام کی جاتی ہے۔ چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے پھر اتنے ہی عرصے تک منجمد خون رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک مضغہ گوشت (لو تھڑا) کا رہتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ، فرشتہ بھیجتا ہے۔ اور اسے چار باتوں (کے لکھنے) کا حکم دیا جاتا ہے (۱) اسے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل (۲) اس کا رزق (۳) اس کی عمر (۴) اور (یہ لکھ دے کہ) شقی ہے یا سعید (یعنی خوش بخت ہے یا بدبخت) پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ پس بے شک تم میں سے کوئی شخص (ایسا) عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز (فاصلہ) رہ جاتا ہے پھر اس پر (اللہ کا) نوشتہ (لکھی ہوئی تقدیر) غالب آ جاتا ہے اور وہ وہ دوزخیوں والے عمل کرنے لگتا ہے اور کوئی شخص ایسا عمل کرتا ہے کہ اس کے دوزخ کے درمیں صرف ایک گز (کا فاصلہ) باقی رہ جاتا ہے پھر اس پر اللہ کا نوشتہ (تقدیر) غالب آ جاتا ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے۔ ''
(۱۳۵۷)۔ سیدنا ابو ہریر ہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں شخص کو دوست رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس کو دوست رکھو۔ پس جبریل (علیہ السلام) اس کو دوست رکھنے لگتے ہیں۔ پھر جبریلؑ تمام آسمان والوں میں اعلان کر دیتے ہیں کہ اللہ فلاں شخص کو دوست رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس کو دوست رکھو چنانچہ اس کو تمام آسمان والے دوست رکھتے ہیں پھر زمین (والو ں) میں اس کی قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ ''
(۱۳۵۸)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:'' فرشتے بادل میں اترتے ہیں اور آسمان پر ، اللہ تعالیٰ کے جو حکم احکام (اس دن ہوئے) ان کا ذکر کرتے ہیں۔ پس شیاطین چھپ کر اسے سن لیتے ہیں اور کاہنوں سے آ کر بیان کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کچھ جھوٹ بھی اپنی طرف سے ملا لیتے ہیں۔ ''
(۱۳۵۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے :'' جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے (متعین) ہوتے ہیں اور وہ سب سے پہلے جو آیا اس کا ، پھر اس کے بعد جو آیا اس کا (اسی طرح برابر سب کے نام) لکھتے ہیں۔ پھر جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو وہ صحیفوں کو لپیٹ دیتے ہیں اور خطبہ سننے کے لیے آ جاتے ہیں۔ ''
(۰ ۱۳۶)۔ سیدنا براءؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے حسان (بن ثابت) رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا :۔ '' تم مشرکوں کی ہجو کر و اور جبریل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں :''
(۱۳۶۱)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایا :'' اے عائشہ ! یہ جبریل علیہ السلام تم کو سلام کہتے ہیں۔ '' تو انھوں نے کہا و علیکم السلام رحمۃ اللہ و برکاتہ ، آپ (ﷺ) وہ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھتی۔ '' ترٰی '' سے نبیﷺ کو مراد رکھا۔
(۱۳۶۲)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے جبریل علیہ السلام سے کہا :'' جس قدر اب تم ہمارے پاس آتے ہو اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ ابن عباسؓ کہتے ہیں پس یہ آیت نازل ہوئی '' اور ہم نہیں نازل ہوتے مگر تمہارے پروردگار کے حکم سے ، اسی کا ہے جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور ہمارے پیچھے ہے ''(سورۂ مریم : ۶۴)
(۱۳۶۳)۔ سیدنا ابن عباسؓ روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' مجھے جبریل علیہ السلام نے ایک قرأت میں قرآن پڑھایا تھا پھر میں برابر ان سے زیادہ چاہتا رہا یہاں تک کہ سات قرأتوں تک پہنچ
گیا :''
(۱۳۶۴)۔ سیدنا یعلیٰؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو منبر پر یہ آیت (سورۂ زخرف :۷۷) پڑھتے ہوئے سنا '' اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک۔ ''(مالک نام ہے داروغہ جہنم کا)
(۱۳۶۵)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبیﷺ سے پوچھا کیا احد سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپﷺ پر آیا ہے تو آپﷺ نے فرمایا :'' میں نے تمہاری قوم (قریش) سے جو جو تکالیف اٹھائی ہیں وہ میرا ہی دل جانتا ہے اور سب سے زیادہ سخت دن مجھ پر مقام عقبہ (جو طائف کی طرف ہے) کا دن گز را ہے جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبد کلال (جو طائف کا ریئس تھا) کے سامنے پیش کیا اور اس نے میری خواہش پوری نہ کی پس میں نہایت رنج میں چلا ، میں اپنے ہو ش میں نہ آیا تھا کہ قرن الثعالب (مقام) میں پہنچا۔ اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ابر کے ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کر لیا ہے پھر میں نے دیکھا تو اس میں جبریل (علیہ السلام) تھے۔ انھوں نے مجھے آواز دی کہ اللہ نے آپ کی قوم کی گفتگو سن لی اور وہ جواب جو انھوں نے آپ کو دیا اور اللہ نے آپ کے پاس پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ہے ، آپ اس کو کافروں کی نسبت جو چاہیں حکم دیں۔ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی ، مجھے سلام کیا ، اس کے بعد کہا کہ اے محمد ! جو تم چاہو موجود ہے ، اگر تم چاہو تو میں اخشبین (نامی دونوں پہاڑ) ان پر رکھ دوں ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' نہیں ! میں یہ نہیں چاہتا بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی پشت سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اللہ عزوجل کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے۔
(۱۳۶۶)۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ اس آیت '' پس دو کمانوں کے بقدر فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم ، پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچا ئی جو بھی پہنچائی '' کا مطلب بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے جبریل علیہ السلام کو (ان کی اصلی شکل میں) دیکھا تھا ان کے چھ سو پر تھے۔ (سورۂ النجم : ۹۔ ۱۰)
(۱۳۶۷)۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ (سورۃ النجم آیت:۱۸کہ)'' بے شک انھوں نے اپنے پروردگار کی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ '' (کا مطلب یہ ہے کہ) نبیﷺ نے ایک سبز بچھونا دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو ڈھانک دیا تھا۔ ''(اس پر جبریل علیہ السلام بیٹھے تھے یا ان کے پر تھے)۔
(۱۳۶۸)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ جو شخص خیال کرتا ہے کہ محمدﷺ نے اپنے پروردگار کو دیکھا تو اس نے برا خیال کیا بلکہ آپﷺ نے جبریل علیہ السلام کو ان کی (اصلی) صورت و خلقت میں دیکھا تھا جنہوں نے آسمان کے کنارے بھر دیے تھے۔
(۱۳۶۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جب خاوند اپنی بیوی کو ہم بستری کے لیے بلائے اور وہ انکار کرے پھر وہ (خاوند) ناخوش ہو کر سو جائے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے ہیں۔ ''
(۱۳۷۰)۔ سیدنا ابن عبا سؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جس رات مجھے معراج ہوئی ، میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایک گندمی رنگ ، دراز قامت اور پیچ دار بالوں والے آدمی ہیں ، جیسے قبیلۂ شنوء ۃ کے لو گ ہوتے ہیں۔ اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا کہ وہ میانہ قامت ، میانہ بدن ، سرخ سفید ، سیدھے بالوں والے آدمی ہیں اور میں نے اس فرشتے کو بھی دیکھا جو دوزخ کا داروغہ ہے۔ اور دجال کو بھی منجملہ اور آیات الٰہی کے دیکھا جو اللہ نے مجھے (اس روز) دکھائیں۔ اور (سورۂ سجدہ :۲۳میں) جو ہے '' آپﷺ کو ہر گز اس ملاقات میں شک نہیں کر نا چاہیے'' (اس سے مراد معراج کی رات موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہے)۔