• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختلف جگہوں میں واقع ممالک میں یوم عرفہ کیسےہوگا !

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,084
ری ایکشن اسکور
6,749
پوائنٹ
1,069
مختلف جگہوں میں واقع ممالک میں یوم عرفہ کیسےہوگا

ان ممالک میں یوم عرفہ کاروزہ کیسےرکھاجائےگاجوکہ اوقات میں حجاج کےوقوف عرفات سےمختلف ہیں ؟

الحمد للہ :

یوم عرفہ اوراس کاروزہ ہرایک ملک میں ان کےطلوع فجراورغروب شمس کےحساب سےہوگااوریوم عرفہ کاروزہ دوسال کےگناہوں کا کفارہ ہےجیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےفرمان سےواضح ہے :

( میں اللہ تعالی سےامیدکرتاہوں کہ یوم عرفہ کاروزہ گزرے ہوئےسال اورآنےوالے ایک سال کا کفارہ بنتاہےاوریوم عاشوراءکےروزے ( دس محرم ) کےمتعلق میری اللہ تعالی سےامیدہےکہ گزرے ہوئےایک سال کا کفارہ بنےگا )

صحیح مسلم حدیث نمبر ۔(1976)

واللہ اعلم .

شیخ محمد صالح المنجد
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,553
پوائنٹ
641
یوم عرفہ کے الفاظ میں یوم کی نسبت کسی تاریخ کی بجائے عرفہ کی طرف ہے یعنی عرفات کے قیام والا دن یہ اس کا صحیح ترجمہ بنے گا۔ اس اعتبار سے درست یہی معلوم ہوتا ہے کہ یوم عرفہ سے مراد وہ دن ہے کہ جس دن حجاج عرفات میں قیام کرتے ہیں۔ ۹ ذی الحجہ کی فضیلت میں مناسبت موجود نہیں ہے اور مناسب ملائم ہونا کسی علت کے لیے لازم شرط ہے۔ واللہ اعلم
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
یوم عرفہ کے الفاظ میں یوم کی نسبت کسی تاریخ کی بجائے عرفہ کی طرف ہے یعنی عرفات کے قیام والا دن یہ اس کا صحیح ترجمہ بنے گا۔ اس اعتبار سے درست یہی معلوم ہوتا ہے کہ یوم عرفہ سے مراد وہ دن ہے کہ جس دن حجاج عرفات میں قیام کرتے ہیں۔ ۹ ذی الحجہ کی فضیلت میں مناسبت موجود نہیں ہے اور مناسب ملائم ہونا کسی علت کے لیے لازم شرط ہے۔ واللہ اعلم
لیکن بھائی جان، یہ تو آج ہے کہ ہمیں سعودی عرب میں کب قیام عرفات ہے، آسانی سے معلوم ہو جاتا ہے۔ گزشتہ ادوار میں کیونکر ممکن تھا؟
اور آج بھی اگر کوئی شخص میڈیا سے کسی وجہ سے دور ہے اور اس تک خبریں نہیں پہنچ پاتیں، تو چاند وغیرہ کو دیکھ کر اپنے ملک کے حساب سے 9 ذی الحجہ تو معلوم ہو سکتا ہے، یوم عرفات کا کیونکر معلوم ہوگا؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,553
پوائنٹ
641
ماضی میں اہل علم نے ایک مسئلے کا کیا حل نکالا؟ وہ ان حالات اور معلومات پر منحصر تھا جو انہیں میسر تھیں جیسے ماضی میں ایک مسافر کے پاس قبلہ کی سمت معلوم یا متعین کرنے کے لیے کوئی آلہ نہیں ہوتا تھا لہذا اس کا اجتہاد ہی معتبر تھا اور باعث اجر وثواب بھی تھا، چاہے اس اجتہاد کے کرنے میں امر واقعہ میں غلطی بھی ہوئی ہو۔ اسی طرح ماضی میں مخصوص حالات میں مثلا برسات کے موسم وغیرہ میں نمازوں کے اوقات کے داخل ہونے یا ختم ہونے کو معلوم کرنے کے لیے گھڑیاں نہیں تھیں لہذا لوگ اجتہاد سے اس کا تعین کرتے تھے اور یہ قابل ثواب تھا، چاہے اس میں غلطی بھی ہو گئی ہو۔ آج سائنسی آلات نے بہت سے مسائل کو آسان کر دیا ہے۔ میرے خیال میں یہ اللہ کی ایک نعمت ہے۔ ویسے بھی ہم اپنے زمانے میں مکلف بنائے گئے اور ماضی کے لوگ اپنے زمانے میں۔ اور فتوی وقت گزرنے کے ساتھ تبدیل ہو سکتا ہے، یہ ایک مسلم اصول ہے۔ شریعت غیر متبدل ہے لیکن اس شریعت کی تفہیم یا تطبیق یعنی انڈرسٹینڈنگ یا ایپلیکیشن میں زمان ومکان کے اعتبار سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
بھائی جان،
ایک اجتہاد تو وہ ہے کہ جس سے شریعت کی تعلیم متاثر نہیں ہوتی۔ یعنی اگر کوئی شخص اجتہاد کر کے قبلہ معلوم کرے یا سائنسی آلہ سے معلوم کر لے، اصل جہت وہی رہتی ہے۔ نماز کے اوقات اجتہاد سے معلوم کر لئے جائیں، یا گھڑیوں سے بالکل درست وقت معلوم کر لیا جائے، نماز کا وقت بہرحال وہی رہتا ہے، ایکوریسی کے فرق کے ساتھ۔

لیکن اگر کسی سائنسی ایجاد کی بدولت شریعت کی تعلیم ہی بدل دی جائے تو یہ تو مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ اگر یہ ریڈیو، ٹی وی انٹرنیٹ جیسے تیز ذرائع ابلاغ نہ ہوتے تو ہم اپنے ملک کے حساب سے نو ذی الحجہ کو روزہ رکھتے، اور اب چونکہ یہ چیزیں ایجاد کر دی گئی ہیں، تو حکم بدل جائے اور اب پاکستان کے اعتبار سے آٹھ ذی الحجہ کو روزہ رکھنا شروع کر دیں؟

غالباً انس صاحب نے پہلے بھی کہیں اسی مسئلے پر یہ سوال پوچھا تھا کہ وہ ممالک جہاں چاند مکہ سے ایک دن قبل ہی نظر آ جاتا ہے، کیا وہ بروز عید روزہ رکھیں؟ گویا اگر یوم عرفہ ، مکہ مکرمہ کے حساب سے سمجھا جائے تو اول تو اس کے لئے یہ ذرائع ابلاغ درکار ہیں، ( جو کہ آج بھی پہاڑوں ، دور دراز دیہاتی علاقوں وغیرہ میں بآسانی دستیاب نہیں ) اور پھر بھی دنیا کی آبادی کا ایک کثیر حصہ یوم عرفہ کو روزہ رکھنے سے قاصر رہے گا۔۔!

اس کے بجائے اگر درج ذیل عمومی حدیث سے تطبیق دے دی جائے:
صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ - صحیح بخاری ، کتاب الصوم
چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو اور اگر تم پر چاند مخفی ہو جائے تو پھر تم شعبان کے 30 دن پورے کر لو۔

تو نہ تو آپسی اختلافات ہوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا اس شرعی حکم پر عمل کرنا بھی کوئی مسئلہ نہ ہو۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,553
پوائنٹ
641
بعض اوقات ہم ایک ہی مسئلے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ آپ کو جس تشریح پر اطمینان ہے، آپ اس پر عمل کریں۔ مجھے چونکہ علماء کی اس تشریح پر شرح صدر ہے، لہذا مجھے سکون بھی اسی پر عمل سے ملتا ہے۔ کیفیات کی بات ہے۔ بعض لوگوں کو تو یہ کیفیت سرور اور نشاط میں مبتلا کر دیتی ہے کہ اگرچہ وہ عرفات میں حاضر نہیں ہیں لیکن اس وقت میں روزے، دعا، تلاوت اور اذکار وغیرہ جیسی عبادات کے ذریعے اپنے آپ کو ذہنی اور قلبی طور ان کے ساتھ شامل سمجھ رہے ہوتے ہیں تا کہ یوم عرفہ کے دن میں، میدان عرفات میں حجاج پر نازل ہونے والی برکات اور انوارات کے حصول میں یہ بھی اپنے مقام پر رہتے ہوئے شامل ہو سکیں۔ واللہ اعلم، مجھے کوئی اپنی رائے پر اصرار نہیں ہے۔ لیکن انسان کی بس عادت سی ہے کہ جس رائے پر عمل کرتا ہے، اس کے لیے کلام بھی کر لیتا ہے۔ جزاکم اللہ خیرا
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,084
ری ایکشن اسکور
6,749
پوائنٹ
1,069
یومِ عرفہ کا روزہ


9۔ذی الحجہ کو یا وقوفِ عرفات پر ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

دنیا بھر کے مسلمان ، یومِ عرفہ کا روزہ کس دن رکھیں ؟

اپنے ملک کے کیلنڈر (اسلامی/قمری) کے حساب سے 9۔ذی الحجہ کو یا حج کے دوران حجاج کرام کے وقوفِ عرفات کے دن؟


اس اختلاف کا سبب دراصل رویت ہلال کی رو سے اختلافِ مطالع اور مختلف ممالک میں قمری تاریخ کے مختلف ہونے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس اختلاف کا کوئی واضح ثبوت کم و بیش نصف قرن پہلے تک نہیں ملتا البتہ اب کچھ سالوں سے یہ اختلاف ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔

اختلافِ مطالع کو جو لوگ معتبر مانتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ :

جس ملک میں جب 9۔ذی الحجہ ہوگی ، وہ یومِ عرفہ ہوگا اور وہاں کے لوگوں کو اسی دن یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا ہوگا۔

اس کی دلیل میں ان لوگوں کے پاس صحیح بخاری کی درج ذیل حدیث ہے :

صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ
-
صحیح بخاری ، کتاب الصوم

چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو اور اگر تم پر چاند مخفی ہو جائے تو پھر تم شعبان کے 30 دن پورے کر لو۔

اس حدیث سے چاند دیکھنے کی اور قمری تاریخ کی اہمیت کی دلیل لی جاتی ہے۔

اگر برصغیر ، جاپان و کوریا کے مسلمان ، بغیر چاند دیکھے ، سعودی عرب کے مطابق رمضان کے روزے شروع کر دیں اور عید بھی منا لیں تو کیا یہ صحیح ہوگا؟

دوسری طرف جو لوگ اختلافِ مطالع کو معتبر نہیں مانتے ، ان کے پاس دلیل یہ ہے کہ ۔۔۔

موجودہ تیز تر وسائلِ نقل و حرکت اور ذرائع ابلاغ کے پیشِ نظر ، حجاجِ کرام کے میدانِ عرفات میں ہونے کی خبر لمحہ بہ لمحہ دنیا بھر میں پہنچ رہی ہوتی ہے ، لہذا یومِ عرفہ کا روزہ بھی اسی دن رکھا جائے جب حجاج کرام ، عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔

اس عقلی دلیل پر چند اشکالات وارد ہوتے ہیں :

بعض ممالک مثلاً : لیبیا ، تیونس اور مراکش ۔۔۔ ایسے ہیں جہاں چاند مکہ مکرمہ سے بھی پہلے نظر آتا ہے۔ یعنی ان ممالک میں جب 10۔ذی الحج کا دن آتا ہے تو مکہ مکرمہ میں یومِ عرفہ کا دن ہوتا ہے۔ اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات والے دن روزہ رکھیں تو یہ گویا ، ان کے ہاں عید کے دن کا روزہ ہوا اور یہ تو سب کو پتا ہے کہ عید کے دن روزہ ممنوع ہے۔


دوسری اہم بات یہ کہ :

اختلافِ مطالع اگر معتبر نہیں ہے تو ہر چیز میں نہیں ہونا چاہئے۔
مثلاً ، افطار و سحری کے اوقات بھی وہی ہونا چاہئے جو مکہ مدینہ کے اوقات ہوں۔

نمازوں کے اوقات بھی وہی ہونا چاہئے جو مکہ مدینہ کی نمازوں کے اوقات ہوں۔

اگر یہ ممکن نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ : اختلاف مطالع نمازوں اور افطار و سحر کے معاملے میں تو معتبر ہے لیکن رمضان کے روزوں اور یومِ عرفہ کے روزے میں معتبر نہیں ؟؟

کیا یہ عجیب بات نہیں ؟؟

صحیح مسلم میں ایک حدیث یوں ہے کہ ۔۔۔۔ (صحیح مسلم ، کتاب الصیام)

ملک شام میں لوگوں نے روزہ رکھا اور مدینہ منورہ کے لوگوں نے اس کے اگلے دن روزہ رکھنا شروع کیا۔

فقہائے مدینہ نے اہلِ شام کے ایک دن پہلے روزہ رکھنے کی خبر کو بنیاد بنا کر اہلِ مدینہ کو یہ فتویٰ نہیں دیا کہ : تم ایک روز قضا کرو کیونکہ شام میں چاند ہو چکا تھا۔ بلکہ یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ان کی رویت ان کے لیے اور ہماری رویت ہمارے لیے ہے اور (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے)۔

علاوہ ازیں ، جو لوگ نعرہ لگاتے ہیں کہ : پوری مسلم امت کیوں ایک دن اپنی عید نہیں مناتی ؟

تو دراصل یہ لوگ گریگورین کلینڈر (عیسائی تقویم) کی برتری کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ عیسوی تقویم کی رو سے بعض جگہ یکم ڈسمبر تو کسی جگہ تین ڈسمبر کو عید ہوتی ہے۔

حالانکہ اگر غور کیا جائے تو حقیقی ، فطری اور الٰہی یعنی ہجری و قمری تقویم کے مطابق ہر جگہ عید الفطر ، یکم شوال کو اور عید الاضحیٰ 10۔ذی الحجہ کو منائی جاتی ہے۔ ایک مستند فطری اور الٰہی تقویم کو انسانوں کے خودساختہ اصولوں پر مبنی تقویم (گریگورین کلینڈر) پر پرکھنا ، بھلا کہاں کا انصاف ہے ؟

روزہ و عیدین وغیرہ کے سلسلہ میں بعض حضرات ترمذی شریف کی ایک حدیث سے دلیل دیتے ہیں :

الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ وَالْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ -

جامع ترمذی ، کتاب الجمعہ

روزہ اس دن رکھا جائے جس دن لوگ روزہ رکھتے ہیں ، عید الفطر اور عید الاضحیٰ بھی اسی دن منائی جائے جب لوگ مناتے ہیں۔

یہ حدیث واضح تو ہے لیکن اس کے مفہوم کو اپنی مرضی کے مطابق کر لیا جاتا ہے۔

اس کے حقیقی معنی و مفہوم بیان کرتے ہوئے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے :


"روزہ اور عید ، جماعت اور لوگوں کی اکثریت کے ساتھ معتبر ہے"۔


اور امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ اسی مفہوم کی تائید علامہ البانی رحمۃ اللہ نے " تمام المنۃ " میں یوں کی ہے :
جب تک تمام ممالکِ اسلامیہ کسی نقطۂ اتحادِ رویت پر متفق نہ ہو جائیں ، تب تک ہر ملک کے باشندوں کو ، میری رائے کے مطابق ، اپنے ملک اور اپنی حکومت کے ساتھ رہنا چاہئے ، الگ نہیں ہو جانا چاہئے کہ کوئی اپنے ملک کی رویت پر عمل کرنے لگے اور دوسرا کسی دوسرے ملک کی رویت پر ، کیونکہ ایسا کرنے سے ایک ہی ملک والوں کے مابین اختلاف و انتشار کے مزید وسیع ہو جانے کا خطرہ ہے۔
آخری بات ۔۔۔۔

یومِ عرفہ کے روزہ کا معاملہ ، علماء کرام کے درمیان کا اجتہادی معاملہ ہے۔ اس معاملے میں کوئی حتمی حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
جسے اختلافِ مطالع پر اعتبار و اطمینان ہو ، وہ اپنے ملک کی تقویم کے حساب سے 9۔ذی الحجہ کو "یومِ عرفہ" کا روزہ رکھیں۔

اور جو موجودہ تیز ترین ذرائع ابلاغ کا اعتبار کرتے ہوئے اختلافِ مطالع کو معتبر نہیں مانتا ، وہ حجاج کو میدانِ عرفات میں دیکھ کر روزہ رکھ لے۔


@

ابوالحسن علوی بھائی


ان لوگوں کے بارے میں آپ کیا کہے گے

بعض ممالک مثلاً :

لیبیا ، تیونس اور مراکش ۔۔۔ ایسے ہیں جہاں چاند مکہ مکرمہ سے بھی پہلے نظر آتا ہے۔ یعنی ان ممالک میں جب 10۔ذی الحج کا دن آتا ہے تو مکہ مکرمہ میں یومِ عرفہ کا دن ہوتا ہے۔ اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات والے دن روزہ رکھیں تو یہ گویا ، ان کے ہاں عید کے دن کا روزہ ہوا اور یہ تو سب کو پتا ہے کہ عید کے دن روزہ ممنوع ہے۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,404
پوائنٹ
562
دونوں طرف کے دلائل بہت قوی ہیں۔ لہٰذا کیا یہ ممکن نہیں کہ:
  1. ذی الحجہ کی مقامی 9 تاریخ کو بھی روزہ رکھا جائے۔
  2. اور میدان عرفات میں وقوف عرفہ والے دن بھی روزہ رکھ لیا جائے، بشرطیکہ اس روز عید کا دن نہ ہو۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,404
پوائنٹ
562
دونوں میں سے کوئی ایک یوم عرفہ والا مسنون روزہ ہو جائےگا اور دوسرا عام نفلی روزہ بن جائے گا۔ اس طرح ”یوم عرفہ والا مسنون روزہ“ یقینی طور پر رکھا جاسکے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
 
Top