• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختلف جگہوں میں واقع ممالک میں یوم عرفہ کیسےہوگا !

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,000
ری ایکشن اسکور
9,801
پوائنٹ
773
یوم عرفہ کے الفاظ میں یوم کی نسبت کسی تاریخ کی بجائے عرفہ کی طرف ہے یعنی عرفات کے قیام والا دن یہ اس کا صحیح ترجمہ بنے گا۔ اس اعتبار سے درست یہی معلوم ہوتا ہے کہ یوم عرفہ سے مراد وہ دن ہے کہ جس دن حجاج عرفات میں قیام کرتے ہیں۔ ۹ ذی الحجہ کی فضیلت میں مناسبت موجود نہیں ہے اور مناسب ملائم ہونا کسی علت کے لیے لازم شرط ہے۔ واللہ اعلم
یہ بات تسلیم کرنے کی صورت میں یہ کتنی عجیب بات ہوگی کہ چودہ سوسال تک ایک نص دنیا کے اکثر لوگوں کے لئے صحیح طور سے ناقابل عمل تھی !
یہ کیسے ممکن ہے کہ پوری دنیا کے لئے جس حکم کاصدور چودہ سوسال پہلے ہوا وہ چودہ سو سال بعد قابل عمل ہوا؟

رہی بات عرفہ کی عرفات کے قیام سے نسبت تو نحروقربانی کی بھی منی کے نحر وقربانی سے نسبت ہے۔
پھر کیا پوری دنیا کے لئے لوگ اسی دن نحرو وقربانی کریں جس دن منی میں قربانی ہوتی ہے؟

اگرکہاجائے کہ حجاج کی قربانی کا مسئلہ الگ ہے اور عام لوگوں کی قربانی کا مسئلہ الگ ہے ۔
تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ حجاج کے وقوف عرفات کا مسئلہ الگ ہے اور عام لوگوں کے لئے صوم عرفہ الگ مسئلہ ہے۔

یہ بات بھی صحیح نہیں معلوم ہوتی کہ یوم عرفہ کے الفاظ میں یوم کی نسبت کسی تاریخ کی طرف نہیں ہے۔
کیونکہ اول تو یوم النحر میں بھی یہی مسئلہ پیدا ہوگا۔
اوردوسرے یہ کہ عرفہ کی ایک تاریخ متعین ہے جو نو ذی الحجہ ہے لہٰذا عرفہ کی نسبت تاریخ ہی کی طرف نسبت ہے۔
مزید یہ کہ قرآن میں یوم عرفہ کو وتر یعنی طاق کہا گیا ہے۔لہٰذا جفت تاریخ میں عرفہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اپنے اپنے علاقے کے حساب سے ساری دنیا کے لوگ عرفہ کا روزہ رکھیں واللہ اعلم۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,552
پوائنٹ
641
عرفہ کے دن کا روزہ یا نوذی الحجہ کا ؟
الحمد لله وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده,وبعد:
عرفہ کے دن کے روزے کی احادیث میں بہت بڑی فضیلت وارد ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن کی اہمیت کئی اعتبارسے شریعت میں مسلم ہے ، مثلا :​
(يوم عرفة ويوم النحر وأيام منى عيدنا أهل الإسلام ) رواه أبو داود وصححه الألباني .
یعنی :( عرفہ ، نحر(قربانی ) اور منی کے ایام ہم اہل اسلام کے لئے عیدکے دن ہیں )

2 – اس روز دعاء کا خاص مقام ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :(خير الدعاء دعاء يوم عرفة ) صححه الألباني في كتابه السلسة الصحيحة. قال ابن عبد البر – رحمه الله - : وفي ذلك دليل على فضل يوم عرفة على غيره.
یعنی : (سب سے بہترین دعاء عرفہ کے دن کی دعاء ہے)​
( ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة) رواه مسلم في الصحيح.
یعنی : ( عرفہ کے دن سے زیادہ اللہ تعالی کسی دن بندوں کو آزاد نہیں کرتا)

4 – اللہ تعالی عرفہ میں وقوف کرنے والوں پر اہل آسمان کے درمیان فخرکرتاہے ، اللہ کے رسول صلى الله عليہ وسلم کا ارشادہے :( إن الله يباهي بأهل عرفات أهل السماء) رواه أحمد وصحح إسناده الألباني .

اس کے علاوہ بھی اور بہت ساری خصوصیات ہیں جو اس دن کو دیگر ایام سے ممتازکرتی ہیں ۔
عصر حاضرمیں اختلاف مطالع اور اس سے پیدہ شدہ بعض مسائل کی بنیاد پر عرفہ کے دن کےروزہ کی تاریخ کی تعیین میں کچھ علماء بعض شبہات کے شکا رہیں اور عرفہ کے دن کے روزہ کی تاریخ کی تعیین میں نو ذی الحجہ کے قا‏ئل وفاعل ہیں ، اس سلسلے میں بنیادی چیزجو قابل غورہے وہ یہ ہے کہ عرفہ کے دن کے روزے کا سبب کیا ہے ؟ اوراس کا تعلق دن اور تاریخ سے ہے یا حاجیوں کے کسی مخصوص دن میں شریعت کے ذریعہ مخصوص عمل (یعنی عرفات میں وقوف ) سے ؟ جب اس چیز کی تعیین ہوجائےگی تو مسئلہ میں کسی التباس کی کوئی وجہ باقی نہیں رہ جائے گی ۔آیئے اس سلسلے میں چند نکتوں پہ غور کرتے ہیں :

1 – کسی بھی مسئلہ کی وضاحت اوراس سے متعلق امورمیں حکم کا بہت بڑا دخل ہوتاہے ، تاکہ مکلف پر اس پر عمل کی حیثیت واضح اور مدون ہوسکے ۔عرفہ کے دن کا روز ہ حکم کے اعتبار سے ( اپنی بے انتہا فضیلت کے باوجود)مستحب یا سنت مؤکدہ کے زمرے میں آتاہے ،اس لئے ترک وعمل اورتعیین وتحدید میں اس کا اعتباربھی اسی حیثیت سے ہوگا ، نہ کہ بالکلیہ دوسرے سببی اور غیر سببی روزوں کے اعتبارسے ۔

2- بلا شبہ رمضان اورغیررمضان کے روزوں میں رؤیت ہلال کا بہت بڑا دخل ہے جبکہ عرفہ کے دن کا روزہ رؤیت کے تخمینہ کے ساتھ ساتھ عرفہ میں حاجیوں کے وقوف سے متعلق ہے ۔ اسی وجہ سےہم دیکھتے ہیں کہ اس روزہ کی فضیلت جن روایتوں میں بیان کی گئی ہے ان میں زیادہ ترمیں "یوم عرفہ " کا ذکرہے نہ کہ تاریخ ذی الحجہ کا یہ الگ بات ہے کہ یوم عرفہ نو ذی الحجہ ہی کو پڑتاہے ۔
یہاں یہ بات قابل غورہے کہ اگرکسی اجتہادی غلطی کی وجہ سے حجاج آٹھ یا دس ذ ی الحجہ میں وقوف کرتے ہیں تو اسی دن کو یوم عرفہ شمارکیا جائے گاجیسا کہ فقہاء نے اپنی کتابوں میں اس کی صراحت کی ہے ۔ (دیکھئے : حاشية ابن القيم على سنن أبي داود6/317, المحلى لابن حزم : 5/203-204 ، المغني لابن قدامة 3/456 , المهذب مع شرحه المجموع 8/292 , المجموع للإمام النووي 8/292 , مجموع فتاوى الإمام ابن تيمية 25/107 , بدائع الصنائع 2/304 , شرح الخرشي على مختصر خليل 2/321 )
چنانچہ " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ -والی روایت کو مطلقا یوم عرفہ کے روزہ کے لئے تاریخ کی تحدید کے طورپرپیش کرنا محل نظرہے ، کیونکہ اس روزے کا تعلق یوم عرفہ (حاجیوں کے مقام عرفات میں قیام ) سے ہے ۔

3- جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ عرفہ کے دن کا روزہ کوئی واجبی روزہ نہیں ہے کہ اس کا توڑنے والا گنہگار ہوگا البتہ اس کے لئے خیرکثیر سے محرومی کا باعث ضرورہے ۔

4 – (ساری عبادتوں میں تاریخ ، دن اوراوقات کی تعیین میں اختلاف مطالع کا واقعی معتبر ہونے کے باوجود) جب اس بات کی تعیین ہوجاتی ہے کہ اس روزہ کا تعلق عرفہ کے دن سے ہے تو اس میں اختلاف مطالع کا کوئی اعتبار نہیں رہ جاتاہے ، دنیا میں تاریخ کوئی بھی ہوعرفہ کا دن وہی ہوگا جس روز حاجی مقام عرفات میں قیام فرمائیں گے۔
یہاں پر یہ اشکا ل پیش کرنا کہ : (بعض ممالک مثلاً : لیبیا ، تیونس اور مراکش ۔۔۔ ایسے ہیں جہاں چاند مکہ مکرمہ سے بھی پہلے نظر آتا ہے۔ یعنی ان ممالک میں جب 10۔ذی الحج کا دن آتا ہے تو مکہ مکرمہ میں یومِ عرفہ کا دن ہوتا ہے۔ اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات والے دن روزہ رکھیں تو یہ گویا ، ان کے ہاں عید کے دن کا روزہ ہوا اور یہ تو سب کو پتا ہے کہ عید کے دن روزہ ممنوع ہے۔ )

تو یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ ( جیساکہ پہلے بیان کیاجاچکا ہے) کو ‏ئی واجبی روزہ نہیں ہے جس کا نہ رکھنے والا گنہگار ہوگا ۔ خاص طورسے جب اسے چھوڑنے کے لئے کوئی مناسب اورمضبوط سبب موجود ہو ، اس لئے جن ممالک میں قربانی کا دن حاجیوں کے عرفات میں وقوف کے دن پڑ جائے توان کے یہاں قربانی کے دن کو ترجیح حاصل ہوگی اور عرفہ کا روزہ ان سے ساقط ہوجائے گا ۔

شریعت میں اس نوع کے بہت سارے اعمال ہیں جو کسی سبب مناسب کی بناء پر ساقط ہوجاتے ہیں ، مثلا :
- جمعہ کے روزے کی ممانعت عرفہ کے روزے کی عزیمت کی وجہ سے ساقط ہے ۔
- عرفہ کے دن وقوف عرفات کی وجہ سے حاجیوں سے اس روز روزہ ساقط ہے۔
- مقیم امام کی اقتداءمیں نماز پڑھنے کی وجہ مسافرکے لئے قصر ساقط ہے ۔
- فجر اور ظہر وغیرہ کی سنتوں یا جماعت کھڑی ہونے کی وجہ سے تحیۃ المسجد ساقط ہے کیونکہ یہ سنتیں تحیۃ المسجدکے لئے کفایت کرتی ہیں ۔
- اسی طرح سببی نمازوں جیسے فرض نمازوں کی قضاء ، طواف کی دورکعتیں ، تحیۃ المسجد اورسورج گرہن کی نماز وغیرہ کی وجہ سے ممنوعہ اوقات میں نماز کی ممانعت ساقط ہے ۔
ان کے علاوہ بھی اور بہت سارے مسائل ہیں جو اس نقطے کی وضاحت کے لئے کافی ہیں ۔

اس لئے جن ممالک میں یوم النحر عرفہ کے دن پڑجائے وہاں کے رہنے والوں سے عرفہ کے دن کا روزہ ساقط مانا جائے یہ احوط ہے اس بات سے کہ شریعت کے متعین کردہ دن کو ہی بدل دیا جائے ۔
5 - (واضح رہے کہ مختلف ممالک میں اختلاف مطالع کی وجہ سے نو ذی الحجہ الگ الگ ہوتاہے ، اوران الگ الگ ایام کو عرفہ کا نام دینا مناسب نہیں ہے ، جن میں حاجیوں کا عرفات میں قیام ہی نہیں ہوا ، بلکہ دیگر ایام کو وہ نام دینا جو شریعت نے کسی خاص دن کو دے رکھاہے شریعت پہ زیادتی کے قبیل سے ہے ۔

اگر اس چیزکی اجازت دے دی جائےکہ نو ذی الحجہ کو یوم عرفہ کہاجائے خواہ وہ دنیا کے کسی اور خطے میں کسی دوسرے دن ہی کیوں نہ پڑے تو پوری دنیامیں ایک سے زیادہ عرفہ کے ایام ہوجائیں گے اور نام " یوم عرفہ " کے بجائے " ایام عرفہ " رکھنا ہوگا۔)

درج بالا مضمون ایک دوسری رائے کے طور کہیں سے نقل کیا گیا ہے
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,787
پوائنٹ
1,069
شیخ @ابوالحسن علوی
4 – (ساری عبادتوں میں تاریخ ، دن اوراوقات کی تعیین میں اختلاف مطالع کا واقعی معتبر ہونے کے باوجود) جب اس بات کی تعیین ہوجاتی ہے کہ اس روزہ کا تعلق عرفہ کے دن سے ہے تو اس میں اختلاف مطالع کا کوئی اعتبار نہیں رہ جاتاہے ، دنیا میں تاریخ کوئی بھی ہوعرفہ کا دن وہی ہوگا جس روز حاجی مقام عرفات میں قیام فرمائیں گے۔
یہاں پر یہ اشکا ل پیش کرنا کہ : (بعض ممالک مثلاً : لیبیا ، تیونس اور مراکش ۔۔۔ ایسے ہیں جہاں چاند مکہ مکرمہ سے بھی پہلے نظر آتا ہے۔ یعنی ان ممالک میں جب 10۔ذی الحج کا دن آتا ہے تو مکہ مکرمہ میں یومِ عرفہ کا دن ہوتا ہے۔ اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات والے دن روزہ رکھیں تو یہ گویا ، ان کے ہاں عید کے دن کا روزہ ہوا اور یہ تو سب کو پتا ہے کہ عید کے دن روزہ ممنوع ہے۔ )
بھائی ذرا اس کی وضاحت کر دیں

تو یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ ( جیساکہ پہلے بیان کیاجاچکا ہے) کو ‏ئی واجبی روزہ نہیں ہے جس کا نہ رکھنے والا گنہگار ہوگا ۔ خاص طورسے جب اسے چھوڑنے کے لئے کوئی مناسب اورمضبوط سبب موجود ہو ، اس لئے جن ممالک میں قربانی کا دن حاجیوں کے عرفات میں وقوف کے دن پڑ جائے توان کے یہاں قربانی کے دن کو ترجیح حاصل ہوگی اور عرفہ کا روزہ ان سے ساقط ہوجائے گا ۔

شیخ کیا اس طرح غیر حاجی اس شرف سے محروم نہیں ہو جائے گا
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,552
پوائنٹ
641
یہ فتوی صرف معلومات کے لیے شیئر کیا جا رہا ہے کہ کون سے علماء سعودی عرب کے ساتھ یوم عرفہ ماننے کو مستحسن سمجھتے ہیں۔
وسئلت اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء:
هل نستطيع أن نصوم هنا يومين لأجل صوم يوم عرفة؛ لأننا هنا نسمع في الراديو أن يوم عرفة غداً يوافق ذلك عندنا الثامن من شهر ذي الحجة؟
فأجابت: يوم عرفة هو اليوم الذي يقف الناس فيه بعرفة، وصومه مشروع لغير من تلبس بالحج، فإذا أردت أن تصوم فإنك تصوم هذا اليوم، وإن صمت يوماً قبله فلا بأس، وإن صمت الأيام التسعة من أول ذي الحجة فحسن؛ لأنها أيام شريفة يحتسب صومها؛ لقول النبي – صلى الله عليه وعلى آله وسلم –: "ما من أيام العمل الصالح فيهن خير وأحب إلى الله من هذه الأيام العشر" قيل: "يا رسول الله، ولا الجهاد في سبيل الله؟ قال: "ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله، ثم لم يرجع من ذلك بشيء" [رواه البخاري]. وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.
المصدر: فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء، جمع وترتيب أحمد بن الرزاق الدويش، فتوى رقم 4052، ط: دار العاصمة – الرياض.
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,787
پوائنٹ
1,069
كيا عرفہ والے دن حاجى كے علاوہ كسى اور كے ليے بھى دعا كرنے كى فضيلت ہے ؟

كيا حاجى كے علاوہ دوسرے شخص كے ليے بھى يوم عرفہ كے دن مانگى جانے والى دعا قبول ہوتى ہے ؟

الحمد للہ:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يوم عرفہ كے روز اللہ تعالى سب سے زيادہ بندوں كو آگ سے آزاد كرتا ہے، اس كے علاوہ كسى اور روز نہيں، وہ قريب ہوتا اور پھر ان پر فخر كرتا ہوا فرشتوں كو فرماتا ہے: يہ لوگ كيا چاہتے ہيں "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1348 ).


اور عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" سب سے بہتر دعاء يوم عرفہ كى دعاء ہے، اور ميں اور مجھ سے پہلے انبياء نے جو كہا اس ميں يہ دعا بہتر ہے:

" لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، له الملك ، وله الحمد ، وهو على كل شيء قدير "

اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں، وہ اكيلا ہے اس كا كوئى شريك نہيں، اسى كى بادشاہى ہے، اور اسى كى حمد و تعريف، اور وہ ہر چيز پر قادر ہے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 3585 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح الترغيب حديث نمبر ( 1536 ) ميں حسن كہا ہے.


اور طلحہ بن عبيد بن كريز سے مرسل روايت ہے كہ:

" سب سے افضل دعاء يوم عرفہ كى دعا ہے "

موطا امام مالك حديث نمبر ( 500 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 1102 ) ميں اسے حسن كہا ہے.


علماء كرام كا اختلاف ہے كہ آيا يہ فضيلت ميدان عرفات ميں موجود شخص كے ساتھ خاص ہے، يا كہ باقى جگہوں پر رہنے والوں كے ليے بھى، زيادہ راجح يہى ہے كہ يہ فضيلت دن كو حاصل ہے، اور اس ميں كوئى شك نہيں كہ جو ميدان عرفات ميں ہے اس نے جگہ اور وقت دونوں فضيلت كو سميٹ ليا ہے.

الباجى رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

" قولہ: " يوم عرفہ كى دعا سب سے افضل دعا ہے "

يعنى اس ذكر كى بركت بہت زيادہ ہے، اور اس جو اجروثواب بہت عظيم ہے، اور قبوليت كے زيادہ قريب ہے، اور يہ احتمال ہے كہ اس سے خاص حاجى ہى مراد ہو؛ كيونكہ اس كے حق ميں يوم عرفہ كى دعا كا معنى صحيح صادق آتا ہے، اور اس كے ساتھ خاص ہے، اور بالجملہ دن كا وصف يوم عرفہ بيان كرنا تو حاجى كے فعل كے ساتھ ميدان عرفات ميں ہى ہے " واللہ اعلم انتہى.

ديكھيں: المنتقى شرح الموطا ( 1 / 358 ).

بعض سلف رحمہ اللہ سے ثابت ہے كہ انہوں نے " التعريف " كى اجازت دى ہے، " التعريف " يہ ہے كہ يوم عرفہ كے روز مساجد ميں دعاء كے اكٹھے ہونا، ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما ايسا كرنے والوں ميں شامل ہيں، اور امام احمد رحمہ نے خود تو ايسا نہيں كيا ليكن انہوں نے اس كى اجازت دى ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" قاضى كا كہنا ہے كہ: اور ( ميدان عرفات كے علاوہ ) شہروں ميں يوم عرفہ كى شام " التعريف " منانے ميں كوئى حرج نہيں، اور اثرم كہتے ہيں كہ: ميں نے ابو عبد اللہ يعنى امام احمد رحمہ اللہ سے شہروں ميں " التعريف " كے متعلق دريافت كيا كہ لوگ يوم عرفہ كو شام كے وقت مساجد ميں جمع ہوتے ہيں تو انہوں نے جواب ديا:

اميد ركھتا ہوں كہ اس ميں كوئى حرج نہيں، كئى ايك نے ايسا كيا ہے، اور اثرم نے حسن رحمہ اللہ سے روايت كيا ہے كہ: بصرہ ميں سب سے پہلے تعريف منانے والے ابن عباس تھے، اور امام احمد كہتے ہيں: سب سے پہلے كرنے والے ابن عباس اورعمرو بن حريث تھے "

اور حسن، بكر، ثابت، محمد بن واسع رحمہم اللہ يوم عرفہ كے روز مسجد ميں جمع ہوتے تھے، امام احمد كا قول ہے: اس ميں كوئى حرج نہيں؛ يہ اللہ كا ذكر اور دعا ہے، تو ان سے كہا گيا كيا آپ بھى ايسا كرتے ہيں ؟ تو انہوں نے جواب ديا: ميں تو نہيں كرتا، اور يحيى بن معين سے مروى ہے كہ وہ يوم عرفہ كى شام لوگوں كے ساتھ حاضر ہوئے تھے" انتہى.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 2 / 129 ).

يہ اس كى دليل ہے كہ ان كى رائے ميں يہ فضيلت صرف ميدان عرفات ميں موجود افراد كے ليے خاص نہيں، اگرچہ يوم عرفہ كى شام كو مساجد ميں اكٹھے ہو كر ذكر اور دعا كرنا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں ہے، اسى ليے امام احمد رحمہ خود ايسا نہيں كيا كرتے تھے، ليكن اس كى اجازت ديتے اور منع بھى نہيں كرتے تھے، كيونكہ بعض صحابہ سے ايسا كرنا ثابت ہے، مثلا ابن عباس، اور عمرو بن حريث رضى اللہ تعالى عنہم.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب

http://islamqa.info/ur/70282


 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,552
پوائنٹ
641


4 – (ساری عبادتوں میں تاریخ ، دن اوراوقات کی تعیین میں اختلاف مطالع کا واقعی معتبر ہونے کے باوجود) جب اس بات کی تعیین ہوجاتی ہے کہ اس روزہ کا تعلق عرفہ کے دن سے ہے تو اس میں اختلاف مطالع کا کوئی اعتبار نہیں رہ جاتاہے ، دنیا میں تاریخ کوئی بھی ہوعرفہ کا دن وہی ہوگا جس روز حاجی مقام عرفات میں قیام فرمائیں گے۔
یہاں پر یہ اشکا ل پیش کرنا کہ : (بعض ممالک مثلاً : لیبیا ، تیونس اور مراکش ۔۔۔ ایسے ہیں جہاں چاند مکہ مکرمہ سے بھی پہلے نظر آتا ہے۔ یعنی ان ممالک میں جب 10۔ذی الحج کا دن آتا ہے تو مکہ مکرمہ میں یومِ عرفہ کا دن ہوتا ہے۔ اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات والے دن روزہ رکھیں تو یہ گویا ، ان کے ہاں عید کے دن کا روزہ ہوا اور یہ تو سب کو پتا ہے کہ عید کے دن روزہ ممنوع ہے۔ )


بھائی ذرا اس کی وضاحت کر دیں

تو یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ ( جیساکہ پہلے بیان کیاجاچکا ہے) کو ‏ئی واجبی روزہ نہیں ہے جس کا نہ رکھنے والا گنہگار ہوگا ۔ خاص طورسے جب اسے چھوڑنے کے لئے کوئی مناسب اورمضبوط سبب موجود ہو ، اس لئے جن ممالک میں قربانی کا دن حاجیوں کے عرفات میں وقوف کے دن پڑ جائے توان کے یہاں قربانی کے دن کو ترجیح حاصل ہوگی اور عرفہ کا روزہ ان سے ساقط ہوجائے گا ۔

شیخ کیا اس طرح غیر حاجی اس شرف سے محروم نہیں ہو جائے گا
اس کا جواب مضمون میں یوں دیا گیا ہے:
شریعت میں اس نوع کے بہت سارے اعمال ہیں جو کسی سبب مناسب کی بناء پر ساقط ہوجاتے ہیں ، مثلا :​
- جمعہ کے روزے کی ممانعت عرفہ کے روزے کی عزیمت کی وجہ سے ساقط ہے ۔​
- عرفہ کے دن وقوف عرفات کی وجہ سے حاجیوں سے اس روز روزہ ساقط ہے۔​
- مقیم امام کی اقتداءمیں نماز پڑھنے کی وجہ مسافرکے لئے قصر ساقط ہے ۔​
- فجر اور ظہر وغیرہ کی سنتوں یا جماعت کھڑی ہونے کی وجہ سے تحیۃ المسجد ساقط ہے کیونکہ یہ سنتیں تحیۃ المسجدکے لئے کفایت کرتی ہیں ۔​
- اسی طرح سببی نمازوں جیسے فرض نمازوں کی قضاء ، طواف کی دورکعتیں ، تحیۃ المسجد اورسورج گرہن کی نماز وغیرہ کی وجہ سے ممنوعہ اوقات میں نماز کی ممانعت ساقط ہے ۔​
ان کے علاوہ بھی اور بہت سارے مسائل ہیں جو اس نقطے کی وضاحت کے لئے کافی ہیں ۔​
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,787
پوائنٹ
1,069
جب رمضان كي ابتداء اور يوم عرفہ كي تحديد مختلف ممالك ميں ايك نہ ہو تو مجھے كس كےساتھ روزہ ركھنا ہوگا ؟ !

بعض اسباب كي بنا پر ہم نے پاكستان ميں رہائش اختيار كرلي ہے، اور اس كي بنا پر بہت سے معاملات مختلف ہوچكےہيں مثلا نماز كےاوقات وغيرہ بھي بدل چكےہيں وغيرہ ... ميں يہ پوچھنا چاہتي ہوں كہ يوم عرفہ كا روزہ ركھنے كي رغبت ہے، ليكن پاكستان ميں ھجري تاريخ سعودي عرب سے مختلف ہے وہ اس طرح كہ پاكستان ميں آٹھ تاريخ ہو تو سعودي عرب ميں نو تاريخ ہوگي ... تو كيا ميں پاكستان كي آٹھ تاريخ يعني سعودي عرب كي نو تاريخ كےمطابق روزہ ركھوں يا كہ مجھے پاكستان كي تاريخ كےمطابق روزہ ركھنا ہوگا ؟

الحمد للہ :

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالي سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

چاندكا مطلع مختلف ہونے كي صورت ميں جب يوم عرفہ مختلف ہو جائے تو كيا ہم اپنےعلاقے كي رؤيت كےمطابق روزہ ركھيں يا كہ حرمين كي رؤيت كا اعتبار كيا جائےگا؟

شيخ رحمہ اللہ تعالي كا جواب تھا:

يہ اہل علم كےاختلاف پر مبني ہے كہ: آياساري دنيا ميں چاندايك ہي ہے كہ مطلع مختلف ہونے كي بنا پر چاند بھي مختلف ہے؟

صحيح يہي ہے كہ: مطلع مختلف ہونےكي بنا پر چاند بھي مختلف ہيں، مثلا جب مكہ مكرمہ ميں چاند ديكھا گيا تو اس كےمطابق يہاں نوتاريخ ہو گي، اور كسي دوسرے ملك ميں مكہ سے ايك دن قبل چاند نظر آيا تو ان كےہاں دسواں دن يوم عرفہ ہوگا، لھذا ان كےليے اس دن روزہ ركھنا جائز نہيں كيونكہ يہ عيد كا دن ہے ، اور اسي طرح فرض كريں كہ رؤيت مكہ سے ليٹ ہو اور اور مكہ مكرمہ ميں نوتاريخ ہو تو ان كےہاں چاند كي آٹھ تاريخ ہوگي تو وہ اپنے ہاں نو تاريخ كےمطابق روزہ ركھيں گے جو كہ مكہ كےحساب سے دس تاريخ بنےگي، راجح قول يہي ہے .

اس ليے كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے :

( جب چاند ديكھو تو روزہ ركھو اور جب اسے ديكھو تو عيد كرو )


اوروہ لوگ جن كےہاں چاند نظر نہيں آيا انہوں نےچاند نہيں ديكھا، اور جيسا كہ سب لوگ بالاجماع طلوع فجر اور غروب شمس ميں ہر علاقے كے لوگ اسي علاقے كا اعتبار كرتےہيں، تواسي طرح مہينہ كي توقيت بھي يومي توقيت كےطرح ہي ہوگي .

ديكھيں: مجموع الفتاوي ( 20 )

شيخ رحمہ اللہ تعالي سے كسي ايك ملك ميں حرمين ( سعودي عرب ) كے سفارت خانے كےملازمين نے مندرجہ ذيل سوال كيا:

يہاں ہميں خاص كررمضان المبارك اور يوم عرفہ كا روزہ ركھنے ميں ايك مشكل درپيش ہے، يہاں بھائي تين اقسام ميں بٹ چكےہيں:

ايك قسم تو يہ كہتي ہےكہ:

ہم سعودي عرب كے ساتھ ہي روزہ ركھيں گے اور اس كےساتھ ہي عيدمنائيں گے.

اور ايك قسم يہ كہتي ہےكہ:

ہم جس ملك ميں ہيں اسي ملك كےساتھ روزہ ركھيں گےاور عيد بھي انہيں كےساتھ منائيں گے.

اور ايك قسم يہ كہتي ہےكہ:

ہم رمضان المبارك كےروزے تواسي ملك كےمطابق ركھيں گےجس ميں رہتےہيں، ليكن يوم عرفہ سعودي عرب كےساتھ .

اس بنا پر ميري آپ سےگزارش ہے كہ رمضان المبارك اور يوم عرفہ كے روزہ ميں تفصيلي اور شافي جواب سے نوازيں، اس اشارہ كےساتھ كہ مملكت .... اور پچھلےپانچ برس سے ايسا نہيں ہوا كہ مملكت نہ تو رمضان اور نہ ہي يوم عرفہ ميں موافق آيا ہے، اس طرح كہ سعودي عرب اعلان كےايك يا دو روز بعد رمضان شروع ہوتا ہے اور بعض اوقات تين روز كےبعد .


شيخ رحمہ اللہ تعالي كا جواب تھا:

علماء كرام كا اس ميں اختلاف ہے كہ آيا مسلمانوں كےملك ميں ايك جگہ چاند نظر آجائے تو كيا سب مسلمانوں كواس پر عمل كرنا لازم ہوگا يا صرف وہي عمل كرينگےجنہوں نےديكھا ہے اور جن كا مطلع ايك ہے يا پھر جنہوں نےديكھا ہے ان پر عمل كرنا لازم ہوگا اور ان پر بھي جو ان كےساتھ ان كي ولايت ميں بستےہيں، اس ميں كئي ايك اقوال ہيں، اور اس ميں ايك اور اختلاف ہے.

اور راجح يہي ہے كہ يہ اہل معرفہ كي طرف لوٹتا ہے، اگر تو دوملكوں كے مطلع جات ايك ہي ہوں تو وہ ايك ملك كي طرح ہونگے، لھذا جب ايك ملك ميں چاند ديكھا گيا تو دوسرے كا بھي حكم ثابت ہوجائےگا، ليكن اگر مطلع مختلف ہے تو ہر ايك ملك كا حكم اس كےاپنےمطلع كےمطابق ہوگا، شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالي نےيہي اختيار كيا ہے اور كتاب وسنت سےبھي يہي ظاہرہوتا ہے اور قياس بھي اسي كا متقاضي ہے.

كتاب وسنت سےدلائل :

اللہ سبحانہ وتعالي كا فرمان ہے:

{تم ميں جوشخص اس مہينہ كوپائے اسےروزہ ركھنا چاہئے، ہاں جو بيمار ہو يا مسافر اسے دوسرے دنوں ميں يہ گنتي پوري كرني چاہئے، اللہ تعالي كا ارادہ تمہارےساتھ آساني كا ہے سختي كا نہيں، وہ چاہتا ہے كہ تم گنتي پوري كرلو اور اللہ تعالي كي دي ہوئي ہدايت كےمطابق اس كي بڑائياں بيان كرو اور اس كا شكر ادا كرو}


تو آيت كا مفھوم يہ ہے كہ جواس مہينہ كو نہ پائے اس پرروزہ ركھنا لازم نہيں .

اورسنت كي دليل يہ ہے كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

( جب تم اسے ( چاندكو ) ديكھو تو روزہ ركھو، اورجب جب تم اسے ( چاند كو ) ديكھو تو روزہ ركھنا چھوڑ دو )


اس حديث كا مفھوم يہ ہے كہ جب ہم چاند نہ ديكھيں تو روزے ركھنا لازم نہيں ہونگے اور نہ ہي عيد كرنا .

اور رہا قياس تواس كےبارہ ميں گزارش ہےكہ:

اس ليے كہ ہر ملك ميں روزہ كھولنا اور سحري كھانا بند كرنا عليحدہ اور اس كے مطلع اورغروب شمس كے اعتبار سے عليحدہ ہوتا ہے، اور يہ محل اجماع ہے، آپ ديكھتےہيں كہ ايشيا ميں اہل مشرق اہل مغرب سے پہلے سحري بند كرديں گےاور اہل مغرب سے قبل ہي روزہ افطار بھي كريں گے، كيونكہ ان كےہاں فجر پہلے طلوع ہوتي ہے، اور اسي طرح ان كےہاں سورج بھي پہلے غروب ہوتا ہے، لھذا جب روزانہ سحري كا كھانا بند كرنے اور افطاري كرنے ميں يہ ثابت ہوچكا تو اسي طرح ماہانہ روزہ ركھنے اور روزہ چھوڑنے ميں بھي ايسا ہي ہوگا اس ميں كوئي فرق نہيں.

ليكن جب مختلف رياستيں ايك ہي ملك كےماتحت ہوں اور اس ملك كے حكمران نے روزہ ركھنے كا حكم دے ديا يا پھرروزہ افطار كرنے كا حكم ديا تو اس كا حكم ماننا واجب ہوگا، اس ليے كہ يہ مسئلہ اختلافي ہے اور حاكم كا حكم اختلاف ختم كرديتا ہے.

اس بنا پر آپ لوگ اسي طرح روزہ ركھيں اور عيد منائيں جس طرح اس ملك كےلوگ مناتےہيں جہاں آپ رہائش پذيرہيں چاہے وہ آپ كےاصل ملك كےموافق آئے يا اس كےمخالف ہو، اور اسي طرح يوم عرفہ ميں بھي آپ اسي ملك كےمطابق عمل كريں جس ميں رہائش پذ ير ہيں.

ديكھيں: مجموع الفتاوي ( 19 )

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب

http://islamqa.info/ur/40720
 

BlueJayWay

مبتدی
شمولیت
ستمبر 08، 2014
پیغامات
31
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
13
خدارا ان نفلی مسائل میں ایک حد تک بحث کیجئے اور اپنا focus زیادہ سے زیادہ عبادت اور ثواب حاٍصل کرنے پر رکھیے۔
ان چیزوں کو بنی اسرائیل کی گائے بنا کر کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری عبادت پس پشت چلی جائے۔
اللہ ہم سب کو یہ روزہ خلوص نیت اور حسن عمل کے ساتھ نصیب فرمائے۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,787
پوائنٹ
1,069
خدارا ان نفلی مسائل میں ایک حد تک بحث کیجئے اور اپنا focus زیادہ سے زیادہ عبادت اور ثواب حاٍصل کرنے پر رکھیے۔
ان چیزوں کو بنی اسرائیل کی گائے بنا کر کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری عبادت پس پشت چلی جائے۔
اللہ ہم سب کو یہ روزہ خلوص نیت اور حسن عمل کے ساتھ نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
 
Top