• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسلمانوں میں اہانتِ رسولﷺ کے مختلف پہلو

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
خلاصۂ کلام
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کفار کی طرف سے اہانت رسول پر مسلمانوں کا شدید ردّعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ان میں حب ِ رسولﷺ کا جذبہ باقی ہے مگر یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ حب ِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی ادنیٰ ترین اِہانت سے بھی خود کو بچایا جائے۔ آپﷺ کی سنت کی اِتباع کی جائے۔ آپﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کو اپنی اور معاشرے کی اِصلاح و فلاح کے لئے کافی سمجھا جائے۔ ان میں کسی بھی قسم کے اِضافے سے گریز کیا جائے۔ آپ کی بات کے مقابلے میں کسی کی بات کو ترجیح نہ دی جائے۔ ہر طرح کے فیصلوں میں آپﷺکی تعلیمات کو ملحوظ رکھا جائے۔ اپنی جان،مال، اولاد، الغرض کائنات کی ہر چیز سے بڑھ کر آپﷺ سے محبت کی جائے اور آپﷺ ہی کو اپنا آئیڈیل اور اُسوہ سمجھا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق سے نوازے۔ آمین

٭…٭…٭
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
نبی مکرم ﷺ سے عقیدت و محبت ایمان کی اولین شرط ہے اور یہ شرط معدوم ہونے پر انسان دائرہ ایمان سے خارج ہوجاتاہے۔ جیسا کہ فرمان نبویﷺ ہے:
«لایومن أحدکم حتیٰ أکون أحب إلیه من والدہ وولدہ والناس أجمعین»
لیکن محبت کے برعکس اگر کوئی دریدۂ دہن شخص رسول مکرمﷺ کی شان اَقدس میں ہرزہ سرائی کرتا ہے تو اس کا یہ عمل دنیا میں سزائے موت اور آخرت میں رسوا کن ہمیشگی کے عذاب کا مستوجب ہے۔جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿إنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اﷲَ وَرَسُوْلَہُ لَعَنَھُمُ اﷲُ فِیْ الدُّنْیَا وَالاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّلَھُمْ عَذَابًا مُّھِیْنًا… مَلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا﴾ (الأحزاب:۵۷،۶۱ )
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
عہد رسالت میں بھی کوئی بدبخت اہانت کی جسارت کرتا تو حضور مکرمﷺ اپنے جانثار صحابہ سے فرماتے «من یکفینی عدوی »’’کون ہے جو میرے اس دشمن کو کیفرکردار تک پہنچائے‘‘آپﷺ کے اس سوال کا عملی جواب دینے کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم برجستہ ٹوٹ پڑتے اور ایسے ملعون گستاخ کا سرتن سے جدا کئے بغیر سکون نہ پاتے۔ ایسی بے شمار مثالیں کتب احادیث و سیر میں کعب بن اشرف، ابورافع یہودی، عصماء بنت مروان، ابن خطل، ام ولد اور دیگر گستاخان رسول کے قتل کی صورت میں ملتی ہیں۔
قرآن و سنت، اَقوال صحابہ رضی اللہ عنہم، آراء ائمہ و فقہاء اور اجماع اُمت کی روشنی میں واضح ہوجاتی ہے کہ مرتکب اِہانت رسولﷺ واجب القتل ہے۔

عبدالرشید مجاہد آبادی​
 
Top