• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسکین ؟ مسکین ؟

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
السلام علیکم !
فیس بک پر کسی نے ایک تصویر دی ہوئی تھی : جو کچھ اس طرح تھی کہ
ایک تختہ سیاہ کے سامنے ایک بچہ ہاتھ میں قلم لیے ہوئے لکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور لکھی ہوئی عبارت کا ترجمہ کچھ یوں ہے :

لوگ کہتے ہیں : مسکین وہ ہے جو انگریزی نہیں جانتا کیونکہ اس کو اکثر لوگوں کی بات سمجھنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
جبکہ میں کہتا ہوں : مسکین وہ ہے جو عربی زبان نہیں جانتا کیونکہ اس کو لوگوں کے رب کی بات سمجھنے میں مشکل اٹھانا پڑتی ہے ۔


عربی عبارت کچھ یوں ہے :


قالوا : مسکین من لا یعرف الإنجلیزیۃ قد یواجہ صعوبۃ فی فہم کلام الناس ۔
و أقول : مسکین من لا یعرف العربیۃ قد یواجہ صعوبۃ فی فہم کلام رب الناس ۔
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
السلام علیکم !
فیس بک پر کسی نے ایک تصویر دی ہوئی تھی : جو کچھ اس طرح تھی کہ
ایک تختہ سیاہ کے سامنے ایک بچہ ہاتھ میں قلم لیے ہوئے لکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور لکھی ہوئی عبارت کا ترجمہ کچھ یوں ہے :

لوگ کہتے ہیں : مسکین وہ ہے جو انگریزی نہیں جانتا کیونکہ اس کو اکثر لوگوں کی بات سمجھنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
جبکہ میں کہتا ہوں : مسکین وہ ہے جو عربی زبان نہیں جانتا کیونکہ اس کو لوگوں کے رب کی بات سمجھنے میں مشکل اٹھانا پڑتی ہے ۔


عربی عبارت کچھ یوں ہے :


قالوا : مسکین من لا یعرف الإنجلیزیۃ قد یواجہ صعوبۃ فی فہم کلام الناس ۔
و أقول : مسکین من لا یعرف العربیۃ قد یواجہ صعوبۃ فی فہم کلام رب الناس ۔
و علیکم السلام !
ہمارے حساب سے تو یہ حق بات ہے
جزاک الله خیرا
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
و علیکم السلام !
ہمارے حساب سے تو یہ حق بات ہے
جزاک الله خیرا
نوید بھائی معذرت چاہتا ہوں لیکن شرعی طریقہ کار اور اپنا حساب الگ ہوتا ہے. میں بھی نہیں جانتا ہوں کی سچائی کیا ہے .. کوئی بھائی وضاحت کر دیں تو بہتر.
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
نوید بھائی معذرت چاہتا ہوں لیکن شرعی طریقہ کار اور اپنا حساب الگ ہوتا ہے. میں بھی نہیں جانتا ہوں کی سچائی کیا ہے .. کوئی بھائی وضاحت کر دیں تو بہتر.
بلکل صحیح کہا جناب اپنے ہم آپکی بات سے مکمّل اتفاق رکھتے ہیں
اسی لئے تو ہم نے یہاں کہا کے ہمارے حساب سے یہ حق بات لگتی ہے اب یہ ضروری نہیں کے ہم نے جو سوچا وہ صحیح ہو

شرعی حساب سے اگر کوئی اسکی وضاحت کردے اور ہم نے جو سوچا وہ غلط ہے تو ہم اپنی کہی بات واپس لینگے ان شاء الله
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
871
ری ایکشن اسکور
2,332
پوائنٹ
180
قالوا : مسکین من لا یعرف الإنجلیزیۃ قد یواجہ صعوبۃ فی فہم کلام الناس ۔
و أقول : مسکین من لا یعرف العربیۃ قد یواجہ صعوبۃ فی فہم کلام رب الناس
دونوں ہی مسکین ہیں۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
دونوں ہی مسکین ہیں۔
( مسكراہٹ )

لکل وجهة هو موليها

دین اسلام سیکھنے کے لیے عربی کا علم ہونا ضروری ہے ۔ اور انگریزی اگر نہ بھی ہوتی تو دین سیکھنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی ۔
البتہ انگریزوں کو دعوت دینے کے لیے انگریزی سیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔
یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ انگریزی اور عربی میں بہت زیادہ فرق ہے کیونکہ
دینی احکام جاننا فرض عین ہے جو کہ عربی زبان کے بغیر نا ممکن ہے ۔
ایک خاص زبان کے لوگوں کو تبلیغ کے لیے انگریزی سیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اور تبلیغ اسلام فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں ہے ۔

ویسے بھی الضرورۃ تقدر بقدرھا کو مد نظر رکھا جائے تو آج کل جو ہمارے بعض بھائی ہر جگہ تکلف کرتے نظر آتے ہیں وہ اس مشقت سے بچ جائیں ۔
انگریزی کے بے جا استعمال سے کچھ فائدہ حاصل ہوا ہے کہ نہیں یہ نقصان ضرور ہوا ہے کہ ہم آہستہ آہستہ اردو بولنا شروع ہو گئے ہیں ۔
اس کی سب سے واضح اور آسان مثال ہے کہ جو لوگ ٹی وی وغیرہ پر آ کر گفتگو کرتے ہیں آپ اگر ان پر پابندی لگادیں کہ آپ نے کوئی انگریزی کا لفظ نہیں استعمال کرنا تو وہ مسکین اچھا بھلا بات کرتا ہوا لڑھ کھڑانے لگتا ہے ۔

اگر کسی بھائی کو بات بری محسوس ہوئی ہے تو معذرت ۔ یہ بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری کسی بھی بات سے انگریزی زبان کی تعلیم و تعلم کے حوالے سے حرمت کا فتوی اخذ نہ کیا جائے ۔
میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ انگریزی زبان ایک ضرورت ہے اور ضرورت کو حسب ضرورت ہی استعمال کرنا چاہیے ۔ جبکہ اپنی تہذیب و تمدن کی حفاظت پر توجہ دینی چاہیے اوراس پر احساس کمتری کی بجائے فخر کرنا چاہیے ۔

گنوا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی ۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
اور تبلیغ اسلام فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں ہے ۔
بعض علماء سورۃ العصر کے حوالہ سے کہتے ہیں کہ عمومی حالت میں جنت میں جانے (اُخروی خسارے سے بچنے) کے چار شرائط میں سے تیسری شرط وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ ہے۔ کیا اس آیت کی رو سے تبلیغ دین، فرض عین نہیں ہے؟ یہ سوال وضاحت کی غرض سے کیا جا رہا ہے، (خدا نخواستہ) اعتراض کی غرض سے نہیں۔
 
Top