• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

معاصر مجتہدین کی خدمت میں اجتہاد یا الحاد؟

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,335
ری ایکشن اسکور
9,951
پوائنٹ
667
معاصر مجتہدین کی خدمت میں
اجتہاد یا الحاد؟

’اجتہاد‘ اور’ جہاد‘ عصر حاضر کی دو مظلوم اصطلاحیں ہیں۔معاصراسلامی معاشروں میں جس قدرذہنی انتشار و فکری بگاڑ بڑھ رہا ہے‘ اس کی بنیادی وجہ متجددین کاتصور اجتہاد ہے جبکہدوسری طرف جتنی بھی منہج و عمل کی کج روی ہے‘ وہ متشددین کے نظریہ’جہاد‘سے پھوٹتی ہے۔

ویسے تو سارے عالم میں ہی آئے روز نت نئے عجوبے پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن برصغیر پاک و ہند اور مصر کوعالم اسلام میں اس لحاظ سے خصوصی شرف حاصل رہا ہے کہ دین حنیف سے منحرف ہونے والے اکثر و بیشترگمراہ فرقوں کے سربراہان اور اسلامی اساسات و عقائد میں بگاڑ پیداکرنے والے متجددین کا تعلق اسی سرزمیں سے رہا ہے۔ماشاء اللہ ! ابتداء سے ہی ہماری سرزمین گمراہ فرقوں‘ متجددین‘ مفکرین اورنام نہاد مجتہدین کے لحاظ سے بہت زرخیز رہی ہے۔ہند وپاک میں اس وقت اس قدرکثیر تعداد میں عظیم مسلمان مفکرین پائے جاتے ہیں کہ اگر ان کی برآمد(export) کا کاروبار شروع کیا جائے تو شایدعصر حاضر کا سب سے نفع بخش کاروبار شمار ہو۔

اس مضمون میں ہم ان شاء اللہ ! ان عظیم مفکرین کے تصور’اجتہاد‘ کاایک تجزیاتی مطالعہ پیش کریں گے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل ایک حکومتی ادارہ ہے اور پاکستان کے آئین کے مطابق اس کا کام پارلیمینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو قانون سازی کے لیے ایسی سفارشات پیش کرنا ہے کہ جن کی روشنی میں پاکستان کے عوام دین اسلام کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔اس کونسل کی بنیاد ۱۹۶۲ء کے آئین کے آرٹیکل ۱۹۹ کے تحت رکھی گئی تھی۔ امت مسلم ہمیں پیدا شدہ فکری انحراف کوہوادینے کے لیے حال ہی میں اسلامی نظریاتی کونسل سے منسلک سرکاری و غیر سرکاری مجتہدین نے’اجتہاد‘ کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ جاری کیاہے۔ اس رسالے کے تاحال تین شمارے شائع ہو چکے ہیں جن میں فکر اسلامی کے منحرفین ‘ فقہ اسلامی کے متجددین اور ’کم پڑھے زیادہ لکھے‘ مجتہدین کے لیے کافی کچھ فکری غذا موجود ہے۔علاوہ ازیں ان معاصر مجتہدین کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کے لیے ننگے سرو نیم عریان بدن کے ساتھ خواتین کی تصاویر بھی جابجا رسالہ اجتہاد میں موجود ہیں۔ممکن ہے کہ کم فہم مولویوں کو ابھی تک یہ بات سمجھ نہ آ رہی ہو کہ ’اجتہاد‘ کے موضوع کاعورتوں کی ننگی تصاویر چھاپنے سے کیا تعلق ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ مولویوںکا منہ بند کروانے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کے محققین سہ ماہی ’اجتہاد‘ کے آزادی نسواں کے کسی شمارے میں اس تعلق کے اثبات میں ضرورحکمت کے موتی بکھیریں گے۔

یہ عورت ذات بھی عجب شیء ہے۔زندگی کے ہر شعبے کی رونق اپنے بغیر ادھوری سمجھتی ہے۔محسوس ہوتا ہے اب کے تو یہ عورتیں جمالیاتی حس کی بیداری کو ہمارے ان مجتہدین سے اجتہاد کی بنیادی شرائط و اہلیت میں شامل کروا کے ہی دم لیں گی۔
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,335
ری ایکشن اسکور
9,951
پوائنٹ
667
خیر اس موضوع پر تبصرے کے لیے ابھی ہم سہ ماہی ’اجتہاد‘کے مزیدشماروں کا انتظار فرمالیتے ہیں۔ اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ سہ ماہی ’اجتہاد‘کے پہلے شمارے کا موضوع ’اقبال اور اجتہاد ‘ دوسرے کا ’اسلام اور مغرب‘ اور تیسرے کا ’جدید علم الکلام ‘ تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اوررسالہ’اجتہاد‘ کے مدیرمسئول جناب خالد مسعود صاحب اس رسالے کے اجراء کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’رسالہ ’اجتہاد‘ کا مقصد اجتہاد پیش کرنا نہیں بلکہ اسلامی دنیا میں جاری فکری عمل کا جائزہ پیش کر کے دعوت فکر و عمل دینا ہے۔‘‘(سہ ماہی اجتہاد‘ جون۲۰۰۷ء‘ ص۲)

ڈاکٹر مسعود صاحب کی اس بات پر ہم دو پہلوؤں سے گفتگو کریں گے۔پہلی بات جس کا تذکرہ مسعود صاحب نے کیا ہے کہ’ رسالہ اجتہاد کا مقصد اجتہاد پیش کرنا نہیں ہے‘ تو رسالہ اجتہاد کودیکھنے کے بعد یہ دعوی مفقود نظر آتا ہے۔مسعود صاحب کے اس دعوے کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جو شادی کااہل نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس نے چار شادیاں کر رکھی ہوں اور لوگوں کو بیوقوف سمجھتے ہوئے زبان سے ہر کسی کو یہ کہتارہتا ہو کہ میں’ساری زندگی شادی نہیں کروں گا‘۔ رسالہ اجتہاد کے ہر دوسرے مقالے میں کوئی نہ کوئی مجتہد صاحب نت نئی تحقیقات پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید اقبال‘ راشد شاذ‘ خورشید ندیم ‘ الطا ف احمد اعظمی اور خود ڈاکٹر مسعود صاحب وغیرہ کی تحریریں اجتہادات نہیں تو کیا تقلید جامد کو پیش کر رہی ہیں۔

ان تحریروں میں ان حضرات کے اپنے اجتہادات بھی شامل ہیں اور دوسرے روشن خیال اسکالرز کی تحقیقات بھی۔ مسعود صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے اس رسالے کا مقصد اسلامی دنیا میں پیش آنے والے فکری عمل کا تعارف ہے۔رسالہ اجتہاد کے اجراء کے اس عظیم مقصد کے بارے میں ہم یہی کہیں گے کہ دنیائے اسلام میں جہاں جہاں فکری بگاڑ‘ عقیدے و نظریے کی کجی اور ذہنی انتشاروغیرہ موجود تھا‘رسالہ اجتہاد نے اس سارے ’گند‘ کو اکٹھا کرکے پیش کرنا شروع کر دیاہے۔ مثال کے طور پر خورشید ندیم صاحب کو لیں۔ وہیں سہہ ماہی اجتہاد ستمبر ۲۰۰۸ء میں مصر کے حوالے سے متجددین کی ایک علمی تحریک کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’بیسیویں صدی عیسوی کے مصر میں ایک جدید فکری تحریک نمودار ہوئی جو ’وسطانیہ‘ کے نام سے منسوب ہے۔اس تحریک کے نمائندہ حضرات خود کو ’جدید اسلامی رجحان‘ کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔اپنے خیالات کے اعتبار سے یہ گروہ روایت پسند اور سیکولر دونوں طرح کے طبقات سے مختلف ہے اور گویا دونوں کے وسط میں ہے۔‘‘(سہ ماہی اجتہاد ستمبر ۲۰۰۸ء ‘ص ۱۱۷)

دوسری طرف عالم اسلام کی د ومعروف اسلامی تحریکوں جماعت اسلامی اور اخوان المسلمین کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’مصر ایک ایسا ملک ہے جس کو اسلام کے نام پر ہونے والی پرتشدد سرگرمیوں کا سامناہے وہاں جہاد‘ اسلامک گروپ اور التکفیر و الہجرۃ جیسے گروہ سر گرم ہیں۔ولیم بیکر نے اپنی کتاب میں مصری اخبارات کے حوالے سے ایک ۳۳ سالہ نوجوان عادل عبد الباقی کی کہانی بیان کی ہے۔یہ نوجوان سولہ برس تک مختلف انتہاء پسند گروہوں سے وابستہ رہا۔جب وہ گرفتار ہوا تو اس نے اپنے ذہنی سفر کی کہانی سنائی۔اس کاکہنا تھا کہ اس میں انتہاء پسند خیالات پیدا کرنے میں مولانا سید أبو الاأعلی مودودی کی کتاب’ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘ اور سید قطب کی ’معالم فی الطریق‘ نے اہم کردار ادا کیا۔ عبد الباقی نے یہ بھی بتایا کہ کسی طرح ان متشدد جماعتوں میں تکفیر اور استحلال کے تصورات کو فروغ ملا۔‘‘(سہ ماہی اجتہاد ستمبر ۲۰۰۸ء ‘ص ۱۱۸)

یعنی متجددین تو امت وسط ٹھہرے اور مذہبی تحریکیں متشددین میں شمار ہوتی ہیں۔ آج کل ہر کوئی جماعت اپنے آپ کو معتدل و متوازن فکر کا حامل قرار دیتی ہے لیکن اصل مسئلہ تویہ ہے کہ اس کافیصلہ کیسے ہو گا کہ مصر کی ’وسطانیہ‘ تحریک کے رہنما شیخ محمد الغزالی‘ طارق بشری‘ فہمی ہویدی وغیرہ تومعتدل جبکہ مولانا مودودیؒ اور سید قطب شہیدؒ انتہاء پسند مولوی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر رسالہ اجتہاد کے ’مدیر مسؤول ‘یا مہمان مدیر یا مجلس ادارت ‘سلفی علماء پر مشتمل ہوتی تو اس رسالے میں عالم اسلام میں ہونے والے اجتہادات کو اگر پیش کیا جاتا تو اس رسالے کی شکل و صورت‘ ہیئت و ترکیب‘ ترتیب وتنظیم اور جمع و تدوین یکسر مختلف ہوتی۔ ہمیں تو یہی نظر آتا ہے کہ کچھ نااہل و متعصب مفکرین اجتہاد کے نام پر اکھٹے ہو گئے ہیں اور ساری دنیا میں اپنے جیسوں کو تلاش کر کے ان کے کام کا تعارف رسالہ اجتہاد کے ذریعے حکومتی خرچے پرکروانا چاہتے ہیں۔ ذیل میں ہم رسالہ اجتہاد میں ’اجتہاد‘ کے نام سے پیش کیے جانے والے فکری انتشار پر کچھ روشنی ڈال رہے ہیں۔
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,335
ری ایکشن اسکور
9,951
پوائنٹ
667
جناب الطاف احمد أعظمی کا نظریہ اجتہاد
رسالہ اجتہاد نے جامعہ ہمدرد ہندوستان کے شعبہ علوم اسلامیہ کے ڈین جناب الطاف احمد أعظمی کا ایک مضمون ’خطبہ اجتہاد پر ایک نظر‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔اس مضمون کی آخری سطور میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ مضمون جناب مصنف کی ایک کتاب’ خطبات اقبال۔ ایک مطالعہ‘ کے ایک باب کی تلخیص ہے۔اب یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ تلخیص کس نے کی اور اس مضمون کو رسالہ اجتہاد میں شائع کرنے کی خواہش خود مصنف کی طرف تھی یا رسالہ اجتہاد کے مدیران کو مصنف کے فکری انتشار نے گرویدہ بنا لیااور انہوں نے اس تحریر کو شائع کر دیا۔ بہر حال جوبھی صورت ہو‘ الطاف صاحب لکھتے ہیں:
’’اس گفتگو سے ہم اس نتیجے تک پہنچے کہ قرآن مجید میں جن معاملات زندگی سے متعلق تفصیلی احکام دیے گئے ہیں‘ وہ ناقابل تغیر ہیں اور جہاں یہ تفصیل نہیں ہے وہاں بالقصد تفصیل سے گریز کیا گیا ہے تاکہ ان امور میں حالات و مقتضیات زمانہ کے لحاظ سے تفصیلی احکام بنائے جائیں۔اسی کانام اجتہاد ہے‘ اس سلسلے میں نبیﷺ کے اجتہادات کی حیثیت نظائر کی ہے۔۔۔یہاں ایک اہم سوال اٹھتا ہے کہ نبیﷺ کی تشریحات نصوص یعنی اجتہادات کی حیثیت دائمی ہے یعنی ناقابل تغیر اور ہر دور کے حالات میں خواہ وہ عہد نبوی کے حالات سے یکسر مختلف ہوں ‘ کسی ردو بدل کے بغیر واجب التعمیل ہیں؟ کم نظر علماء کاخیال ہے کہ اجتہادات نبوی دائمی ہیں اور ان میں کوئی ترمیم و اضافہ جائز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں قول حق یہ ہے کہ نبیﷺ کے وہ اعمال جو عبادات اوراخلاق سے تعلق رکھتے ہیں ناقابل تغیر ہیں۔لیکن معاملات سے متعلق احکام کی حیثیت دائمی نہیں ہے‘ حالات و ظروف زمانہ کے لحاظ سے ان میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔۔۔اسلامی قانون کے مأخذ کی نسبت اس تفصیلی گفتگو سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ مستقل بالذات مأخذ قانون کی حیثیت صرف قرآن مجید کو حاصل ہے اور وہ دائمی یعنی ناقابل تغیر ہے۔دیگر مأخذ قانون کی یہ حیثیت نہیں ہے‘ وہ احوال و ظروف زمانہ کے تابع ہیں یعنی قابل تغیر جیسا کہ بیان ہوا ۔‘‘(ص ۳۰‘ ۳۱‘۳۵)

الطاف صاحب کا خیال ہے کہ جن معاملات میں قرآن کے احکامات مجمل ہیں۔ ان مجمل احکامات کی تشریح میں وارد آپؐ کی احادیث کی حیثیت دائمی نہیں ہے بلکہ آپؐ کی ایسی احادیث آپؐ کے اجتہادات ہیں اور یہ احادیث صرف آپؐ ہی کے زمانے کے تہذیب و تمدن کے مسائل کے حل کے لیے ہی تھیں۔ پروفیسر الطاف صاحب کا کہنا ہے کہ ان کی قبیل کے مجتہدین کو قرآن کی مجمل نصوص کی تشریحات آج کے احوال وظروف کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے کرنی چاہئیں۔ اللہ کے رسولﷺ کی سنن اور احادیث چاہے ان کا تعلق قرآن کے کسی مجمل حکم کی شرح سے ہو یا وہ قرآن کے علاوہ کسی نئے حکم کا ماخذ ہوں ‘ ہر دوصورتوں میں دائمی اور ناقابل تغیر حیثیت کی حامل ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے:
’’یأیھا الذین آمنوا أطیعوا اللہ و أطیعوا الرسول و أولی الأمر منکم فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ و الرسول ان کنتم تؤمنون باللہ و الیوم الآخر۔‘‘(النساء: ۵۹)
’’اسے اہل ایمان!اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کروا ور اپنے حکمرانوں کی بات مانو پس اگر کسی بھی مسئلے میں تمہارا (اپنے حکمرانوں سے)جھگڑا ہو جائے تو تم اس مسئلے کو اللہ اور اس کے رسولﷺ(یعنی قرآن و سنت) کی طرف لوٹا دو‘ اگر تم اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘
اس آیت مبارکہ میں’ شیئ‘ نکرہ وارد ہو اہے اور لغت عرب کایہ معروف قاعدہ ہے کہ جب نفی‘ نہی یا کسی اسم شرط کے سیاق میں نکرہ ہو تو وہ اپنے عموم میں نص بن جاتا ہے یعنی پھر اس سے عموم بیان کرنا متکلم کا منشا ہوتا ہے۔(الوجیز: ص ۳۰۸‘ فاران اکیڈمی‘ لاہور) لہذا آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی قسم کے مسئلے میں بھی اگر شرعی حکم کے حوالے سے بحث ہو جائے تو اس مسئلے کا شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے قرآن و سنت کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

اسی طرح آپؐ کاارشاد ہے:
’’یو شک الرجل متکئا علی أریکتہ یحدث بحدیث من حدیثی فیقول بیننا و بینکم کتاب اللہ ما وجدنا فیہ من حلال استحللناہ و ما وجدنا فیہ من حرام حرمناہ و ان ما حرم رسول اللہ ﷺ مثل ما حرم اللہ۔‘‘(سنن ابن ماجۃ‘ کتاب المقدمۃ‘ باب تعظیم حدیث رسول اللہﷺ)
’’(وہ زمانہ)قریب ہے کہ ایک شخص تکیہ لگائے بیٹھا ہوگا اور اس کے پاس میری احادیث میں سے کوئی حدیث بیان کی جائے گی تو وہ شخص کہے گا ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے پس جس کو اللہ کی کتاب نے حلال ٹھہرا دیا تو ہم بھی اس کو حلال سمجھیں گے اور جس کو ہم نے اللہ کی کتاب میں حرام پایا تو ہم بھی اسے حرام قرار دیں گے(اور یہی ہمارے لیے کافی ہے)۔(خبردار!) بے شک جس کو اللہ کے رسول ﷺ نے حرام ٹھہرایا ہے وہ اسی طرح حرام ہے جیسے کسی شیء کو اللہ نے حرام قرار دیا ہو۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں اللہ کے رسولﷺ نے سنت میں بیان شدہ کسی بھی حلال یا حرام شیء کی حلت یا حرمت کے منکر کو ایک فتنہ پرور شخص قرار دیاہے۔ اللہ کے رسولﷺ کی یہ پشین گوئی اس اعتبار سے سچ ثابت ہوئی ہے کہ تاریخ اسلام کے مختلف ادوار میں نام نہاد مفکرین اور عقلیت پسند احادیث رسول کا کسی نہ کسی انداز سے انکار کرتے ہی رہے ہیں۔بعض نے آپؐ کی تمام روایات کا کلیتاً انکار کردیا جیسا کہ غلام احمد پرویز کا معاملہ تھا جبکہ بعض نے حدیث کے انکار کے لیے حیلوں بہانوں سے کام لیا۔جیسا کہ الطاف صاحب کا خیال ہے کہ اخلاق و عبادات سے متعلق روایات تو قابل قبول ہیں لیکن ان کے علاوہ معاشیات‘ سیاسیات‘ معاشرت‘ جہاد و قتال ‘ حدود و جنایات‘ قضاء ‘ طعام و قیام‘ لباس و زینت اوردیگر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق مروی روایات و احادیث قرآن کی ایسی تشریح تھی جو صرف آپؐ کے زمانے کے لیے واجب العمل تھی۔ الطاف صاحب کا یہ نکتہ نظر ان کی ایک ذاتی رائے ہے جس کی کوئی شرعی دلیل تاحال ان کو نہ مل سکی‘بلکہ دلیل تو ان کے اس نظریے کے خلاف قائم ہے جیسا کہ مذکورہ بالاحدیث پروفیسر صاحب کے نکتہ نظر کا شدت سے انکار کر رہی ہے۔

اس طرح ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ جب اللہ کے رسولﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو فرمایا:
’’ فقال کیف تقضی فقال أقضی بما فی کتاب اللہ قال فإن لم یکن فی کتاب اللہ قال فبسنۃ رسول اللہ قال فإن لم یکن فی سنۃ رسول اللہ قال اجتھد رأیی۔‘‘(سنن الترمذی‘ کتاب الاحکام عن رسول اللہ ‘ باب ما جاء فی القاضی کیف تقضی)
’’آپؐ نے کہا کہ تم کیسے فیصلہ کرو گے تو حضرت معاذؓنے کہا : جو کتاب اللہ میں ہے میں اس کے مطابق فیصلہ کروں گا۔اللہ کے رسولﷺ نے کہا کہ اگروہ (مسئلہ صریحاًو تفصیلاً) کتاب اللہ میں نہ ہو ۔حضرت معاذ ؓ نے کہا: میں سنت رسولﷺ کے مطابق فیصلہ کروں گا(کیونکہ اس میں صراحت اور تفصیل قرآن کی نسبت زیادہ ہے)۔اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: اگر وہ(مسئلہ صریحاً و تفصیلاً) سنت رسولﷺ میں بھی نہ ہو۔حضرت معاذؓنے جواب دیا: میں اپنی رائے (بنانے) میں اجتہاد (یعنی قرآن و سنت میں پوری کوشش و طاقت صرف )کروں گا۔
اس حدیث کی سند أئمہ سلف کے ہاں مختلف فیہ ہے ۔بعض علماء نے اس کو ضعیف کہا ہے جبکہ بعض علماء نے اس کے الفاظ کی بجائے اس کے متن کی شہرت کو بنیاد بناتے ہوئے اس کو صحیح قرار دیاہے ۔جن علماء نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ان کے نزدیک بھی اس حدیث کے الفاظ سے کسی مسئلے کا استدلال ممکن نہیں ہے بلکہ من جملہ اس حدیث میں جو مصادر شریعت کی بات کی گئی ہے ‘ وہ درست ہے ۔
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,335
ری ایکشن اسکور
9,951
پوائنٹ
667
(حاشیہ یا فٹ نوٹ):
جن علماء نے اس حدیث کو موضوع یا ضعیف کہا ہے وہ درج ذیل ہیں :
امام ابن حزمؒ نے اس حدیث کو ’باطل لا أصل لہ ‘ کہاہے۔ (أصول الأحکام‘ جلد۲‘ ص۲۰۴)امام الجورقانیؒ نے اسے ’باطل‘ کہا ہے۔(الأباطیل و المناکیر‘ جلد۱‘ ص۲۴۳)امام ابن الملقن ؒنے اسے ’ضعیف باجماع أھل النقل فیما أعلمہ‘ کہاہے۔(البدر المنیر‘ جلد۹‘ ص۴۳۵)امام بخاری ؒ نے اس حدیث پر ’لا یصح و لا یعرف‘ کا حکم لگایا ہے۔(تہذیب ا لکمال‘ جلد۴‘ ص۵۳)علامہ البانیؒ نے اس حدیث کو ’ضعیف‘ کہا ہے۔(ضعیف الترمذی: ۱۳۲۷) و (ضعیف أبی داؤد:۳۵۹۲)امام ترمذیؒ نے اس کی سند کو ’غیر متصل‘ کہا ہے۔(سنن الترمذی‘کتاب الاحکام عن رسول اللہ ‘ باب ما جاء فی القاضی کیف تقضی)

جن علماء نے اس حدیث کی سند کو مقبول قرار دیا ہے ان کے نزدیک اس حدیث کی مقبولیت کے درجات مختلف ہیں :

امام طحاویؒ نے اس حدیث کو ’صحیح‘ کہا ہے۔(شرح مشکل الآثار: جلد۹‘ ص۲۱۲)امام ابن عبد البرؒ نے ’صحیح مشھور‘ کہا ہے۔(جامع بیان العلم و فضلہ: جلد۲‘ ص۸۴۴) امام ابن العربیؒ نے بھی اسے ’صحیح مشھور‘ کہا ہے۔(عارضۃ الأحوذی‘ جلد۳‘ ص۳۰۰) امام ابن تیمیہؒ نے اسے ’اسنادہ جید‘ کہا ہے۔( مجموع الفتاوی: جلد۱۳‘ س۳۶۴)۔امام ابن کثیر ؒنے بھی اسے ’اسنادہ جید‘ کہا ہے ۔(تفسیر القرآن: جلد۱‘ ص۱۳) امام ابن قیمؒ نے اس حدیث کو قابل احتجاج قرار دیا ہے۔(أعلام الموقعین: جلد۱‘ ص۱۸۳) امام ذھبیؒ نے اس کو ’حسن الأسناد و معناہ صحیح ‘ کہا ہے۔(تلخیص العلل المتناھیۃ: ۲۶۹)امام شوکانیؒ نے اس کو ’حسن لغیرہ معمول بہ‘ کہا ہے۔(الفتح الربانی‘ جلد۹‘ ص۴۴۸۵) امام ابن حجرؒ نے اسے’ غریب و موقوف‘ کہا ہے۔(موافقۃ الخبر الخبر‘ جلد۱‘ ص۱۱۹)

یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا جا رہا تھا تو اس وقت اللہ کے رسولﷺ کایہ فرمان کہ’ تم کیسے فیصلہ کرو گے ‘ صرف عقیدے یا اخلاقیات کے جھگڑے کے بارے میں نہ تھا بلکہ ہر قسم کے اختلاف کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا کہ اس کا فیصلہ کیسے کرو گے اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ حکمران یا گورنرکی طرف اکثر و بیشتر‘ معاملات سے متعلقہ تنازعات ہی کے حل کے لیے لوگ رجوع کرتے ہیں۔

اپنے الطاف صاحب نے علماء کو ’کم نظر‘ ہونے کا طعنہ بھی دیا ہے جس پر ہمیں کوئی ملال نہیں ہے کیونکہ علماء نے کبھی بھی اپنے’زیادہ نظر‘ ہونے کا دعوی نہیں کیا اور ویسے بھی زیادہ نظر اگر واقعتاً کوئی بڑھیا صفت ہوتی تو ’ألو‘ میں یہ صفت نہ پائی جاتی ہے جو علماء کے ہاں تو کم از کم کوئی قابل ستائش پرندہ نہیں ہے۔
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,335
ری ایکشن اسکور
9,951
پوائنٹ
667
جناب ڈاکٹر جاوید اقبال کا نظریہ اجتہاد
الطاف صاحب کے برعکس ڈاکٹر جاوید اقبال کا نکتہ نظر یہ ہے کہ مجمل توکیا قرآن کے مفصل احکامات میں بھی اجتہاد ہو سکتاہے ۔ وہ فرماتے ہیں:
’’قرآن پاک میں اللہ پاک نے عدل کے ساتھ احسان کی بھی ترغیب دے رکھی ہے ‘ لہذا وہاں احسان کے معنی برابری کے لیے گئے۔یعنی بعض حالات میں قرآن پاک میں مقرر کیے گئے وراثت کے حصص میں ردو بدل ہو سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اگر میں چاہتا ہوں کہ میری جائیداد ساری کی ساری میری بیٹی کو ملے تو میں کیوں ایسا نہیں کر سکتا۔ بیٹی یا بہن سارا گھر چلاتی ہے لیکن جائیداد کی تقسیم کے وقت اسے آدھا حصہ ملتا ہے۔۔۔میر اموقف یہ ہے کہ ایک نئی فقہ پارلیمنٹ کے ذریعے بنائی جائے‘ جس میں امامیہ‘ حنفی ‘ مالکی وغیرہ سب مکاتب فکر شامل ہوں‘ جس میں ہر کوئی اپنی پسند کے مطابق اپنے مسئلے کاحل نکال لے۔‘‘(سہ ماہی اجتہاد‘ جون ۲۰۰۷ء‘ ص ۸۵)

یہی نکتہ نظر علامہ اقبال کا بھی ہے‘ جس کو انہوں نے اپنی کتاب’ تشکیل جدید‘ میں بیان کیا ہے۔ الطاف أحمد أعظمی صاحب اس نکتہ نظر پر نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’گزشتہ صفحات میں ہم نے اسلامی قانون کے مآخذ کے بارے میں اقبال کے خیالات کا جو تنقیدی جائزہ لیا ہے‘ اس سے بالکل واضح ہو گیا کہ وہ ان مآخذکے بارے میں ایک واضح تصور رکھتے تھے۔لیکن اسلامی قانون کے اولین مأخذ یعنی قرآن مجید کے متعلق ان کے خیالات بہت واضح نہیں تھے۔ مثلاً ان کا خیال ہے کہ قرآن مجید کے بعض احکام مقامی نوعیت کے ہیںاور ان کا اطلاق بعد کے زمانوں میں نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں انہوں نے جرائم کی ان سزاؤں کا ذکر کیا ہے ‘ جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ یہ سزائیں عربوں کے مزاج اور ان کے مخصوص تمدنی حالات کے تحت مقرر کی گئی تھیں‘ اس لیے مستقبل کی مسلم اقوام پر ان کو جوں کا توں نافذ کرنا صحیح نہ ہوگا۔‘‘(سہ ماہی اجتہاد‘ جون ۲۰۰۷ء‘ ص ۳۵)

اللہ ہمارے ان معاصر مجتہدین کو ہدایت دے یہ اس مسئلے میں اجتہاد کیوں نہیں کرتے کہ یہ سب اجتہاد کی تعریف یا اس کے محل پر ہی کم ازکم متفق ہو جائیں۔ الطاف صاحب‘ اقبال مرحوم کے نقطہ نظر کا رد تو کررہے ہیں لیکن ان کے پاس نہ تو اقبال مرحوم کے تصور اجتہاد کی تردید میں کوئی دلیل ہے اور نہ ہی اپنے مزعومہ نظریہ اجتہاد کی تائید میں کوئی استدلال۔بھلا جب بات دلیل کے بغیر ہی کرنی ہو توکوئی سر پھرا یہ تصور اجتہاد بھی پیش کر سکتا ہے کہ قرآن کے سارے ہی احکامات اللہ کے رسولﷺ کے زمانے کی تہذیب و تمدن کے ساتھ خاص تھے۔یعنی نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ ڈاکٹر جاوید صاحب نے یہ بھی کہاہے کہ ایک ایسی نئی فقہ بنانی چاہیے کہ جس میں ہر کوئی اپنی پسند کے مطابق مسئلے کا حل نکالے۔ جب اپنی ذاتی پسند ہی کے مطابق مسئلے کا حل نکالنا ہے تو ایسی نئی فقہ کی ترتیب و تدوین کے لیے ماشاء اللہ! ڈاکٹر صاحب موصوف بہترین آدمی ہیں‘ علماء کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے۔زیادہ سے زیادہ ڈاکٹر صاحب کویہ اجتہاد(کوشش) کرنا ہو گا کہ دل سے پوچھنا پڑے گا کہ تجھے شراب پینا پسند ہے یا نہ پینا‘ نفس سے یہ سوال کرنا ہو گا کہ اسے نماز پڑھنا پسند ہے یا نہ پڑھنا‘بلکہ دل و دماغ سے یہ بھی رائے لی جا سکتی ہے کہ اسے کسی خدا کے وجود کوماننا پسند ہے یا نہ ماننا‘ باقی رہے اس پسند و ناپسند کے دلائل ‘ تو عقل خدا نے کس لیے دی ہے؟آخر وہ کس کام آئے گی؟ہمیں امید ہے ڈاکٹر صاحب اس نئی فقہ کی تدوین کے ذریعے نفس پرستوں کے ایک ایسے فرقے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں کہ جن کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:
’’أرأیت من اتخذ الھہ ھواہ أفأنت تکون علیہ وکیلا۔‘‘(الفرقان:۴۳)
’’اے نبیﷺ! کیا آپؐ نے ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ جس نے اپنی خواہش نفس (پسند) کو اپنا معبود بنا لیا ہے(یعنی ہر مسئلے میںاپنی پسند کو ترجیح دیتاہے) کیا آپؐ ایسے شخص کی ذمہ داری اٹھائیں گے؟۔‘‘

جناب ڈاکٹر صاحب نے ایک اور نیا شوشہ یہ بھی چھوڑا ہے کہ اجتہاد علماء کی بجائے وکلاء کو کرنا چاہیے۔
چونکہ علماء جدید قانون سے واقف نہیں ہیں لہذا وکلاء کو اسلامی فقہ اور اصول فقہ سے متعلق ایک دو اضافی مضامین پڑھا کر مجتہد کی سند جاری کر دینی چاہیے۔رسالہ اجتہاد میں ہے:
’’جناب جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ اجتہاد کا تعلق بہت حد تک قانون کی تعلیم سے ہے۔پاکستان میں بہت شروع سے اس بات پر زور دیاگیا تھا کہ ملک کے قانونی تعلیم کے اداروں میں جیورس پروڈنس یا فلسفہ قانون کی تعلیم دی جائے اور جدید قانون کے ساتھ اسلامی قانون کا تقابلی مطالعہ بھی تعلیم میں شامل ہو۔اس طرح جو قانون کے اداروں سے فارغ التحصیل قانون دان ہوں‘ وہ علماء کی جگہ لے سکیں گے کیونکہ وہ جدید قانون کے ساتھ فقہ سے بھی شناسا ہوں گے‘ اس طرح قانونی تعلیم میں اصلاح کا آغاز ہو گا۔‘‘(سہ ماہی اجتہاد‘ جون ۲۰۰۷ء‘ ص۳)
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,335
ری ایکشن اسکور
9,951
پوائنٹ
667
جناب راشد شاذ کا نظریہ اجتہاد
ویسے تو رسالہ اجتہاد کے تقریباً تمام مجتہدین کی شان ہی نرالی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر مجتہد کچھ ایسے اوصاف و نظریات کا حامل و مبلغ ہوتا ہے کہ جو دوسرے کسی مجتہد میں موجود نہیں ہوتے۔ڈاکٹر جاوید اقبال قرآن کے مفصل احکامات میں اجتہاد کے داعی و مبلغ ہیں تو پروفیسر الطاف صاحب قرآن کے مجمل احکامات کی تفسیر میں مروی احادیث کا انکار کرتے ہوئے اجتہاد کرنے کے پرجوش حامی ہیں۔ راشد شاذ صاحب کا خصوصی ذوق و شوق یہ ہے کہ تمام قدیم فقہی مذاہب و آراء کو آن واحد میں یکسر مسترد کرتے ہوئے نئے سرے سے قرآن کی شرح و تفسیر کی جائے اور جدید حالات اور تہذیب و تمدن کے مطابق سارے دین کی ایک ایسی تعبیر نو کی جائے کہ جس میں کسی سابقہ عالم دین کا تذکرہ یا حوالہ تک موجود نہ ہو۔ جناب راشد شاذ صاحب لکھتے ہیں:
’’جدید مصلحین کو ابتداء ہی س اس بات کا التزام کرنا ہو گا کہ وہ تاریخی اسلام اور نظری اسلام میں نہ صرف یہ کہ امتیاز کریں بلکہ مطالعہ قرآنی میں ایک ایسے منہج کی داغ بیل ڈالیں جس کے ذریعے انسانی تعبیرات اور التباسات کے پردوں کا چاک کیا جانا ممکن ہو۔اور یہ جب ہی ممکن ہے جب ہر مسئلہ کو از سر نو تحقیق و تجربہ کا موضوع بنایا جائے اور ہر مسئلہ پر قرآنی دائرہ فکر میں از سر نو گفتگو کا آغاز ہو۔یقین جانیے اگر ہم قرآن مجید کو حکم مانتے ہوئے اپنے تہذیبی اور علمی ورثے کا ناقدانہ جائزہ لینے کی جرأت پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ہم خود فکری طور پر نزول وحی کے ان ایام میں پائیں گے جب وحی کی ضیا پاشیاں ہمارے قلب و نظر کو منور اور ہمارے ملی وجود کو طمانیت سے سرشار رکھی تھیں۔‘‘(سہ ماہی اجتہادستمبر ۲۰۰۸ء‘ص۷۴)
جناب راشد شاذ اپنے جیسے مفکرین و مصلحین کو بڑا اچھا مشورہ فراہم کر رہے ہیں کیونکہ ان لوگوں نے بھی تو دنیا میں کچھ کرنا ہے لیکن سوال تویہ ہے کہ جتنا عرصہ ان مصلحین کو دین کی نئی تعبیر میں لگے گاتو اس وقت تک یا تو یہ مصلحین اس دنیا سے رخصت ہو کر قدماء میں شامل ہو چکے ہوں یا پھر دنیا بہت ترقی کر چکی ہو گی لہذا آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے ان مفکرین کی نئی تعبیر دین قدیم بن جائے گی اور اگر اس آئندہ آنے والی نسل کو جناب راشد شاذ کی فکر سے اتفاق ہوا تو یہی کہیں گے کہ اس قدیم تعبیر دین کو بھی کسی کوڑے کرکٹ کے ڈرم میں پھینک کر دین کی کسی نئی تعبیر کی تلاش میں سرگرم ہو جاؤ اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اس طرح چودہ صدیوں میں اگر دین کی چھ یاسات تعبیریں تھیں تو اب ایک صدی میں چھ یا سات سو نئی تعبیریں وجود میں آ جائیں گی کیونکہ پرانے زمانوں میں مجتہد کم ہوتے تھے اب تو ماشاء اللہ! مجتہدین کی بہاریں لگی ہوئی ہیں اور وہ دن دور نہیں ہے کہ جب یہ مجتہدین اپنے بچوں کے نام کے ساتھ بھی مجتہد کا سابقہ یا لاحقہ لگانے کے لیے کوئی مجتہد مڈل یا ہائی سکول بھی کھول لیں۔ایک اور جگہ راشد شاذ صاحب لکھتے ہیں:
’’نئے مصلحین کو اس بات کا التزام بھی کرنا ہو گاکہ وہ وحی ربانی کے مقابلہ میں صدیوں کے متوارث عمل کو‘ خواہ اس پر مفروضہ اجماع کی مہر ہی کیوں نہ لگ گئی ہو‘ از سر نو تحلیل و تجزیے کا موضوع بنائیں۔اب یہ کہنے سے کام نہیں چلے گاکہ کسی مخصوص مسئلے پر فلاں فلاں فقہاء اور أئمہ کی کتابوں میں یوں لکھا ہے یا یہ کہ فلاں مسئلہ پر امت کا اجماع ہو چکا ہے جسے از سر نو بحث کی میزپر نہیں لایا جا سکتا۔خدا کے علاوہ انسانوں کے کسی گروہ کو اس بات کااختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اجماع کی دھونس دے کر یااہل حل و عقد کے حوالے سے ہمیں کسی مسئلہ پر تحلیل و تجزیے سے باز رکھے۔‘‘(سہ ماہی اجتہادستمبر ۲۰۰۸ء‘ص۷۸)
راشد صاحب کو پتہ نہیں کس نے اجماع کی دھونس لگادی جو وہ اس قدر سیخ پا ہو رہے ہیں۔ ویسے راشد صاحب کو اس غم میں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی ان کو اجماع کے خلاف رائے اختیار کرنے پر جبر و تشدد کا نشانہ بنائے گا۔ یہاں تو لوگ سنت‘ سنت کیا قرآن کا انکار کر دیتے ہیں لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ ہندو‘ سکھ‘عیسائی‘ قادیانی‘ اہل تشیع‘ منکرین حدیث وغیرہ اسی ہند و پاک کے معاشرے میں رہتے ہیں۔آج تک انہیں توکسی نے اجما ع کی دھونس نہیں لگائی۔ اگر تو راشد شاذ صاحب کا اجماع کی دھونس سے مراد کسی عالم دین کا اجماع کی پابندی کرنے پر زور دینااور اس سے متعلقہ علمی دلائل کو بیان کرنا ہے تو پھر یہ دھونس تو راشد شاذ بھی یہ کہہ کر علماء کو لگا رہے ہیں کہ’ اجماع کی پابندی نہ کرو‘۔ اگر اپنی رائے کے حق میں دلائل بیان کرنا اور اس پر اصرار کرنا دھونس ہے توہماری نظر میں سب سے زیادہ دھونس لگانے والے تو رسالہ اجتہاد کے مجتہدین ہیں۔ راشد صاحب کو اصل بے چینی یہ ہے کہ ان کے اس قدر چیخنے و چلانے کے باوجود بھی لوگ قدیم فقہی مذاہب و آراء پر اعتماد کیوں کرتے ہیں۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ راشد صاحب کی اس بے چینی کا علاج سوائے نیند کی گولیوں کے اور کچھ نہیں ہے‘کیونکہ جو قوم چودہ سو سال تک أئمہ سلف سے اپنا رشتہ جوڑنے پر مصر رہی ہو وہ جناب راشد شاذ کے عظیم مشوروں کی بدولت اپنے آباؤ و اجداد اور ان کی علمی میراث سے قطع تعلقی پرکیسے آمادہ ہو جائے گی۔لوگ صدیوں سے قرآن وسنت کی تفہیم میں أئمہ سلف کو اہمیت دیتے رہے ہیں اور قیامت تک ایسا ہی ہوتا رہے گا الا یہ کہ کوئی چالیس ‘ پچاس آدمی راشد شاذ صاحب کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ان کے فکری جہاد کی تحریک میں شامل ہو کر ثوا ب دارین حاصل کریں۔
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,335
ری ایکشن اسکور
9,951
پوائنٹ
667
جناب جاوید احمد غامدی کا تصور اجتہاد
جناب جاوید احمد غامدی اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور رسالہ اجتہاد کی مجلس ادارت کے ممبر ہیں۔ کونسل کے ممبران کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کا نکتہ نظر یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے مجتہدین ‘ اجتہاد کے اہل نہیں ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:
’’اسلام کے بارے میں جو شکوک و شبہات یا سوالات اس وقت دنیا میں پیدا ہو رہے ہیں‘ ان میں سے بیشتر کا تعلق فقہ و شریعت ہی سے ہے۔جہاد و قتال کی حدود و شرائط ‘ نظم سیاست اور اس میں شوری کی نوعیت‘ نظم معیشت اور سودی نظام کے مسائل ‘ خواتین کے حوالے سے پردہ ‘ تعدد ازواج اور طلاق وغیرہ کے احکام‘ شہادت اور دیت کے بارے میں قوانین‘ قتل‘ زنا‘ چوری اور ارتدادجیسے جرائم کی سزائیں‘ موسیقی‘ مصوری اور دیگر فنون لطیفہ کی شرعی حیثیت اور اس نوعیت کے متعدد موضوعات ہیں‘ جن کے بارے میں سوالات زبان زد عام ہیں‘ ہمارے علماء کے پاس چونکہ ان سوالا ت کے تسلی بخش جواب نہیں ہیں‘ اس لیے یہ تصور قائم کیا جارہا ہے کہ اسلامی شریعت عہد رفتہ کی یادگار ہے۔۔۔اس تناظر میں اسلامی نظریاتی کونسل سے مقصود اصل میں یہی ہے کہ اولاً اسلامی شریعت کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کورفع کرے۔ثانیاً اجتہادی معاملات کو متعین کرے اور ان میں اپنی اجتہادی آراء سے قوم وملت کو آگاہ کرے۔ثالثاً پارلیمنٹ کی رہنمائی کے لیے انفرادی اور اجتماعی معاملات کے بارے میں قوانین کو مرتب کرے۔۔۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی نظریاتی کونسل ان ضرورتوں کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے‘ تو میرے نزدیک اس کا جواب نفی میں ہے؟اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم ایسے جید علماء تیار کرنے سے قاصر ہے جو دور جدید کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے اہل ہوں۔یہ نظام تعلیم تقلید جامد کے اصول پر قائم ہے‘ اس کا اصرار ہے کہ دین کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے قدیم علماء کاکام ہر لحاظ سے مکمل ہے‘ ان کے کام کی تفہیم اور شرح و وضاحت تو ہو سکتی ہے مگر اس پر نظر ثانی کی کوئی گنجائش نہیں۔دور اول کے فقہاء نے جو اصول و قوانین مرتب کیے ہیں‘ وہ تغیرات زمانہ کے باوجود قابل عمل ہیں‘ اس ضمن میں تحقیق و اجتہاد کی نہ ضرورت ہے کہ نہ اس بات کااب کوئی امکان کہ کوئی شخص مجتہدکے منصب پر فائز ہو سکے ہمارے علماء اسی نظام تعلیم کی پیداوار ہیں‘ چناچہ وہ اپنی انفرادی حیثیت میںہوںیا کسی ادارے کی صورت میں مجتمع ہو کراپنے فرائض انجام دے رہے ہوں‘ وہ اس کی اہلیت ہی سے محروم ہیں کہ اسلامی شریعت کی شرح و وضاحت کر سکیںیا جن معاملات میں شریعت خاموش ہے ان کے بارے میں اپنی آراء پیش کر سکیں یہی علماء اسلامی نظریاتی کونسل کا حصہ ہیں‘ لہذا اس ادارے سے اس کی توقع رکھنا عبث ہے کہ اسلامی شریعت کے بارے میں ان سوالات کا جواب دے سکیں‘ جو ذہین مسلمان عناصر کی جانب سے اٹھائے جا رہے ہیں اور ان شکوک و شبہات کو رفع کر سکیں‘ جن کا اسلام کو عالمی سطح پر سامنا ہے۔‘‘(ص ۱۴۲‘ ۱۴۳)
جناب جاوید احمد غامدی کا اسلامی نظریاتی کونسل کے مجتہدین کے بارے میںیہ تبصرہ دسمبر ۲۰۰۵ ء میں روزنامہ جنگ میں شائع ہوا ہے۔ غامدی صاحب کے علماء کے ساتھ تعصب کو داد دیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین میں اجتہاد کی صلاحیت نہ ہونے کا سبب ان کے علماء ہونے کو ٹھہرا رہے ہیں حالانکہ جب غامدی صاحب نے یہ بیان دیا تورسالہ اجتہاد کے مطابق اس وقت اسلامی نظریاتی کونسل کے اکثر اراکین وہ تھے کہ جن کا علماء سے کوئی دور پار کا بھی رشتہ نہ تھا۔ مثال کے طور پر
۱۔ جناب ڈاکٹر محمد خالد مسعود‘ پی۔ایچ۔ڈی اسلامیات‘ میک گل یونیورسٹی‘ کینیڈا
۲۔جناب ڈاکٹر منظور احمد‘ پی۔ایچ۔ڈی‘ لندن یونیورسٹی
۳۔جناب جسٹس(ر) ڈاکٹر رشید احمد جالندھری ‘ پی۔ایچ۔ڈی ‘ کیمبرج یونیورسٹی
۴۔جناب جسٹس(ر) ڈاکٹر منیر احمد مغل‘ سابق جج لاہور ہائی کورٹ
۵۔جناب جسٹس(ر)حاذق الخیری
۶۔جناب پروفیسر مظہر سعید کاظمی
۷۔محترمہ ڈاکٹر پروفیسر سید بی بی
۸۔جناب حاجی محمد حنیف طیب
۹۔علامہ سید محمد ذاکر حسین شاہ سیالوی
۱۰۔جناب پیر سید دامن علی
۱۱۔جناب علامہ عقیل ترابی
۱۲۔ جناب مولانا عبد اللہ خلجی

کیامولانا عبد اللہ خلجی کے علاوہ یہ اراکین طبقہ علماء سے تعلق رکھتے ہیں یا ان میں سے اکثر و بیشتر مدارس دینیہ کے نظام تعلیم سے ہی گزرے ہیں۔ پس علماء کے نام سے جو تین ‘ چار افراد سیاسی بنیادو ں پر کونسل کے رکن بن ہی گئے تو غامدی صاحب نے ان کو طبقہ علماء کے قائد و رہنما تصور کرتے ہوئے علماء پر نقد کے اس موقع کو غنیمت سمجھا۔غامدی صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ قرآن وسنت جن مسائل میں خاموش ہیں علماء ان مسائل میں اجتہاد کرنے کے اہل ہی نہیں ہیں۔ہم غامدی صاحب کی اس بات سے متفق ہیں کیونکہ علماء کے تصور اجتہاد کے مطابق قرآن وسنت کسی بھی مسئلے میں خاموش نہیں ہوتے لہذا علماء کو قرآن و سنت کو خاموش کرانے اور نئی شریعت وضع کرنے کے لیے غامدی صاحب جتنی عقل کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

غامدی صاحب نے کچھ مسائل کا تذکرہ بھی کیا کہ ان مسائل کے بارے میں جدید ذہن کے شبہات و سوالات کاجوابات دینے سے علماء قاصر ہیں۔ اگر تو جواب سے مراد جدید ذہن کی خواہش نفس کے مطابق جواب ہے تو واقعتاً علماء اس قابل نہیں ہیں کہ جدید ذہن کو ان کے شبہات کا جواب ان کے من چاہے جوابات کی شکل میں دیں۔ اور اگر جوابات سے مراد ان شبہات و سوالات کے بارے میں قرآن وسنت کی رہنمائی کو پیش کرنا ہے تو شاید غامدی صاحب کے تحقیقی ادارہ’ المورد‘ کی لائبریری میں اتنی کتابیں نہ ہوں گی جتنے ایم۔اے‘ ایم۔فل اور پی ۔ایچ۔ڈی کی سطح کے مقالہ جات ان سوالات کے جوابات میں عالم عرب میں بالخصوص اور عالم اسلام میں بالعموم لکھے جا چکے ہیں۔

بہرحال غامدی صاحب نے رسالہ اجتہاد میں تو نہیں اپنے رسالے’اشراق‘ میں ایک جگہ اپنے تصور اجتہاد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
’’اجتہاد کا لغوی مفہوم کسی کام کو پوری سعی و جہد کے ساتھ انجام دینا ہے۔ اس کا اصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ جس معاملے میں قرآن وسنت خاموش ہیں‘ اس میں نہایت غور و حوض کر کے دین کی منشا کو پانے کی جدوجہد کی جائے۔۔۔اس اصطلاح کو اگر مذکورہ روایت کی روشنی میں سمجھا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اجتہاد سے مراد اپنی عقل و بصیرت سے ان امور کے بارے میں رائے قائم کرنا ہے جن میں قرآن وسنت خاموش ہیں یا انہوں نے کوئی متعین ضابطہ بیان نہیں کیا۔‘‘(ماہنامہ اشراق: جون ۲۰۰۱‘ص۲۷‘۲۸)

غامدی صاحب کو بس یہی فکر کھائے جاتی ہے کہ کسی طرح قرآن و سنت کو خاموش کروا دیں۔ بس جب ایک دفعہ ثابت ہو جائے گا کہ قرآن و سنت تو ان مسائل میں خاموش ہیں۔اب چاہے حکم شرعی معلوم کرنے کے لیے عقل عام (common sense)کے فلسفہ سے رہنمائی حاصل کر لیں یا فطرت انسانی کے نظریے کے تحت شریعت کا ڈھانچہ تشکیل دینا شروع کر دیں۔غامدی صاحب اس لحاظ سے تمام مجتہدین میں عقل مند ثابت ہوئے ہیں کہ انہوں نے اس نکتے تک رسائی حاصل کر لی ہے کہ جب تک یہ فکر عام ہے کہ قرآن و سنت میں ہر مسئلے کا ہر موجود ہے‘ اس وقت تک ان جیسوں کے اجتہادی فکر کو قبول عام حاصل نہ ہوگا۔لہذا اٹھتے بیٹھے یہ شور مچاؤ کہ قرآن و سنت جامع نہیں ہیں۔قرآن وسنت میں ہر مسئلے کا حل موجود نہیں ہے۔دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات نہیں ہے۔
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,335
ری ایکشن اسکور
9,951
پوائنٹ
667
اجتہاد کا حقیقی معنی و مفہوم
عصر حاضر میں اجتہاد کے حوالے سیسب سے بڑا فتنہ اس کی’ تعریف‘ کے ذریعے پیدا کیا جا رہا ہے۔اس بحث میں ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ اجتہاد کیا ہے؟اجتہاد کے بارے اس وقت تین قسم کے نظریات ہماری سوسائٹی میں پائے جاتے ہیں۔
اجتہادشریعت پر اضافہ کرنے کا نام ہے ؟
اجتہادشریعت میں تبدیلی کا نام ہے ؟
اجتہاد حکم شرعی کی تلاش کا نام ہے ؟


اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ دین محمدی اور شریعت اسلامیہ مکمل ہو چکی ہے۔آپؐ آخری نبی ہیں اور آپؐ کی وفات کے بعد نبوت کا دروازہ قیامت تک کے لیے بند ہو چکاہے۔ رسالہ اجتہاد کے اکثر وبیشتر مجتہدین کا خیال ہے کہ شریعت اسلامیہ معاذ اللہ ناقص ہے اور اس کی تکمیل یا اس میں تبدیلی کے لیے اجتہاد کیا جائے گا۔ علامہ اقبال اور ڈاکٹر جاوید اقبال کا خیال یہ ہے کہ قرآن کے بعض مفصل احکام ایسے ہیں جو اللہ کے رسولﷺ کے زمانے کی تہذیب و تمدن کے لیے موزوں تھے ‘ آج کل کے زمانے میں ان احکامات کی پیروی ناقابل عمل ہے لہذا ان احکامات میں اجتہاد کرتے ہوئے انہیں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تبدیل کر نا چاہیے جو کہ دوسرے الفاظ میں شریعت کو ناقص قرار دیتے ہوئے اس کی تبدیلی کانعرہ بلند کرناہے۔ پس ان دو حضرات کے نزدیک اجتہادشرعی احکام کو معاصر تہذیب و تمدن کے تقاضوں کے مطابق تبدیل کرنے کا نام ہے۔ جبکہ پروفیسر الطاف صاحب کاتصور اجتہاد یہ ہے کہ قرآن کے مجمل احکامات کی تشریح میں مروی رسول اللہﷺ کی احادیث صرف آپؐ کے دور کے حالات کا حل پیش کرتی ہے لہذا آج ہمیں آپؐ کی ان روایات کو نظر انداز کرتے ہوئے قرآن کے ان احکامات کی از سر نو نئی تعبیر و تشریح کرنی ہو گی۔ مثلا وہ کہتے ہیں کہ قرآن نے زکوۃ کی ادائیگی کا حکم دیا ہے لیکن اس کے نصاب کو بیان نہیںکیا اور آپؐ نے اپنے زمانے کے عرف و رواج کو ملحوظ رکھتے ہوئے غنی کا ایک نصاب مثلاً ساڑھے سات تولے سونا‘ ساڑھے باون تولے چاندی‘ پانچ وسق غلہ وپھل اور مال مویشیوں کا نصاب وغیرہ مقرر کر دیاتھا ۔آج ہمیں اپنے زمانے کے ظروف و حالات کے مطابق غنی کی ایک تعریف کرتے ہوئے اس نصاب میں تبدیلی کرناچاہیے اور یہی اجتہاد ہے۔جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ قرآن و سنت کے احکامات میں اس قسم کی تفریق کرناکہ قرآن کے مفصل احکامات تو دائمی ہیں جبکہ سنت کے مفصل احکامات وقتی و عارضی دور کے لیے تھے‘ کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے بلکہ شرعی دلائل اس نظریے کے خلاف قائم ہیں جیسا کہ ہم سابقہ سطور میں بیان کر چکے ہیں۔قرآن اور سنت کے احکامات اپنے دوام کے اعتبار سے ایک جیسی حیثیت رکھتے ہیں لہذا سنت کے احکامات کو وقتی و عارضی قرار دینا شریعت کو ناقص قرار دینے کے مترادف ہے کیونکہ اس میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں ہے کہ صحابہؓ کے لیے شریعت قرآن تھا یا آپؐ کی سنت مبارکہ۔ جب آپؐ کی سنت مطہرہ صحابہؓ کے لیے شریعت تھی اور شریعت عارضی دور کے لیے تھی تو یہ اس کا نقص ہوا۔ پس الطاف صاحب بھی شریعت میں تبدیلی کو اجتہاد سمجھتے ہیں۔

غامدی صاحب کی تعریف سے واضح ہوتا ہے کہ وہ شریعت کی جامعیت اور تکمیل کے قائل نہیں ہیں۔ کیونکہ شریعت اگر مکمل ہے تویہ کہنے کی ضرورت کیوںمحسوس ہوتی ہے کہ کسی مسئلے میں اگر قرآن وسنت خاموش ہوں تو اجتہاد کیاجائے گا۔ اگر قرآن و سنت کسی مسئلے میں خاموش ہیں تواس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و سنت ہر مسئلے کا حل پیش نہیں کرتے اور شریعت اسلامیہ ایک جامع شریعت نہیں ہے۔گویا شریعت کی تکمیل کا کام تاقیامت بذریعہ اجتہاد و مجتہدین جاری و ساری رہے گا۔ یہ دونوں انتہاء پسندانہ نکتہ نظر اسلام کے بنیادی تصورات و اساسات ہی کے خلاف ہیں۔ ختم نبوت کے عقیدے کا بنیادی تقاضایہی ہے کہ کسی قسم کی بھی شریعت سازی یا شریعت میں تبدیلی کے دروازے کو بند کیا جائے۔لیکن معاصر مجتہدین نے ختم نبوت کو ماننے کے باوجود نبی کے اختیارات مجتہدین کو تفویض کرنا شروع کر دیے۔


ان دونوں انتہاء پسندانہ نکتہ ہائے نظر کے مابین أئمہ سلف کا نکتہ نظر یہ ہے کہ اجتہاد ’حکم شرعی‘ کی تلاش کانام ہے۔یعنی جب بھی کوئی نیا ایسا مسئلہ پیش آتا ہے کہ جس کا حکم واضح اور صریح انداز میں قرآن و سنت میں موجود نہ ہو تو قرآن وسنت کی وسعتوں اور گہرائیوں میں سے اس واقعے سے متعلق حکم شرعی کو مستنبط کرنا اجتہاد ہے۔ استنباط کسی چیز سے ہوتا ہے مثلا پانی اگر کنویں میں موجود ہے تو اس پانی کے استباط کا مطلب کنویں سے پانی نکالنا ہے نہ کہ کنویں کے باہر سے پانی حاصل کر لینا۔ اسی طرح حکم شرعی کو قرآن و سنت سے نکالنا اجتہاد ہے نہ کہ باہر سے کسی اور خارجی ذریعے سے معلوم کرنا۔ پس قیامت تک آنے والے مسائل کا حل کتاب و سنت میں موجود ہے ۔بعض مسائل کے بارے میں قرآن وسنت نے صریح الفاظ میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے جبکہ اکثر اوقات قرآن وسنت کا منہج یہ ہے کہ وہ ایسے ضوابط‘ علل اور اسباب بیان کر دیتے ہیں کہ جن کے ساتھ احکام معلق ہوتے ہیں لہذا جو جزئیات بھی کسی کلی ضابطے کے تحت آتی ہوں تو ان سب کا حکم ایک جیسا ہو گا ۔ اسی طرح اگر شرع نے کسی چیز کو کسی علت کی وجہ سے حرام کیاہے تو وہ علت جن اشیاء میں بھی پائی جائے گی وہ حرام متصور ہوں گی۔ پس قرآن وسنت نے بعض اشیاء کی حرمت تو صریح الفاظ میں بیان کر دی اور اکثر اوقات ایسی علل بیان کر دی ہیں جو کسی چیز کو حرام بنا دیتی ہیںلہذاان علل کی وجہ سے جب ہم کسی چیز کو حرام ٹھہرائیں گے تو اگرچہ ہم یہی کہیں گے کہ فلاں چیز نص سے حرام ہوئی ہے اور فلاں قیاس سے‘ لیکن دونوں چیزوں کا حکم شریعت یا نصوص میں موجود ہے ایک کا صراحتاً اور دوسری کا قیاساً‘ اسی طرح کا معاملہ ان مسائل کا بھی ہے کہ جن کو مصلحت‘ سدالذرائع اور عرف وغیرہ جیسے قواعد کی روشنی میں مستنبط کیا جاتا ہے۔ قیاس‘ اجماع‘ مصلحت‘ عرف‘ سد الذرائع‘ شرائع من قبلنا‘ استصحاب اور استحسان وغیرہ جیسے قواعد عامہ کی حجیت بھی قرآن وسنت کی نصوص ہی سے ثابت ہے۔علماء نے احکام شرعیہ کے استنباط وا ستخراج میں ان قواعد کے مآخذ یا مصادر ہونے کے دلائل اصول کی کتابوں میں اکھٹے کر دیے ہیں۔

ہم یہاں اشارتاً یہ تذکرہ کرتے چلیں کہ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ قرآن کی قطعی و صریح احکامات کو ابدی و غیر متغیر مانتے ہوئے ان کے اطلاق میں احوال و ظروف‘ زمانے کے تغیرات اور ضروریات کے تنوع کا لحاظ رکھا جائے گا۔ اس حد تک تو یہ بات درست ہے کہ قرآن و سنت کی نصوص کے اطلاق میں مقاصد شریعت کو مد نظر رکھاجائے لیکن اگر اس سے مراد یہ ہو کہ احوال و ظروف اور زمانے کے تغیرات و ضروریات سے حکم شرعی تبدیل ہوجاتا ہے‘ تو یہ بات درست نہیں ہے۔ اصل حکم شرعی اپنی جگہ قائم رہتا ہے جبکہ بدلتے ہوئے حالات میں ایک مجتہد نے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ فقہ الواقع میں اس کے سامنے پیش آنے والا مسئلہ اس حکم شرعی کا مصداق بن رہا ہے یا نہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ کسی شرعی حکم کے اطلاق میں بھی اجتہاد کیا جاتا ہے‘ تحقیق المناط کا اصل موضوع ہی یہی ہے۔لیکن یہ کہنا کہ کوئی حکم شرعی اپنے اطلاق میں بعض حالات‘ مصالح و عرف کی رعایت رکھتے ہوئے تبدیل بھی ہو جاتا ہے‘ بالکل غلط ہے۔عرف و احوال کی رعایت رکھتے ہوئے حکم شرعی تو تبدیل نہیں ہوتا لیکن علماء کا فتاوی و اجتہادات ضرور تبدیل ہو سکتے ہیں۔اسی طرح جن شرعی احکام کو عر ف و حالات سے متعلق کر دیا گیامثلا ارشاد باری تعالی ہے:
’’و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف۔‘‘ (البقرۃ:۲۲۸)
’’اوران عورتوں کے لیے حقوق ہیں مانند اس کے کہ جیسی ان پر ذمہ داریاں ہیں عر ف کے مطابق۔‘‘
تو ان میں بھی حکم شرعی میں تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ ان احکامات میں شروع ہی سے ہر زمانے کے حالات و وقائع کا لحاظ موجود ہوتاہے۔ اللہ تعالی نے عورتوں کے بعض حقوق و ذمہ داریاں تو قرآن و سنت کے ذریعے متعین کر دی ہیں جبکہ باقی حقوق و ذمہ داریوں کواس آیت مبارکہ میںمعاشرے کے عرف کے ساتھ متعلق کر دیا لہذا عرف کی تبدیلی سے یہ حقوق و ذمہ داریاں بھی تبدیل ہوتی رہیں گی‘ یعنی نص نے شروع ہی سے اپنے اندر ایسی لچک رکھی ہے کہ قیامت تک آنے والے احوال و ظروف کواپنے اندر سمیٹ لے۔اسی طرح کسی شرعی حکم کی تطبیق یا اطلاق میں مصالح کا لحاظ تو رکھا جائے گا لیکن ان مصالح کی بنا پر شرعی احکام کو تبدیل نہیں کیا جائے گامثلا حضرت عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں قحط سالی کے زمانے میں قطع ید کی حد کو ایک عارضی مدت کے لیے ختم کر دیا تھا لیکن معاملہ یہ نہیں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک حد کو ہمیشہ کے لیے ساقط کر دیا ہو بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ شرعی حکم کے اطلاق(application)میں کچھ موانع (restrictions)موجود تھے جن کی وجہ سے ان حالات میں وہ شرعی حکم لاگو نہیں ہو سکتا تھااور ’مانع ‘خود حکم شرعی ہی کی ایک قسم ہے نہ کہ کسی شرعی حکم کی تبدیلی کا نام ہے۔اسی طرح اللہ کے رسولﷺ نے ایک مریض اور بوڑھے شخص پر زنا کی حد جاری کرنے کے لیے سو کوڑوں کی بجائے یہ حکم دیا کہ ایک ایسی شاخ لے کر اس کو ماردی جائے کہ جس میں سو ٹہنیاں ہوں۔یہإں پر بھی بنظر غائر دیکھیں تو سد الذرائع کی بنیاد پرشرعی حکم تبدیل نہیں ہوا بلکہ مریض کے لیے شرعی حکم پر عمل کرنے میں رخصت کا حکم جاری کیا گیا ہے اور رخصت ‘ عزیمت ہی طرح شرعی حکم کی ایک قسم ہے نہ کہ شرعی حکم کا تغیر و تبدل ہے جیسا کہ سفر کی حالت میں نماز میں قصر کرنے کی رخصت ہے اور یہ رخصت ایک علیحدہ سے حکم ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ان مثالوں سے یہ قاعدہ نکال لیں کہ شارع نے چونکہ مصالح و مقاصد کی خاطر بعض صورتوں میں حکم تبدیل کر دیا ہے مثلا مریض اور بوڑھے زانی کو سو کوڑوں کی بجائے ایک شاخ لے کر مار دی تو ہمیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ مصالح و مقاصد کی خاطر حکم شرعی کو تبدیل کر دیں۔بھائی شار ع تو شارع ہے اس کاہر حکم ہی شریعت ہے۔ اس لیے اللہ کے رسولﷺ کا بوڑھے و مریض زانی کو ایک شاخ لے کر مار دینا بھی ایک شرعی حکم ہے جوامت کو یہ بتلاتا ہے کہ اس قسم کے زانی مجرم پر اس طرح کی سزا لاگو ہو گی جبکہ مجتہد‘ مکلف ہے اس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ شریعت میں مقاصد شریعت کے نام سے تبدیلی کرتا پھرے۔

بعض لوگوں نے مقاصد شریعت کا کلیتاً انکار کر دیا جو کہ ایک درست طرز عمل نہیں ہے جبکہ دوسر ی طرف بعض لوگوں نے مقاصد شریعت کواس قدر اہمیت دے دی کہ اس کی تکمیل کے نام پر جزوی تعلیمات کو چھوڑنا شروع کر دیا۔جیسا کہ بعض مفکرین نے بسنت کو جاری رکھنے کے حق میں یہ دلیل بیان فرمائی کہ اس کے ساتھ ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے اور انسانوں کے مال کا تحفظ و فروغ دین اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ایک مقصد ہے۔ پس بسنت پر پابندی لگانا ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کرنے کے مترادف ہے۔یہاں طوالت کے خوف سے اشارتاً اس کاتذکرہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیں گے کہ اجتہاد کرتے وقت مقاصد شریعت اور جزئی تعلیمات میں توازن کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔
اب ہم اپنے ا س موقف کی تائید میں کہ اجتہاد نہ توکسی شرعی حکم میں تبدیلی کانام ہے اور نہ شریعت میں اضافے کرنا ہے بلکہ اجتہاد شرعی حکم کی تلاش کا نام ہے‘ أئمہ سلف و معاصر علماء کے اقوال نقل کر رہے ہیں۔

أئمہ سلف کے ہاں اجتہاد کی حقیقی تعریف
امام ابو اسحاق شیرازي الشافعی ؒ متوفی ۴۸۶ھ لکھتے ہیں:
’’الاجتھاد فی عرف الفقہائ: استفراغ الوسع و بذل المجھود فی طلب الحکم الشرعی۔‘‘(اللمع فی أصول الفقہ للشیرازی:ص۷۲‘ دار الکتب العلمیۃ ‘ بیروت)
’’فقہاء کے عرف میں اجتہاد سے مراد ہے کسی شرعی حکم کی تلاش میں اپنی قوت کو صرف کرنا اور اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح کھپا دینا۔‘‘

امام أبو المظفر السمعاني الحنفی ؒ متوفی ۴۸۹ھ لکھتے ہیں:
’’الاجتھاد و ھو بذل الجھد فی استخراج الأحکام من شواھدھا الدالۃ علیھا بالنظر المؤدی إلیھا۔‘‘(قواطع الأدلۃ: جلد۲‘ ص۷۰‘ دارالکتب العلمیۃ‘ بیروت)
’’اجتہاد سے مراد احکام شرعیہ کو ان کے ان دلائل سے نکالنا جو کہ ان احکام پر رہنمائی کر رہے ہوں جبکہ ان دلائل پر ایسا غور و فکر کیا جائے جو ان احکام تک پہنچا دے۔‘‘

امام غزالی الشافعیؒ متوفی ۵۰۵ھ لکھتے ہیں:
’’فی عرف العلماء مخصوصا ببذل المجتھد و سعہ فی طلب العلم بأحکام الشریعۃ و الاجتھاد التام أن یبذل الوسع فی الطلب بحیث یحس من نفسہ بالعجز عن مزید۔‘‘(المستصفی:ص۳۴۲‘ دار الکتب العلمیۃ‘ بیروت)
’’علماء کے عرف میں یہ لفظ اس مفہوم کے ساتھ خاص ہے کہ شرعی احکام کے علم کی تلاش میں مجتہد کا اپنی صلاحیتوں کو لگا دینا اجتہاد ہے۔’اجتہادِ تام‘ یہ ہے کہ شرعی حکم کی تلاش میں مجتہد اپنی اتنی طاقت لگا دے کہ اس سے مزید کسی کوشش کی گنجائش سے اس کا نفس عاجزہو۔‘‘

امام ابن قدامہ المقدسی الحنبلی ؒ متوفی ۶۲۰ ھ لکھتے ہیں:
’’و ھو فی عرف الفقھاء مخصوص ببذل الجھد فی العلم بأحکام الشرع۔‘‘(روضۃ الناظر: جلد۱‘ ص۳۵۲‘ جامعۃ الإمام محمد بن سعود‘ الریاض)
’’فقہاء کی اصطلاح میں شرعی احکام کا علم حاصل کرنے میں اپنی صلاحیت کو کھپا دینے کے ساتھ یہ لفظ خاص ہے۔‘‘

امام سیف الدین آمدي الشافعی ؒ متوفی ۶۳۱ھ لکھتے ہیں:
’’استفراغ الوسع في طلب الظن بشیء من الأحکام الشرعیۃ علی وجہ یحس من النفس العجز عن المزید فیہ۔‘‘(الإحکام فی أصول الأحکام: جلد۴‘ ۱۶۹‘ دار الکتاب العربي‘ بیروت)
’’کسی حکم شرعی سے متعلق غالب گمان کی تلاش میں اپنی صلاحیت کو اس طرح کھپا دینا کہ اس سے مزید کسی قوت کے لگانے سے اس کا نفس عاجز ہو۔‘‘

امام ابن الحاجب المالکيؒ متوفی ۶۴۶ھ لکھتے ہیں:
’’و فی الاصطلاح استفراغ الفقیہ الوسع لتحصیل ظن بحکم شرعي۔‘‘(منتھی الوصول و الأمل فی علمي الأصول و الجدل:ص۲۰۹‘ دار الکتب العلمیۃ‘ بیروت)
’’اصطلاح میں فقیہ کا کسی شرعی حکم سے متعلق ظن غالب کو حاصل کرنے کے لیے اپنی صلاحیت کو کھپا دینا‘ اجتہاد کہلاتا ہے۔‘‘

امام بیضاوی الشافعی ؒ متوفی ۶۸۵ھ فرماتے ہیں:
’’و ھو استفراغ الجھد فی درک الأحکام الشرعیۃ۔‘‘(منھاج الأصول‘ امام بیضاویؒ‘ جلد۴‘ ص۵۲۴‘ دار عالم الکتب‘ ریاض)
’’شرعی احکام کو پانے کے لیے انتہائی درجے کی کوشش کرنا‘ اجتہاد ہے ۔‘‘

امام علاء الدین بخاری الحنفي ؒ متوفی ۷۳۰ ھ لکھتے ہیں:
’’ فی اصطلاح الأصولیین مخصوصا ببذل المجھود فی طلب العلم بأحکام الشرع۔ والاجتھاد التام أن یبذل الوسع فی الطلب بحیث یحس من نفسہ بالعجز عن مزید طلب۔‘‘(کشف الأسرار شرح أصول بزدوي: جلد ۴‘ ص۱۴‘ دار الکتاب الاسلامی‘ القاھرۃ)
’’اصولیین کی اصطلاح میں شرعی احکام کے علم کی تلاش میں اپنی صلاحیت کو کھپا دینے کے ساتھ یہ لفظ خاص ہے اور’ اجتہاد تام‘ یہ ہے کہ شرعی حکم کی تلاش میں مجتہد اپنی اتنی طاقت لگا دے کہ اس سے مزید کسی کوشش کی گنجائش سے اس کا نفس عاجزہو۔‘‘

امام ابن مفلح الحنبلي متوفی ۷۶۳ ھ لکھتے ہیں:
’’استفراغ الفقیہ وسعہ لدرک حکم شرعي۔‘‘(أصول الفقہ‘ جلد۴‘ ص۱۴۶۹‘ مکتبہ العبیکان)
’’کسی فقیہ کا حکم شرعی کو پانے کے لیے اپنی کوشش کو کھپا دینا ‘اجتہاد ہے ۔‘‘

امام شاطبي المالکی ؒ متوفی ۷۹۰ھ لکھتے ہیں:
’’الاجتھاد ھو استفراغ الوسع فی تحصیل العلم أو الظن بالحکم۔‘‘(الموافقات: جلد۴‘ ص۱۱۳‘ دار المعرفۃ‘ بیروت)
’’اجتہاد سے مراد حکم شرعی سے متعلق ظن غالب یا قطعی علم حاصل کرنے کے لیے اپنی صلاحیت کو کھپا دیناہے۔‘‘

علامہ سعد الدین تفتازاني الشافعیؒ متوفی۷۹۲ھ لکھتے ہیں:
’’و فی الاصطلاح استفراغ الفقیہ الوسع لتحصیل ظن بحکم شرعی۔‘‘( شرح التلویح علی التوضیح لمتن التنقیح:جلد۲‘ ص۲۴۴‘ دارالکتب العلمیۃ‘ بیروت)
’’اصطلاح میں فقیہ کا کسی حکم ِشرعی سے متعلق ظن غالب کو حاصل کرنے کے لیے اپنی صلاحیت کو کھپا دینا‘ اجتہاد کہلاتا ہے۔‘‘

امام بدر الدین زرکشی الشافعی ؒمتوفی ۷۹۴ھ لکھتے ہیں:
’’و فی الإصطلاح بذل الوسع فی نیل حکم شرعی عملی بطریق الإستنباط۔ ‘‘(البحر المحیط:جلد۶‘ ص۱۹۷‘ وزارۃ الأوقاف و الشؤون الاسلامیۃ‘ دولۃ کویت)
’’کسی عملی شرعی حکم کو بذریعہ استنباط معلوم کرنے کی خاطر انتہائی درجے کی کوشش کرنااجتہاد ہے۔ ‘‘

امام ابن اللحام الحنبلي متوفی ۸۰۳ھ لکھتے ہیں:
’’و اصطلاحا بذل الجھد فی تعرف الحکم الشرعي۔‘‘(المختصر فی أصول الفقہ: ص۱۶۳‘ مرکز البحث العلمی و إحیاء التراث الاسلامی‘ مکۃ المکرمۃ)
’’اصطلاحی طور پر کسی شرعی حکم کی پہچان کے لیے اپنی طاقت کو خرچ کرنا‘ اجتہاد ہے ۔‘‘

ابن ھمام الحنفیؒ متوفی ۸۶۱ ھ لکھتے ہیں:
’’ و اصطلاحا ذالک من الفقیہ فی تحصیل حکم شرعي ظني۔‘‘(التقریر و التحبیرفی شرح التحریر:جلد ۳‘ ص۲۹۱‘ دار الکتب العلمیۃ‘ بیروت‘ ۱۹۸۳ئ)
’’اصطلاحی طور پر اس سے مراد فقیہ کی وہ کوشش ہے جو وہ ایک ظنی حکم شرعیکے حصول کی خاطر کرتا ہے۔‘‘

امام محب اللہ بن عبد الشکور ا لھندي الحنفي البھاري متوفی ۱۱۹۹ھ نے بھی لکھتے ہیں:
’’الاجتھاد بذل الطاقۃ من الفقیہ فی تحصیل حکم شرعی ظنی۔‘‘(مسلم الثبوت:ص۲۷۶‘ المطبع الأنصاری‘ دہلی)
’’اجتہاد سے مراد کسی فقیہ کا کسی ظنی حکم شرعی کو حاصل کرنے لیے اپنی طاقت کو خرچ کرنا ہے ۔‘‘

امام شوکانی السلفی ؒ متوفی ۱۲۵۵ھ لکھتے ہیں :
’’ھو فی الإصطلاح بذل الوسع فی نیل حکم شرعی عملی بطریق الإستنباط۔‘‘(إرشاد الفحول فی تحقیق الحق من علم الأصول:ص۲۵۰‘ دار الفکر‘ بیروت)
’’اصطلاحی طور پر کسی عملی شرعی حکم کو بذریعہ استنباط معلوم کرنے کی خاطر انتہائی درجے کی کوشش کرنا‘اجتہاد ہے۔‘‘

شاہ ولی اللہ دہلویؒ متوفی ۱۱۷۶ھ لکھتے ہیں:
’’الاجتھاد علی ما یفھم من کلام العلماء استفراغ الجھد فی إدارک الأحکام الشرعیۃ الفرعیۃ من أدلتھا التفصیلیۃ۔‘‘(عقد الجید فی أحکام الاجتھاد و التقلید: ص۳‘ المطبعۃ السلفیۃ‘ القاہرۃ)
’’علماء کے کلام کے مطابق اجتہاد سے مراد کسی شرعی فرعی حکم کو اس کے تفصیلی(جزئی) دلائل سے معلوم کرنے کے لیے اپنی طاقت کو حتی الامکان خرچ کرنا ہے۔

علامہ صدیق حسن خان بہادر السلفی ؒمتوفی ۱۳۵۷ھ لکھتے ہیں:
’’و فی الاصطلاح استفراغ الوسع فی طلب الظن بشیء من الأحکام الشرعیۃ علی وجہ یحس من النفس العجز عن المزید علیہ۔‘‘(حصول المأمول من علم الأصول:ص۱۵۴‘ مطبعۃ مصطفی محمد‘ مصر)
’’کسی حکم شرعی سے متعلق غالب گمان کی تلاش میں اپنی صلاحیت کو اس طرح کھپا دینا کہ اس سے مزید کسی قوت کے لگانے سے اس کا نفس عاجز ہو۔
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,335
ری ایکشن اسکور
9,951
پوائنٹ
667
معاصرعلماء کے ہاں اجتہاد کی تعریف
شیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ فرماتے ہیں:
’’بذل الجھد لإدراک حکم شرعي۔‘‘(الأصول من علم الأصول: ص۵۹)
’’کسی شرعی حکم کو پانے کے لیے اپنی کوشش کوکھپا دینا‘ اجتہاد ہے۔‘‘

الدکتور وہبہ الزحیلی لکھتے ہیں:
’’و أنسب التعریف فی رأینا من التعاریف المنقولۃ ‘ ھو ماذکرہ القاضی بیضاوی و ھو ’’استفرغ الجھد فی درک الأحکام الشرعیۃ و الاستفراغ معناہ: بذل الوسع و الطاقۃ‘ و درک الأحکام أعم من أن یکون علی سبیل القطع أو الظن۔‘‘(أصول الفقہ الاسلامی‘ جلد۲‘ ص۱۰۳۸‘ دار الفکر‘ بیروت)
’’ہمارے نزدیک اجتہاد کی بیان کردہ تعریفوں میں سب سے بہترین تعریف امام بیضاوی ؒ کی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی شرعی حکم کو پانے کے لیے اپنی کوشش کو کھپا دینا ‘اجتہاد ہے ۔’استفراغ‘ کا معنی اپنی طاقت اور صلاحیت کو لگادینا‘ کھپا دینا ہے اور ’درک الحکم‘کا لفظ عام ہے کہ وہ (کسی شرعی حکم کی)قطعیت کو حاصل کرنے کے لیے ہو یا ظن غالب کو معلوم کرنے کے لیے ہو۔‘‘

الأستاذ علی حسب اللہ فرماتے ہیں:
’’و فی اصطلاح الأصولیین بذل الفقیہ جھدہ فی استنباط حکم شرعی من دلیلہ علی وجہ یحس فیہ العجز عن المزید ۔‘‘(أصول التشریع الاسلامی: ص۸۷‘أسرۃ مسجد السلام‘ القاہرۃ‘ ۱۹۸۲ء)
’’اصولیین کی اصطلاح میں کسی شرعی حکم کو اس کی دلیل سے مستنبط کرنے کے لیے کسی فقیہ کا اپنی طاقت کو اس طرح کھپا دینا کہ اس سے زائد کوشش کرنے سے اس کا نفس عاجز ہو۔‘‘

شیخ عبد الوھاب خلاف لکھتے ہیں:
’’الاجتھاد فی اصطلاح الأصولیین ھو بذل الجھد للوصول إلی الحکم الشرعي من دلیل تفصیلي من الأدلۃ الشرعیۃ۔‘‘(أصول الفقہ الاسلامی:ص۲۵۷‘ المکتبۃ الاسلامیۃ ‘ استانبول)
’’اصولیین کی اصطلاح میں اجتہاد سے مراد شرعی دلائل میں سے کسی تفصیلی(جزئی) دلیل کے ذریعے کسی شرعی حکم تک پہنچنے میں اپنی طاقت خرچ کرناہے‘‘۔

الأستاذ مصطفی الزرقاء فرماتے ہیں:
’’الاجتھاد: ھو عملیۃ استنباط الأحکام الشرعیۃ من أدلتھا التفصیلیۃ فی الشریعۃ۔‘‘(أصول الفقہ الاسلامی:جلد۲‘ ص۱۰۳۹‘ مکتبہ رشیدیہ‘ کوئٹہ)
’’اجتہاد شرعی احکام کو شریعت میں موجود تفصیلی(جزئی) دلائل سے اخذ کرنے کے عمل کا نام ہے ۔‘‘

شیخ محمد أبو زھرۃ لکھتے ہیں :
’’و فی اصطلاح علماء الأصول بذل الفقیہ وسعہ فی استنباط الأحکام العملیۃ من أدلتھا التفصیلیۃ و یعرف بعض العلماء الاجتھاد فی اصطلاح الأصولیین بانہ استفراغ الجھد و بذل غایۃ الوسع إما فی استنباط الأحکام الشرعیۃ و إما فی تطبیقاتھا و کان الاجتھاد علی ھذا التعریف قسمین: احدھما خاص باستنباط الأحکام و بیانھا و القسم الثانی خاص بتطبیقھا۔‘‘(أصول الفقہ: ص۳۵۶‘ دار الفکر العربی‘ القاھرۃ)
’’علمائے أصول کی اصطلاح میں کسی فقیہ کا عملی احکام کو تفصیلی دلائل سے اخذ کرنے کے لیے اپنی صلاحیت کو کھپانا‘ اجتہاد کہلاتا ہے ۔بعض علماء نے اصولیین کی اصطلاح میں اجتہاد کی تعریف یوں بیان کی ہے کہ اس سے مراد شرعی احکام کو مستنبط کرنے کے لیے یا ان کی تطبیق(application )کے لیے اپنی طاقت اور انتہائی درجے میں صلاحیت کو کھپا دینا۔اس تعریف کے مطابق اجتہاد کی دوقسمیں ہوں گی:ایک قسم تو وہ ہے جو کہ استنباط احکام کے ساتھ خاص ہو گی جبکہ دوسری قسم وہ ہے جو کہ ان احکام کی تطبیق(application )کے ساتھ خاص ہے‘‘۔

الشیخ محمد الخضري بک لکھتے ہیں:
’’ثم صار ھذا اللفظ فی عرف العلماء مخصوصا ببذل الفقیہ وسعہ فی طلب العلم بأحکام الشریعۃ و الاجتھاد التام أن یبذل الوسع فی الطلب بحیث یحس من نفسہ بالعجز عن مزید طلب۔‘‘(أصول الفقہ:ص۳۶۷‘ المکتبۃ التجاریۃ الکبری‘الطبعۃ السادسۃ‘ ۱۹۶۹ئ)
’’اجتہاد کا لفظ علماء کے عرف میں اس معنی کے ساتھ مخصوص ہے کہ کسی فقیہ کا شرعی احکام کا علم حاصل کرنے میں اپنی صلاحیت کو کھپا دینا۔اور ’اجتہاد تام‘ یہ ہے کہ شرعی حکم کی تلاش میں مجتہد اپنی اتنی طاقت لگا دے کہ اس سے مزید کسی کوشش کی گنجائش سے اس کا نفس عاجزہو۔‘‘

الدکتور عبد الکریم زیدان لکھتے ہیں:
’’و فی اصطلاح الأصولیین: بذل المجتھد وسعہ فی طلب العلم بالأحکام الشرعیۃ بطریق الاستنباط۔‘‘(الوجیزفی أصول الفقہ:ص۴۰۱‘ فاران اکیڈمی‘ لاہور)
’’اصولیین کی اصطلاح میں مجتہد کا شرعی احکام کا علم حاصل کرنے کے لیے استنباط کے طریقے سے اپنی صلاحیت کو کھپانا‘ اجتہاد کہلاتا ہے۔‘‘

شیخ عبد اللہ بن صالح الفوزان لکھتے ہیں:
’’و اصطلاحا: بذل المجتھد وسعہ في طلب العلم بالحکم الشرعي بطریق الاستنباط من أدلۃ الشرع۔‘‘(خلاصۃ الأصول: ص۵۲)
’’اصطلاحی طور پر مجتہد کا ‘دلائل شرعیہ میں بذریعہ استباط‘کسی شرعی حکم کے علم کی تلاش میں اپنی صلاحیت کو کھپانا‘ اجتہاد ہے ۔‘‘

الدکتور عبد اللہ بن عبد المحسن الترکي لکھتے ہیں:
’’و أمثل تعریف للاجتھاد فی نظرنا تعریف الکمال بن الھمام فی التحریر حیث عرف الاجتھاد بأنہ بذل الطاقۃ من الفقیہ فی تحصیل حکم شرعي ظني۔‘‘(أصول مذہب الامام الأحمد:ص۲۵۵‘ مکتبۃ الریاض الحدیثیۃ ‘ الریاض‘ ۱۹۷۷ء)
’’ہمارے خیال میں اجتہاد کی بہترین تعریف ’ابن الھمام‘ کی ہے جو کہ انہوں نے اپنی کتاب’التحریر‘ میں بیان کی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ اجتہاد سے مراد کسی فقیہ کا کسی ظنی شرعی حکم کو حاصل کرنے کے لیے اپنی طاقت کو خرچ کرنا ہے۔‘‘

شیخ عبد الرحمن بن عبد الخالق یوسف لکھتے ہیں:
’’عرف العلماء الاجتھاد الشرعی بأنہ الجھد للوصول إلی ظن بحکم شرعی و ھذا یعنی أن المجتھد یبذل جھدہ لیعرف مراد اللہ فی قضیۃ ما۔‘‘(السلفیون و الأئمۃ الأربعۃ: ص۵‘ الموسوعۃ الشاملۃ)
’’علماء نے اجتہاد کی شرعی تعریف یوں بیان کی ہے کہ اس سے مراد کسی شرعی حکم سے متعلق ظن غالب تک پہنچنے کے لیے کوشش کرناہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مجتہد کسی مسئلے میں اللہ کی مراد(حکم) کو جاننے کے لیے اپنی صلاحیت لگاتا ہے۔ ‘‘

شیخ أحمد شاکر الحنبلي لکھتے ہیں:
’’استفراغ الجھد (بالضم) أی الطاقۃ لتحصیل ظن بحکم شرعي فرعي عن دلیلہ۔‘‘(أصول الفقہ الإسلامی‘ ص۳۸۸‘ مطبعۃ الجامعۃ السوریۃ)
’’کسی شرعی حکم کی دلیل سے اس حکم سے متعلق ظن کو حاصل کرنے کے لیے اپنی طاقت کو خرچ کرنا ‘اجتہاد ہے۔‘‘

الدکتور عبد الکریم بن علی بن محمد النملۃ لکھتے ہیں:
’’و أولی تعریف عندی ھو بذل الفقیہ ما فی وسعہ لتحصیل ظن بحکم شرعی عملی من الأدلۃ التفصیلیۃ۔‘‘(إتحاف ذوی البصائربشرح روضۃ الناظر فی أصول الفقہ:جلد۸‘ ص۱۰‘ دار العاصمۃ)
’’میرے نزدیک اجتہاد کی بہترین تعریف یہ ہے کہ کسی فقیہ کا تفصیلی دلائل سے کسی عملی شرعی حکم سے متعلق ظن غالب کو حاصل کرنے کے لیے اپنی مقدور بھر صلاحیت کو خرچ کرنا‘ اجتہاد ہے ۔‘‘

شیخ یوسف القرضاوي لکھتے ہیں:
’’و أما فی اصطلاح الأصولیین ‘ فقد عبروا عنہ بعبارات متفاوتۃ‘ لعل أقربھا ما نقلہ الامام الشوکانی فی کتابہ’’إرشاد الفحول‘‘ فی تعریفہ بقولہ:’’بذل الوسع فی نیل حکم شرعی عملی بطریق الاستنباط۔‘‘(الاجتھاد فی الشریعۃ الاسلامیۃ:باب معنی الاجتھاد)
اصولیین کی اصطلاح میں اجتہاد کی تعریف میں کئی عبارتیںمروی ہیں ان میں سے سب سے زیادہ صحیح وہ عبارت ہے جس کو امام شوکانیؒ نے اپنی کتاب’ارشاد الفحول‘ میں نقل کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی عملی شرعی حکم کو بذریعہ استنباط معلوم کرنے کی خاطر کسی مجتہد کا انتہائی درجے کی کوشش کرنا‘اجتہاد ہے۔‘‘

پروفیسر تقی أمینی لکھتے ہیں :
’’ استفراغ الجھد و بذل غایۃ الوسع إما فی درک الأحکام الشرعیۃ و إما فی تطبیقھا‘‘۔(اجتہاد: ص۲۱‘ قدیمی کتب خانہ‘ کراچی)
’’شرعی احکام کو معلوم کرنے یا ان کی تطبیق(application) میں انتہائی درجے میں اپنی طاقت کو لگانا اور صلاحیت کو کھپا دینا‘ اجتہاد کہلاتا ہے۔‘‘
پروفیسر صاحب نے اس تعریف کی نسبت امام شاطبیؒ کی طر ف کی ہے اور ’الموافقات‘ کا حوالہ دیا ہے لیکن تلاش کے باوجود یہ تعریف ہمیں ’الموافقات‘ میں نہ مل سکی۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی لکھتے ہیں:
’’اجتہاد کے معنی یہ ہے کہ کسی ایسی صورت حال میں جس کے بارے میں قرآن مجید اور سنت میں براہ راست کوئی حکم موجود نہ ہو‘ قرآن و سنت کے احکام پر غور کر کے اس کاحکم معلو م کیا جائے۔حکم شریعت کی دریافت کے اس عمل کا نام اجتہاد ہے۔گویا جتہاد ایک عمومی اصول ہے۔۔۔انگریزی میں اجتہاد کے مفہوم کو بیان کرنا ہو تو یوں کہا جائے گا:
To exhast your capacity to discover Shariah ruling about a new situation in the light of the Quran and Sunnah.
یہ ہے اجتہاد۔کہ قرآن و سنت کی روشنی میں کسی نئی صورت حال کا حکم معلوم کرنے کے لیے اپنی صلاحیت کو پورے طور پر استعمال کر ڈالنا‘ علم اور صلاحیتوں کو اس طرح نچوڑ دینا کہ اس سے آگے صلاحیت کے استعمال کرنے کی کوئی حد یا سکت باقی نہ رہے۔اس عمل کا نام اجتہادہے۔‘‘ (محاضرات فقہ:ص۳۳۱‘۳۳۲‘الفیصل ناشران و تاجران کتب ‘لاہور)

یہ ہے علمائے سلف و معاصر علماء کی اجتہاد کی تعریف۔ اجتہاد کی ان تمام تعریفوں میں یہ بات مشترک ہے کہ اجتہاد حکم شرعی کی تلاش کا نام ہے۔یعنی کسی پیش آمدہ مسئلے کے بارے میں اللہ کے حکم کو معلوم کرنا اور پھر اس حکم کا اس واقعے پر اطلاق کر دینا‘ اجتہاد ہے۔اب اللہ کاحکم نہ تو عقل عام سے معلوم ہوتا ہے اور نہ اس کا ماخذ فطرت انسانی ہے۔ نہ تو کسی فلسفی کا فلسفہ ہمیں اللہ کے حکم تک پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی کسی ملہم کا الہام۔ اس دنیا میںاللہ کا حکم معلوم کرنے کا واحد مصدر اب کتاب و سنت ہے۔ پس کسی اہل مجتہد کی طرف سے کتاب و سنت کی وسعتوں اور گہرائیوں سے نئے پیش آمدہ مسائل کا حکم شرعی اخذ کرنے اور اس حکم کا ان مسائل پر اطلاق کرنے میں صرف ہونے والی علمی و فکری جدوجہد کا نام ‘اجتہاد ہے۔
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,335
ری ایکشن اسکور
9,951
پوائنٹ
667
علماء کی خدمت میں چند گزارشات
جہادمسلمانوںکی حکومت و ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔جب صاحب اقتدار طبقے نے جہاد کے فریضے کی ادائیگی سے پہلوتہی کی تو بہت سی عوامی جماعتوں نے اس فریضے کی ادائیگی اپنے تئیں شروع کر دی اور طالبان کو بدنام کرتے ہوئے چوروں‘ ڈاکوؤں اور لٹیروں نے فساد کا ایک بازار گرم کر دیا اور مملکت خداداد پاکستان کا ایک بہت بڑا صوبہ اس فتنے و فساد کی لپیٹ میں آ گیا۔طوائف الملوکی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ مقامی لوگوں کے لیے بھی یہ امتیاز کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کون حقیقی طالبان ہیں اور کون غیر ملکی ایجنسیوں کے ایجینٹ‘ حکومت کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے والے کون ہیں اور عوام الناس کو لوٹنے اور تشدد کا نشانہ بنانے والے کون ہیں‘ اس میں فر ق اب آسان نہیں ہے۔اس سارے بگاڑ کی بنیادی وجہ حکومت و ریاست پاکستان کا‘ جو کہ جہاد کے فریضے کی ذمہ داراور اہل تھی‘ کا اس ذمہ داری کو نہ نبھاناہے۔ اسی طرح اجتہاد‘ جو عصر حاضر کی ایک بنیادی ضرورت ہے‘ علمائے دین کا فریضہ و ذمہ داری تھی‘ انہوں نے جب کسرنفسی سے کام لیا اور تقلید جامد پر اصرار کیا تو کچھ نااہل لوگ اس سیٹ کو خالی دیکھتے ہوئے اس پر براجمان ہوگئے اوراجتہاد کے نام پر الحاد پھیلانے لگ گئے۔ جدید تہذیب و تمدن اور احوال و ظروف سے پیدا شدہ مسائل میں کونسا دارالعلو م فتو ے جاری نہیں کررہاہے۔یہ اجتہاد نہیں تو اور کیا ہے؟ اس وقت علماء کواپنے آپ کو انڈر ایسٹیمیٹ(under estimate) کرنے کی بجائے اپنی ذمہ داری اور منصب کو سنبھالنا چاہیے اور الحمد للہ! اجتہاد کوجو کام وہ بالفعل کر رہے ہیں اس کا قولی اقرار کرنے میں سوائے اس کے اور کوئی مانع نہیں ہے کہ تقلید شخصی کی دلیل کمزور پڑ جائے گی۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ علماء ہی کی جماعت‘ وہ واحد جماعت ہے جو أئمہ سلف کے ساتھ علمی رشتہ قائم رکھتے ہوئے نئے مسائل میں اجتہاد کا فریضہ سرانجام دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔

دوسری گزارش یہ ہے کہ ا ن حالات میں علماء کومعاصر متجددین‘ سیکولر مجتہدین اوربے دین مفکرین کے خلاف اپنے باہمی اختلافات کو بھلا کر یکجا ہو جانا چاہیے۔ انہیں اپنے مکاتب فکرکی فقہی آراء کی تقلید جامد کی بجائے اہل سنت کے دیگر مذاہب کو بھی اپنے لیے ایک علمی و تاریخی ورثہ سمجھتے ہوئے ان سے استفادہ کرنا چاہیے۔ امام ابوحنفیہؒ ہوں یا امام شافعیؒ‘ امام مالکؒ ہوں یا امام احمدؒ‘امام ابن تیمیہ ؒ ہوں یا امام بخاریؒ‘ یہ سب ہی اہل سنت کے رہبر و راہنما ہیں۔ایک وقت وہ تھا کہ جب خلافت عثمانیہ کے تحت ’مجلۃ الأحکام العدلیۃ‘ کی ترتیب و تدوین کاکام ایک سات رکنی کمیٹی کو سونپا گیاجس میں اس وقت کے معروف حنفی عالم دین و فقیہ ابن ابن عابدینؒ بھی شامل تھے۔ اس ’مجلۃ‘ کی تقریباً دو‘ تین دفعات کے بارے میں کمیٹی کے باقی اراکین کی رائے یہ تھی کہ ان مسائل میں مصلحت عامہ کالحاظ رکھتے ہوئے فقہ شافعی سے رائے لے لی جائے تو بہتر ہے جبکہ ابن ابن عابدین ؒ کا اصرار فقہ حنفی ہی سے رائے لینے پر تھا‘ اور بالآخر اسی بنیاد پر انہوں نے کمیٹی کی رکنیت سے استعفی بھی دے دیا۔ اس فقہی جمود کا ردعمل ترکی میں مصطفی کمال پاشا جیسے ملحدین کی صورت میں سامنے آیا جنہوں نے اسلامی شعائر اورتہذیب و تمدن کو ترکی سے نکال باہر کرتے ہوئے اسے سیکولرزم کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح کا فقہی جمود و تشدد دنیا کے دوسرے خطوں اور مذاہب میں بھی پایا جاتا رہا ہے۔’فتاوی عالمگیری ‘ کے مؤلفین و مفتی حضرات نے ’فتاوی‘ کے’باب التعزیر‘میں لکھاہے کہ کوئی حنفی اگر شافعی ہو جائے گا تو اس پر تعزیری سزا نافذ کی جائے گی۔یہی وہ فقہی تعصب و جمود ہے کہ جس کے ردعمل(reaction)نے ترکی‘ پھر مصر اور اس کے بعد اب عالم اسلام کے کئی ایک ممالک میں اجتہاد کے نام پر الحاد کی ایک تحریک برپا کر دی ہے۔اگر علماء اب بھی اس جمود سے باہر نکل کر اپنا فریضہ سرانجام نہ دیں گے تو کچھ بعید نہیں کہ مملکت پاکستان کا انجام بھی وہی ہو جو صورت حال آج ہم ترکی اور مصر وغیرہ میں دیکھ رہے ہیں۔ تمام مکاتب فکر کے علماء سے ہماری یہ درخواست ہے کہ وہ قدیم مسائل میں جمیع أئمہ سلف کی طرف سے بیان شدہ آراء و مسائل کے بارے میں مروی اختلافات میں نرمی کارویہ اختیار کریں اور ان مسائل و فتاوی کو اہمیت دیں جو دلائل کے اعتبار سے قرآن وسنت کے زیادہ قریب ‘ موجود ہ احوال وظروف میں قابل عمل(applicable)اور عوام الناس کی مصالح کو زیادہ سے زیادہ پورا کرنے والے ہوں۔
حافظ محمد زبیر
 
Top