ساجد
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 6,602
- ری ایکشن اسکور
- 9,379
- پوائنٹ
- 635
فرانس میں مسلمانوں کی آبادی اور قبولِ اسلام کی شرح کوایک رپورٹ میں یوں بیان کیاگیا ہے :
’’اگرچہ یہ بات اٹلی کے کیتھولک مذہب سے وابستہ لوگوں کے لئے اب بھی حیرت انگیز ہے ، مگر اسلام بہرحال یہاں دوسرا سب سے بڑا مذہب بن چکا ہے۔ تقریباً ۶ لاکھ ۵۰ ہزار مسلمان اٹلی میں آباد ہیں جن میں سے کم از کم ۸۵۰۰۰ روم میں رہتے ہیں۔ مسلمانوں کے اپنے ذرائع کاکہنا ہے کہ اگر اس تعداد میں دوسرے ممالک سے آئے ہوئے غیر رجسٹرڈ شدہ مسلمانوں کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد دس لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اٹلی میں یہودیوں کی تعداد صرف ۳۵۰۰۰ ہے جس میں سے ۱۵۰۰۰ روم میں رہتے ہیں۔جرمنی میں مسلمانوں کے بارے میں کچھ عرصہ قبل کے اعدادوشمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی ۱۶ لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس تعداد میں تقریباً ۵۰ ہزار جرمن بھی شامل ہیں جو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ مشرقی جرمنی میں بھی ۷۰۰۰ مسلمان رہتے ہیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے:’اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟‘، ص۳۲تا۳۸)
اٹلی میں مسلمانوں کی تعداد اور حیثیت حیرت انگیز ہے مسٹر فلپ پلیلہ (Mr. Philip Pullella) روم سے لکھتے ہیں:’’فرانس میں مسلمان کل آبادی کا تقریباً ۷ فیصد ہیں جب کہ غیر سرکاری اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے ۳۸ فیصد مسلمان پیرس اور اس کی نواحی بستیوں میں رہتے ہیں۔‘‘
’’اگرچہ یہ بات اٹلی کے کیتھولک مذہب سے وابستہ لوگوں کے لئے اب بھی حیرت انگیز ہے ، مگر اسلام بہرحال یہاں دوسرا سب سے بڑا مذہب بن چکا ہے۔ تقریباً ۶ لاکھ ۵۰ ہزار مسلمان اٹلی میں آباد ہیں جن میں سے کم از کم ۸۵۰۰۰ روم میں رہتے ہیں۔ مسلمانوں کے اپنے ذرائع کاکہنا ہے کہ اگر اس تعداد میں دوسرے ممالک سے آئے ہوئے غیر رجسٹرڈ شدہ مسلمانوں کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد دس لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اٹلی میں یہودیوں کی تعداد صرف ۳۵۰۰۰ ہے جس میں سے ۱۵۰۰۰ روم میں رہتے ہیں۔جرمنی میں مسلمانوں کے بارے میں کچھ عرصہ قبل کے اعدادوشمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی ۱۶ لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس تعداد میں تقریباً ۵۰ ہزار جرمن بھی شامل ہیں جو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ مشرقی جرمنی میں بھی ۷۰۰۰ مسلمان رہتے ہیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے:’اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟‘، ص۳۲تا۳۸)