• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مغرب توہین آمیز خاکے کیوں بناتا ہے؟

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
فرانس میں مسلمانوں کی آبادی اور قبولِ اسلام کی شرح کوایک رپورٹ میں یوں بیان کیاگیا ہے :
’’فرانس میں مسلمان کل آبادی کا تقریباً ۷ فیصد ہیں جب کہ غیر سرکاری اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے ۳۸ فیصد مسلمان پیرس اور اس کی نواحی بستیوں میں رہتے ہیں۔‘‘
اٹلی میں مسلمانوں کی تعداد اور حیثیت حیرت انگیز ہے مسٹر فلپ پلیلہ (Mr. Philip Pullella) روم سے لکھتے ہیں:
’’اگرچہ یہ بات اٹلی کے کیتھولک مذہب سے وابستہ لوگوں کے لئے اب بھی حیرت انگیز ہے ، مگر اسلام بہرحال یہاں دوسرا سب سے بڑا مذہب بن چکا ہے۔ تقریباً ۶ لاکھ ۵۰ ہزار مسلمان اٹلی میں آباد ہیں جن میں سے کم از کم ۸۵۰۰۰ روم میں رہتے ہیں۔ مسلمانوں کے اپنے ذرائع کاکہنا ہے کہ اگر اس تعداد میں دوسرے ممالک سے آئے ہوئے غیر رجسٹرڈ شدہ مسلمانوں کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد دس لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اٹلی میں یہودیوں کی تعداد صرف ۳۵۰۰۰ ہے جس میں سے ۱۵۰۰۰ روم میں رہتے ہیں۔جرمنی میں مسلمانوں کے بارے میں کچھ عرصہ قبل کے اعدادوشمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی ۱۶ لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس تعداد میں تقریباً ۵۰ ہزار جرمن بھی شامل ہیں جو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ مشرقی جرمنی میں بھی ۷۰۰۰ مسلمان رہتے ہیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے:’اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟‘، ص۳۲تا۳۸)
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
قارئین کرام! مندرجہ بالا اعدادوشمار سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکہ و یورپ میں کس قدر تیزی سے اسلام پھیل رہا ہے۔تیزی سے بڑھتے ہوئے اسلام کے اس سیل رواں کے آگے بند باندھنے کے لئے غیر مسلم متحرک ہوچکے ہیں اور مختلف حیلے بہانے تراش کر اور سازشیں کرکے نورِ اسلام کو بجھانے کی ناکام کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر اعظم اضحاک رابن (Yitzhak Rabin)نے اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ (Knesset)کی کمیٹی برائے اُمور خارجہ اور دفاع کو بتایا کہ اسلامی دنیا میں انتہا پسند انقلابیت ہماری قوم (یہودیوں) کی سا لمیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔اگر اصل خطرے کی تعریف کی جائے تو وہ خطرہ اسلامی انتہاپسندی کی لہر ہے۔ (واشنگٹن رپورٹ آن مڈل ایسٹ افیئرز، جون ۱۹۹۵ء ، ص:۲۲)
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
حالیہ توہین آمیز خاکے اسی یہودی بغض و عناد اور تعصب کی ایک کڑی ہے جس کامقصد نبیﷺ اور اسلام کی حقانیت کو مجروح کرکے دنیا کو تیزی سے پھیلتے ہوئے اسلام سے متنفر کرنا ہے۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
توہینِ رسالت ﷺکے بارے میں مسلمانوں میں بے حسی پیدا کرنا
مغرب میں اِہانت انبیاء کے حوالے سے جس قدر بے حسی پائی جاتی ہے، وہ کسی ذی شعور پر مخفی نہیں چنانچہ برطانیہ میں مسیحیت کے خلاف کفریہ کلمات (Blasphemy)کو قابل سزا جرم قرار دیا گیاہے، مگر اس تعزیری قانون کے ہوتے ہوئے برطانیہ میں ایک فلم بنائی گئی جو سراسر قانون کے خلاف ہے اس فلم کا نام(The Last Temptation of Chorist) ہے۔اس فلم میں نعوذ باللہ مسیح ﷤ کی جنسی زندگی کے مناظر دکھلائے گئے ہیں۔ یہ فلم برطانیہ میں سر عام دکھائی جارہی تھی مگر مذکورہ قانون کے ہونے کے باوجود اس فلم پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی نہ اسکے بنانے والوں کو کوئی سزا دی گئی۔ (ناموس رسالتﷺاور قانون توہین رسالت از اسماعیل قریشی: ص۱۹۵)
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
ایسے ہی بیسویں صدی کے آغاز ہی میں لندن میں ایک ڈرامے میں نبی کریمﷺ سمیت بعض دیگر انبیاء کے کردار کو بھی پیش کئے جانے کی خبرملی۔ اس موقع پر خلیفہ سلطان عبدالحمید نے پہلے سفارتکاری اور بعدازاں یہ دھمکی دے کر اس مذموم فعل کوروبہ عمل آنے سے روک دیا کہ وہ بحیثیت خلیفہ ’’پوری اُمت مسلمہ کوبرطانیہ کے خلاف جنگ کاحکم جاری کریں گے۔ (ماہنامہ ’محدث‘ لاہور، مارچ ۲۰۰۶ء: ص۷)
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
اہل یورپ توہین آمیز خاکے اور اسلام مخالف فلمیں تیار کرکے توہین نبوت کے بارے میں یہی بے حسی مسلمانوں، مسلمان رہنماؤں اور مسلمان ریاستوں کے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ توہین نبوت جس پر ان کے ایمان اور اعتقاد کا دارومدار ہے، اسے قطعی اہمیت نہ دیں۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
دنیا کو پیغام رسالتﷺ سے برگشتہ کرنا
اسلام امن و اَمان ، روا داری، حسن اَخلاق اور مہر و وفا کا دین ہے۔ اس کے عقائد سچے، اس کی عبادات سادہ اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں اور اس کے پیغمبر خاتم النبیین حضرت محمدﷺ ہیں جن کی سیرت مطہرہ بنی نوع انسان کے لئے اسوۂ حسنہ ہے۔اپنی انہی بے مثال روایات و تعلیمات کی وجہ سے اسلام روز بروز پھیلتا جارہا ہے اور معتدل مغربی مفکرین بھی نبئ رحمتﷺ کے پیغام امن وسلامتی کے مداح ہیں اور ببانگ دہل نبیﷺ کے رفیع الشان ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مائیکل ہارٹ انگریز مصنف تاریخ انسانی کے سو بڑے آدمیوں کی فہرست مرتب کرنے بیٹھا تو اس کو سرفہرست رکھنے کے لئے پیغمبر اسلامﷺ کی ذات باکمال صفات کے سوا کوئی اور ہستی نظر نہ آئی۔ یہودیت و عیسائیت کی انسانیت سوز تعلیمات و اَحکام کے بالمقابل جب لوگ اسلام کی انسانیت نواز تعلیمات وروایات اور پیغمبر اسلام کے لاثانی حسن اخلاق و حسن کردار کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے بغیر نہیں رہتے جس سے اہل مغرب بری طرح تاؤ پیچ کھاتے ہیں اور وہ تہیہ کرچکے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسلامی احکام و تعلیم کو مسخ کرکے پیش کیا جائے تاکہ لوگ اسلام کی طرف التفات نہ کریں۔اس مقصد کے لئے وہ کبھی توہین آمیز خاکے شائع کرتے ہیں اور کبھی قرآن اور پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز فلمیں ریلیز کرتے ہیں، لیکن اس طرح کے اُوچھے ہتھکنڈوں سے نہ اسلام کی اشاعت پہلے رُکی ہے نہ اَب رکے گی۔ ان شاء اللہ
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
ان نازک حالات میں اُمت مسلمہ کی ذمہ داری
یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ مغرب اس قسم کی حرکتوں سے جلدباز آنے والا نہیں۔اس کے اسلام سے متعلق منفی کاموں کے شعبوں کی جڑیں کئی صدیوں کی کاوشوں میں پنہاں ہیں، جبکہ دوسری جانب مسلم ممالک کا حال عجیب ہے انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مغرب کے اس شیطانی طرز عمل کا کس طرح جواب دیا جائے۔ اگر مغرب علم کے راستے حملہ آور ہوا ہے تو اس کا جواب بھی علم کے راستے ہی سے دینا ہوگا نہ کہ سڑکوں پر توڑ پھوڑ سے۔ مغرب کی تو منشا ہی یہ ہے کہ مسلمانوں کی توجہ کو بنیادی مسائل سے ہٹا کر انہیں اس قسم کے ردِعمل میں مبتلا کردیا جائے۔ دورِ استعماریت میں مغرب نے سب سے زیادہ وسائل یونیورسٹیوں اور لائبریریوں پر صرف کئے۔چرچل نے خوب کہا تھا:
’’ ہم نے اپنی جدید فوج کے ذریعے سے نہیں بلکہ اپنی لائبریریوں کے ذریعے سے دنیا پر حکومت کی ہے۔‘‘
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
افسوس کہ ہم آج تک قیام پاکستان کے اصل مقاصد اپنی نسلوں تک نہ پہنچا سکے۔ پاکستان بنانے والوں نے اسے ایک فکری اور نظریاتی ریاست کے طور پربڑی تجربہ گاہ سمجھ کر حاصل کیا تھا، ایک نظریاتی ملک کی اَساس کیا ہوتی ہے؟ یہاں پر لائبریریاں ہوتیں، انگریز سے آزادی حاصل کی تھی اس کے سیاسی اور فکری حربوں کو جاننے کے لئے یہاں یونیورسٹیوں میں شعبے قائم کئے جاتے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کی ذات گرامی پر حملہ کرنے والے مستشرقین کا جواب دینے کے لئے یہاں استشراقی شعبے تشکیل دیئے جاتے۔ افسوس کہ ان میں سے کچھ بھی یہاں نہیں۔ اگر ہم ناموس رسالت کے تحفظ میں مخلص ہیں تو ہمیں اپنے عمل سے فرامین نبویہ کے تقدس پر اس طرح مہر تصدیق ثبت کرنا ہوگی کہ آپ کے مقدس فرامین ہمارے لئے عمل کی سب سے قوی بنیاد قرار پاجائیں اور بذاتِ خود ہماری کسی بدعملی اور کوتاہی سے اِہانت رسولﷺ کا کوئی عملی شائبہ بھی پیدا نہ ہوسکے۔ اہانت رسول کا مقصد دنیا کو پیغام رسالت سے برگشتہ کرنا اور اسلام کو کمزور کرنا ہے، جبکہ اِسلام پروالہانہ عمل گستاخی کا اِرتکاب کرنے والوں کے مقاصد کو خاک میں ملا دے گا۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
مسلم حکمرانوں کی بے بسی
توہین رسالت کا مسئلہ جس قدر سنگین اور لائق مذمت تھا، اسی قدر مسلم حکمرانوں نے بے بسی اور بے توجہی کا مظاہرہ کیا جیسے یہ ان کاایشو ہی نہیں۔ ۵۸؍ اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے ماسوائے سوڈان اور سعودی عرب کے پرلے درجے کی بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ سوڈان کے صدر عمر البشیرنے ڈنمارک کے خلاف مظاہرے کی قیادت کی، ڈنمارک کے وفود کوملک میں داخل نہ ہونے دینے کا اعلان کیا اور پورے عالم اسلام سے ڈینش منصوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔ سعودی عرب نے ۲۰۰۶ء میں ڈنمارک سے اپنا سفیرواپس بلالیاتھا جبکہ سعودی عرب اس کوشش میں ہے کہ اقوام متحدہ سے ایسا قانون بنوایا جائے کہ دنیا کے کسی ملک میں رسول کریمﷺ کی گستاخی نہ ہوسکے۔
 
Top