• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ملازمت نہیں، تجارت اختیار کرو؛ تجارت ملازمت سے بہتر ہے : شیخ صالح الفوزان کی نوجوانوں کو رہنمائی

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
834
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
ملازمت نہیں، تجارت اختیار کرو؛ تجارت ملازمت سے بہتر ہے : شیخ صالح الفوزان کی نوجوانوں کو رہنمائی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں:

أما ما عليه كثير من الشباب اليوم أنه لازم وظيفة ولا ما يشتغل، لازم وظيفة ولا ما هو طالب للرزق، يجلس معطل للأسباب فيضيع من يمونه لأنه ما حصلت له وظيفة؛ هذا غلط.

آج کل بہت سے نوجوانوں کا یہ حال ہے کہ اگر انہیں باقاعدہ ملازمت نہ ملے تو وہ کوئی کام ہی نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ روزی حاصل کرنے کا واحد راستہ ملازمت ہے، لہٰذا اگر ملازمت نہ ملے تو روزگار کی تلاش بھی چھوڑ دیتے ہیں اور اسباب اختیار کیے بغیر بیٹھے رہتے ہیں۔ نتیجتا وہ خود بھی نقصان اٹھاتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی پریشانی میں ڈال دیتے ہیں جن کی کفالت ان کے ذمہ ہوتی ہے۔ یہ طرز عمل غلط ہے۔

إذا ما حصلت لك وظيفة فاطلب الرزق بغير الوظيفة، بل طلب الرزق بغير الوظيفة أحسن بعد لأن الوظيفة وحدها ولا رأينا واحدا سدد بالوظيفة يا الله يا الله تكافيه هو وعياله، لكن اللي يبيع ويشتري يشتغل الغالب أنه يثري، يحصل على ثروة.

اگر تمہیں ملازمت نہ ملے تو کسی اور طریقے سے رزق تلاش کرو۔ بلکہ کئی اوقات میں ملازمت کے علاوہ ذرائع سے رزق حاصل کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ ہم نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو صرف ملازمت کے ذریعے اتنی آمدنی حاصل کر لے کہ وہ خود اور اس کے بچوں کی تمام ضروریات بآسانی پوری ہو جائیں، جبکہ جو لوگ تجارت اور خرید و فروخت میں مشغول ہوتے ہیں، عموما وہ خوشحال ہو جاتے ہیں اور مال و دولت حاصل کر لیتے ہیں۔

نحن نوجه الشباب بأنهم ما يقتصرون على الوظيفة بل يطلبون الرزق، الوظيفة آخر شيء، يطلبون الرزق بالبيع والشراء، يطلبون الرزق بالعمل والاحتراف، يطلبون الرزق بأي وسيلة من الوسائل الكثيرة وأبواب الرزق كثيرة والله الحمد ومنها ما بين أيدينا الآن وهو البيع والشراء.

ہم نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ صرف ملازمت پر اکتفا نہ کریں بلکہ رزق کے دیگر راستے بھی اختیار کریں۔ ملازمت کو آخری ترجیح بنائیں۔ خرید و فروخت کے ذریعے رزق تلاش کریں، محنت و مزدوری اور مختلف ہنر و پیشوں کے ذریعے روزی کمائیں اور ان بے شمار جائز ذرائع سے فائدہ اٹھائیں جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے کھول رکھے ہیں۔ ان ذرائع میں تجارت بھی شامل ہے جو ہمارے سامنے موجود ہے۔

ولو أن هذا الشاب اشتغل بالبيع والشراء شيئًا فشيئًا كان خيرا له من الوظيفة، فيبدأ الإنسان بالبيع والشراء شيئًا فشيئًا ويتنامى ويكثر حتى يصبح من الأثرياء خير من الموظفين.

اگر کوئی نوجوان آہستہ آہستہ تجارت شروع کرے تو یہ اس کے لیے ملازمت سے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ انسان تھوڑے سے کاروبار سے آغاز کرتا ہے، پھر اس کا کاروبار بڑھتا اور ترقی کرتا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ مالدار لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ بسا اوقات ایک کامیاب تاجر ملازمین سے کہیں بہتر حالت میں ہوتا ہے۔

خير من الوزراء، التاجر خير من الوزير، التاجر عنده أمواله عنده ثروة، الوزير المسكين ما عنده شيء إلا الوظيفة، مع أن رتبته في الوظائف مثل الوزير لكن اللي يشتغل خير منه وأكثر ثروة.

بلکہ بعض اوقات ایک تاجر وزراء سے بھی بہتر حالت میں ہوتا ہے۔ تاجر وزیر سے بہتر ہے، کیونکہ تاجر کے پاس اپنی دولت اور سرمایہ ہوتا ہے، جبکہ وزیر کے پاس اکثر اس کی ملازمت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ اگرچہ وزیر کا منصب بلند ہوتا ہے، لیکن جو شخص آزاد کاروبار کرتا ہے وہ بعض اوقات اس سے زیادہ مالدار اور خوشحال ہو جاتا ہے۔

فنحن نوجه الشباب بأنهم يطلبون الرزق من وجوهه، حتى أن النبي صلى الله عليه وسلم وجه إلى الاحتشاد والاحتطاب من الجبال وحمل الحطب وبيعه، وجه بهذا عليه الصلاة والسلام.

لہٰذا ہم نوجوانوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ رزق کے مختلف جائز ذرائع اختیار کریں۔ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی لوگوں کو ترغیب دی کہ اگر ضرورت ہو تو پہاڑوں سے لکڑیاں کاٹ کر لائیں، انہیں اپنے کندھوں پر اٹھائیں اور فروخت کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محنت والے کام کی بھی حوصلہ افزائی فرمائی۔

نبي الله داوود عليه السلام كان ملكا نبيا، ملك نبي جمع الله له بين الملك والنبوة ومع هذا ما كان يأكل من بيت المال الذي عنده، وإنما يشتغل بيده ويأكل من كسب يده عليه الصلاة والسلام، كان يصنع الدروع من الحديد ويبيعها ويأكل من ثمنها وهو نبي الله عليه الصلاة والسلام.

اسی طرح اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام بادشاہ بھی تھے اور نبی بھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت اور بادشاہت دونوں عظیم نعمتیں عطا فرمائی تھیں، لیکن اس کے باوجود وہ بیت المال سے کھانا نہیں کھاتے تھے بلکہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے روزی حاصل کرتے تھے۔ وہ لوہے کی زرہیں بناتے، انہیں فروخت کرتے اور ان کی قیمت سے اپنی ضروریات پوری کرتے تھے۔

فوجوه الرزق ولله الحمد كثيرة ومفتوحة، ولكن على الإنسان أن يتقي الله، ومن يتق الله يجعل له مخرجا ويرزقه من حيث لا يحتسب، ومن يتوكل على الله فهو حسبه، إن الله بالغ أمره، قد جعل الله لكل شيء قدرا.

پس اللہ کا شکر ہے کہ رزق کے راستے بہت زیادہ اور کھلے ہوئے ہیں۔ البتہ انسان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دے گا، اور اسے وہاں سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔ اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔ بے شک اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے، اور اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔"

اطلب الرزق وتوكل على الله واتق ربك؛ فإن الله وعد أن من يتقه فإن الله يرزقه من حيث لا يحتسب، والتقوى لا شك أنها من أعظم الأسباب لطلب الرزق، تقوى الله أعظم الأسباب لطلب الرزق.

لہٰذا رزق تلاش کرو، اللہ پر توکل کرو اور اپنے رب سے ڈرتے رہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو اس سے ڈرے گا، اسے وہ ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے توقع بھی نہ ہوگی۔ بلاشبہ تقویٰ رزق کے حصول کے عظیم ترین اسباب میں سے ایک ہے، بلکہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا رزق حاصل کرنے کے سب سے بڑے اور مؤثر اسباب میں شمار ہوتا ہے۔



شیخ صالح الفوزان کے اس قیمتی کلام سے بہت سے اہم فوائد حاصل ہوتے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

١ - تجارت اور کاروبار ملازمت سے زیادہ وسیع اور بابرکت ذریعۂ رزق ہے۔

شیخ نے واضح فرمایا کہ صرف ملازمت کے پیچھے دوڑنا درست نہیں، بلکہ تجارت اور آزاد کاروبار انسان کو زیادہ وسعت، ترقی اور مالی خودمختاری عطا کرتے ہیں۔ ملازم کی آمدنی عموما ایک مقررہ حد تک محدود رہتی ہے، جبکہ تاجر کے لیے ترقی اور وسعت کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔

٢ - کامیاب تاجر مالی اعتبار سے اکثر ملازمین بلکہ بڑے عہدے داروں سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔

شیخ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ ایک تاجر بتدریج ترقی کرتے کرتے بڑی دولت کا مالک بن سکتا ہے، جبکہ ملازم خواہ کتنے ہی بلند منصب پر کیوں نہ پہنچ جائے، اس کی آمدنی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھتی۔ اسی لیے تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے سرمایہ دار، صنعت کار اور مالدار لوگ تجارت ہی کے میدان سے ابھرے ہیں، نہ کہ صرف تنخواہ دار ملازمتوں سے۔

٣ - ملازمت پر کلی اعتماد کرنا کمزوری اور محدود سوچ کی علامت ہے۔

بعض نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر سرکاری یا نجی ملازمت نہ ملے تو رزق کے تمام دروازے بند ہو گئے، حالانکہ یہ تصور غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رزق کے بے شمار اسباب پیدا فرمائے ہیں اور تجارت ان میں سے سب سے نمایاں اسباب میں سے ہے۔

٤ - انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت محنت، کسب اور تجارت سے قریب تر ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرنے جیسے معمولی کام کو بھی پسند فرمایا اور سوال کرنے سے بہتر قرار دیا۔ اسی طرح داؤد علیہ السلام بادشاہ اور نبی ہونے کے باوجود اپنے ہاتھ کی کمائی سے روزی حاصل کرتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ محنت، ہنر اور کسب معاش انبیاء کی سنت ہے۔

٥ - مسلم نوجوانوں کو تجارت کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

آج امت مسلمہ کی بڑی کمزوریوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے اکثر نوجوان صرف ملازمت کے حصول کو کامیابی سمجھتے ہیں، جبکہ تجارت، صنعت، سرمایہ کاری اور کاروباری میدان دوسروں کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔ اگر مسلمان نوجوان تجارت کی طرف متوجہ ہوں تو وہ نہ صرف خود خوشحال ہوں گے بلکہ امت کی معاشی قوت میں بھی اضافہ ہوگا۔

٦ - ملازمت کو مقصد حیات نہیں بلکہ آخری اختیار سمجھنا چاہیے۔

شیخ صالح الفوزان کی نصیحت کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان نوجوان پہلے تجارت، ہنر، صنعت، خرید و فروخت اور دیگر جائز ذرائع معاش پر غور کریں، اور اگر مناسب موقع نہ ملے تو ملازمت اختیار کریں۔ یعنی ملازمت اصل نہیں بلکہ ایک ممکنہ راستہ ہے، جبکہ رزق کے میدان اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔

٧ - تاجر مالک ہوتا ہے، ملازم تابع ہوتا ہے۔

ملازم اپنے ادارے کے فیصلوں کا پابند ہوتا ہے، جبکہ تاجر اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔ اسی لیے تجارت انسان میں قیادت، خود اعتمادی اور انتظامی صلاحیتیں پیدا کرتی ہے۔

٨ - تجارت عزت نفس اور خود کفالت کو بڑھاتی ہے۔

جو شخص اپنا کاروبار قائم کرتا ہے وہ دوسروں کے فیصلوں اور ملازمت کے عدم استحکام سے نسبتا کم متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے تجارت معاشی خودمختاری کا اہم ذریعہ ہے۔

٩ - تجارت میں دوسروں کے لیے بھی روزگار پیدا ہوتا ہے۔

ایک ملازم عموما صرف اپنے لیے روزی کماتا ہے، جبکہ کامیاب تاجر آگے چل کر دوسروں کو بھی روزگار مہیا کرتا ہے۔ یوں اس کا فائدہ پورے معاشرے تک پہنچتا ہے۔

١٠ - تقویٰ رزق کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے۔

صرف اسباب اختیار کرنا کافی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، اس پر توکل کرنا اور اس کی اطاعت اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسلمان نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ صرف نوکریوں کے انتظار میں اپنی زندگیاں ضائع نہ کریں، بلکہ تجارت، کاروبار، صنعت، ہنر اور آزاد معاشی سرگرمیوں کو ترجیح دیں۔ تجارت انسان کو مالی خودمختاری، ترقی، وسعت رزق اور معاشی قوت عطا کرتی ہے، جبکہ ملازمت اکثر اوقات محدود آمدنی تک ہی رہتی ہے۔ اسی لیے سلف صالحین، اہل علم اور اہل بصیرت ہمیشہ نوجوانوں کو تجارت اور کسب حلال کی طرف رغبت دلاتے رہے ہیں۔ جو قوم تجارت اور معیشت پر قابض ہو جاتی ہے، وہی معاشی اعتبار سے مضبوط اور بااثر بنتی ہے۔ لہٰذا مسلم نوجوانوں کو تجارت کے میدان میں آگے بڑھنا چاہیے اور امت کی معاشی قوت کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
 
Top