فرشتوں کے پر بچھانے سے متعلق ایک حدیث ترمذی میں ہے چنانچہ:
امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279)نے کہا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ القُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طُوبَى لِلشَّامِ»، فَقُلْنَا: لِأَيٍّ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لِأَنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا»
صحابی رسول زید بن ثابت سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے چمڑے کے ٹکڑوں سے قران جمع کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شام کیلئے بھلائی ہے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس وجہ سے۔ اس لئے کہ رحمن کے فرشتے ان پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔
[سنن الترمذي ت شاكر 5/ 734]۔
یہ حدیث صحیح ہے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔