• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ملک شام پر فرشتوں کا پر بچھانا

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
السلام علیکم
کیا یہ بات کسی حدیث سے ثابت ہے کہ ملک شام پر فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں اور اس ملک میں خرابی ہوئی تو پوری دنیا میں خرابی پیدا ہو گی؟
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
فرشتوں کے پر بچھانے سے متعلق ایک حدیث ترمذی میں ہے چنانچہ:

امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279)نے کہا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ القُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طُوبَى لِلشَّامِ»، فَقُلْنَا: لِأَيٍّ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لِأَنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا»
صحابی رسول زید بن ثابت سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے چمڑے کے ٹکڑوں سے قران جمع کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شام کیلئے بھلائی ہے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس وجہ سے۔ اس لئے کہ رحمن کے فرشتے ان پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔
[سنن الترمذي ت شاكر 5/ 734]۔

یہ حدیث صحیح ہے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
اور اہل شام میں فساد کے اثرات سے متعلق حدیث بھی ترمذی ہیں میں ہے چنانچہ:

امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279)نے کہا:
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ، لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ»
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب اہل شام میں خرابی پیدا ہوگئی تو تم میں کوئی خیر و بھلائی نہ ہوگی میری امت میں سے ایک گروہ ایسا ہے جس کی ہمیشہ مدد و نصرت ہوتی رہے گی اور کسی کا ان کی مدد نہ کرنا انہیں نقصان نہیں پہنچائے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو [سنن الترمذي ت شاكر 4/ 485]۔

یہ حدیث بھی صحیح ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے دیکھئے سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها 1/ 760 رقم ۔403
لیکن اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اہل شام خراب ہوئے تو پوری دنیا خراب ہوجائے گی بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اہل شام خراب ہوئے تو شام کی افادیت و فضیلت تم سے چھن جائے گی۔
 
Top