و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
"من عمل بما علم ورثہ اللہ علم ما لم یعلم"
ترجمہ : جو موجودہ علم پر عمل کرتا ہے ، اللہ تعالی اس کو مزید علم عطا کرتےہیں ۔
اس روایت کو امام ابو نعیم الاصبہانی نے حلیۃ الاولیاء و طبقات الأصفیاء ( ج 10 ص 15 ) پر ذکر کیا ہے ، اور اس کے ضعف کی وضاحت فرمائی ہے ۔
ان کے علاوہ بھی درج ذیل اہل علم نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے :
علامہ تاج الدین سبکی نے طبقات الشافعیۃ ( ج6 ص 290 ) میں ۔ ( فرماتے ہیں مجھے اس کی کوئی سند نہیں ملی )
حافظ عراقی نے تخریج أحادیث الإحیاء (ص 85) میں ۔
علامہ شوکانی نے الفوائد المجموعۃ ( ص 286 ) میں ۔
علامہ البانی نے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الایمان ( ص 123 ) کی تحقیق میں صرف ضعیف کہنے پر اکتفا کیا ، لیکن سلسلۃ الضعیفۃ (ج1 ص 611 ح 422) میں اس کو موضوع ( من گھڑت ) قرار دیا ہے ۔
گو اس روایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت تو ثابت نہیں ، لیکن اس روایت کا معنی درست ہے ، اس کے قریب قریب معانی پر مشتمل اقوال کئی اہل علم سے ملتے ہیں مثلا
عبد الواحد بن زیاد رحمہ اللہ سے مروی ہے :
’’ مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ فَتَحَ اللهُ لَهُ مَا لَا يَعْلَمُ ‘‘ ( حلیۃ الأولیاء ( ج6 ص 163 ) ، معجم ابن المقرئ ( ص 121 )
ترجمہ : جو موجود علم پر عمل کرتا ہے ، اللہ تعالی اس کے علم کے مزید دروازے کھول دیتے ہیں ۔
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے مروی ہے :
«أَجْهَلُ النَّاسِ مَنْ تَرَكَ مَا يَعْلَمُ، وَأَعْلَمُ النَّاسِ مَنْ عَمِلَ بِمَا يَعْلَمُ، وَأَفْضَلُ النَّاسِ أَخْشَعَهُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» ( سنن الدارمی ج 1 ص 355 ح 342 )
ترجمہ : جو علم پر عمل نہیں کرتا سب سے بڑا جاہل ہے ، اور جو علم پر عمل کرتا ہے ، سب سے بڑا عالم ہے ، لوگوں میں سب سے افضل وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہے ۔