• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

من عمل بما علم ورثہ اللہ علم ما لم یعلم

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم شیخ @خضر حیات صاحب!
آج ایک کتاب پڑھ رہا تھا اس میں ایک روایت بغیر حوالے کے درج تھی اس کی تخریج درکار ہے۔
"من عمل بما علم ورثہ اللہ علم ما لم یعلم"
شیخ صاحب! آپ کو زحمت اس لیے دی کہ محترم اسحاق سلفی بھائی کچھ نجی مصروفیات کے باعث فورم سے کچھ دن غیر حاضر ہونے کا عندیہ دے چکے ہیں۔۔۔ابتسامہ!
جزاکم اللہ خیرا!
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
"من عمل بما علم ورثہ اللہ علم ما لم یعلم"
ترجمہ : جو موجودہ علم پر عمل کرتا ہے ، اللہ تعالی اس کو مزید علم عطا کرتےہیں ۔
اس روایت کو امام ابو نعیم الاصبہانی نے حلیۃ الاولیاء و طبقات الأصفیاء ( ج 10 ص 15 ) پر ذکر کیا ہے ، اور اس کے ضعف کی وضاحت فرمائی ہے ۔
ان کے علاوہ بھی درج ذیل اہل علم نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے :
علامہ تاج الدین سبکی نے طبقات الشافعیۃ ( ج6 ص 290 ) میں ۔ ( فرماتے ہیں مجھے اس کی کوئی سند نہیں ملی )
حافظ عراقی نے تخریج أحادیث الإحیاء (ص 85) میں ۔
علامہ شوکانی نے الفوائد المجموعۃ ( ص 286 ) میں ۔
علامہ البانی نے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الایمان ( ص 123 ) کی تحقیق میں صرف ضعیف کہنے پر اکتفا کیا ، لیکن سلسلۃ الضعیفۃ (ج1 ص 611 ح 422) میں اس کو موضوع ( من گھڑت ) قرار دیا ہے ۔
گو اس روایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت تو ثابت نہیں ، لیکن اس روایت کا معنی درست ہے ، اس کے قریب قریب معانی پر مشتمل اقوال کئی اہل علم سے ملتے ہیں مثلا
عبد الواحد بن زیاد رحمہ اللہ سے مروی ہے : ’’ مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ فَتَحَ اللهُ لَهُ مَا لَا يَعْلَمُ ‘‘ ( حلیۃ الأولیاء ( ج6 ص 163 ) ، معجم ابن المقرئ ( ص 121 )
ترجمہ : جو موجود علم پر عمل کرتا ہے ، اللہ تعالی اس کے علم کے مزید دروازے کھول دیتے ہیں ۔
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے مروی ہے : «أَجْهَلُ النَّاسِ مَنْ تَرَكَ مَا يَعْلَمُ، وَأَعْلَمُ النَّاسِ مَنْ عَمِلَ بِمَا يَعْلَمُ، وَأَفْضَلُ النَّاسِ أَخْشَعَهُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» ( سنن الدارمی ج 1 ص 355 ح 342 )
ترجمہ : جو علم پر عمل نہیں کرتا سب سے بڑا جاہل ہے ، اور جو علم پر عمل کرتا ہے ، سب سے بڑا عالم ہے ، لوگوں میں سب سے افضل وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہے ۔
 
Top