بخاری سید
رکن
- شمولیت
- مارچ 03، 2013
- پیغامات
- 255
- ری ایکشن اسکور
- 470
- پوائنٹ
- 77
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں محدث فورم میں بالکل نیا ہوں اورفورم کو استعمال کرنے کے طریقہ کار سے بھی آشنا نہیں ہوں ا س لیے امید ہی میرے اس طرح موضوع شروع کرنے پر درگزر اختیار کیا جاے گا۔ اصل میں محدث فتوی میں ایک فتوی کو پڑھتے ہوے ایک حدیث پر نظر پڑی جو کہ فتوی میں تو بطور حدیث درج ہے لیکن میری ناقص عقل کے مطابق شاید کسی جگہ میں اس کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے طور پر پڑھ چُکا ہوں۔
فتوی میں حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی عورتوں کو سورہ نور کی تعلیم کی خصوصی ”ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ’’ علمو انساءكم سورة النور ‘‘ اپنی عورتوں کو سورة نور کی تعلیم دو۔
فتوی اس لنک پر دستیاب ہے۔
/http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/2402/9
جب کہ جو تحریر میں نے پڑھی ہوئی ہے اُس میں الفاظ یہ ہیں۔۔
حضرت عمر بن خطاب نے اپنی مملکت کے تمام اطراف میں یہ فرمان جاری کردیا تھا :
«علِّموا نساوٴکم سورة النور...» ( الدر المنثور:۵/۱۸)
" اپنی خواتین کو سورة النور ضرور سکھاوٴ کہ اس میں خانگی زندگی اور معاشرتی زندگی کے متعلق بے شمار مسائل واَحکام موجود ہیں۔"
اب یہ قول ہے یا حدیث اس ضمن میں آپ سے گذارش ہے کہ میری اصلاح فرما دیں۔ جزاک اللہ
فتوی میں حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی عورتوں کو سورہ نور کی تعلیم کی خصوصی ”ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ’’ علمو انساءكم سورة النور ‘‘ اپنی عورتوں کو سورة نور کی تعلیم دو۔
فتوی اس لنک پر دستیاب ہے۔
/http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/2402/9
جب کہ جو تحریر میں نے پڑھی ہوئی ہے اُس میں الفاظ یہ ہیں۔۔
حضرت عمر بن خطاب نے اپنی مملکت کے تمام اطراف میں یہ فرمان جاری کردیا تھا :
«علِّموا نساوٴکم سورة النور...» ( الدر المنثور:۵/۱۸)
" اپنی خواتین کو سورة النور ضرور سکھاوٴ کہ اس میں خانگی زندگی اور معاشرتی زندگی کے متعلق بے شمار مسائل واَحکام موجود ہیں۔"
اب یہ قول ہے یا حدیث اس ضمن میں آپ سے گذارش ہے کہ میری اصلاح فرما دیں۔ جزاک اللہ