- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
نئے معاشرے کی تشکیل
ہم بیا ن کر چکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینے میں بنو النجار کے یہاں جمعہ ۱۲ ربیع الاول ۱ ھ مطابق ۲۷ ستمبر ۶۲۲ء کو حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مکان کے سامنے نزول فرمایا تھا اور اسی وقت فرمایا تھا کہ ان شاء اللہ یہیں منزل ہو گی۔ پھر آپ ﷺ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر منتقل ہو گئے تھے۔
مسجد نبوی کی تعمیر:
اس کے بعد نبی ﷺ کا پہلا قدم یہ تھا کہ آپ ﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر شروع کی اور اس کے لیے وہی جگہ منتخب کی جہاں آپ ﷺ کی اونٹنی بیٹھی تھی۔ اس زمین کے مالک دو یتیم بچے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے یہ زمین قیمتاً خریدی اور بنفس نفیس مسجد کی تعمیر میں شریک ہو گئے۔ آپ ﷺ اینٹ اور پتھر ڈھوتے تھے اور ساتھ ہی فرماتے جاتے تھے :
اللہم لا عیش إلا عیش الآخرۃ
فاغفر للأنصار والمہاجرۃ
''اے اللہ زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے پس انصار و مہاجرین کو بخش دے۔''
یہ بھی فرماتے :
ہذا الحمال لا حمال خیبر
ہـذا أبـر ربنــا وأطہـر
''یہ بوجھ خیبر کا بوجھ نہیں ہے۔ یہ ہمارے پروردگار کی قسم زیادہ نیک اور پاکیزہ ہے۔''
آپ ﷺ کے اس طرزِ عمل سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جوش و خروش اور سرگرمی میں بڑا اضافہ ہو جاتا تھا، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے تھے :
لئن قعدنا والنبی یعمل
لذاک منا العمل المضلل
''اگر ہم بیٹھے رہیں اور نبی ﷺ کام کریں تو ہمارا یہ کام گمراہی کا کام ہو گا۔''
اس زمین میں مشرکین کی چند قبریں بھی تھیں، کچھ ویرانہ بھی تھا۔ کھجور اور غَرْقَد کے چند درخت بھی تھے۔ رسول الل ہﷺ نے مشرکین کی قبریں اکھڑوا دیں، ویرانہ برباد کرا دیا، اور کھجوروں اور درختوں کو کاٹ کر قبلے کی جانب لگا دیا۔ ...اس وقت قبلہ بیت المقدس تھا...دروازے کے بازو کے دونوں پائے پتھر کے بنائے گئے۔ دیواریں کچی اینٹ اور گارے سے بنائی گئیں۔ چھت پر کھجور کی شاخیں اور پتے ڈلوا دیئے گئے اور کھجور کے تنوں کے کھمبے بنا دیے گئے۔ زمین پر ریت اور چھوٹی چھوٹی کنکریاں (چھریاں) بچھا دی گئیں۔ تین دروازے لگائے گئے۔ قبلے کی دیوار سے پچھلی دیوار تک ایک سو ہاتھ لمبائی تھی۔ چوڑائی بھی اتنی یا اس سے کچھ کم تھی۔ بنیاد تقریباً تین ہاتھ گہری تھی۔