• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم نئے معاشرے کی تشکیل

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نئے معاشرے کی تشکیل

ہم بیا ن کر چکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینے میں بنو النجار کے یہاں جمعہ ۱۲ ربیع الاول ۱ ھ مطابق ۲۷ ستمبر ۶۲۲ء کو حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مکان کے سامنے نزول فرمایا تھا اور اسی وقت فرمایا تھا کہ ان شاء اللہ یہیں منزل ہو گی۔ پھر آپ ﷺ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر منتقل ہو گئے تھے۔
مسجد نبوی کی تعمیر:
اس کے بعد نبی ﷺ کا پہلا قدم یہ تھا کہ آپ ﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر شروع کی اور اس کے لیے وہی جگہ منتخب کی جہاں آپ ﷺ کی اونٹنی بیٹھی تھی۔ اس زمین کے مالک دو یتیم بچے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے یہ زمین قیمتاً خریدی اور بنفس نفیس مسجد کی تعمیر میں شریک ہو گئے۔ آپ ﷺ اینٹ اور پتھر ڈھوتے تھے اور ساتھ ہی فرماتے جاتے تھے :
اللہم لا عیش إلا عیش الآخرۃ
فاغفر للأنصار والمہاجرۃ
''اے اللہ زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے پس انصار و مہاجرین کو بخش دے۔''
یہ بھی فرماتے :
ہذا الحمال لا حمال خیبر
ہـذا أبـر ربنــا وأطہـر
''یہ بوجھ خیبر کا بوجھ نہیں ہے۔ یہ ہمارے پروردگار کی قسم زیادہ نیک اور پاکیزہ ہے۔''
آپ ﷺ کے اس طرزِ عمل سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جوش و خروش اور سرگرمی میں بڑا اضافہ ہو جاتا تھا، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے تھے :
لئن قعدنا والنبی یعمل
لذاک منا العمل المضلل
''اگر ہم بیٹھے رہیں اور نبی ﷺ کام کریں تو ہمارا یہ کام گمراہی کا کام ہو گا۔''
اس زمین میں مشرکین کی چند قبریں بھی تھیں، کچھ ویرانہ بھی تھا۔ کھجور اور غَرْقَد کے چند درخت بھی تھے۔ رسول الل ہﷺ نے مشرکین کی قبریں اکھڑوا دیں، ویرانہ برباد کرا دیا، اور کھجوروں اور درختوں کو کاٹ کر قبلے کی جانب لگا دیا۔ ...اس وقت قبلہ بیت المقدس تھا...دروازے کے بازو کے دونوں پائے پتھر کے بنائے گئے۔ دیواریں کچی اینٹ اور گارے سے بنائی گئیں۔ چھت پر کھجور کی شاخیں اور پتے ڈلوا دیئے گئے اور کھجور کے تنوں کے کھمبے بنا دیے گئے۔ زمین پر ریت اور چھوٹی چھوٹی کنکریاں (چھریاں) بچھا دی گئیں۔ تین دروازے لگائے گئے۔ قبلے کی دیوار سے پچھلی دیوار تک ایک سو ہاتھ لمبائی تھی۔ چوڑائی بھی اتنی یا اس سے کچھ کم تھی۔ بنیاد تقریباً تین ہاتھ گہری تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
آپ ﷺ نے مسجد کے بازو میں چند مکانات بھی تعمیر کیے جن کی دیواریں کچی اینٹ کی تھیں اور چھتیں کھجور کے تنوں کی کڑیاں دے کر کھجور کی شاخ اور پتوں سے بنائی گئی تھی۔ یہی آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کے حجرے تھے۔ ان حجروں کی تعمیر مکمل ہو جانے کے بعد آپ ﷺ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مکان سے یہیں منتقل ہو گئے۔ (صحیح بخاری ۱ /۷۱، ۵۵۵، ۵۶۰ - زاد المعاد ۲/۵۶)
مسجد محض ادائے نماز ہی کے لیے نہ تھی بلکہ یہ ایک یونیورسٹی تھی جس میں مسلمان اسلامی تعلیمات و ہدایات کا درس حاصل کرتے تھے اور ایک محفل تھی جس میں مدتوں جاہلی کشاکش و نفرت اور باہمی لڑائیوں سے دوچار رہنے والے قبائل کے افراد اب میل محبت سے مل جل رہے تھے۔ نیز یہ ایک مرکز تھا جہاں سے اس ننھی سی ریاست کا سارانظام چلایا جاتا تھا اور مختلف قسم کی مہمیں بھیجی جاتی تھیں۔ علاوہ ازیں اس کی حیثیت ایک پارلیمنٹ کی بھی تھی جس میں مجلسِ شوریٰ اور مجلس انتظامیہ کے اجلاس منعقد ہوا کرتے تھے۔
ان سب کے ساتھ ساتھ یہ مسجد ہی ان فقراء مہاجرین کی ایک خاصی بڑی تعداد کا مسکن تھی جن کا وہاں پر نہ کوئی مکان تھا نہ مال اور نہ اہل و عیال۔
پھر اوائل ہجرت ہی میں اذان بھی شروع ہوئی۔ یہ ایک لاہوتی نغمہ تھا جو روزانہ پانچ بار اُفق میں گونجتا تھا اور جس سے پورا عالمِ وجود لرز اٹھتا تھا۔ یہ روزانہ پانچ مرتبہ اعلان کرتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی ہستی لائق عبادت نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے پیغامبر ہیں۔ یہ اللہ کی کبریائی کو چھوڑ کر ہر کبریائی کی نفی کرتا تھا اور اس کے بندے محمد رسول اللہ کے لائے ہوئے دین کو چھوڑ کر اس وجود سے ہر دین کی نفی کرتا تھا۔ اسے خواب میں دیکھنے کا شرف ایک صحابی حضرت عبد اللہ بن زید بن عبدربہؓ کو حاصل ہوا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے برقرار رکھا اور یہی خواب حضرت عمر بن خطابؓ نے بھی دیکھا۔ (ترمذی ، صلاۃ ، بدء الاذان ح ۱۸۹ (۱/۳۵۸، ۳۵۹ ) ابو داؤد، احمد وغیرہ۔) (تفصیل جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، مسند احمد اور صحیح ابنِ خزیمہ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مسلمانوں میں بھائی چارگی:
جس طرح رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر کا اہتمام فرما کر باہمی اجتماع اور میل و محبت کے ایک مرکز کو وجود بخشا اسی طرح آپ ﷺ نے تاریخ انسانی کا ایک اور نہایت تابناک کارنامہ انجام دیا جسے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات اور بھائی چارے کے عمل کا نام دیا جاتا ہے۔ ابن قیم لکھتے ہیں :
پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس بن مالکؓ کے مکان میں مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ کرایا۔ کل نوے آدمی تھے، آدھے مہاجرین اور آدھے انصار۔ بھائی چارے کی بنیاد یہ تھی کہ یہ ایک دوسرے کے غمخوار ہوں گے اور موت کے بعد نسبتی قرابتداروں کے بجائے یہی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ وراثت کا یہ حکم جنگ بدر تک قائم رہا، پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ :
وَأُولُو الْأَرْ‌حَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِ‌ينَ (۳۳: ۶)
''نسبتی قرابتدار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔'' (یعنی وراثت میں)
تو انصار و مہاجرین میں باہمی توارُث کا حکم ختم کر دیا گیا لیکن بھائی چارے کا عہد باقی رہا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے ایک اور بھائی چارہ کرایا تھا جو خود باہم مہاجرین کے درمیان تھا لیکن پہلی بات ہی ثابت ہے۔ یوں بھی مہاجرین اپنی باہمی اسلامی اخوت، وطنی اخوت اور رشتہ و قرابتداری کی اخوت کی بنا پر آپس میں اب مزید کسی بھائی چارے کے محتاج نہ تھے جبکہ مہاجرین اور انصار کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ (زاد المعاد ۲/۵۶۔)
اس بھائی چارے کا مقصود یہ تھا کہ جاہلی عصبیتیں تحلیل ہو جائیں۔ نسل، رنگ اور وطن کے امتیازات مٹ جائیں۔ موالات اور براءت کی اساس اسلام کے علاوہ کچھ اور نہ ہو۔
اس بھائی چارے کے ساتھ ایثار و غمگساری اور موانست اور خیر و بھلائی کرنے کے جذبات مخلوط تھے، اسی لیے اس نے اس نئے معاشرے کو بڑے نادر اور تابناک کارناموں سے پُر کر دیا تھا۔
چنانچہ صحیح بخاری میں مروی ہے کہ مہاجرین جب مدینہ تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ نے عبد الرحمن بن عوفؓ اور سعدؓ بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔ اس کے بعد حضرت سعدؓ نے حضرت عبد الرحمنؓ سے کہا: ''انصار میں میں سب سے زیادہ مال دار ہوں۔ آپ میرا مال دو حصوں میں بانٹ کر (آدھا لے لیں) اور میری دو بیویاں ہیں، آپ دیکھ لیں جو زیادہ پسند ہو مجھے بتا دیں میں اسے طلاق دے دوں اور عدت گزرنے کے بعد آپ اس سے شادی کر لیں۔'' حضرت عبد الرحمنؓ نے کہا: اللہ آپ کے اہل اور مال میں برکت دے۔ آپ لوگوں کا بازار کہا ں ہے؟ لوگوں نے انہیں بنو قینقاع کا بازار بتلا دیا۔ وہ واپس آئے تو ان کے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پاس کچھ فاضل پنیر اور گھی تھا۔ اس کے بعد وہ روزانہ جاتے رہے، پھر ایک دن آئے تو اُن پر زردی کا اثر تھا۔ نبی ﷺ نے دریافت فرمایا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے شادی کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: عورت کو مہر کتنا دیا ہے؟ بولے: ایک نواۃ (گٹھلی) کے ہموزن (یعنی کوئی سوا تولہ) سونا۔ (صحیح بخاری: باب اخاء البنی ﷺ بین المہاجرین والانصار ۱/۵۵۳)
اسی طرح حضرتِ ابو ہریرہؓ سے ایک روایت آئی ہے کہ انصار نے نبی ﷺ سے عرض کیا: آپ ﷺ ہمارے درمیان اور ہمارے بھائیوں کے درمیان ہمارے کھجور کے باغات تقسیم فرما دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ انصار نے کہا: تب آپ لوگ، یعنی مہاجرین ہمارا کام کر دیا کریں اور ہم پھل میں آپ لوگوں کو شریک رکھیں گے۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے ہم نے بات سنی اور مانی۔ (ایضاً باب اذا قال اکفنی مؤنۃ النخل ۱/۲۱۳)
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انصار نے کس طرح بڑھ چڑھ کر اپنے مہاجر بھائیوں کا اعزاز و اکرام کیا تھا اور کس قدر محبت، خلوص، ایثار اور قربانی سے کام لیا تھا اور مہاجرین ان کی اس کرم و نوازش کی کتنی قدر کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اس کا کوئی غلط فائد ہ نہیں اٹھایا بلکہ ان سے صرف اتنا ہی حاصل کیا جس سے وہ اپنی ٹوٹی ہوئی معیشت کی کمر سیدھی کر سکتے تھے۔
اور حق یہ ہے کہ بھائی چارہ ایک نادر حکمت، حکیمانہ سیاست اور مسلمانوں کو درپیش بہت سارے مسائل کا ایک بہترین حل تھا۔
اسلامی تعاون کا پیمان:
(یہ عہد و پیمان امت کی تاسیس و تکوین کا درمیانی مرحلہ ہے۔ ورنہ خود اسلام نے مسلمانوں کو باہم اس طرح مربوط کر دیا ہے کہ اب ان میں کسی عہد و پیمان کی ضرورت نہیں رہی۔ بلکہ اسلام کے معین کردہ حقوق ہی ایجاب تعاون کے لیے کافی ہیں۔ یہی معنی ہے اس حدیث کا کہ اسلام میں کوئی حلف نہیں اور جاہلیت کا کوئی حلف ہو تو اسے اسلام مزید پختہ ہی کرتا ہے۔ (مسلم فضائل الصحابہ، باب المواخاۃ)
مذکوہ بھائی چارے کی طرح رسول اللہ ﷺ نے ایک اور عہد و پیمان کرایا جس کے ذریعے ساری جاہلی کشاکش اور قبائلی کشمکش کی بنیاد ڈھا دی اور دور جاہلیت کے رسم و رواج کے لیے کوئی گنجائش نہ چھوڑی۔ ذیل میں اس پیمان کو اس کی دفعات سمیت مختصراً پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ تحریر ہے محمد نبی ﷺ کی جانب سے قریشی، یثربی اور ان کے تابع ہو کر ان کے ساتھ لاحق ہونے اور جہاد کرنے والے مومنین اور مسلمانوں کے درمیان کہ :
یہ سب اپنے ماسوا انسانوں سے الگ ایک امت ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مہاجرین قریش اپنی سابقہ حالت کے مطابق باہم دیت کی ادائیگی کریں گے اور مومنین کے درمیان معروف اور انصاف کے ساتھ اپنے قیدی کا فدیہ دیں گے۔ اور انصار کے تمام قبیلے اپنی سابقہ حالت کے مطابق باہم دیت کی ادائیگی کریں گے اور ان کا ہر گروہ معروف طریقے پر اور اہل ایمان کے درمیان انصاف کے ساتھ اپنے قیدی کا فدیہ ادا کرے گا۔
اور اہل ایمان اپنے درمیان کسی بیکس کو فدیہ یا دیت کے معاملے میں معروف طریقے کے مطابق عطا و نوازش سے محروم نہ رکھیں گے۔
اور سارے راست باز مومنین اس شخص کے خلاف ہوں گے جو ان پر زیادتی کرے گا یا ان کے درمیان ظلم اور گناہ اور زیادتی اور فساد کی راہ کا جویا ہو گا۔
اور یہ کہ ان سب کے ہاتھ اس شخص کے خلاف ہوں گے، خواہ وہ ان میں سے کسی کا لڑکا ہی کیوں نہ ہو۔
کوئی مومن کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل کرے گا اورنہ ہی کسی مومن کے خلاف کسی کافر کی مدد کرے گا۔
اور اللہ کا ذِمّہ (عہد) ایک ہو گا، ایک معمولی آدمی کا دیا ہوا ذمہ بھی سارے مسلمانوں پر لاگو ہو گا۔
جو یہود ہمارے پیروکار ہو جائیں، ان کی مدد کی جائے گی اور وہ دوسرے مسلمانوں کے مثل ہوں گے۔ نہ ان پر ظلم کیا جائے گا اور نہ ان کے خلاف تعاون کیا جائے گا۔
(مسلمانوں کی صلح ایک ہو گی۔ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو چھوڑ کر قتال فی سبیل اللہ کے سلسلے میں مصالحت نہیں کرے گا بلکہ سب کے سب برابری اور عدل کی بنیاد پر کوئی عہد و پیمان کریں گے) مسلمان اس خون میں ایک دوسرے کے مساوی ہوں گے جسے کوئی فی سبیل اللہ بہائے گا۔
کوئی مشرک قریش کی کسی جان یامال کو پناہ نہیں دے سکتا اور نہ کسی مومن کے آگے اِس کی حفاظت کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے۔
جو شخص کسی مومن کو قتل کرے گا اور ثبوت موجود ہو گا، اس سے قصاص لیا جائے گا۔ سوائے اس صورت کے کہ مقتول کا ولی راضی ہو جائے۔
اور یہ کہ سارے مومنین اس کے خلاف ہوں گے۔ ان کے لیے اس کے سوا کچھ حلال نہ ہو گا کہ اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں۔
کسی مومن کے لیے حلال نہ ہو گا کہ کسی ہنگامہ برپا کرنے والے (یا بدعتی) کی مدد کرے اور اسے پناہ دے، اور جو اس کی مدد کرے گا یا اسے پناہ دے گا، اس پر قیامت کے دن اللہ کی لعنت اور اس کا غضب ہو گا اور اس کا فرض و نفل کچھ بھی قبول نہ کیا جائے گا۔
تمہارے درمیان جو بھی اختلاف رُونما ہو گا اسے اللہ عزوجل اور محمد ﷺ کی طرف پلٹایا جائے گا۔ (ابن ہشام ۱/۵۰۲، ۵۰۳)


معاشرے پر معنویات کا اثر:
اس حکمتِ بالغہ اور اس دُور اندیشی سے رسول اللہ ﷺ نے ایک نئے معاشرے کی بنیادیں اُستوار کیں، لیکن معاشرے کا ظاہری رُخ درحقیقت ان معنوی کمالات کا پرتو تھا جس سے نبی ﷺ کی صحبت و ہم نشینی کی بدولت یہ بزرگ ہستیاں بہرہ ور ہو چکی تھیں۔ نبی ﷺ ان کی تعلیم و تربیت، تزکیۂ نفس اور مکارمِ اخلاق کی ترغیب میں مسلسل کوشاں رہتے تھے اور انہیں محبت و بھائی چارگی، مجد و شرف اور عبادت و اطاعت کے آداب برابر سکھاتے اور بتاتے رہتے تھے۔
ایک صحابیؓ نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ (یعنی اسلام میں کون سا عمل بہتر ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم کھانا کھلاؤ اور شناسا اور غیر شناسا سبھی کو سلام کرو۔'' (صحیح بخاری ۱/۶، ۹)
حضرت عبد اللہ بن سلامؓ کا بیان ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب میں نے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک دیکھا تو اچھی طرح سمجھ گیا کہ یہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔ پھر آپ ﷺ نے پہلی بات جو ارشاد فرمائی وہ یہ تھی: ''اے لوگو! سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں نماز پڑھو۔ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔'' (ترمذی۔ ابن ماجہ، دارمی، مشکوٰۃ ۱/۱۶۸)
آپ ﷺ فرماتے تھے: ''وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں اور تباہ کاریوں سے مامون و محفوظ نہ رہے۔'' (صحیح مسلم، مشکوٰۃ ۲/۴۲۲)
اور فرماتے تھے: ''مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔''
اور فرماتے تھے: ''تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرے جو خود اپنے لیے پسند کرتا ہے۔''
(صحیح بخاری ۱/۶)
اور فرماتے تھے: ''سارے مومنین ایک آدمی کی طرح ہیں کہ اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو سارے جسم کو تکلیف محسوس ہوتی ہے اور اگر سر میں تکلیف ہو تو سارے جسم کو تکلیف محسوس ہوتی ہے۔'' (صحیح بخاری ۱/۶)
اور فرماتے: ''مومن، مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا بعض بعض کو قوت پہنچا تا ہے۔'' ( مسلم، مشکوٰۃ ۲/۴۲۲)
اور فرماتے: ''آپس میں بغض نہ رکھو، باہم حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دن سے اوپر چھوڑے رہے۔'' (متفق علیہ، مشکوٰۃ ۲/۴۲۲ صحیح بخاری ۲/۸۹۰)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اور فرماتے : ''مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے دشمن کے حوالے کرے، اورجو شخص اپنے بھائی کی حاجت (برآری) میں کوشاں ہو گا اللہ اس کی حاجت (برآری) میں ہو گا، اور جو شخص کسی مسلمان سے کوئی غم اور دُکھ دُور کرے گا اللہ اس شخص سے روز قیامت کے دُکھوں میں سے کوئی دُکھ دُور کرے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔''
اور فرماتے: ''تم لوگ زمین والوں پر مہربانی کرو تم پر آسمان والا مہربانی کرے گا۔''
اورفرماتے: ''وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کھا لے اوراس کے بازو میں رہنے والا پڑوسی بھوکا رہے۔''
اور فرماتے: ''مسلمان سے گالی گلوچ کرنا فسق ہے اوراس سے مارکاٹ کرنا کفر ہے۔''
اسی طرح آپ ﷺ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ قرار دیتے تھے اور اسے ایمان کی شاخوں میں سے ایک شاخ شمار کرتے تھے۔
نیز آپ ﷺ صدقے اور خیرات کی ترغیب دیتے تھے اور اس کے لیے ایسے ایسے فضائل بیان فرماتے تھے کہ اس کی طرف دل خود بخود کھنچتے چلے جائیں، چنانچہ آپ ﷺ فرماتے کہ صدقہ گناہوں کو ایسے ہی بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔
اور آپ ﷺ فرماتے کہ جو مسلمان کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنا دے اللہ اسے جنت کا سبز لباس پہنائے گا اور جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلا دے اللہ اسے جنت کے پھَل کھلائے گا اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلا دے اللہ اسے جنت کی مُہر لگی ہوئی شراب طہور پلائے گا۔''
آپ ﷺ فرماتے: ''آگ سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کر کے، اور اگر وہ بھی نہ پاؤ تو پاکیزہ بول ہی کے ذریعے۔''
اور اسی کے پہلو بہ پہلو دوسری طرف آپ ﷺ مانگنے سے پرہیز کی بھی بہت زیادہ تاکید فرماتے، صبر و قناعت کی فضیلتیں سناتے اور سوال کرنے کو سائل کے چہرے کے لیے نوچ، خراش اور زخم قرار دیتے۔ البتہ اس سے اس شخص کو مُستثنیٰ قرار دیا جو حد درجہ مجبور ہو کر سوال کرے۔
(صحیح بخاری ۲/۸۹۶، متفق علیہ مشکوٰۃ ۲/۴۲۲، سنن ابی داؤد ۲/ ۳۳۵۔ جامع ترمذی ۲/۱۴، شعب الایمان للبیہقی، مشکوٰۃ ۲/۴۲۴، صحیح بخاری ۲ /۸۹۳، اس مضمون کی حدیث صحیحین میں مروی ہے۔ مشکوٰۃ ۱/۱۲، ۱۶۷، احمد، ترمذی، ابن ماجہ۔ مشکوٰۃ ۱/۱۴، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی ، مشکوٰۃ ۱/۱۶۹، صحیح بخاری ۱/۱۹۰، ۲/۸۹۰، دیکھئے: ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی، مشکوٰۃ ۱/۱۶۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اسی طرح آپ ﷺ یہ بھی بیان فرماتے کہ کن عبادات کے کیا فضائل ہیں اور اللہ کے نزدیک ان کا کیا اجر و ثواب ہے؟ پھر آپ ﷺ پر آسمان سے جو وحی آتی آپ ﷺ اس سے مسلمانوں کو بڑی پختگی کے ساتھ مربوط رکھتے۔ آپ ﷺ وہ وحی مسلمانوں کو پڑھ کرسناتے اور مسلمان آپ ﷺ کو پڑھ کر سناتے تاکہ اس عمل سے ان کے اندر فہم و تدبر کے علاوہ دعوت کے حقوق اور پیغمبرانہ ذمّے داریوں کا شعور بیدار ہو۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کی اخلاقیات بلند کیں، ان کی خداداد صلاحیتوں کو عروج بخشا اور انہیں بلند ترین اقدار و کردار کا مالک بنایا، یہاں تک کہ وہ انسانی تاریخ میں انبیاء کے بعد فضل و کمال کی سب سے بلند چوٹی کا نمونہ بن گئے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جس شخص کو طریقہ اختیار کرنا ہو وہ گزرے ہوئے لوگوں کا طریقہ اختیار کرے کیونکہ زندہ کے بارے میں فتنے کا اندیشہ ہے۔ وہ لوگ نبی ﷺ کے ساتھی تھے۔ اس امت میں سب سے افضل، سب سے نیک دل، سب سے گہرے علم کے مالک اور سب سے زیادہ بے تکلف۔ اللہ نے انہیں اپنے نبی کی رفاقت اور اپنے دین کی اقامت کے لیے منتخب کیا، لہٰذا ان کا فضل پہچانو اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو اور جس قدر ممکن ہو ان کے اخلاق اور سیرت سے تمسک کرو کیونکہ وہ لوگ ہدایت کے صراطِ مستقیم پر تھے۔ (رزین، مشکوٰۃ ۱/۳۲)
پھر ہمارے پیغمبر رہبرا عظم ﷺ خود بھی ایسی معنوی اور ظاہری خوبیوں، کمالات، خداداد صلاحیتوں، مجد و فضائل مکارمِ اخلاق اور محاسن اعمال سے متصف تھے کہ دل خودبخود آپ کی جانب کھنچے جاتے تھے اور جانیں قربان ہوا چاہتی تھیں۔ چنانچہ آپ ﷺ کی زبان سے جونہی کوئی کلمہ صادر ہوتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی بجا آوری کے لیے دوڑ پڑتے اور ہدایت و رہنمائی کی جو بات آپ ﷺ ارشاد فرما دیتے اسے حرزِ جان بنانے کے لیے گویا ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی بازی لگ جاتی۔
اس طرح کی کوشش کی بدولت نبی ﷺ مدینے کے اندر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئے جو تاریخ کا سب سے زیادہ باکمال اور شرف سے بھرپور معاشرہ تھا اور اس معاشرے کے مسائل کا ایسا خوشگوار حل نکالا کہ انسانیت نے ایک طویل عرصے تک زمانے کی چکی میں پِس کر اور اتھاہ تاریکیوں میں ہاتھ پاؤں مار کر تھک جانے کے بعد پہلی بار چین کا سانس لیا۔
اس نئے معاشرے کے عناصر ایسی بلند و بالا تعلیمات کے ذریعے مکمل ہوئے جس نے پوری پامردی کے ساتھ زمانے کے ہر جھٹکے کا مقابلہ کر کے اس کا رُخ پھیر دیا اور تاریخ کا دھارا بدل دیا۔

****​
 
Top