• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبیﷺ کا فرمان کہ میری طرف سے کچھ اختلافی حدیثیں آئیں گی، کی تحقیق

saeedimranx2

رکن
شمولیت
مارچ 07، 2017
پیغامات
157
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
71
یہ حدیث ضعیف ہے
حدیث: حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ میری طرف سے کچھ اختلافی حدیثیں آئیں گی، ان میں سے جو کتاب اللہ اورمیری سنت کے موافق ہوں گی وہ میری طرف سے ہوں گی۔ اور جو کتاب اللہ اور میری سنت کے خلاف ہوں گی وہ میری طرف سے نہیں ہوں گی۔(بحوالہ: کتاب الکفایہ فی العلم الروایہ صفحہ 430 ، مصنف ابو بکر احمد بن علی بن ثابت المعروف خطیب البغدادی متوفی463 ھجری)
سند: اخبرنا ابراہیم بن مخلد بن جعفر المعدل قال ثنااحمد بن کامل القاضی قال ثنا ابو جعفر محمد بن جریر الطبری قال ثنا محمد بن عبید المحاربی قال ثنا صالح بن موسیٰ عن عبدالعزیز بن رُفیع عن ابی صالح عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ۔۔۔۔۔۔
تحقیق:

v ابراہیم بن مخلد بن جعفر المعدل(325 ھ۔410ھ) : شیخِ خطیب بغداد، صحیح الکتاب، ثقہ، اہل علم (تاریخ ِ بغداد ج7ص139)
v احمد بن کامل القاضی(متوفی 355ھ): دارقطنی نے کہا کہ لِین الحدیث ہے، متساہل ہے(لسان المیزان ج1ص581)، خطیب بغدادی نے کہا کہ قران و احکام کا عالم تھا، شعر و تاریخ کا بھی عالم تھا، کوفہ کا قاضی تھا(سئیر العلام والنبلا ء ج15 ص544، تاریخِ بغداد ج4 ص357)
v ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (متوفی 310ھ): صاحب کتاب التاریخ ، ثقہ بلاشُبہ
v محمد بن عبیدا لمحاربی (متوفی 245ھ): ان سے ابوداؤد ، ترمذی، نسائی، ابن مندہ، ابوحاتم رازی اور ابو زرعہ رازی نے روایات لی ہیں۔ابن حبان نے اپنی کتاب الثقات میں اِن کا ذکر کیا ہے۔ نسائی نے کہا ہے کہ ان کی روایت میں کوئی حرج نہیں (تہذیب الکمال ج26 ص70)مسلمہ نے بھی کہا کہ اس کی روایت میں کوئی حرج نہیں (تہذیب التہذیب ج5 ص733)
v صالح بن موسیٰ : (تہذیب الکمال ج 13 ص96)یحیی بن معین نے کہا کہ یہ کوئی شے نہیں، پھر کہا کہ صالح بن موسیٰ اور اسحاق بن موسیٰ کوئی شے نہیں (تاریخِ دوری)، ابراہیم بن یعقوب جوزجانی نے کہا کہ ضعیف الحدیث تھا، عبدالرحمٰن بن ابی حاتم نے اپنے والد ابی حاتم رازی سے اس کے بارے میں پوچھا تھا انہوں نے کہا ضعیف الحدیث ہے، شدید منکر ہے، ثقہ سے اس کی کثیر مناکیر روایات ہیں۔ نسائی نے کہا کہ اس کی حدیث لکھی نہیں جائے گی، یہ متروک ہے۔
v عبد العزیز بن رُفیع: ان سے ایک جماعت نے روایت لی ہے ابن حنبل، اسحاق بن منصور، یحییٰ بن معین اور نسائی نے انہیں ثقہ کہا ہے ۔ (تہذیب الکمال ج18 ص134)
v ابی صالح: یہ ذکوان ابو صالح سمّان ہیں ، ان سے بھی ایک جماعت نے روایت لی ہے، ابن حنبل، یحیٰ بن معین، ابن سعد نے ثقہ کہا ہے، ابو زرعہ نے کہا ہے کہ مستقیم الحدیث ہیں، ابو حاتم رازی نے کہا کہ صالح الحدیث ہیں(تہذب الکمال ج8 ص513)
تحکیم: یہ حدیث ضعیف ہے۔ کیونکہ اس میں صالح بن موسیٰ ،جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
تحقیق:محمد سعید عمران
رابطہ: saeedimranx2@gmail.com
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,575
پوائنٹ
384
اقوال جرح وتعدیل کی اول تو ترجمہ کی ضرورت نہیں ہوتی، اور اگر کیا بھی جائے تو عربی ضرور ہونی چاہیے۔ جرح وتعدیل کے اقوال ایک ترجمے جتنے سہل نہیں ہوتے، اس میں خاص اصطلاحات اور معانی کا بھی دھیان رکھا جاتا ہے، جو ترجمہ میں کبھی واضح نہیں ہو سکتے۔
دوسری بات یہ کہ حدیث کا عربی متن بھی ہونا ضروری ہے۔
تیسری بات یہ کہ حدیث کا ضعف واضح کرنے کے لئے صرف ضعف کی نشاندہی کرنا ہی کافی ہے، سارے رواۃ کا ترجمہ لکھنا غیر ضروری ہے۔ البتہ اگر تفصیلی تحقیق کرنی ہی ہے تو پہلے تخریج ہونی چاہیے پھر رواۃ پر بحث بھی ہو سکتی ہے۔
باقی ہمارے پیر @خضر حیات المدنی حفظہ اللہ اور شیخ طریقت @اسحاق سلفی حفظہ اللہ سے بھی آپ اس بارے میں مشورہ کر سکتے ہیں، ابتسامہ
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
747
پوائنٹ
290
بسم اللہ الرحمان الرحیم

قال ابو اسماعیل الہروی فی کتابہ: ذم الکلام و اہلہ: أخبرنا أبو يعقوب أخبرنا زاهر بن أحمد أخبرنا محمد بن إدريس حدثنا أبوكريب حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم عن زر بن حبيش عن علي بن أبي طالب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ستكون علي رواة يروون عني الحديث فاعرضوها على القرآن فإن وافقت القرآن فخذوها وإلا فدعوها
(ذم الکلام و اہلہ، 4۔164، ط: مکتبۃ العلوم و الحکم)

یہ روایت غالباً اس باب میں اصح ما فی الباب ہے۔ یہ روایت جہاں اس حدیث کی سند کو تقویت دیتی ہے وہیں یہ دارقطنی کی وہم کی جرح کو بھی باطل کرتی ہے کیوں کہ دارقطنی نے وہ جرح ایسی سند پر کی ہے جس کا ایک راوی ضعیف ہے جبکہ اس سند میں ایک مضبوط راوی موجود ہے۔
اس کے رواۃ کی تفصیل یہ ہے:
ابو اسماعیل الہروی، صاحب کتاب ذم الکلام و اہلہ:
قال ابن نقطة: عبد الله بن محمد بن علي بن محمد بن أحمد بن علي بن جعفر بن منصور بن مت أبو إسماعيل الحافظ الأنصاري الهروي.
من ولد خالد بن زيد أبي أيوب الأنصاري الحافظ الثقة المأمون لقي الحفاظ وحدث عن خلق كثير منهم۔۔۔
(التقييد لمعرفة رواة السنن و المسانيد، 1۔322، ط: العلمية)

ابو يعقوب القراب:
إسحاق بن (ابي) إسحاق بن إبراهيم بن محمد بن عبد الرحمن أبو يعقوب القراب [ص:166] الهروي الحافظ العدل، مشهور من الحفاظ بهراة
(المنتخب من كتاب السياق لتاريخ نيسابور، ص 165، ط: دار الفكر)

زاهر بن احمد الفقيه:
الإمَامُ، العَلاَّمَةُ، فَقِيْهُ خُرَاسَانَ، شَيْخُ القُرَّاءِ وَالمُحَدِّثِيْنَ، أَبُو عَلِيٍّ السَّرَخْسِيُّ۔۔۔ قَالَ شَيْخُ الإِسلاَمِ: سَمِعْتُ يَحْيَى بنَ عَمَّارٍ، سَمِعْتُ زَاهِرَ بنَ أَحْمَدَ وَكَانَ لِلمُسْلِمِينَ إِمَاماً۔۔۔۔
(سير اعلام النبلاء، 16۔476، ط: الرسالة)

محمد بن ادريس السامي:
قال الخليلي (3): ثقة متفق عليه
(الثقات ممن لم یقع فی الکتب الستہ، 8۔167، ط: مرکز النعمان)

ابو کریب:
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بنُ العَلاَءِ بنِ كُرَيْبٍ الهَمْدَانِيُّ * (ع)
الحَافِظُ، الثِّقَةُ، الإِمَامُ، شَيْخُ المُحَدِّثِيْنَ، أَبُو كُرَيْبٍ الهَمْدَانِيُّ، الكُوْفِيُّ.
(سير، 11۔394)

ابو بکر بن عیاش:
راوی البخاری۔ قال الحافظ: ثقة عابد إلا أنه لما كبر ساء حفظه وكتابه صحيح
(تقریب)

عاصم بن بهدلة:
قال عبد الله بن الامام احمد: سألته عن عاصم بن بهدلة فقال ثقة رجل صالح خير ثقة والأعمش أحفظ منه
(العلل)
ان كےحافظے ميں تھوڑا خلل تھا لیکن اس کے باوجود یہ بخاری و مسلم کے راوی ہیں۔

زر بن حبیش:
ثقة جليل مخضرم
(تقریب)

اسی حدیث کو ابو بکر بن عیاش سے جبارۃ بن المغلس نے روایت کیا ہے (سنن دار قطنی) چنانچہ اس کی متابعت بھی ہے۔ یہ تو اس حدیث کی سند کی بات تھی۔ اس کے علاوہ اس کا معنی بھی صحیح ہے۔ حضرت عمر رض نے فیصلہ کرتے وقت حضرت فاطمہ بنت قيس رض كي روايت کے بارے میں فرمایا تھا: لا ندع کتاب ربنا و سنۃ نبینا بقول امراۃ۔۔۔۔
اسی لیے اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے خطیب بغدادی نے الکفایہ میں رد خبر واحد کے ضمن میں ایک سبب کتاب اللہ کے خلاف ہونے کو بھی ذکر کیا ہے۔

آخر میں عرض یہ ہے کہ جب کسی حدیث پر حکم لگانا ہو تو اس کے تمام طرق کو دیکھنا چاہیے اور ہر طرح چھان پھٹک کرنی چاہیے۔ اور اگر کسی ایک طریق پر حکم لگانا ہو تو اس کی وضاحت کرنی چاہیے کہ یہ طریق یا یہ سند ضعیف ہے۔ مطلقاً ایک یا دو یا تین چار طرق کو دیکھ کر سب پر حکم لگانا بے احتیاطی کا کام ہے۔ نیز حدیث کا ضعف الگ چیز ہے اور سند کا ضعف الگ۔ بسا اوقات کسی روایت کی سند تو ضعیف ہوتی ہے لیکن اس کا متن اور معنی صحیح ہوتا ہے۔
و اللہ اعلم بالصواب
 

saeedimranx2

رکن
شمولیت
مارچ 07، 2017
پیغامات
157
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
71
اقوال جرح وتعدیل کی اول تو ترجمہ کی ضرورت نہیں ہوتی، اور اگر کیا بھی جائے تو عربی ضرور ہونی چاہیے۔ جرح وتعدیل کے اقوال ایک ترجمے جتنے سہل نہیں ہوتے، اس میں خاص اصطلاحات اور معانی کا بھی دھیان رکھا جاتا ہے، جو ترجمہ میں کبھی واضح نہیں ہو سکتے۔
دوسری بات یہ کہ حدیث کا عربی متن بھی ہونا ضروری ہے۔
تیسری بات یہ کہ حدیث کا ضعف واضح کرنے کے لئے صرف ضعف کی نشاندہی کرنا ہی کافی ہے، سارے رواۃ کا ترجمہ لکھنا غیر ضروری ہے۔ البتہ اگر تفصیلی تحقیق کرنی ہی ہے تو پہلے تخریج ہونی چاہیے پھر رواۃ پر بحث بھی ہو سکتی ہے۔
باقی ہمارے پیر @خضر حیات المدنی حفظہ اللہ اور شیخ طریقت @اسحاق سلفی حفظہ اللہ سے بھی آپ اس بارے میں مشورہ کر سکتے ہیں، ابتسامہ
السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ۔۔
بھائی ان پوسٹس کا مقصد یہی تھا کہ یہاں جتنے قابل احترام ساتھی ہیں ان کی رائے لی جائے۔۔۔آپ کے مشورے قیمتی ہیں انشاء اللہ ان کا خیال رکھا جائے گا۔
ایسی بہت ساری احادیث مختلف خطیب حضرات استعمال کرتے ہیں اور یہی میراٹارگٹ ہیں۔۔میری حتی الامکان کوشش ہے کہ صرف بنیادی مخرج کا ذکر کیا جائے جہاں سے تمام لیتے ہیں۔۔۔البتہ مزید پوسٹس میں انشاء اللہ بہتری کی کوشش کی جائے گی۔جزاک اللہ
 

saeedimranx2

رکن
شمولیت
مارچ 07، 2017
پیغامات
157
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
71
بسم اللہ الرحمان الرحیم

قال ابو اسماعیل الہروی فی کتابہ: ذم الکلام و اہلہ: أخبرنا أبو يعقوب أخبرنا زاهر بن أحمد أخبرنا محمد بن إدريس حدثنا أبوكريب حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم عن زر بن حبيش عن علي بن أبي طالب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ستكون علي رواة يروون عني الحديث فاعرضوها على القرآن فإن وافقت القرآن فخذوها وإلا فدعوها
(ذم الکلام و اہلہ، 4۔164، ط: مکتبۃ العلوم و الحکم)

یہ روایت غالباً اس باب میں اصح ما فی الباب ہے۔ یہ روایت جہاں اس حدیث کی سند کو تقویت دیتی ہے وہیں یہ دارقطنی کی وہم کی جرح کو بھی باطل کرتی ہے کیوں کہ دارقطنی نے وہ جرح ایسی سند پر کی ہے جس کا ایک راوی ضعیف ہے جبکہ اس سند میں ایک مضبوط راوی موجود ہے۔
اس کے رواۃ کی تفصیل یہ ہے:
ابو اسماعیل الہروی، صاحب کتاب ذم الکلام و اہلہ:
قال ابن نقطة: عبد الله بن محمد بن علي بن محمد بن أحمد بن علي بن جعفر بن منصور بن مت أبو إسماعيل الحافظ الأنصاري الهروي.
من ولد خالد بن زيد أبي أيوب الأنصاري الحافظ الثقة المأمون لقي الحفاظ وحدث عن خلق كثير منهم۔۔۔
(التقييد لمعرفة رواة السنن و المسانيد، 1۔322، ط: العلمية)

ابو يعقوب القراب:
إسحاق بن (ابي) إسحاق بن إبراهيم بن محمد بن عبد الرحمن أبو يعقوب القراب [ص:166] الهروي الحافظ العدل، مشهور من الحفاظ بهراة
(المنتخب من كتاب السياق لتاريخ نيسابور، ص 165، ط: دار الفكر)

زاهر بن احمد الفقيه:
الإمَامُ، العَلاَّمَةُ، فَقِيْهُ خُرَاسَانَ، شَيْخُ القُرَّاءِ وَالمُحَدِّثِيْنَ، أَبُو عَلِيٍّ السَّرَخْسِيُّ۔۔۔ قَالَ شَيْخُ الإِسلاَمِ: سَمِعْتُ يَحْيَى بنَ عَمَّارٍ، سَمِعْتُ زَاهِرَ بنَ أَحْمَدَ وَكَانَ لِلمُسْلِمِينَ إِمَاماً۔۔۔۔
(سير اعلام النبلاء، 16۔476، ط: الرسالة)

محمد بن ادريس السامي:
قال الخليلي (3): ثقة متفق عليه
(الثقات ممن لم یقع فی الکتب الستہ، 8۔167، ط: مرکز النعمان)

ابو کریب:
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بنُ العَلاَءِ بنِ كُرَيْبٍ الهَمْدَانِيُّ * (ع)
الحَافِظُ، الثِّقَةُ، الإِمَامُ، شَيْخُ المُحَدِّثِيْنَ، أَبُو كُرَيْبٍ الهَمْدَانِيُّ، الكُوْفِيُّ.
(سير، 11۔394)

ابو بکر بن عیاش:
راوی البخاری۔ قال الحافظ: ثقة عابد إلا أنه لما كبر ساء حفظه وكتابه صحيح
(تقریب)

عاصم بن بهدلة:
قال عبد الله بن الامام احمد: سألته عن عاصم بن بهدلة فقال ثقة رجل صالح خير ثقة والأعمش أحفظ منه
(العلل)
ان كےحافظے ميں تھوڑا خلل تھا لیکن اس کے باوجود یہ بخاری و مسلم کے راوی ہیں۔

زر بن حبیش:
ثقة جليل مخضرم
(تقریب)

اسی حدیث کو ابو بکر بن عیاش سے جبارۃ بن المغلس نے روایت کیا ہے (سنن دار قطنی) چنانچہ اس کی متابعت بھی ہے۔ یہ تو اس حدیث کی سند کی بات تھی۔ اس کے علاوہ اس کا معنی بھی صحیح ہے۔ حضرت عمر رض نے فیصلہ کرتے وقت حضرت فاطمہ بنت قيس رض كي روايت کے بارے میں فرمایا تھا: لا ندع کتاب ربنا و سنۃ نبینا بقول امراۃ۔۔۔۔
اسی لیے اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے خطیب بغدادی نے الکفایہ میں رد خبر واحد کے ضمن میں ایک سبب کتاب اللہ کے خلاف ہونے کو بھی ذکر کیا ہے۔

آخر میں عرض یہ ہے کہ جب کسی حدیث پر حکم لگانا ہو تو اس کے تمام طرق کو دیکھنا چاہیے اور ہر طرح چھان پھٹک کرنی چاہیے۔ اور اگر کسی ایک طریق پر حکم لگانا ہو تو اس کی وضاحت کرنی چاہیے کہ یہ طریق یا یہ سند ضعیف ہے۔ مطلقاً ایک یا دو یا تین چار طرق کو دیکھ کر سب پر حکم لگانا بے احتیاطی کا کام ہے۔ نیز حدیث کا ضعف الگ چیز ہے اور سند کا ضعف الگ۔ بسا اوقات کسی روایت کی سند تو ضعیف ہوتی ہے لیکن اس کا متن اور معنی صحیح ہوتا ہے۔
و اللہ اعلم بالصواب
جزاک اللہ
السلام علیکم۔۔۔بھائی عاصم بن بہدلہ ابی النجود کی ذر بن حبیش سے لی گئی روایت کے بارے میں کہیں کوئی اقوال موجود ہیں؟؟میرے علم کے مطابق تو اضطراب ہے۔۔۔
 

saeedimranx2

رکن
شمولیت
مارچ 07، 2017
پیغامات
157
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
71
اور جبارہ بن المغلس بھی جمہور کے نزدءک متروک و کذاب ہیں۔۔۔
 

saeedimranx2

رکن
شمولیت
مارچ 07، 2017
پیغامات
157
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
71
اقوال جرح وتعدیل کی اول تو ترجمہ کی ضرورت نہیں ہوتی، اور اگر کیا بھی جائے تو عربی ضرور ہونی چاہیے۔ جرح وتعدیل کے اقوال ایک ترجمے جتنے سہل نہیں ہوتے، اس میں خاص اصطلاحات اور معانی کا بھی دھیان رکھا جاتا ہے، جو ترجمہ میں کبھی واضح نہیں ہو سکتے۔
دوسری بات یہ کہ حدیث کا عربی متن بھی ہونا ضروری ہے۔
تیسری بات یہ کہ حدیث کا ضعف واضح کرنے کے لئے صرف ضعف کی نشاندہی کرنا ہی کافی ہے، سارے رواۃ کا ترجمہ لکھنا غیر ضروری ہے۔ البتہ اگر تفصیلی تحقیق کرنی ہی ہے تو پہلے تخریج ہونی چاہیے پھر رواۃ پر بحث بھی ہو سکتی ہے۔
باقی ہمارے پیر @خضر حیات المدنی حفظہ اللہ اور شیخ طریقت @اسحاق سلفی حفظہ اللہ سے بھی آپ اس بارے میں مشورہ کر سکتے ہیں، ابتسامہ
جزاک اللہ بھائی نوٹ کر لیا ہے
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
747
پوائنٹ
290
السلام علیکم۔۔۔بھائی عاصم بن بہدلہ ابی النجود کی ذر بن حبیش سے لی گئی روایت کے بارے میں کہیں کوئی اقوال موجود ہیں؟؟میرے علم کے مطابق تو اضطراب ہے۔۔۔
اضطراب كا کوئی حوالہ؟؟؟

اور جبارہ بن المغلس بھی جمہور کے نزدءک متروک و کذاب ہیں۔۔۔
جبارہ کے بارے میں "ضعیف" کا قول ہے۔ اس کی وجہ بھی ابن نمیر یہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی اپنی احادیث صحیح ہوتی تھیں لیکن کچھ لوگ (ابن نمیر نے ان کی تعیین نہیں کی) ان کی احادیث میں گڑبڑ کرتے تھے (کما فی التہذیب)۔
امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ ان کی حدیث میں اضطراب ہوتا ہے۔ ابن عدی کہتے ہیں کہ ان کی بعض احادیث میں ان کی کوئی متابعت نہیں کرتا لیکن یہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے۔
ان سب اقوال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ضعیف ہیں متروک و کذاب نہیں۔ ایسا راوی کسی اور روایت کے لیے متابع یا شاہد بن سکتا ہے۔
 

saeedimranx2

رکن
شمولیت
مارچ 07، 2017
پیغامات
157
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
71
عاصم کے بارے میں عجلی نے کہا ہے۔۔تاریخ ثقات میں
 

saeedimranx2

رکن
شمولیت
مارچ 07، 2017
پیغامات
157
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
71
جہاں
اضطراب كا کوئی حوالہ؟؟؟


جبارہ کے بارے میں "ضعیف" کا قول ہے۔ اس کی وجہ بھی ابن نمیر یہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی اپنی احادیث صحیح ہوتی تھیں لیکن کچھ لوگ (ابن نمیر نے ان کی تعیین نہیں کی) ان کی احادیث میں گڑبڑ کرتے تھے (کما فی التہذیب)۔
امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ ان کی حدیث میں اضطراب ہوتا ہے۔ ابن عدی کہتے ہیں کہ ان کی بعض احادیث میں ان کی کوئی متابعت نہیں کرتا لیکن یہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے۔
ان سب اقوال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ضعیف ہیں متروک و کذاب نہیں۔ ایسا راوی کسی اور روایت کے لیے متابع یا شاہد بن سکتا ہے۔
جہاں تک بات جبارہ کی ہے تو ابو ذرعہ نے کہا کہ مجھ سے ابن نمیر نے کہا کیا آپ اس کی حدیث لکھتے ہیں تو کہا کہ ہاں پھر پوچھا کیا آپ اس سے روایت کرتے ہہں کہا نہیں۔
بزار نے کہا کہ کثیر الخطا ہے کوئی اہل علم اس سے حدیث نہیں لیتا۔۔عقیلی نے احمد کے حوالے سے کہا کہ اس کی روایات موضوع اور جھوٹ ہوتی ہیں۔ حالانکہ بقی بن مخلد نے بھی ان سے روایت کی ہیں۔۔۔مگر دو بڑے آئمہ ذھبی و ابن حجر نے بھی ان کع ضعیف کہا ہے۔۔ابن معین نے کذاب کہا ہے۔۔۔
 
Top