- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
نبی ﷺ کی ہجرت
قریش کی تدبیر اور اللہ کی تدبیر:
مذکورہ قسم کے اجتماع کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ اس میں انتہائی رازداری برتی جاتی ہے اور ظاہری سطح پر کوئی ایسی حرکت سامنے نہیں آنے دی جاتی جو روز مرہ کے معمول کے خلاف اور عام عادات سے ہٹ کر ہو تاکہ کوئی شخص خطرے کی بو سونگھ نہ سکے اور کسی کے دل میں خیال نہ آئے کہ یہ خاموشی کسی خطرے کا پیش خیمہ ہے۔ یہ قریش کا مکر یا داؤ پیچ تھا۔ مگر یہ مکر انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا تھا۔ اس لیے اللہ نے انہیں ایسے ڈھنگ سے ناکام کیا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے، چنانچہ جب نبی ﷺ کے قتل کی مجرمانہ قرار داد طے ہو چکی تو حضرت جبریل علیہ السلام اپنے رب تبارک وتعالیٰ کی وحی لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو قریش کی سازش سے آگاہ کرتے ہوئے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہاں سے روانگی کی اجازت دے دی ہے اور یہ کہتے ہوئے ہجرت کے وقت کی تَعِیین بھی فرما دی کہ آپ ﷺ یہ رات اپنے اس بستر پر نہ گزاریں جس پر اب تک گزارا کرتے تھے۔ (ابن ہشام ۱/۴۸۲ ، زاد المعاد ۲/۵۲)
اس اطلاع کے بعد نبی ﷺ ٹھیک دوپہر کے وقت ابو بکرؓ کے گھر تشریف لے گئے تاکہ ان کے ساتھ ہجرت کے سارے پروگرام اور مرحلے طے فرما لیں۔ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ ٹھیک دوپہر کے وقت ہم لوگ ابو بکرؓ کے مکان میں بیٹھے تھے کہ کسی کہنے والے نے ابو بکرؓ سے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ سر ڈھانک کے تشریف لا رہے ہیں۔ یہ ایسا وقت تھا جس میں آپ ﷺ تشریف نہیں لایا کرتے تھے۔ ابو بکرؓ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ ﷺ اس وقت کسی اہم معاملے ہی کی وجہ سے تشریف لائے ہیں۔
حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ اجازت طلب کی۔ آپ ﷺ کو اجازت دی گئی اور آپ ﷺ اندر داخل ہوئے۔ پھر ابو بکرؓ سے فرمایا: تمہارے پاس جو لوگ ہیں انہیں ہٹا دو۔ ابو بکرؓ نے کہا: بس آپ کی اہلِ خانہ ہی ہیں۔ آپ پر میرے باپ فدا ہوں اے اللہ کے رسول! (ﷺ) آپ نے فرمایا: اچھا تو مجھے روانگی کی اجازت مل چکی ہے۔ ابو بکر ؓ نے کہا: ساتھ ......اے اللہ کے رسول! میرے باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں. (صحیح بخاری باب ہجرۃ النبی ﷺ ۱/۵۵۳، اور ہجرت کے لیے دیکھئے: بخاری کی حدیث نمبر ۴۶۷، ۲۱۳۸، ۲۲۶۳، ۲۲۶۴، ۲۲۹۷، ۳۹۰۵، ۴۰۹۳، ۵۸۰۷،۶۰۷۹)