• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم نبیﷺ کی ہجرت

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نبی ﷺ کی ہجرت

قریش کی تدبیر اور اللہ کی تدبیر:
مذکورہ قسم کے اجتماع کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ اس میں انتہائی رازداری برتی جاتی ہے اور ظاہری سطح پر کوئی ایسی حرکت سامنے نہیں آنے دی جاتی جو روز مرہ کے معمول کے خلاف اور عام عادات سے ہٹ کر ہو تاکہ کوئی شخص خطرے کی بو سونگھ نہ سکے اور کسی کے دل میں خیال نہ آئے کہ یہ خاموشی کسی خطرے کا پیش خیمہ ہے۔ یہ قریش کا مکر یا داؤ پیچ تھا۔ مگر یہ مکر انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا تھا۔ اس لیے اللہ نے انہیں ایسے ڈھنگ سے ناکام کیا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے، چنانچہ جب نبی ﷺ کے قتل کی مجرمانہ قرار داد طے ہو چکی تو حضرت جبریل علیہ السلام اپنے رب تبارک وتعالیٰ کی وحی لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو قریش کی سازش سے آگاہ کرتے ہوئے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہاں سے روانگی کی اجازت دے دی ہے اور یہ کہتے ہوئے ہجرت کے وقت کی تَعِیین بھی فرما دی کہ آپ ﷺ یہ رات اپنے اس بستر پر نہ گزاریں جس پر اب تک گزارا کرتے تھے۔ (ابن ہشام ۱/۴۸۲ ، زاد المعاد ۲/۵۲)
اس اطلاع کے بعد نبی ﷺ ٹھیک دوپہر کے وقت ابو بکرؓ کے گھر تشریف لے گئے تاکہ ان کے ساتھ ہجرت کے سارے پروگرام اور مرحلے طے فرما لیں۔ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ ٹھیک دوپہر کے وقت ہم لوگ ابو بکرؓ کے مکان میں بیٹھے تھے کہ کسی کہنے والے نے ابو بکرؓ سے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ سر ڈھانک کے تشریف لا رہے ہیں۔ یہ ایسا وقت تھا جس میں آپ ﷺ تشریف نہیں لایا کرتے تھے۔ ابو بکرؓ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ ﷺ اس وقت کسی اہم معاملے ہی کی وجہ سے تشریف لائے ہیں۔
حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ اجازت طلب کی۔ آپ ﷺ کو اجازت دی گئی اور آپ ﷺ اندر داخل ہوئے۔ پھر ابو بکرؓ سے فرمایا: تمہارے پاس جو لوگ ہیں انہیں ہٹا دو۔ ابو بکرؓ نے کہا: بس آپ کی اہلِ خانہ ہی ہیں۔ آپ پر میرے باپ فدا ہوں اے اللہ کے رسول! (ﷺ) آپ نے فرمایا: اچھا تو مجھے روانگی کی اجازت مل چکی ہے۔ ابو بکر ؓ نے کہا: ساتھ ......اے اللہ کے رسول! میرے باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں. (صحیح بخاری باب ہجرۃ النبی ﷺ ۱/۵۵۳، اور ہجرت کے لیے دیکھئے: بخاری کی حدیث نمبر ۴۶۷، ۲۱۳۸، ۲۲۶۳، ۲۲۶۴، ۲۲۹۷، ۳۹۰۵، ۴۰۹۳، ۵۸۰۷،۶۰۷۹)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اس کے بعد ہجرت کا پروگرام طے کر کے رسول اللہ ﷺ اپنے گھر تشریف لائے اور رات کی آمد کا انتظار کرنے لگے۔
رسول اللہ ﷺ کے مکان کا گھیراؤ:
ادھر قریش کے اکابر مجرمین نے اپنا سارا دن مکے کی پارلیمان دار الندوہ کی پہلے پہر کی طے کردہ قرار داد کے نفاذ کی تیاری میں گزاری اور اس مقصد کے لیے ان اکابر مجرمین میں سے گیارہ سردار منتخب کیے گئے جن کے نام یہ ہیں:
ابو جہل بن ہشام، حَکم بن عاص،
عُقبہ بن ابی معیط، نضر بن حارث، اُمیہ بن خلف، زَمْعَہْ بن الاسود، طُعَیْمہ بن عدی، ابو لہب
(اُبی بن خلف)، نُبَیہ بن الحجاج
اور اس کا بھائی مُنَبہّ بن الحجاج (زاد المعاد ۲/۵۲)
نبی ﷺ کا معمول تھا کہ آپ شروع رات میں عشاء کی نماز کے بعد سو جاتے اور آدھی رات کے بعد گھر سے نکل کر مسجد حرام تشریف لاتے اور وہاں تہجد کی نماز ادا فرماتے۔ اس رات آپ نے حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ وہ آپ کے بستر پر سو جائیں اور آپ کی سبز حضرمی (حضر موت (جنوبی یمن) کی بنی ہوئی چادر حضرمی کہلاتی ہے) چادر اوڑھ لیں۔ یہ بھی بتلا دیا کہ تمہیں ان کے ہاتھوں کوئی گزند نہیں پہنچے گی۔ (آپ ﷺ وہی چادر اوڑھ کر سویا کرتے تھے)
ادھر رات جب ذرا تاریک ہو گئی۔ ہر طرف سناٹا چھا گیا، اور عام لوگ اپنی خوابگاہوں میں جا چکے تو مذکورہ بالا افراد نے خفیہ طور پر نبی ﷺ کے گھر کا رخ کیا اور دروازے پر جمع ہو کر گھات میں بیٹھ گئے۔ وہ حضرت علیؓ کو دیکھ کر سمجھ رہے تھے کہ آپ ﷺ سوئے ہوئے ہیں۔ اس لیے انتظار کرنے لگے کہ آپ اٹھیں اور باہر نکلیں تو یہ لوگ یکایک آپ پر ٹوٹ پڑیں اور مقررہ فیصلہ نافذ کرتے ہوئے آپ کو قتل کر دیں۔
ان لوگوں کو پورا وثوق اور پختہ یقین تھا کہ ان کی یہ ناپاک سازش کامیاب ہو کر رہے گی۔ یہاں تک کہ ابو جہل نے بڑے متکبرانہ اور پُر غرور انداز میں مذاق و استہزاء کرتے ہوئے اپنے گھیرا ڈالنے والے ساتھیوں سے کہا: محمد (ﷺ) کہتا ہے کہ اگر تم لوگ اس کے دین میں داخل ہو کر اس کی پیروی کرو گے تو عرب و عجم کے بادشاہ بن جاؤ گے۔ پھر مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو تمہارے لیے اردن کے باغات جیسی جنتیں ہوں گی اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ان کی طرف سے تمہارے اندر ذبح کے واقعات پیش آئیں گے۔ پھر تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے اور
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تمہارے لیے آگ ہو گی جس میں جلائے جاؤ گے۔ (ابن ہشام ۱/۴۸۲، ۴۸۳)
بہرحال اس سازش کے نفاذ کے لیے آدھی رات کے بعد کا وقت مقرر تھا۔ اس لیے یہ لوگ جاگ کر رات گزار رہے تھے اور وقتِ مقررہ کے منتظر تھے، لیکن اللہ اپنے کام پر غالب ہے۔ اسی کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جسے بچانا چاہے کوئی اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا اور جسے پکڑنا چاہے کوئی اس کو بچا نہیں سکتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پروہ کام کیا جسے ذیل کی آیت کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے بیان فرمایا ہے کہ :
وَإِذْ يَمْكُرُ‌ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِ‌جُوكَ ۚ وَيَمْكُرُ‌ونَ وَيَمْكُرُ‌ اللَّـهُ ۖ وَاللَّـهُ خَيْرُ‌ الْمَاكِرِ‌ينَ (۸:۳۰)
''وہ موقع یاد کرو جب کفار تمہارے خلاف مکر کر رہے تھے تاکہ تمہیں قید کر دیں یا قتل کر دیں یا نکال باہر کریں اور وہ لوگ داؤ چل رہے تھے اور اللہ بھی داؤ چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر داؤ والا ہے۔''
رسول اللہ ﷺ اپنا گھر چھوڑتے ہیں:
بہرحال قریش اپنے پلان کے نفاذ کی انتہائی تیاری کے باوجود فاش ناکامی سے دوچار ہوئے کیونکہ رسول اللہ ﷺ گھر سے باہر تشریف لے آئے۔ مشرکین کی صفیں چیریں اور ایک مٹھی سنگریزوں والی مٹی لے کر ان کے سروں پر ڈالی لیکن اللہ نے ان کی نگاہیں پکڑ لیں اور وہ آپ ﷺ کو دیکھ نہ سکے۔ اس وقت آپ ﷺ یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے:
وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُ‌ونَ (۳۶: ۹)
''ہم نے ان کے آگے رکاوٹ کھڑی کر دی اور ان کے پیچھے رکاوٹ کھڑی کر دی۔ پس ہم نے انہیں ڈھانک لیا ہے اور وہ دیکھ نہیں رہے تھے۔''
اس موقع پر کوئی بھی مشرک باقی نہ بچا۔ جس کے سر پر آپ ﷺ نے مٹی نہ ڈالی ہو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکرؓ کے گھر تشریف لے گئے اور پھر ان کے مکان کی ایک کھڑکی سے نکل کر دونوں حضرات نے رات ہی رات یمن کا رخ کیا اور چند میل پر واقع ثور نامی پہاڑ کے ایک غار میں جا پہنچے۔ ایضاً ۱/۴۸۳، زادا لمعاد ۲/۵۲)
ادھر محاصرین وقت صفر کا انتظار کر رہے تھے لیکن اس سے ذرا پہلے انہیں اپنی ناکامی و نامرادی کا علم ہو گیا۔ ہوا یہ کہ ان کے پاس ایک غیر متعلق شخص آیا اور انہیں آپ ﷺ کے دروازے پر دیکھ کر پوچھا کہ آپ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) کا۔ اس نے کہا: آپ لوگ ناکام و نامراد ہوئے۔ اللہ کی قسم! محمد (ﷺ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تو آپ لوگوں کے پاس سے گزرے اور آپ کے سروں پر مٹی ڈالتے اپنے کام کو گئے۔ انہوں نے کہا: واللہ! ہم نے تو انہیں نہیں دیکھا اور اس کے بعد اپنے سروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے اٹھ پڑے۔
لیکن پھر دروازے کی دراز سے جھانک کر دیکھا تو حضرت علیؓ نظر آئے۔ کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہ تو محمد (ﷺ) سوئے پڑے ہیں۔ ان کے اوپر ان کی چادر موجود ہے۔ چنانچہ یہ لوگ صبح تک وہیں ڈٹے رہے۔ ادھر صبح ہوئی اور حضرت علیؓ بستر سے اٹھے تو مشرکین کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ انہوں نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کہاں ہیں۔ حضرت علیؓ نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ (ابن ہشام ۱/۴۸۳، زادا لمعاد ۲/۵۲)
گھر سے غار تک:
رسول اللہ ﷺ ۲۷ صفر ۱۴ نبوت مطابق ۱۲ - ۱۳ ستمبر ۶۲۲ء (رحمۃ للعالمین ۱/۹۵ صفر کا یہ مہینہ چودھویں سنہ نبوت کا اس وقت ہو گا جب سنہ کا آغاز محرم کے مہینے سے مانا جائے اور اگر سنہ کی ابتداء اسی مہینے سے کریں۔ جس میں آپ ﷺ کو نبوت سے مشرف کیا گیا تھا تو صفر کا یہ مہینہ قطعی طور پر تیرہویں سنہ نبوت کا ہو گا۔ عام اہل سیر نے کہیں پہلا حساب اختیار کیا ہے اور کہیں دوسرا، جس کی وجہ سے واقعات کی ترتیب میں خبط اور غلطی میں پڑ گئے ہیں ہم نے سنہ کا آغاز محرم سے مانا ہے) کی درمیانی رات اپنے مکان سے نکل کر جان و مال کے سلسلے میں اپنے سب سے قابل اعتماد ساتھی ابو بکرؓ کے گھر تشریف لائے تھے اور وہاں سے پچھواڑے کی ایک کھڑکی سے نکل کر دونوں حضرات نے باہر کی راہ لی تھی تاکہ مکہ سے جلد از جلد، یعنی طلوع فجر سے پہلے پہلے باہر نکل جائیں۔
چونکہ نبی ﷺ کو معلوم تھا کہ قریش پوری جانفشانی سے آپ ﷺ کی تلاش میں لگ جائیں گے اور جس راستے پر اول و ہلہ میں نظر اٹھے گی وہ مدینہ کا کاروانی راستہ ہو گا جو شمال کے رخ پر جاتا ہے اس لیے آپ ﷺ نے وہ راستہ اختیار کیا جو اس کے بالکل الٹ تھا۔ یعنی یمن جانے والا راستہ جو مکہ کے جنوب میں واقع ہے۔ آپ ﷺ نے اس راستے پر کوئی پانچ میل کا فاصلہ طے کیا اور اس پہاڑ کے دامن میں پہنچے جو ثور کے نام سے معروف ہے۔ یہ نہایت بلند، پر پیچ اور مشکل چڑھائی والا پہاڑ ہے۔ یہاں پتھر بھی بکثرت ہیں۔ جن سے رسول اللہ ﷺ کے دونوں پاؤں زخمی ہو گئے اور کہا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نشان قدم چھپانے کے لیے پنجوں کے بل چل رہے تھے۔ اس لیے آپ ﷺ کے پاؤں زخمی ہو گئے۔ بہرحال وجہ جو بھی رہی ہو حضرت ابو بکرؓ نے پہاڑ کے دامن میں پہنچ کر آپ ﷺ کو اٹھا لیا اور دوڑتے ہوئے پہاڑ کی چوٹی پر ایک غار کے پاس جا پہنچے جو تاریخ میں ''غارِ ثور'' کے نام سے معروف ہے۔ (مختصر السیرۃ للشیخ عبد اللہ ص ۱۶۷)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
غار میں:
غار کے پاس پہنچ کر ابو بکرؓ نے کہا: اللہ کے لیے ابھی آپ ﷺ اس میں داخل نہ ہوں۔ پہلے میں داخل ہو کر دیکھے لیتا ہوں۔ اگر اس میں کوئی چیز ہوئی تو آپ ﷺ کے بجائے مجھے اس سے سابقہ پیش آئے گا۔ چنانچہ حضرت ابو بکرؓ اندر گئے اور غار کو صاف کیا۔ ایک جانب چند سوراخ تھے۔ انہیں اپنا تہبند پھاڑ کر بند کیا لیکن دو سوراخ باقی بچ رہے۔ حضرت ابو بکر ؓ نے ان دونوں میں اپنے پاؤں ڈال دیے۔ پھر رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ اندر تشریف لائیں۔
آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابو بکرؓ کی آغوش میں سر رکھ کر سو گئے۔ ادھر ابو بکرؓ کے پاؤں میں کسی چیز نے ڈس لیا۔ مگر اس ڈر سے ہلے بھی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ جاگ نہ جائیں لیکن ان کے آنسو رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر ٹپک گئے۔ (اور آپ ﷺ کی آنکھ کھل گئی) آپ ﷺ نے فرمایا: ابو بکر ؓ تمہیں کیا ہوا؟ عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے کسی چیز نے ڈس لیا ہے رسول اللہ ﷺ نے اس پر لعاب دہن لگا دیا اور تکلیف جاتی رہی۔ (یہ بات زرین نے حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت کی ہے۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ پھر یہ زہر پھوٹ پڑا۔ (یعنی موت کے وقت اس کا اثر پلٹ آیا) اور یہی موت کا سبب بنا۔ دیکھئے: مشکوٰۃ ۲/۵۵۶، باب مناقب ابی بکر۔)
یہاں دونوں حضرات نے تین راتیں یعنی جمعہ، سنیچر اور اتوار کی راتیں غار میں چھپ کر گزاریں۔ (فتح الباری ۷/۳۳۶) اس دوران ابو بکرؓ کے صاحبزادے عبد اللہ بھی یہیں رات گزارتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ وہ گہری سوجھ بوجھ کے مالک، سخن فہم نوجوان تھے۔ سحر کی تاریکی میں ان دونوں حضرات کے پاس سے چلے جاتے، اور مکہ میں قریش کے ساتھ یوں صبح کرتے گویا انہوں نے یہیں رات گزاری ہے۔ پھر آپ دونوں کے خلاف کے سازش کی جو کوئی بات سنتے اسے اچھی طرح یاد کر لیتے اور جب تاریکی گہری ہو جاتی تو اس کی خبر لے کر غار میں پہنچ جاتے۔
ادھر حضرت ابو بکرؓ کے غلام عامر بن فُہَیْرَہ بکریاں چراتے رہتے اور جب رات کا ایک حصہ گزر جاتا تو بکریاں لے کر ان کے پاس پہنچ جاتے۔ اس طرح دونوں حضرات رات کو آسودہ ہو کر دودھ پی لیتے۔ پھر صبح تڑکے ہی عامر بن فُہیرہ بکریاں ہانک کر چل دیتے۔ تینوں رات انہوں نے یہی کیا۔ (صحیح بخاری ۱/۵۵۳، ۵۵۴) (مزید یہ کہ) عامر بن فہیرہ، حضرت عبد اللہ بن ابی بکرؓ کے مکہ جانے کے بعد انہیں کے نشانات قدم پر بکریاں ہانکتے تھے تاکہ نشانات مٹ جائیں۔ (ابن ہشام ۱/۴۸۶)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قریش کی تگ و دَو:
ادھر قریش کا یہ حال تھا کہ جب منصوبۂ قتل کی رات گزر گئی اور صبح کو یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں تو ان پر گویا جنون طاری ہو گیا۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنا غصہ حضرت علیؓ پر اتارا آپ کو گھسیٹ کر خانہ کعبہ لے گئے اور ایک گھڑی زیر حراست رکھا کہ ممکن ہے ان دونوں کی خبر لگ جائے۔ (تاریخ طبری ۲/۳۷۴)
لیکن جب حضرت علیؓ سے کچھ حاصل نہ ہوا تو ابو بکرؓ کے گھر آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ برآمد ہوئیں۔ ان سے پوچھا: تمہارے ابا کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: واللہ! مجھے معلوم نہیں کہ میرے ابا کہاں ہیں۔ اس پر کمبخت خبیث ابو جہل نے ہاتھ اٹھا کر ان کے رخسار پر اس زور کا تھپڑ مارا کہ ان کے کان کی بالی گر گئی۔ (ابن ہشام ۱/۴۸۷)
اس کے بعد قریش نے ایک ہنگامی اجلاس کر کے یہ طے کیا کہ ان دونوں کو گرفتار کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل کام میں لائے جائیں۔ چنانچہ مکے سے نکلنے والے تمام راستوں پر خواہ وہ کسی بھی سمت جا رہا ہو نہایت کڑا مسلح پہرہ بٹھا دیا گیا۔ اسی طرح یہ اعلان عام بھی کیا گیا کہ جو کوئی رسول اللہ ﷺ اور ابو بکرؓ کو یا ان میں سے کسی ایک کو زندہ یا مردہ حاضر کرے گا اسے ہر ایک کے بدلے سو اونٹوں کا گرانقدر انعام دیا جائے گا۔ (صحیح بخاری ۱/۵۵۴)
اس اعلان کے نتیجے میں سوار اور پیادے اور نشانات قدم کے ماہر کھوجی نہایت سرگرمی سے تلاش میں لگ گئے اور پہاڑوں، وادیوں اور نشیب و فراز میں ہر طرف بکھر گئے لیکن نتیجہ اور حاصل کچھ نہ رہا۔
تلاش کرنے والے غار کے دہانے تک بھی پہنچے لیکن اللہ اپنے کام پر غالب ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ ابو بکرؓ نے فرمایا: میں نبی ﷺ کے ساتھ غار میں تھا۔ سر اٹھا یا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگوں کے پاؤں نظر آ رہے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اگر ان میں سے کوئی شخص محض اپنی نگاہ نیچی کر دے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ابو بکر! خاموش رہو (ہم) دو ہیں جن کا تیسرا اللہ ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں :
ما ظنک یا أبا بکر باثنین اللہ ثالثھما (ایضاً ۱/۵۱۶، ۵۵۸۔ ایسا ہی مسند احمد ۱/۴ میں ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ابو بکرؓ کا اضطراب اپنی جان کے خوف سے نہ تھا بلکہ اس کا واحد سبب وہی تھا۔ جو اس روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ ابو بکرؓ نے جب قیافہ شناسوں کو دیکھا تو رسول اللہ ﷺ پر آپ کا غم فزوں تر ہو گیا اور آپ نے کہا: اگر میں مارا گیا تو میں محض ایک آدمی ہوں لیکن اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیے گئے تو پوری امت ہی غارت ہو جائے گی اور اسی موقع پر ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ غم نہ کرو۔ یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ دیکھئے: مختصرالسیرۃ للشیخ عبداللہ ص ۱۶۸)
''ابو بکر! ایسے دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ جن کا تیسرا اللہ ہے۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک معجزہ تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مشرف فرمایا، چنانچہ تلاش کرنے والے اس وقت واپس پلٹ گئے۔ جب آپ ﷺ کے درمیان اور ان کے درمیان چند قدم سے زیادہ فاصلہ باقی نہ رہ گیا تھا۔
مدینہ کی راہ میں:
جب جستجو کی آگ بجھ گئی۔ تلاش کی تگ و دو رک گئی اور تین روز کی مسلسل اور بے نتیجہ دوڑ دھوپ کے بعد قریش کے جوش و جذبات سرد پڑ گئے تو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکرؓ نے مدینہ کے لیے نکلنے کا عزم فرمایا۔ عبد اللہ بن اریقط لَیْثی سے، جو صحرائی اور بیابانی راستوں کا ماہر تھا، پہلے ہی اجرت پر مدینہ پہنچانے کا معاملہ طے ہو چکا تھا۔ یہ شخص ابھی قریش ہی کے دین پر تھا لیکن قابل اطمینان تھا۔ اس لیے سواریاں اس کے حوالے کر دی گئی تھیں اور طے ہوا تھا کہ تین راتیں گزر جانے کے بعد وہ دونوں سواریاں لے کر غار ثور پہنچ جائے گا۔ چنانچہ جب دو شنبہ کی رات جو ربیع الاول ۱ھ کی چاند رات تھی (مطابق ۱۶ستمبر ۶۲۲ء) عبد اللہ بن اریقط سواریاں لے کر آ گیا اور اسی موقع پر ابو بکرؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں افضل ترین اونٹنی پیش کرتے ہوئے گزارش کی کہ آپ میری ان دو سواریوں میں سے ایک قبول فرما لیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیمتاً
ادھر اسماء بنت ابی بکر ؓ بھی زاد سفر لے کر آئیں۔ مگر اس میں لٹکانے والا بندھن لگانا بھول گئیں۔ جب روانگی کا وقت آیا اور حضرت اسماء نے توشہ لٹکانا چاہا تو دیکھا کہ اس میں بندھن ہی نہیں ہے۔ انہوں نے اپنا پٹکا (کمر بند) کھولا اور دو حصوں میں چاک کر کے ایک میں توشہ لٹکا دیا اور دوسرا کمر میں باندھ لیا۔ اسی وجہ سے ان کا لقب ذاتُ النّطاقین پڑ گیا۔ (صحیح بخاری ۱/۵۵۳، ۵۵۵، ابن ہشام ۱/۴۸۶)
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اور ابو بکرؓ نے کوچ فرمایا۔ عامر بن فُہیرہؓ بھی ساتھ تھے۔ دلیل راہ عبد اللہ بن اریقط نے ساحل کا راستہ اختیار کیا۔
غار سے روانہ ہو کر اس نے سب سے پہلے یمن کے رخ پر چلایا اور جنوب کی سمت خوب دورتک لے گیا۔ پھر پچھم کی طرف مڑا اور ساحل سمندر کا رخ کیا۔ پھر ایک ایسے راستے پر پہنچ کر جس سے عام لوگ واقف نہ تھے۔ شمال کی طرف مڑ گیا ، یہ راستہ ساحل بحرِ احمر کے قریب ہی تھا اور اس پر شاذ و نادر ہی کوئی چلتا تھا۔
رسول اللہ ﷺ اس راستے میں جن مقامات سے گزرے ابن اسحاق نے ان کا تذکرہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب راہنما آپ دونوں کو ساتھ لے کر نکلا تو زیرین مکہ سے لے چلا پھر ساحل کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا زیرین عسفان سے راستہ کاٹا، پھر زیرین امج سے گزرتا ہوا آگے بڑھا اور قدید پار کرنے کے بعد پھر راستہ کاٹا اور وہیں سے آگے بڑھتا ہوا خرار سے گزرا۔ پھر ثنیۃ المرہ سے، پھر لقف سے، پھر بیابان لقف سے گزرا، پھر مجاح کے بیابان
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
میں پہنچا اور وہاں سے پھر مجاح کے موڑ سے گزرا۔ پھر ذی الغضوین کے موڑ کے نشیب میں چلا۔ پھر ذی کشرکی وادی میں داخل ہوا۔ پھر جداجد کا رخ کیا۔ پھر اجرد پہنچا اور اس کے بعد بیابان تعہن کے وادئ ذو سلم سے گزرا۔ وہاں سے عبابید اور اس کے بعد فاجہ کا رخ کیا۔ پھر عرج میں اترا۔ پھر رکوبہ کے داہنے ہاتھ ثنیۃ العائر میں چلا، یہاں تک کہ وادی رئم میں اترا اور اس کے بعد قباء پہنچ گیا۔ (ابن ہشام ۱/۴۹۱، ۴۹۲)
آیئے! اب راستے کے چند واقعات بھی سنتے چلیں:
صحیح بخاری میں حضرت ابو بکر صدیقؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہم لوگ (غار سے نکل کر) رات بھراور دن میں دوپہر تک چلتے رہے۔ جب ٹھیک دوپہر کا وقت ہو گیا، راستہ خالی ہو گیا اور کوئی گزرنے والا نہ رہا تو ہمیں ایک لمبی چٹان دکھلائی پڑی جس کے سائے پر دھوپ نہیں آئی تھی۔ ہم وہیں اترپڑے۔ میں نے اپنے ہاتھ سے نبی ﷺ کے سونے کے لیے ایک جگہ برابر کی اور اس پر ایک پوستین بچھا کر گزارش کی اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو جائیں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد و پیش کی دیکھ بھال کیے لیتا ہوں۔ آپ ﷺ سو گئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد و پیش کی دیکھ بھال کے لیے نکلا۔ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں لیے چٹان کی جانب چلا آ رہا ہے، وہ بھی اس چٹان سے وہی چاہتا تھا جوہم نے چاہا تھا۔ میں نے اس سے کہا: اے جوان تم کس کے آدمی ہو؟ اس نے مکہ یا مدینہ کے کسی آدمی کا ذکر کیا۔ (ایک روایت میں ہے کہ اس نے قریش کے ایک آدمی کا بتلایا)
میں نے کہا: تمہاری بکریوں میں کچھ دودھ ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: دوھ سکتا ہوں۔ اس نے کہا: ہاں اور ایک بکری پکڑی۔ میں نے کہا: ذرا تھن کومٹی، بال اور تنکے وغیرہ سے صاف کر لو۔ اس نے ایک کاب میں تھوڑا سا دودھ دوہا اور میرے پاس ایک چرمی لوٹا تھا جو میں نے رسول اللہ ﷺ کے پینے اور وضو کرنے کے لیے رکھ لیا تھا۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا لیکن گوارانہ ہوا کہ آپ کو بیدار کروں۔ چنانچہ جب آپ بیدار ہوئے تومیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور دودھ پر پانی انڈیلا یہاں تک کہ اس کا نچلا حصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے کہا: اے اللہ کے رسول (ﷺ)! پی لیجئے۔ آپ نے پیا یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا: ابھی کوچ کا وقت نہیں ہوا؟ میں کہا: کیوں نہیں؟ اس کے بعد ہم لوگ چل پڑے۔ (صحیح البخاری ۱/۵۱۰)
اس سفر میں ابو بکرؓ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ نبی ﷺ کے ردیف رہا کرتے تھے۔ یعنی سواری پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا کرتے تھے۔ چونکہ ان پر بڑھاپے کے آثار نمایاں تھے۔ اس لیے لوگوں کی توجہ انہیں کی طرف جاتی تھی۔ نبی ﷺ پر ابھی جوانی کے آثار غالب تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف توجہ کم جاتی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کسی آدمی سے سابقہ پڑتا تو وہ ابو بکرؓ سے پوچھتا کہ یہ آپ کے آگے کون سا آدمی ہے؟ (حضرت
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ابو بکرؓ اس کا بڑا لطیف جواب دیتے ) فرماتے: ''یہ آدمی مجھے راستہ بتاتا ہے۔'' اس سے سمجھنے والا سمجھتا کہ وہ یہی راستہ مراد لے رہے ہیں حالانکہ وہ خیر کا راستہ مراد لیتے تھے۔ (صحیح البخاری عن انس ۱/۵۵۶)
"اسی سفر میں دوسرے یا تیسرے دن آپ ﷺ کا گزر اُمّ معبد خزاعیہ کے خیمے سے ہوا۔ یہ خیمہ قدید کے اطرف میں مشلل کے اندر واقع تھا۔ اس کا فاصلہ مکہ مکرمہ سے ایک سوتیس (۱۳۰) کلومیٹر ہے۔ اُمّ معبد ایک نمایاں اور توانا خاتون تھیں۔ ہاتھ میں گھٹنے ڈالے خیمے کے صحن میں بیٹھی رہتیں اور آنے جانے والے کو کھلاتی پلاتی رہتیں۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ پاس میں کچھ ہے؟ بولیں: واللہ! ہمارے پاس کچھ ہوتا تو آپ لوگوں کی میزبانی میں تنگی نہ ہوتی۔ بکریاں بھی دور دراز ہیں۔ یہ قحط کا زمانہ تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ خیمے کے ایک گوشے میں ایک بکری ہے۔ فرمایا: ام معبد! یہ کیسی بکری ہے؟ بولیں: اسے کمزوری نے ریوڑ سے پیچھے چھوڑ رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا کہ اس میں کچھ دودھ ہے؟ بولیں: وہ اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اجازت ہے کہ اسے دھو لوں؟ بولیں: ہاں، میرے ماں باپ تم پر قربان۔ اگر تمہیں اس میں دودھ دکھائی دے رہا ہے تو ضرور دھو لو۔ اس گفتگو کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس بکری کے تھن پر ہاتھ پھیرا، اللہ کا نام لیا اوردعا کی۔ بکری نے پاؤں پھیلا دیئے۔ تھن میں بھرپور دودھ اُتر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام معبد کا ایک بڑا سا برتن لیا جو ایک جماعت کو آسودہ کر سکتا تھا اور اس میں اتنا دوہا کہ جھاگ اوپر آ گیا۔ پھر ام معبد کو پلایا، وہ پی کر شکم سیر ہو گئیں تو اپنے ساتھیوں کو پلایا۔ وہ بھی شکم سیر ہو گئے تو خود پیا، پھر اسی برتن میں دوبارہ اتنا دودھ دوہا کہ برتن بھر گیا اور اسے ام معبد کے پاس چھوڑ کر آگے چل پڑے۔
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ان کے شوہر ابو معبد اپنی کمزور بکریوں کو، جو دُبلے پن کی وجہ سے مریل چال چل رہی تھیں، ہانکتے ہوئے آ پہنچے۔ دودھ دیکھا تو حیرت میں پڑ گئے۔ پوچھا: یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟ جبکہ بکریاں دور دراز تھیں اور گھر میں دودھ دینے والی بکری نہ تھی؟ بولیں: واللہ! کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ ہمارے پاس سے ایک بابرکت آدمی گزرا جس کی ایسی اور ایسی بات تھی اور یہ اور یہ حال تھا۔ ابو معبد نے کہا: یہ تو وہی صاحب قریش معلوم ہوتا ہے جسے قریش تلاش کر رہے ہیں۔ اچھا ذرا اس کی کیفیت تو بیان کرو۔ اس پر اُمِ معبد نے نہایت دلکش انداز سے آپ ﷺ کے اوصاف و کمالات کا ایسا نقشہ کھینچا کہ گویا سننے والا آپ ﷺ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہے -- کتا ب کے اخیر میں یہ اوصاف درج کیے جائیں گے -- یہ اوصاف سن کر ابو معبد نے کہا: واللہ! یہ تو وہی صاحبِ قریش ہے جس کے بارے میں لوگوں نے قسم قسم کی باتیں بیان کی ہیں۔ میرا ارادہ ہے کہ آپ ﷺ کی رفاقت اختیار کروں اور کوئی راستہ ملا تو ایسا ضرور کروں گا۔
ادھرمکے میں ایک آواز ابھری جسے لوگ سن رہے تھے مگر اس کا بولنے والا دکھائی نہیں پڑرہا تھا۔ آواز یہ تھی:
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جزی اللہ رب العرش خیر جزائہ رفیقین حـلا خیمتی أم معبـد
ہمـا نـزلا بالبـر وارتحـلا بـــہ وأفلح من أمسی رفیق محمـد
فیـا لقصـی مـا زوی اللہ عنکـم بہ من فعال لا یجازی وسودد
لیہن بـنی کـعب مـکان فتاتہـم ومقعدہـا للمؤمنیـن بمرصد
سلوا أختکـم عن شأتہـا وإنائہا فإنکم إن تسألوا الشـاۃ تشہـد
''اللہ رب العرش ان دو رفیقوں کو بہتر جزا دے جو امِ معبد کے خیمے میں نازل ہوئے۔ وہ دونوں خیر کے ساتھ اترے اور خیر کے ساتھ روانہ ہوئے اور جو محمد ﷺ کا رفیق ہوا وہ کامیاب ہوا۔ ہائے قصی! اللہ نے اس کے ساتھ کتنے بے نظیر کارنامے اور سرداریاں تم سے سمیٹ لیں۔ بنو کعب کو ان کی خاتون کی قیام گاہ اور مومنین کی نگہداشت کا پڑاؤ مبارک ہو۔ تم اپنی خاتون سے اس کی بکری اور برتن کے متعلق پوچھو۔ تم خود بکری سے پوچھو گے تو وہ بھی شہادت دے گی۔''
حضرت اسماء ؓ کہتی ہیں: ہمیں معلوم نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کدھر کا رخ فرمایا ہے کہ ایک جن زیرین مکہ سے یہ اشعار پڑھتا ہوا آیا۔ لوگ اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ اس کی آواز سن رہے تھے لیکن خود اسے نہیں دیکھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ بالائی مکہ سے نکل گیا، وہ کہتی ہیں کہ جب ہم نے اس کی بات سنی تو ہمیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے کدھر کا رُخ فرمایا ہے، یعنی آپ ﷺ کا رُخ مدینہ کی جانب ہے۔ ( زاد المعاد ۲/۵۳، ۵۴۔ مستدرک حاکم ۳/۹، ۱۰ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ اسے بغوی نے بھی شرح السنہ ۱۳/۲۶۴ میں روایت کیا ہے)
راستے میں سُراقَہ بن مالک نے تعاقب کیا اور اس واقعے کو خود سُراقہ نے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم بنی مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی آ کر ہمارے پاس کھڑا ہوا اور ہم بیٹھے تھے۔ اس نے کہا: اے سُراقَہ! میں نے ابھی ساحل کے پاس چند افراد دیکھے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی ہیں۔ سراقہ کہتے ہیں کہ میں سمجھ گیا یہ وہی لوگ ہیں لیکن میں نے اس آدمی سے کہا کہ یہ وہ لوگ نہیں ہیں۔ بلکہ تم نے فلاں اور فلاں کو دیکھا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے گزر کر گئے ہیں۔ پھرمیں مجلس میں کچھ دیر تک ٹھہرا رہا۔ اس کے بعد اٹھ کر اندر گیا اور اپنی لونڈی کو حکم دیا کہ وہ میرا گھوڑا نکالے اور ٹیلے کے پیچھے روک کر میرا انتظار کرے۔ ادھر میں نے اپنا نیزہ لیا، اور گھر کے پچھواڑے سے باہر نکلا۔ لاٹھی کا ایک سرا زمین پر گھسیٹ رہا تھا اور دوسرا اوپری سرا نیچے کر رکھا تھا۔ اس طرح میں اپنے گھوڑے کے پاس پہنچا اور اس پر سوار ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ حسب معمول مجھے لے کر دوڑ رہا ہے۔ یہاں تک کہ میں ان کے قریب آ گیا۔ اس کے بعد گھوڑا مجھ سمیت پھِسلا میں اس سے گر گیا، میں نے اٹھ کر ترکش کی طرف
 
Top