• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نذر کی ممانعت

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نذر اور اسکی قسمیں


عن عائشہ رضی اللہ عنھا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
" من نذر ان یطیع اللہ فلیطعہ و من نذر ان یعصیہ فلا تعصیہ"
جو شخص اس بات کی نذر مانے کہ وہ اللہ تعالی کی اطاعت کرے گا تو اسے اللہ تعالی کی اطاعت کرنی جاہیے[اپنی نذر پوری کرنی جاہیے] اور جو شخص نذر مانے کہ وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ تعالی کی نافرمانی نہ کرے۔
[صحیح البخاری: 6696، الایمان- سنن ابو داود: 3289، الایمان-سنن الترمذی: 1526، النذر و الایمان]
تشریح: اپنے آپ پر کسی چیز کو واجب کر لینے کا نام نذر ماننا یا منّت ماننا ہے۔

نذر کی قسمیں:

1۔ یہ نذر کبھی مطلق ہوتی ہے جیسے میں یہ نذر مانتا ہوں کہ روزانہ پچاس رکعت نفل پڑھوں گا یا میں اللہ تعالی سے یہ عہد کرتا ہوں کہ ہر ماہ دس دن کا روزہ رکھوں گا، شرعی طور پر ایسی نذر ماننا پسندیدہ اگرچہ نہیں ہے لیکن اگر نذر مان لی گئی تو اس کا پورا کرنا فرض و واجب ہے یہ نذر ناپسندیدہ اس لیے ہے کہ بندے نے اپنے اوپر ایک ایسی چیز کو واجب کرلیا جو اس پر شرعی طور پر واجب نہیں تھی اور بہت ممکن ہے کہ اس کی ادائیگی سے عاجز آجائے،

2۔ نذر کی دوسری صورت یہ ہے کہ کبھی کسی سبب کے ساتھ معلق کی جاتی ہے، جیسے اگر میرا بچہ شفایاب ہوگیا تو اللہ کے لئے ایک بکرا ذبح کروں گا، یہ نذر پہلی صورت سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا:
" نذر نہ مانو اس لئے کہ نذر تقدیر سے کسی چیز کو دور نہیں کرتی، سوا ئے اسکے کہ نذر کی وجہ سے بخیل کچھ مال خرچ کردیتا ہے"
[بخاری و مسلم]
یعنی گویا یہ شخص اللہ کی راہ میں اسی وقت خرچ کرے گا جب اس کا کسی قسم کا فائدہ ہوگا اور اگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو اللہ تعالی کے راستے پر خرچ نہ کرے گا، البتہ اس کا بھی پورا کرنا ضروری اور واجب ہے۔

3۔ نذر کی ایک تیسری صورت وہ ہوتی ہے جس میں بندہ اللہ تعالی کی نافرمانی کی نذر مانتا ہے، جیسے کوئی یہ کہے: میرا یہ کام ہوجائے تو فلاں مزار پر چراغ جلاؤں گا یا چادر چڑھاؤں گا، یا کسی سے ناراض ہوکر اس سے بات نہ کرنے کی نذر مان لے، اس نذر کا حکم یہ ہے اسکا پورا کرنا جائز نہیں ہے بلکہ بسا اوقات اس نذر کا پورا کرنا کفر و شرک تک پہنچا دیتا ہے، البتہ اس نذر کو توڑنے کی وجہ سے اس پر قسم کا کفارہ واجب ہوگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
" کسی گناہ کے کام کی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ، قسم کا کفارہ ہے"
[سنن ابوداود، الترمذی]
یعنی اگر کوئی شخص کسی گناہ کے کام کی نذر مانتا ہے تو اس پر واجب کہ نذر کو پورا نہ کرے بلکہ اسے توڑ دے اور قسم کا کفارہ ادا کرے،
قسم کا کفارہ:
کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرنا، یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا دس مسکینوں کو کپڑا پہنانا، اور اگر ان تینوں کاموں سے کوئی ایک کام بھی نہ کرسے تو تین دن کا روزہ رکھنا۔
زیر بحث میں نذر کی انہیں صورتوں کا حکم بیان ہوا ہے البتہ نذر کی بعض اور قسمیں بھی ہیں جیسے:
نذر کی ایک قسم یہ ہے کہ کسی مکرہ اور شرعا ناپسندیدہ عمل کی نذر مانی جائے، جیسے بغیر کسی شرعی وجہ کے طلاق کی نذر ماننا، پیاز و لہسن کھا کر مسجد جانے کی قسم کھانا وغیرہ۔ اس کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اس نذر کا پورا کرنا بہتر نہیں ہے۔ بلکہ مستحب یہ ہے کہ اس کا کفارہ ادا کیا جائے۔
غصے اور جھگڑے کی نذر: اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ بندہ اپنے کو یا کسی اور شخص کو کسی کام سے روکنے یا کسی کام کے کرنے کے لئے نذر مانے جیسے یہ کہے کہ اگر میں نے ایسا کیا تو دو مہنے کا روزہ رکھوں گا یا ایک بکری ذبح کر کے لوگوں کی دعوت کروں گا۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ہے، چاہے تو پورا کرے یا قسم کا کفارہ ادا کرے، البتہ بہتر یہی ہے کہ اگر کسی عبادت کے کام کی نذر مانی ہے تو اسے پورا کرے اور اگر کسی عادت کے کام کی نذر مانی ہے تو اسے پورا کرنا یا کفارہ دینا دونوں برابر ہے۔جس چیز کا مالک نہ ہو اس کی منت ماننا : اس کی صورت یہ ہے کہ بندہ کسی ایسی چیز کے صدقہ و خیرات کی قسم کھائے جس کا وہ مالک نہیں ہے، اس نذر کا حکم ہے کہ اس کا پورا کرنا مشروع نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" اس نذر کو پورا کرنا جائز نہیں جس میں گناہ ہو اور اس نذر کو بھی پورا کرنا نہیں ہے جس کا آدمی مالک نہیں ہے"
[سنن ابو داود بروایت عمران}
اس پر کفارہ ہے کہ نہیں اس بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے احتیاط اسی میں ہے کہ اس کا کفارہ ادا کیا جائے۔
شکرانے کی نذر : اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کسی بندے کو معصیبت سے نجات مل گئی، اسے اولاد کی دولت نصیب ہوئی یا کسی خطرناک بیماری سے شفا مل گئی تو بطور شکریہ کے نذر مانے کہ میں نیکی کا یہ کام کروں گا، اس کا حکم یہ ہے کہ اسے پورا کرنا کار ثواب اور یہ ایک نیک عمل ہے، اللہ تعالی اپنے نیک بندوں کی تعریف فرماتا ہے:
" یوفون بالنذر ویخافون یوما کان شرہ مستطیرا"
"جو نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے"
[الانسان:7]
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,633
پوائنٹ
791
صحیح بخاری میں امام بخاری نے باب منعقد کیا ہے :
(بَابُ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ) نذر پورا کرنے کا باب
اس کے تحت حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں:
أَيْ حُكْمُهُ أَوْ فَضْلُهُ قَوْلُهُ وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى يُوفُونَ بِالنَّذْرِ يُؤْخَذُ مِنْهُ أَنَّ الْوَفَاءَ بِهِ قُرْبَةٌ لِلثَّنَاءِ عَلَى فَاعِلِهِ لَكِنَّ ذَلِكَ مَخْصُوصٌ بِنَذْرِ الطَّاعَةِ)
نذر کو پورا کرنے کا باب ‘‘ کا مطلب ہے :نذر کا شرعی حکم ،اور اسے پورا کرنے کی فضیلت ،اور اللہ تعالی نے ایمان والوں کی صفات حمیدہ
بتاتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنی نذر کو پورا کرتے ہیں ،جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ نذر کا ایفاء نیکی کا کام ہے ،لیکن یاد رہے ،یہ فضیلت
طاعت کی نذر سے خاص ہے ‘‘فتح الباری

اور جس حدیث میں نذر کی نھی کا ذکر ہے ،
«لَا تَنْذُرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ من الْبَخِيل»
اس کے متعلق علامہ خطابی ؒ فرماتے ہیں :
َقَالَ الْخَطَّابِيُّ: مَعْنَى نَهْيِهِ عَنِ النَّذْرِ إِنَّمَا هُوَ التَّأْكِيدُ لِأَمْرِهِ وَتَحْذِيرُ التَّهَاوُنِ بِهِ بَعْدَ إِيجَابِهِ، وَلَوْ كَانَ مَعْنَاهُ الزَّجْرَ عَنْهُ حتى يفعل لكان في ذلك إبطال حكمه وإسقاط لزوم الوفاء به، إذ صار معصية،
نذر سے روکنے سے مراد یہ ہے کہ نذر کی تاکید بتائی جائے ،اور اس کے معاملے میں سستی اور بے توجہی سے ڈرایا جائے،
((یعنی خبردار !۔۔نذر نہ مانو،،کیونکہ نذر مان لینے کے بعد اس کو پورا کرنا بہت اہم اور ضروری ہے ))اور اگر فی الواقع نذر ماننی منع ہوتی
تو اس کا لازم ہونا ساقط ہوجاتا ،

(فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ من الْبَخِيل)نذر تقدیر کے معاملے میں کچھ نفع نہیں دیتی ،نذر محض بخیل سے مال نکلوانے کا سبب ہے)
وإنما وجه الحديث أنه أعلمهم أن ذلك أمر لا يجلب لهم في العاجل نفعا ولا يصرف عنهم ضرا، ولا يرد شيئا قضاه الله تعالى بقول: " فلا تنذروا ". على أنكم تدركون بالنذر شيئا لم يقدره الله لكم، أو تصرفون عن أنفسكم شيئا جرى القضاء به عليكم، إذا فعلتم ذلك فاخرجوا عنه بالوفاء، فإن الذي نذرتموه لازم لكم.)(مرقاۃ المفاتیح)
یعنی نذر سے نھی کی حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ پیارے نبی ﷺ بتایا ہے کہ نذر کسی فوری فائدہ کا سبب نہیں بنتی ،اور نہ ہی کسی نقصان کو دور کرنے کا ذریعہ بنتی ہے ،اور نہ قضاء وقدر کے فیصلوں کو ٹال سکتی ہے،،اس لئے نذر نہ مانو ‘‘کا مطلب تم نذر وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتے، جو تمہارے مقدر میں نہیں ، نہ تقدیر میں لکھی مصیبت کو ٹال سکتے ہو ۔۔اس کے باوجود اگر تم نذر مان لوگے،تو کا پورا کرنا تم پر لازم ہوگا ،
 
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
431
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
79
۔

*نذر و منت ماننا مطلقا ممنوع ( مکروہ و حرام ) ہے*
*خواہ نذرِ اطاعت ہو ، خواہ نذرِ معصیت ہو*

*محدث العصر علامہ عبد المنان نورپوری رحمت اللہ علیہ*


*پی ڈی یف لنک :*



*آنلائین لنک :*

http://salafitehqiqimaqalat.blogspot.com/2025/06/blog-post.html


ہ ے ے ے ے ے ے ہ


سوال :

آپ فرماتے ہیں کہ نذر اطلاقاً منع ہے اگر مان لے تو پوری کرنی فرض ہے ۔

اس سلسلے میں یہ عرض تھی کہ درج ذیل حدیث کی روشنی میں وضاحت طلب ہے :

حَد َّثَنَا اَحْمَد ُبْنُ عَبْدۃَ الضَّبِیُّ حَدَّثَنَا الْمُغِیْرَۃُ بْنُ عَبْد ِالرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْد ِالرَّحْمٰنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدہٖ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ :
لَا نَذَرَ اِلاَّ فِیْمَا یُبْتَغٰی بِہٖ وَجْہُ اللّٰہِ ۔

" نذر صرف ان چیزوں میں ہے جن سے اللہ کی رضا مطلوب ہو ۔ "

اور دوسری روایت اس طرح تھی

" اِنَّمَا النَّذَرُ فِیْمَا ابْتُغِیَ بِہٖ وَجْہُ اللّٰہِ ۔"
مسند أحمد ، ۶۷۱۴ ، ۲۷۳۳

پہلی روایت ابوداؤد ، کتاب الایمان و النذور ، باب الیمین فی قطیعۃ الرحم میں ہے ۔

شیخ الالبانی رحمہ اللہ نے ان کی اسناد کو حسن کہا ہے ۔
التعلیقات الرضیۃ علی الروصۃ الندیۃ ، کتاب النذر ۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر اللہ کی اطاعت میں ماننی جائز ہے ۔

( شاہد محمود ، مد ینہ منورہ )



جواب :

جناب لکھتے ہیں کہ :
" آپ فرماتے ہیں کہ نذر اطلاقاً ممنوع ہے اگر مان لے تو پوری کرنی فرض ہے ۔ "

تو محترم
نذر کا اطلاقاً ممنوع ہونا
رسول اللہ ﷺ کی حدیث سے ثابت ہے ۔

چنانچہ صحیح بخاری میں ہے :

عَنْ عَبْد ِ اللّٰہِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ :
" نَھَی النَّبِیُّ ﷺ عَنِ النَّذْرِ " ، وَ قَالَ : إِنَّہٗ لَایَرُد ُّ شَیْئًا ، وَّ لٰکِنَّہٗ یُسْتَخْرَجُ بِہٖ مِنَ الْبَخِیْلِ " ۔ ( 1 )

" رسول اللہ ﷺ نے نذر سے منع فرمایا تھا اور فرمایا تھا کہ وہ کسی چیز کو واپس نہیں کر سکتی البتہ اس کے ذریعے بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے ۔ "

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں :

" و فی قول ابن عمر فی ھذہ الروایۃ : أَوَلَمْ تُنْھَوْا عَنِ النَّذْرِ ، نظر لأن المرفوع الذی ذکرہ لیس فیہ تصریح بالنھی ، لکن جاء عن ابن عمر التصریح ففی الروایۃ التی بعدھا من طریق عبد اللہ بن مرۃ و ھو الھمد انی بسکون المیم عن ابن عمر قال : نھی النبی ﷺ عن النذر ۔ و فی لفظ لمسلم من ھذا الوجہ : أخَذ رسول اللہ ﷺ ینھی عن النذر ۔ و جاء بصیغۃ النھی الصریحۃ فی روایۃ العلاء بن عبد الرحمن عن أبیہ عن أبی ھریرۃ عند مسلم بلفظ : لا تنذروا " ۔ ۱ھ ( ۱۱ / ۵۷۷ )

و قال الحافظ فی الفتح :
" و قال الترمذی بعد أن ترجم کراھۃ النذر و أورد حدیث أبی ھریرۃ ، ثم قال : و فی الباب عن ابن عمر : و العمل علی ھذا عند بعض اھل العلم من أصحاب النبی ﷺ وغیرھم کرھوا النذر ، و قال ابن المبارک : معنی الکراھۃ فی النذر فی الطاعۃ و فی المعصیۃ ، فإن نذر الرجل فی الطاعۃ فوفی بہ فلہ فیہ أجر ، و یکرہ لہ النذر " ۔ ۱ھ ( ۱۱ / ۵۷۸ ) و انظر لمعنی الکراھۃ عن السلف مقدمۃ تحفۃ الاحوذی ۔

تو آپ کا لکھنا
" اگر مان لے تو پوری کرنی فرض ہے "
علی الاطلاق درست نہیں خلاصہ کلام یہ ہوا کہ نذر ممنوع ہے خواہ نذرِ اطاعت ہو ، خواہ نذرِ معصیت ہو ، البتہ نذرِ اطاعت کو پورا کرنا فرض و ضروری ہے جب کہ نذرِ معصیت کو پورا کرنا حرام ہے اور ممنوع ہے ۔ ( 2 )

رہی آپ کی پیش کردہ روایت تو اس کی سند میں مغیرہ اور عبد الرحمن دو راوی ہیں جن پر بعض محدثین نے کلام کیا ہے اگر اس کلام کو در خور اعتناء سمجھا جاۓ تو روایت کمزور قرار پاتی ہے ، لہٰذا کوئی اشکال وارد ہی نہیں ہوتا کیوں کہ کمزور روایت کو لے کر صحیح متفق علیہ حدیث پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کمزور اور صحیح میں معارضہ قائم کیا جا سکتا ہے ۔ اور اگر اس کلام کو در خور اعتناء نہ سمجھا جاۓ تو اس کی اسناد کو حسن سمجھا جاۓ گا جیسا کہ آپ نے شیخ البانی رحمہ اللہ سے نقل فرمایا انہوں نے اسناد کو حسن کہا ، حدیث کو حسن نہیں کہا ۔ و فرق ما بینھما لا یخفی علی أہل العلم و المعرفة بالحدیث و مصطلحہ ۔

اس حدیث کو حسن تسلیم کر لیا جاۓ تو بھی یہ نہی عن النذر والی احادیث سے متعارض نہیں کیونکہ اس کا معنی و مفہوم وہی ہے جو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرفوع حدیث

" مَنْ نَذَر أَنْ یُطِیْعَ اللّٰہَ فَلْیُطِعْہُ ، وَ مَنْ نَذَرَ أَنْ یَعصِیَہٗ فَلَا یَعْصِہٖ ۔" ( 3 )

" نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
جس نے اس کی نذر مانی ہو کہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو اسے اطاعت کرنی چاہۓ لیکن جس نے اللہ کی نافرمانی کی نذر مانی ہو اسے نہ کرنی چاہۓ ۔ "
کا معنی و مفہوم ہے ۔

غور فرمائیں
اِلاَّ فِیْمَا یُبْتَغٰی بِہٖوَجْہُ اللّٰہِ
اور
اِنَّمَا النَّذَرُ فِیْمَا ابْتُغِیَ بِہٖ وَجْہُ اللّٰہِ

دونوں جملے خبریے ہیں اور حصر و قصر پر مشتمل ہیں تو ابو اسرائیل کی نذر
" أَنْ یَقُوْمَ ، وَ لَایَقْعُد َ ، وَ لَایَسْتَظِلَّ وَ لَایَتَکَلَّمَ " ( 4 )
رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے ایک آدمی کو کھڑے دیکھا ۔ " آپ ﷺ نے پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو اسرائیل ہے ۔ اس نے نذر مانی ہے کہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں ، نہ ساۓ میں بیٹھے گا ، نہ کسی سے بات کرے گا اور روزہ رکھے گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے کہو بات کرے ، سایہ کے نیچے بیٹھے اور روزہ پورا کرے ۔ " کہاں سے آگئی؟

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مندرجہ بالا حدیث

" من نذر أن یطیع اللّہ فلیطعہ ، و من نذر أن یعصیہ فلا یعصہ "
کا معنی و مفہوم کیا ہے ؟ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں :
" و الخبر صریح فی الأمر بوفاء النذر إذا کان فی طاعۃ ، و فی النھی عن ترک الوفاء بہ إذا کان فی معصیۃ ۔ ۱ھ ( ۱۱ / ۵۸۲ ) قولہ : و فی النھی عن ترک الوفائ… الخ کذا فی النسخۃ التی بیدی ، و الصواب : و فی النھی عن الوفاء بہ إذا کان فی معصیۃ ۔ فترک الترک ھنا ھو
الصحیح ۔ "

قال النواب رحمه اللہ تعالیٰ فی الروضۃ الندیۃ :
" قد ورد النھی عن النذر کما فی الصحیحین وغیرھما من حدیث ابن عمر قال : نھی رسول اللہ ﷺ عن النذر ، و قال : إنہ لایرد شیئا و إنما یستخرج بہ من مال البخیل ، و فیہما أیضا من حدیث أبی ھریرۃ نحوہ ، ثم ورد الاذن بالنذر فی الطاعۃ ، و النھی عنہ فی المعصیۃ کما فی الصحیحین وغیرھما من حدیث عائشۃ عن النبی ﷺ قال : من نذرأن یطیع اللہ فلیطعہ… الخ " ( ۲ / ۱۷۵ )

أقول : إِن الأحادیث التی ذکرھا النواب لاِثبات الاذن بالنذر فی الطاعۃ لاتدل علی الاذن و لا تثبته ، ثم لم یأت بدلیل ما علی تأخر أحادیث عائشۃ و عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ ، وغیرھما عن أحادیث ابن عمرو أبی ھریرۃ وغیرھما فی النھی عن النذر ۔

و اللہ اعلم

قرآن وحد یث کی رو شنی میں احکام ومسائل ، جلد 02 ، ص 793

ہ ے ے ے ے ے ہ

1 ۔ صحیح بخاری ، کتاب الایمان و النذور ، باب الوفاء بالنذر ۔

2 ۔ بخاری ، کتاب الایمان و النذور ، باب النذر فی الطاعۃ ۔

3 ۔ صحیح بخاری ، کتاب الایمان و النذور ، باب النذر فی الطاعۃ ۔

4 ۔ صحیح بخاری ، کتاب الایمان و النذور ، باب النذر فیما لا یملک و فی معصیۃ ۔

۔
 
Top