عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,539
- ری ایکشن اسکور
- 9,997
- پوائنٹ
- 667
تبصرہ
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ (8؍اگست 1939ء-18؍اکتوبر2009) ملت اسلامیہ ہند ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے ایک عظیم فرد تھے ۔موصوف ایک عظیم دانشور،ممتاز مصنف، و مترجم اور اردو ادب کے بلند ادیب تھے ۔آپ نے ابتدائی تعلیم جامعہ عالیہ عربیہ مئو سے حاصل کی اور جامعہ اسلامیہ فیض عام سے 1960ء میں سند فراغت حاصل کی ۔1963ء میں تعلیمی وظیفہ پر جامعہ ازہر چلے گئے وہاں اصول الدین فیکلٹی سے ماسٹر کیا اور 1967ء میں ہندوستان واپس آ گئے اور جامعہ سلفیہ بنارس سے منسلک ہو گئے ۔اور علی گڑھ یونیورسٹی سے 1972ء سے ایم فل اور 1975ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ جامعہ سلفیہ بنارس میں تعلیمی و تدریسی، تصنیفی اور انتظامی خدمات دیتے رہے۔ آپ جامعہ سلفیہ بنارس کے مسند تدریس پر ابتداء سے تا وفات فائز رہے۔تصنیف و تالیف ،تعریب و ترجمہ اور انشا پردازی و مضمون نگاری آپ کا خاص میدان تھا ۔ زیر نظر کتاب ’’ نقوش ازہری‘‘ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ کی چند یادگار تحریروں کا مجموعہ ہے جسے محمد مظہر اعظمی صاحب نے مرتب کر کے حسن ِطباعت سے آراستہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ کو جنت الفردوس میں بلند مقام دے اور ان کی دعوتی و تدریسی، تحقیقی و تصنیفی اور صحافتی کاوشوں کو قبول فرمائے ۔آمین (م۔)