• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نيكی كے دروازے

قاری مصطفی راسخ

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 07، 2012
پیغامات
664
ری ایکشن اسکور
738
پوائنٹ
301
نيكی كے دروازے


الحمدللّٰہ رب العالمین،والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد ﷺ،وعلی آلہ وصحبہ ومن دعا بدعوتہ الی یوم الدین ۔أما بعد
ایک اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کے ساتھ شرک نہ کرنے والے ہر مسلمان کے نام یہ پیغام ہے کہ سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ جب انسان اس دنیا سے جارہا ہو تو اللہ رب العزت نے اس کے تمام گناہوں کو معاف کر دیا ہواور قیامت کے دن اس کو کسی قسم کی ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دیں۔اسی جذبہ کے پیش نظر ہم نے اس پمفلٹ کے اندر چند ایسے امور کو بیان کر دیا ہے جو گناہوں کو مٹانے والے اور احادیث کے مطابق بہت بڑے اجر کے حامل ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے تمارے چھوٹے بڑے اعمال کو قبول فرمائے اور انہیں ہمارے لئے کل قیامت کو ذریعہ نجات بنائے۔آمین۔
۱۔توبہ کرنا:
جو شخص اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی صدق دل سے توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔[مسلم/۲۷۰۳] دوسری جگہ فرمایا:اللہ تعالیٰ موت کا غرغرہ بولنے سے پہلے پہلے توبہ قبول فرماتے ہیں۔
۲۔طلب علم کے لئے نکلنا:
((من سلک طریقا یلتمس فیہ علما ،سھل اللّٰہ لہ بہ طریقا الی الجنۃ))[مسلم/۲۶۹۹]’’جو شخص حصول علم کے لئے نکلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان بنا دیتے ہیں۔‘‘
۳۔اللہ کا ذکر کرنا:
((ألا أنبئکم بخیر أعمالکم۔۔۔۔۔۔۔قالوا بلی:قال !ذکر اللّٰہ تعالیٰ))[ترمذی/۳۳۴۷]’’نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کیا میں تمہیں بہترین ،اللہ کے نزدیک پاکیزہ ترین،بلند درجات والے ،سونا چاندی خرچ کرنے سے بھی افضل اورجہاد فی سبیل اللہ سے بھی اعلی اعمال کی خبر نہ دوں؟صحابہ نے کہا کیوں نہیں :آپ نے فرمایا! وہ اللہ کا ذکر ہے۔‘‘
۴۔نیکی کرنا اور نیکی کی طرف راہنمائی کرنا:
((کل معروف صدقۃ، والدال علی الخیر کفاعلہ))[بخاری ۱۰/۳۷۴ ، مسلم/۱۰۰۵]’’ہر نیکی صدقہ ہے اور نیکی کی طرف راہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔‘‘
۵۔اللہ کی طرف بلانا:
((من دعا الی ھدی کان لہ من الأجر مثل أجور من تبعہ ،لاینقص من أجورھم شیئا)) [مسلم/ ۲۶۷۴]’’ہدایت کی طرف بلانے والا پیروی کرنے والوں کے اجر میں برابر کا شریک ہے ،اور اس سے ان کے اجر میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔‘‘
۶۔امر بالمعروف ونہی عن المنکر:
((من راٰی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ،فان لم یستطع فبلسانہ، فان لم یستطع فبقلبہ،وذلک أضعف الایمان))[مسلم /۴۹]’’تم میں سے جو شخص برائی دیکھے وہ اس کو ہاتھ سے روکے،اگر اتنی طاقت نہیں تو زبان سے روکے،اور اگر اتنی بھی طاقت نہیں تو اسے دل سے برا جانے ،اور یہ کمزور ترین ایمان کی علامت ہے۔‘‘
۷۔قرآن مجید کی تلاوت کرنا:
((اقرؤوا القرآن فانہ یأتی یوم القیامۃ شفیعا لأصحابہ))[مسلم/۸۰۴]’’قرآن مجیدکی تلاوت کیا کرو کیونکہ یہ کل قیامت کو اپنی تلاوت کرنے والوں کے لئے سفارشی بن کر آئے گا۔‘‘
۸۔قرآن سیکھنا سکھانا:
((خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ))[بخاری /۹/۶۶]’’تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس نے خود قرآن سیکھا اورپھر لوگوں کو سکھایا۔‘‘
۹۔سلام کو عام کرنا:
((أفشوا السلام بینکم))[مسلم/۵۴]’’تم آپس میں سلام کو عام کرو۔‘‘
۱۰۔اللہ کے لئے محبت کرنا:
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔((أین المتحابون بجلالی،الیوم أظلھم فی ظلی ،یوم لا ظل الا ظلی))[مسلم/۲۵۶۶]’’میرے لئے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟آج میں ان کو اپنے سائے میں لے لوں ،جس دن میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہے۔‘‘
۱۱۔ مریض کی عیادت کرنا:
جب کوئی شخص کسی بیمار مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
۱۲۔قرض ادا کرنے میں لوگوں کی مدد کرنا:
((من یسر علی معسر ،یسر اللّٰہ علیہ فی الدنیا والآخرۃ))[مسلم/۲۶۹۹]’’جو کسی تنگدست پر آسانی کرے گا ،اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کریں گے۔‘‘
۱۳۔لوگوں کے عیوب کی پردہ پوشی کرنا:
((لا یستر عبد عبدا فی الدنیا الا سترہ اللہ یوم القیامۃ))[مسلم/۲۵۹۰]’’جو شخص دنیا میں کسی کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈال دیں گے۔‘‘
۱۴۔صلہ رحمی:
((الرحم معلقۃ بالعرش تقول من وصلنی وصلہ اللہ ،ومن قطعنی قطعہ اللہ ))[بخاری/مسلم]’’رحم اللہ تعالیٰ کے عرش سے معلق ہو آواز دیتی ہے کہ جس نے مجھے ملایا اللہ اس کو ملائے گا اور جس نے مجھے کاٹا اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دے گا۔‘‘
۱۵۔حسن اخلاق:
نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سے نیکی لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرے گی؟تو آپ نے فرمایا:((تقوی اللہ وحسن الخلق))[ترمذی/۲۰۰۳]’’اللہ کا خوف اور اچھا اخلاق۔‘‘
۱۶۔سچ بولنا:
((علیکم بالصدق فان الصدق یھدی الی البر،وان البر یھدی الی الجنۃ))[بخاری، مسلم]’’سچائی کو لازم پکڑوبے شک سچائی نیکی کی طرف راہنمائی کرتی ہے ،اور نیکی انسان کو جنت میں لے جانے والی ہے۔‘‘
۱۷۔غصہ پر قابو پا لینا:
((من کظم غیظاوھو قادر علی أن ینفذہ،دعاہ اللہ علی رؤوس الخلائق یوم القیامۃ حتی یخیرہ من الحور العین ماشائ))[ترمذی/۲۰۲۲]’’جس شخص نے اپنے غصہ پر قابو پا لیا اور وہ اس کو نافذ کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے ،قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس آدمی کو ساری مخلوقات کے سامنے بلائے گا کہ حور عین میں سے جس کو چاہے اختیار کر لے۔‘‘
۱۸۔ کفارہ مجلس:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی مجلس میں لغو باتیں کرتا رہا پھر اٹھنے سے پہلے پہلے اس نے یہ دعا’’سبحانک اللّٰھم وبحمدک ،اشھد أن لاالہ الا أنت أستغفرک وأتوب الیک‘‘پڑھ لی تو اللہ تعالیٰ اس کے مجلس میں سرزد ہو جانے والے اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔‘‘[ترمذی ۳/۱۵۳]
۱۹۔صبر:
مسلمان شخص کو جو کوئی بھی مصیبت یا تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گنا ہ معاف فر ما دیتے ہیں۔[بخاری ۱۰/۹۱]
۲۰۔والدین کے ساتھ حسن سلوک:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا :اس کی ناک خاک آلود ،پھر اس کی ناک خاک آلود ہو،پھر اس کی ناک خاک آلود ہو ۔صحابہ نے پوچھا: کس کی ناک خاک آلود ہو یا رسول اللہ ؟تو آپ نے فرمایا:((من أدرک والدیہ عند الکبر أحدھما أو کلاھما ثم لم یدخل الجنۃ))[مسلم /۲۵۵۱]’’جس نے اپنی زندگی میں اپنے بوڑھے والدین میں سے ایک یا دونوں کو پا لیا پھر ان کی خدمت کر جنت میں نہ چلا گیا۔‘‘
۲۱۔بیوہ اور مسکین کے ساتھ تعاون:
((الساعی علی الأرملۃ والمسکین کالمجاہد فی سبیل اللہ))[بخاری۱۰ /۳۶۶] ’’بیواؤں اور مسکینوں کی اخراجات کو برداشت کر نے والا جہاد فی سبیل اللہ کرنے والے کی مانند ہے۔‘‘
۲۲۔یتیم کی کفالت:
((انا وکافل الیتیم فی الجنۃ ھکذا ،وقال باصبعیہ السبابۃ والوسطیٰ))[بخاری ۱۰/۳۶۵]’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح اکٹھے ہونگے، پھر آپ نے اپنی شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔‘‘
۲۳۔وضو کرنا:
((من توضأ فأحسن الوضوء خرجت خطایاہ من جسدہ،حتی تخرج من تحت أظفارہ)) [مسلم۲۳۴] ’’جس شخص نے احسن طریقے سے وضو کیا اس کے جسم کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں، حتی کی ناخنوں کے نیچے سے بھی۔‘‘
۲۴۔وضو کے بعد کلمہ شہادت:
((من توضأ فأحسن الوضوء ثم قال:أشھد أن لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وأشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ اللھم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین،فتحت لہ أبواب الجنۃ یدخل من أیھا شائ))[مسلم ۲۳۴]’’جس شخص نے احسن طریقے سے وضو کیا اور وضو کے بعد کہا :’’أشھد أن لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وأشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ اللھم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین‘‘تو اس کے جنت کے سارے دروازے کھول دئیے جائیں گے جس سے چاہے داخل ہو جائے۔‘‘
۲۵۔اذان کا جواب:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اذان کے بعد کہا :((اللھم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ والصلاۃ القائمۃ ، آت محمدا الوسیلۃ والفضیلۃ ،وابعثہ مقاما محمودا الذی وعدتہ ))اس کے لئے قیامت کے دن میری سفارش واجب ہو گئی۔‘‘
۲۶۔مساجد بنانا:
((من بنی مسجدا یبتغی بہ وجہ اللہ بنی لہ مثلہ فی الجنۃ))[بخاری ۴۵۰]’’جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے مسجد بنوائی اللہ تعالیٰ اس کے لئے ویسا ہی گھر جنت میں بنائیں گے۔‘‘
۲۷۔مسواک کرنا:
((لو لا أن أشق علی أمتی لأمرتھم السواک مع کل صلاۃ))[بخاری ،مسلم]’’اگر میں اپنی امت پر بھاری نہ جانتا تو انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔‘‘
۲۸۔مسجد کی طرف جانا:
((من غدا الی المسجد او راح ،أعد اللہ لہ نزلا فی الجنۃ کلما غدا او راح))[بخاری ،مسلم]’’جو شخص صبح وشام مسجد میں جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک مہمانی تیار کرتے ہیں جب بھی وہ جاتا ہے۔‘‘
۲۹۔پانچ نمازیں:
جو شخص پانچوں فرض نمازوں میں اچھے طریقے سے وضو کر کے خشوع خضوع کے ساتھ ان نمازوں کو ادا کرتا ہے تو یہ نمازیں اس کے تمام صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں جب تک آدمی کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔[مسلم/۲۲۸]
۳۰۔نماز فجر وعصر:
((من صلی البردین دخل الجنۃ))[بخاری ]’’جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں پڑھتا ہے وہ جنت میں جائے گا۔‘‘
۳۱۔نماز جمعہ:
((من توضأ فأحسن الوضوء ،ثم أتی الجمعۃ فاستمع وأنصت غفر لہ ما بینہ وبین الجمعۃ الأخری ،وزیادۃ ثلاثۃ أیام))[مسلم/۸۵۷]’’جو شخص اچھے طریقے سے وضو کر کے نماز جمعہ کے لئے آیا اورخاموشی کے ساتھ خطبہ سنا ،اس کے دو جمعوں اور مزید تین دن کے درمیان کئے گئے گناہوں کو معاف کر دیا جاتا ہے۔‘‘
۳۲۔ جمعہ کے دن مقبولیت کی گھڑی:
’’اس دن میں ایک ایسی گھڑی آتی کہ اس وقت اللہ سے جو بھی دعا کی جائے اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں۔‘‘[بخاری ،مسلم]
۳۳۔سنن مؤکدہ کی ادائیگی:
((ما من عبد مسلم یصلی للہ تعالیٰ کل یوم اثنتی عشرۃ رکعۃ تطوعا غیر الفریضۃالا بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ))[مسلم]’’جو مسلمان ہر دن فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعات سنن ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بناتے ہیں۔‘‘
۳۴۔گناہ کر لینے کے بعد دو رکعت نمازنفل ادا کرنا:
((ما من عبد یذنب ذنبا ،فیحسن الطھور ثم یقوم فیصلی رکعتین،ثم یستغفر اللہ الا غفر لہ))[ابو داؤد/۱۵۲۱]’’کوئی بھی شخص جب گناہ کر لینے کے بعد اچھی طرح سے وضوکر کے دو رکعت نماز ادا کر کے اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی بخشش طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اس گناہ کو معاف فرما دیتے ہیں۔‘‘
۳۵۔رات کی نماز :
((أفضل الصلاۃ بعد الفریضۃ صلاۃ اللیل))[مسلم/۱۱۶۳]’’فرض نماز وںکے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔‘‘
۳۶۔نماز چاشت:
((یصبح علی کل سلامی من أحدکم صدقۃ،فکل تسبیحۃ صدقۃ،وکل تحمیدۃ صدقۃ،وکل تھلیلۃ صدقۃ،وکل تکبیرۃ صدقۃ،وأمر بالمعروف صدقۃ، ونھی عن المنکر صدقۃ،ویجزیء من ذلک کلہ رکعتان یرکعھما من الضحی)) [مسلم/۷۲۰]’’تم میں سے ہر شخص کے ہر جوڑ پر صدقہ صبح کرتا ہے ،پس ہر تسبیح صدقہ ہے،اور ہرتحمید صدقہ ہے،اور ہر تہلیل صدقہ ہے،اور ہر تکبیر صدقہ ہے،اور نیکی کاحکم دینا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے،لیکن نماز چاشت کی دو رکعات ان تمام صدقات سے کافی ہو جائیں گی۔‘‘
۳۷۔نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا:
((من صلی علی صلاۃ صلی اللہ علیہ بھا عشرا))[مسلم/۳۸۴]’’جو مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں کریں گے۔‘‘
۳۸۔نفلی روزہ رکھنا:
((ما من عبد یصوم یوما فی سبیل اللہ تعالیٰ الا باعد اللہ بذلک الیوم وجھہ عن النار سبعین خریفا)) [بخاری ،مسلم]’’جو شخص اللہ کے لئے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے چہرے کو ستر سال کی مسافت جہنم سے دور کر دیتے ہیں۔‘‘
۳۹۔ہر مہینے تین روزے رکھنا:
((صوم ثلاثۃ ایام من کل شھرصوم الدھر کلہ))[بخاری ،مسلم]’’ہر مہینے تین دن کا روزہ رکھنا گویا کہ پورے زمانے کا روزہ ہے۔‘‘
۴۰۔رمضان کا روزہ:
((من صام رمضان ایمانا واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ))[بخاری، مسلم]’’جس شخص نے حالت ایمان میں اللہ سے اجر کی امید رکھتے ہوئے رمضان کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔‘‘
۴۱۔شوال کے چھ روزے:
((من صام رمضان وأتبعہ ستا من شوال کان کصوم الدھر))[مسلم/۱۱۶۴]’’جس نے رمضان کے روزوں کے ساتھ ساتھ شوال کے بھی چھ روزے رکھے گویا کہ اس نے پورا زمانہ روزے رکھے۔‘‘
۴۲۔یوم عرفہ کا روزہ:
((صیام یوم عرفۃ یکفر السنۃ الماضیۃ والباقیۃ))[مسلم/۱۱۶۲]’’یوم عرفہ کا روزہ گزشتہ اور آنے والے دو سالوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔‘‘
۴۳۔یوم عاشوراء کا روزہ:
((وصیام یوم عاشوراء أحتسب علی اللہ أن یکفر السنۃ التی قبلہ))[مسلم/۱۱۶۲]’’یوم عاشوراء کے روزے کے بارے میں میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اس سے گزشتہ ایک سال کے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘
۴۴۔روزہ افطار کروانا:
((من فظر صائما کان لہ مثل أجرہ،غیر انہ لا ینقص من أجر الصائم))[ترمذی/۸۰۷]’’جس نے روزہ افطار کرایا اس کے لئے روزہ دار جتنا ثواب ہے ،اور روزہ دار کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔‘‘
۴۵۔لیلۃ القدر کا قیام:
((من قام لیلۃ القدر ایمانا واحتسابا ،غفر لہ ما تقدم من ذنبہ))[بخاری، مسلم]’’جس شخص نے حالت ایمان میں اللہ سے اجر کی امید رکھتے ہوئے لیلۃ القدر کا قیام کیا،اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے۔‘‘
۴۶۔صدقہ کرنا:
((الصدقۃ تطفیء الخطیئۃ کما یطفیء الماء النار))[ترمذی]’’صدقہ گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتا ہے جس طرح پانی آگ کوختم کر دیتا ہے۔‘‘
۴۷۔حج اور عمرہ کرنا:
((العمرۃ الی العمرۃ کفارۃ لما بینھن ،والحج المبرور لیس لہ جزاء الاالجنۃ))[مسلم/۱۳۴۹]’’ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے تمام گناہوں کا کفارہ ہے ،اور حج مقبول کا بدلہ جنت ہے۔‘‘
۴۸۔عشرہ ذوالحجہ میں نیکی کرنا:
((ما من ایام العمل أحب الی اللہ فیھن ،من ھذہ الأیام یعنی أیام عشرذی الحجۃ،قالوا ولا الجھاد فی سبیل اللہ ؟قال:ولا الجھاد فی سبیل اللہ الا رجلا خرج بنفسہ ومالہ ثم لم یرجع من ذلک بشیئ))[بخاری]’’ان دنوں یعنی عشرہ ذو الحجہ میں نیک عمل کرناباقی دنوں کی اللہ کو زیادہ پسندیدہ ہے،صحابہ نے پوچھا جہاد فی سبیل اللہ بھی؟تو آپ نے فرمایا:جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ،الا یہ کہ کوئی اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلے اور دونوں چیزوں کو اللہ کی راہ میں قربان کر دے۔‘‘
۴۹۔جہاد فی سبیل اللہ :
((رباط یوم فی سبیل اللہ خیر من الدنیا وما علیھا))[بخاری]’’اللہ کی راہ میں ایک دن کا پہرہ دینا دنیا وما علیھا سے بہتر ہے۔‘‘
۵۰۔انفاق فی سبیل اللہ:
((من جھز غازیا فقد غزا،ومن خلف غازیا فی أھلہ فقد غزا))[بخاری،مسلم]’’جس نے غازی کو تیار کیا گویا کہ اس نے بھی جہاد کیا،جس نے غازی کے گھر کے اخراجات کو برداشت کیا گویا کہ اس نے بھی جہاد کیا۔‘‘
۵۱۔جنازہ پڑھنا اور میت کے ساتھ قبر تک جانا:
((من شھد الجنازۃ حتی یصلی علیھا فلہ قیراط ،ومن شھدھا حتی تدفن فلہ قیراطان،قیل:وما القیراطان؟قال:مثل الجبلین العظیمتین))[بخاری،مسلم]’’جو شخص نماز جنازہ میں حاضر ہوا اس کے لئے ایک قیراط ہے اور جو دفن کرنے تک حاضر رہا اس کے لئے دو قیراط ثواب ہے ،پوچھا گیا کہ دو قیراط کتنے ہوتے ہیں؟فرمایا:دو بڑے پہاڑوں کی مانند۔‘‘
۵۲۔زبان اور شرمگاہ کی حفاظت:
((من یضمن لی ما بین لحییہ وما بین رجلیہ أضمن لہ الجنۃ))[بخاری،مسلم]’’جو شخص مجھے دو جبڑوں کے درمیان (زبان) اور دو ٹانگوں کے درمیان(شرمگاہ) کی ضمانت دے دے میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘
۵۳۔ لاالہ الااللہ کی فضیلت:
جس شخص نے دن میں سو مرتبہ ’’لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ،لہ الملک ولہ الحمد ،وھو علی کل شییء قدیر‘‘کہا اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ،سو نیکیاں لکھ دی جائیں گی،سو گناہ مٹا دئیے جائیں گے،اور اس دن شیطان سے محفوظ رہے گا،اور عمل کرنے والوں میں سے سب سے بہتر آدمی ہو گا۔اور جس شخص نے’’ سبحان اللہ وبحمدہ‘‘سو مرتبہ کہا اس کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘[بخاری،مسلم]
 
Top