عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,639
- ری ایکشن اسکور
- 9,999
- پوائنٹ
- 667
تبصرہ
واقعہ کربلا کی حقیقت کے متعلق بہت ساری من گھڑت اور فرضی داستانیں اور افسانے لوگوں میں مشہور ہیں جس میں باطل و موضوع روایات کا سہارا لیا گیا ہے،جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ دور حاضر میں حادثہ کربلا کے موضوع پر کچھ لکھنا یا بولنا بڑا نازک اور مشکل کام ہے، کیوں کہ اس بارے بہت افراط و تفریط پایا جاتا ہے ۔ ایک گروہ یزید بن معاویہ کو لگاتار برا بھلا کہنے پر مصر ہے۔ جبکہ دوسری جانب یزید کے جنتی ہونے کے بارے میں نبی ﷺ کی بشارت کا تذکرہ کیا جاتا ہے،تاہم یزید کے دور میں بہت سارے فتنوں کی وجہ سے اس کے بارے میں اہل علم کی آراء مختلف ہیں۔ چونکہ یزید کے متعلق کتب سیر و تاریخ میں تمام طرح کی تاریخی روایات موجود ہیں لہذا شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ نے اس کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہے اور یہی موقف احوط ہے واللہ اعلم!۔ زیر نظر تحریر بعنوان ’’ واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر‘‘ میں حافظ ابو معاویہ عبد الرحمٰن سلفی حفظہ اللہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور امیر یزید رحمہ اللہ کے مابین ہونے والے مشاجرہ کے حقائق کو دلائل کی روشنی میں واضح کیا ہے اور اصل قاتلین حسین رضی اللہ عنہ و ذمہ دران کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ (م۔ا)
لنک کتاب