• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

والدین کی اجازت کے بغیر جہاد کی ٹریننگ حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟

Ibrahim Qasim

مبتدی
شمولیت
مارچ 14، 2016
پیغامات
22
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
25
حتى الوسع جہاد کی تربیت حاصل کرنا تمام تر مسلمانوں پہ فرض عین ہے۔ اور والدین یا کسی بھی اور ولی امر کو کسی بھی ایسے فریضہ کی ادائیگی سے روکنے کی شرع میں اجازت نہیں ہے۔ کیونکہ ایسے فریضہ کا ترک اللہ تعالى کی معصیت ہے اور خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ ہاں والدین سمیت دیگر ولاۃ امور کو یہ حق حاصل ہے کہ وقتی طور پہ مؤخر کر دیں کہ ابھی نہیں بلکہ فلاں وقت میں آپ یہ کا م کر لیں۔ اور ایسے میں انکی اطاعت واجب ہے۔ اللہ تعالى کا ارشاد گرامی ہے : وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدْوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لاَ تَعْلَمُونَهُمُ اللّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ اور جس قدر طاقت رکھتے ہو, ان (کافروں کے خلاف لڑنے کے لیے) قوت تیار رکھو, اور گھوڑوں کو تیار رکھنے کی بھی (تیاری کرو) ۔ تم اسکے ذریعہ اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو دہشت زدہ رکھ سکو گے, اور انکے علاوہ کو بھی, جنہیں تم نہیں جانتے , اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور تم اللہ کے راستہ میں جو کچھ بھی خرچ کروگے تمہیں پورا پورا لوٹا دیا جائے گا, اور تم کمی نہیں کیے جاؤ گے۔ [الأنفال : 60] عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: " {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ}، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا "{وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ}،(اور انکے لیے مقدور بھر قوت تیار رکھو), خبر داریقینا (اس آیت میں ) قوت (سے مراد) نشانہ بازی ہے, خبرداریقینا قوت نشانہ بازی ہے, خبردار یقینا قوت نشانہ بازی ہے۔ صحیح مسلم:1917 عبد الرحمن بن شماسہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : أَنَّ فُقَيْمًا اللَّخْمِيَّ، قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَأَنْتَ كَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْكَ، قَالَ عُقْبَةُ: لَوْلَا كَلَامٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُعَانِيهِ، قَالَ الْحَارِثُ: فَقُلْتُ لِابْنِ شَمَاسَةَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ: «مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ، ثُمَّ تَرَكَهُ، فَلَيْسَ مِنَّا» أَوْ «قَدْ عَصَى» فُقَیم لخمی نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ان دو نشانوں کے درمیان آتے جاتے ہیں حالانکہ آپ بوڑھے ہیں اس وجہ سے آپ کے لیے دشواری ہوتی ہوگی؟ تو عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں اس مشقت میں نہ پڑتا۔ حارث کہتے ہیں میں نے ابن شماسہ سے پوچھا وہ کونسی حدیث ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :"جس نے نشانہ بازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا تو وہ ہم میں سے نہیں" یا "اس نے نافرمانی کی " صحیح مسلم: 1919 درج بالا ادلہ سے جہادی تربیت کا فرض ہونا, اور پھر مسلسل اسکی مشق کر تے رہنے کا واجب ہونا واضح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ» اللہ تعالى کی نافرمانی میں (کسی کی) کوئی اطاعت نہیں ہے, اطاعت معروف کاموں میں ہے۔ سنن ابی داود: 2625۔ اوروالدین اور دیگر ولاۃ امور کے کسی بھی فریضہ کو کچھ مناسب وقت تک کے لیے مؤخر کرنے کے اختیار کی دلیل دو نمازوں کو جمع کرنے والی اور اس قسم کی دیگر روایات ہیں ۔ کہ جن میں نمازوں کو مناسب وقت تک مؤخرکیا گیا۔ ملاحظہ ہو: صحیح البخاری: 139, سنن ابي داود : 393 وغیرہ لیکن اگر وُلاۃ امور کسی فریضہ کو بہت ہی زیادہ لیٹ کر دیں حتى کہ اسکا اصل وقت ہی فوت ہو جائے تو اس میں انکی اطاعت نہیں ہوگی۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ؟ - أَوْ قَالَ: يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ؟ - "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنِي، قَالَ: «صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّهَا فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ» مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے ابوذر اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تجھ پہ ایسے امراء ہونگے جو نماز کو اسکے (مقرر کردہ ) وقت سے لیٹ کریں گے ۔ تو میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز (مقرر شدہ) وقت میں ہی ادا کر , اور اگر انکے ساتھ بھی تو نماز پا لے تو انکے ساتھ دوبارہ بھی پڑھ لے, یہ تیرے لیے نفلی ہو گی۔

سنن ابی داود: 431
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,404
ری ایکشن اسکور
1,158
پوائنٹ
412
حتى الوسع جہاد کی تربیت حاصل کرنا تمام تر مسلمانوں پہ فرض عین ہے
قال الإمام أحمد رضي الله عنه : "الغزو واجب على الناس كلهم ، فإذا غزا بعضهم أجزأ عنهم" انتهى . انتهى من شرح "الكوكب المنير" (1/173) .
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,682
ری ایکشن اسکور
752
پوائنٹ
290
قال الإمام أحمد رضي الله عنه : "الغزو واجب على الناس كلهم ، فإذا غزا بعضهم أجزأ عنهم" انتهى . انتهى من شرح "الكوكب المنير" (1/173) .
اس کا مطلب تو یہ "فرض کفایہ" ہوا۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,418
ری ایکشن اسکور
2,736
پوائنٹ
556
السلام علیکم رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حتى الوسع جہاد کی تربیت حاصل کرنا تمام تر مسلمانوں پہ فرض عین ہے۔
مجھے تو یہ ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہمارے بھائی اس عموم کے ساتھ فرض عین قرار دینے کی ضد میں عورتوں کو اسلام سے خارج ہی قرار نہ دے دیں!!
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
میرے خیال میں شاید ’ فرض عین ‘ اور ’ فرض کفایہ ‘ کی تعریف سمجھنے کی ضرورت ہے ۔
کیونکہ جو لوگ جہاد کو فرض عین قرار دیتے ہیں ، ان کی اکثریت جہاد سے ہٹ کر خدمت خلق وغیرہ میں لگی ہوئی ہے ۔
یعنی فرض عین کہنے والے بھی فرض کفایہ ہی ادا کر رہے ہیں ۔
 
Top