Ibrahim Qasim
مبتدی
- شمولیت
- مارچ 14، 2016
- پیغامات
- 22
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 25
حتى الوسع جہاد کی تربیت حاصل کرنا تمام تر مسلمانوں پہ فرض عین ہے۔ اور والدین یا کسی بھی اور ولی امر کو کسی بھی ایسے فریضہ کی ادائیگی سے روکنے کی شرع میں اجازت نہیں ہے۔ کیونکہ ایسے فریضہ کا ترک اللہ تعالى کی معصیت ہے اور خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ ہاں والدین سمیت دیگر ولاۃ امور کو یہ حق حاصل ہے کہ وقتی طور پہ مؤخر کر دیں کہ ابھی نہیں بلکہ فلاں وقت میں آپ یہ کا م کر لیں۔ اور ایسے میں انکی اطاعت واجب ہے۔ اللہ تعالى کا ارشاد گرامی ہے : وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدْوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لاَ تَعْلَمُونَهُمُ اللّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ اور جس قدر طاقت رکھتے ہو, ان (کافروں کے خلاف لڑنے کے لیے) قوت تیار رکھو, اور گھوڑوں کو تیار رکھنے کی بھی (تیاری کرو) ۔ تم اسکے ذریعہ اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو دہشت زدہ رکھ سکو گے, اور انکے علاوہ کو بھی, جنہیں تم نہیں جانتے , اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور تم اللہ کے راستہ میں جو کچھ بھی خرچ کروگے تمہیں پورا پورا لوٹا دیا جائے گا, اور تم کمی نہیں کیے جاؤ گے۔ [الأنفال : 60] عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: " {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ}، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا "{وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ}،(اور انکے لیے مقدور بھر قوت تیار رکھو), خبر داریقینا (اس آیت میں ) قوت (سے مراد) نشانہ بازی ہے, خبرداریقینا قوت نشانہ بازی ہے, خبردار یقینا قوت نشانہ بازی ہے۔ صحیح مسلم:1917 عبد الرحمن بن شماسہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : أَنَّ فُقَيْمًا اللَّخْمِيَّ، قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَأَنْتَ كَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْكَ، قَالَ عُقْبَةُ: لَوْلَا كَلَامٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُعَانِيهِ، قَالَ الْحَارِثُ: فَقُلْتُ لِابْنِ شَمَاسَةَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ: «مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ، ثُمَّ تَرَكَهُ، فَلَيْسَ مِنَّا» أَوْ «قَدْ عَصَى» فُقَیم لخمی نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ان دو نشانوں کے درمیان آتے جاتے ہیں حالانکہ آپ بوڑھے ہیں اس وجہ سے آپ کے لیے دشواری ہوتی ہوگی؟ تو عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں اس مشقت میں نہ پڑتا۔ حارث کہتے ہیں میں نے ابن شماسہ سے پوچھا وہ کونسی حدیث ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :"جس نے نشانہ بازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا تو وہ ہم میں سے نہیں" یا "اس نے نافرمانی کی " صحیح مسلم: 1919 درج بالا ادلہ سے جہادی تربیت کا فرض ہونا, اور پھر مسلسل اسکی مشق کر تے رہنے کا واجب ہونا واضح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ» اللہ تعالى کی نافرمانی میں (کسی کی) کوئی اطاعت نہیں ہے, اطاعت معروف کاموں میں ہے۔ سنن ابی داود: 2625۔ اوروالدین اور دیگر ولاۃ امور کے کسی بھی فریضہ کو کچھ مناسب وقت تک کے لیے مؤخر کرنے کے اختیار کی دلیل دو نمازوں کو جمع کرنے والی اور اس قسم کی دیگر روایات ہیں ۔ کہ جن میں نمازوں کو مناسب وقت تک مؤخرکیا گیا۔ ملاحظہ ہو: صحیح البخاری: 139, سنن ابي داود : 393 وغیرہ لیکن اگر وُلاۃ امور کسی فریضہ کو بہت ہی زیادہ لیٹ کر دیں حتى کہ اسکا اصل وقت ہی فوت ہو جائے تو اس میں انکی اطاعت نہیں ہوگی۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ؟ - أَوْ قَالَ: يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ؟ - "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنِي، قَالَ: «صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّهَا فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ» مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے ابوذر اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تجھ پہ ایسے امراء ہونگے جو نماز کو اسکے (مقرر کردہ ) وقت سے لیٹ کریں گے ۔ تو میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز (مقرر شدہ) وقت میں ہی ادا کر , اور اگر انکے ساتھ بھی تو نماز پا لے تو انکے ساتھ دوبارہ بھی پڑھ لے, یہ تیرے لیے نفلی ہو گی۔
سنن ابی داود: 431
سنن ابی داود: 431