• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وطن کی خاطر کئے جانے والے قتال کا حکم شیخ الغنيمان کی زبانی

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
929
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
وطن کی خاطر کئے جانے والے قتال کا حکم شیخ الغنيمان کی زبانی
​

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ عبد اللہ الغنيمان فرماتے ہیں :

القتال في سبيل الوطن من أمور الجاهلية، فهو ليس في سبيل الله، بل في سبيل الوطنية، فإذا قاتل وطنية فهو في سبيل الوطن، والرسول صلى الله عليه وسلم سئل عن الرجل يقاتل حمية -الحمية هي الوطنية- ويقاتل شجاعة ليرى مكانه، ويقاتل لأجل قومه -يعني: يدافع عنهم- من منهم في سبيل الله؟ فقال صلى الله عليه وسلم: (من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله) إذا كان يقاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله، أما ما عدا ذلك فهو في سبيل الشيء الذي يقاتل من أجله، إذا كان يقاتل لأجل الدنيا أو يقاتل لأجل الدفاع أو الانتصار أو ما يشبه ذلك، فهو في سبيل الذي يقاتل من أجله.

وطن کے لیے قتال کرنا جاہلیت کے امور میں سے ہے، کیونکہ یہ قتال اللہ کے راستے میں نہیں بلکہ وطن پرستی کے لیے ہوتا ہے۔ پس جو شخص وطن پرستی کے جذبے سے لڑے، وہ دراصل وطن کے لیے لڑ رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو حمیت یعنی وطن پرستی، یا بہادری دکھانے، یا اپنی قوم کی حمایت میں لڑتا ہے — کہ ان میں سے کون اللہ کے راستے میں لڑنے والا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’جس نے اس لیے قتال کیا کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو، تو وہی اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا ہے۔‘ پس جو شخص اس نیت سے لڑتا ہے کہ اللہ کا دین غالب ہو، وہی اللہ کے راستے میں ہے۔ اور اس کے علاوہ جو بھی کسی اور مقصد کے لیے لڑے جیسے دنیا حاصل کرنے کے لیے، دفاع کے لیے، یا فتح کے لیے تو وہ اس ہی مقصد کے لیے لڑ رہا ہے جس کے لیے اس نے قتال کیا۔


[شرح فتح المجيد للغنيمان، ص : ٣٠١٤]

FB_IMG_1746849567686.jpg

شیخ الغنيمان کے فرمان "القتال في سبيل الوطن من أمور الجاهلية" سے ثابت ہوتا ہے کہ وطن کے لیے لڑنے والے، وطنی پرچم کے پجاری، جو اپنے وطن کی حفاظت کے نام پر کفریہ نظاموں اور طاغوتی ریاستوں کے لیے جان دیتے ہیں، دراصل اسی جاہلیت کا حصہ ہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹایا تھا۔ ان کا قتال نہ صرف غیرشرعی ہے بلکہ توحید کے منافی ایک جاہلی جنگ ہے۔ وطن کے لیے لڑنے والا تو اللہ کے دین سے بغاوت کرنے والا ہے، خواہ اس کے سینے پر کتنے ہی تمغے کیوں نہ لگائے جائیں۔

پھر شیخ الغنیمان نے وطنیت کو دینِ اسلام سے الگ راستہ قرار دیتے ہوئے فرمایا "فهو ليس في سبيل الله، بل في سبيل الوطنية" اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وطن کے لئے لڑنا بھی "سبیل الطاغوت" کے زمرے میں داخل ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ "ہم اپنے وطن کے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں" مگر ان کے نظام میں نہ قرآن کی حکمرانی ہے، نہ شریعت کا نفاذ، وہ دراصل اللہ کی راہ میں نہیں، بلکہ طاغوت کی راہ میں لڑ رہے ہیں۔ ان کا ہر گولی چلانا، ہر خون بہانا، دراصل "سبیل الوطن" کی خدمت ہے، نہ کہ "سبیل اللہ" کی۔

پس جب کوئی شخص وطنیت کے لئے لڑتا ہے، تو وہ اللہ کی راہ میں نہیں بلکہ وطن ہی کے لیے لڑنے والا شمار ہوتا ہے جیسا کہ شیخ الغنيمان نے کہا "فإذا قاتل وطنية فهو في سبيل الوطن"۔ ایسے تمام افراد، جو اسلامی نظام کی بالادستی کے بغیر وطن کی خاطر جنگ کرتے ہیں، وہ مجاہد نہیں بلکہ کفریہ نظام کے وطن پرست مشرک سپاہی ہیں۔

شیخ الغنيمان نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ "الحمية هي الوطنية" یعنی جاہلانہ غیرت و تعصب جو زمانۂ جاہلیت کی علامت تھی، آج اسی کو "وطنیت" کے نام سے اپنایا جا رہا ہے جو آج "وطن" کے نام پر لڑ رہے ہیں، وہ دراصل اسی مذموم جاہلی حمیت کے تحت لڑ رہے ہیں، جسے اسلام نے کفار کی علامت قرار دیا۔ اور جو شخص جاہلیت کی علامت کے تحت لڑے، وہ اگر قتل ہو جائے تو وہ شہید نہیں، بلکہ ہلاک ہے اور اس کا انجام جہنم ہے، نہ کہ جنت۔

معیارِ قتال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا : "من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله" نہ وطنی پرچم، نہ وطنی سرحد، نہ قوم، نہ زبان۔ صرف اور صرف کلمۃ اللہ کی بالادستی ہی قتال کو جائز بناتی ہے۔ چنانچہ جو فوجیں جمہوریت، سیکولرازم، طاغوتی آئین یا وطن کی حفاظت کے لیے لڑتی ہیں، وہ چاہے "مسلم ممالک" کے نام کی ڈھال رکھتی ہوں، مگر حقیقت میں وہ سب طاغوت کے سپاہی اور "سبیل الوطن" کے لئے لڑنے مرنے والے ہیں۔ ان کا انجام شدید وعید کا مستحق ہے۔

پس یہ مکمل رسوائی ہے وطن اور قومیت پر مر مٹنے والوں کے لیے۔ آج کے نام نہاد مسلم ممالک کے فوجی، جو وطن کے لیے لڑ کر شہادت کا خواب دیکھتے ہیں، انہیں یہ حدیث آئینہ دکھاتی ہے کہ جو جمہوری، سیکولر، طاغوتی نظاموں کی حفاظت کرتے ہیں، وہ طاغوت کے سپاہی ہیں، چاہے ان کی وردی پر کلمہ لکھا ہو۔ ان کی بندوقیں طاغوت کے لیے، ان کی جنگ کفر کے لیے ہے، وہ کرائے کے سپاہی اور طاغوت کے غلام ہیں، وہ شہید نہیں، مردود و خبیث ہیں۔
 
Top