ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 863
- ری ایکشن اسکور
- 228
- پوائنٹ
- 111
وطن کی محبت بھی عصبیت ہے! وطن پرستی کے علمبرداروں کے لیے شیخ ابن عثیمین کا فیصلہ کن جواب
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
بعض لوگ «حب الوطن من الإيمان» کو تقریروں، تحریروں اور مجالس میں حدیث کہہ کر پیش کرتے ہیں، اور پھر اسے موجودہ وطن پرستی (Nationalism) کے اثبات کے لیے بنیاد بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ محدثین نے صراحت کی ہے کہ یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔
شیخ محمد بن صالح العثیمین «شرح المنظومة البيقونية» میں حدیث کی شہرت اور صحت ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«ومثله "حب الوطن من الإيمان" وهو مشهور عند العامة على أنه حديث صحيح، وهو حديث موضوع مكذوب، بل المعنى أيضاً غير صحيح بل حب الوطن من التعصب.»
«حب الوطن من الإيمان» یہ عوام میں اس طرح مشہور ہے کہ گویا صحیح حدیث ہو، حالانکہ یہ من گھڑت اور جھوٹی روایت ہے۔ بلکہ اس کا معنی بھی درست نہیں، بلکہ وطن کی محبت تو تعصب میں سے ہے۔
[شرح المنظومة البيقونية في مصطلح الحديث للشيخ ابن عثيمين، ص : ٨٣]
شیخ ابن عثیمین کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ عوام میں کسی بات کا مشہور ہو جانا اس کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں۔ اسی لیے انہوں نے پہلے یہ اصول ذکر کیا:«فأما ما اشتهر عند العامة: فلا حكم له» یعنی جو چیز عوام میں مشہور ہو جائے، محض اس کی شہرت کا کوئی اعتبار نہیں۔
پھر بطور مثال انہوں نے «حب الوطن من الإيمان» کو ذکر کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس باطل مقولے کو حدیث بنا کر پیش کرنا خیانت ہے، کیونکہ محدثین کے نزدیک حدیث کی صحت سند سے ثابت ہوتی ہے، عوامی شہرت سے نہیں۔
یہاں غور فرمائیں کہ شیخ ابن عثیمین نے «حب الوطن من الإيمان» کی تردید کرتے ہوئے صرف اس کی سند پر گفتگو نہیں کی، بلکہ فرمایا: «بل المعنى أيضاً غير صحيح» یعنی اس کا معنی بھی درست نہیں۔ پھر اس کی علت بیان کرتے ہوئےفرمایا: «بل حب الوطن من التعصب» بلکہ وطن کی محبت تعصب میں سے ہے۔
آج وطن پرستی کے علمبردار اپنے باطل نظریے کو وطن سے محبت کا ہی نام دیتے ہیں۔ اصل مغالطہ یہی ہے جس کی بنا پر وطن چاہے دار الکفر و دار الحرب ہو اس کا دفاع کیا جاتا ہے؛ وطن کی مٹی پر مر مٹنے کی بات ہوتی ہے؛ وطن کے دستور کو اللہ کی شریعت پر ترجیح دی جاتی ہے اور وطن کے مفادات کو اللہ کے احکامات سے بھی مقدم سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے شیخ ابن عثیمین نے وطن کی محبت کو ہی «التعصب» قرار دیا۔
اور اس قسم کے جاہلی تعصب کی اسلام میں ممانعت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «دَعوها؛ فإنَّها خَبيثةٌ» یعنی اس (جاہلی تعصب) کو چھوڑ دو، کیونکہ یہ خبیث چیز ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: «فإنَّها مُنتنةٌ» یہ گندی اور بدبو دار ہیں۔
پس وطن کی محبت جاہلیت کی باقیات میں سے ہے جسے جدید نظریات کا لباس پہنا کر نیشنلزم کو فروغ دیا جا رہا ہے اور بعض لوگ محض وطن کی محبت کا عنوان دے کر ان کفریہ نظریات کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
شیخ ابن عثیمین کی مذکورہ عبارت وطن پرستیوں کے وطن سے محبت والے اس خوش نما مغالطے کا پردہ چاک کرنے کے لیے کافی ہے جس نے انسانوں کو نیشنلزم اور وطن پرستانہ عصبیت کا تابع بنایا ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں جاہلی عصبیت کی ہر شکل سے محفوظ رکھے، حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں نیشنلزم کے کفریہ نظریے سے بچائے جو اللہ کے مقابلے میں وطن کو معبود بناتا ہے۔
ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة إنك أنت الوهاب.
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔
Last edited: