• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پرویز رشید کی اسلام کے بارے میں سرعام گستاخی.

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,217
پوائنٹ
402
پرویز رشید نے اسلام کی اور مدارس کی شدید توہین کی اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے لیکن کیا وجہ ہے کہ کسی بھی چینل نہیں عوام کا احتجاج نہیں دکھایا۔کیا آپ جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا میڈیا آزاد نہیں ہے بلکہ ہر حکومت کے زمانے میں ظالم حکومت کے قبضے میں ہی رہتا ہے ۔اب بھی ایسا ہی ہے کیونکہ جس انسان نے کہا ہے کہ مدارس جہالت کی یونیورسٹیاں ہیں وہ خود ہی اطلاعات و نشریات کا وفاقی وزیر ہے۔
عامر بھائی اآپ بہت سادہ دل ہیں ہمارا میڈیا حکومت کے ہاتھ نہیں بلکہ کچھ نادیدہ ہاتھوں میں اور یہ پرویز رشید نامی وزیر بھی انہیں نادیدہ ہاتھوں میں کھیلتے ہیں
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,217
پوائنٹ
402
ابتدائے عشق ہے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟
مدارس کے خلاف جس مہم کا آغاز پرویز مشرف نامی حکمران کے دور سے ہوا تھا یہ بیان بھی اسی مذموم مہم کی ایک کڑی ہے اب دیکھتے ہیں کہ ہم کب جاگتے ہیں ؟
اگر تو نہیں جاگے تو اگلے مرحلے پر اس سے مزید کی توقع کریں کہ انہی دنوں دینی مدارس کے بورڈز کے حکومت کے ساتھ اجلاس ہونے تھے جس میں ان کی باقاعدہ تسجیل ہونی تھی اور وہ اجلاس احتجاجا منسوخ کر دیے گئے
شاید حکومت کا پس پردہ یہی ھدف تھا کہ یہ اجلاس آگے نہ بڑھیں اور ان مدارس کی تسجیل نہ کرنی پڑے
کیونکہ ہماری ایمانی غیرت جذباتی بہت زیادہ ہوا کرتی ہے اور اکثر ہوش مندی کھو دیتی ہے ۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,403
پوائنٹ
964
چند دن پہلے حامد میر کے پروگرام میں پرویز رشید نے اپنے قادیانی ہونے کی تردید کی ہے ۔
آج ایک تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ پرویز کسی مدرسے کے طلبہ کی دستار بندی کر رہا ہے ۔
سمجھ نہیں آرہی ، کہ یہ مدرسہ جعلی ہے یا پھر اس مدرسہ کا انتظام و انصرام کرنے والے غیرت سے خالی ہیں ۔
 
شمولیت
جنوری 31، 2015
پیغامات
287
ری ایکشن اسکور
57
پوائنٹ
71
(بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرّٰحَیمَ)

پرویز رشید جاہل ہے

پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا۔ وطن لینے کا مقصد اسلامی قوانین کا نفاذ تھا ۔ لیکن ہوا اس کے متضاد ، نظام حکومت پر ایسے لوگوں نے قبضہ جما لیا جو قرآن کی بات سننا تو دور ، توہین کرنے پر تولے ہوئے ہیں ۔ جس کی جیتی جاگتی مثال ہمارے ملک کے موجودہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ہیں ۔
گذشتہ دنوں منسٹر پرویز رشید نے اسلامی عقائد اور دینی مدارس پر کھل کر تنقید کی ۔ انہوں نے کہا : ’’ اب کتاب تو وجود میں آ چکی ، جب پاکستان بنتا ہے سکول وجود میں آ چکے ہیں انگریز کا تحفہ ہے ۔ موجود ہیں ان کو بند نہیں کیا جا سکتا ، ان سے جان نہیں چھڑوائی جا سکتی ۔ تو اس کا پھر متبادل تلاش کیا گیا کہ کتاب چھپتی رہے لیکن وہ کتاب نہ چھپے جو آپ تحریر کرتے ہیں ۔ وہ فکر عام نہ ہو جس کی شمع آپ جلاتے ہیں ‘‘ ۔ لوگوں کو پڑھنے کے لیے کتاب دی جائے تو کونسی دی جائے ’’ موت کا منظر عرف مرنے کے بعد کیا ہو گا ‘‘ ۔ جہالت کا وہ طریقہ جو پنڈت جواہر لال نہرو کو سمجھ نہیں آیا وہ ہمارے حکمرانوں کو سمجھ آ گیا کہ لوگوں کو جاہل کیسے رکھا جا سکتا ہے ۔ ’’ کہ فکر کے متبادل فکر دو لیکن فکر کے متبادل مردہ فکر دے دو ‘‘ ۔ اور پھر منبہ جو فکر کو پھیلاتا ہے ، کیا ہو سکتا ہے ؟ لاوڈ سپیکر ! اور لاوڈ سپیکر بھی اس کے قبضے میں دے دو ۔ ’’ اور دن میں ایک دفعہ کے لیے نہیں پانچ دفعہ کے لیے دے دو ‘‘ ۔ اب آپ کے پاس اتنے سکول اور اتنی یونیورسٹیا ں نہیں ہیں جتنے ’’ جہالت کی یونیورسٹیاں ان کے پاس ہیں ‘‘ ۔ اور بیس ، پچیس لاکھ طالب علم ، جن کو وہ طالب علم کہتے ہیں ۔ مجھے یہ بتائیے یہ جو یونیورسٹیا ں ہیں جن کو ہم سب چندہ بھی دیتے ہیں عید ، بکر عید پہ فطرانے اور چندے اور کھالیں اور خود پالتی ہے ہماری سوسائٹی ان کو ۔ یہ جو جہالت کی یونیورسٹیاں ہیں ۔ یہ حاوی ہوا آپکی کتاب پر جہالت کا علم ، میری کتاب پر حاوی ہوا جہالت کا یہ علم ۔ پرویز رشید نے شعائر اسلام کی توہین کر کے اسلام دشمن قوتوں کا ایجنٹ ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔
قرآن کریم سیکھنے اور سیکھانے والے لوگ بہترین انسان ہیں ۔ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو بابرکت رات میں نازل ہوا ۔ قرآن کریم ہدایت ، رحمت ، نور ، شفا ء ، عروج کا ذریعہ ، عظیم نعمت اور لازوال معجزہ ہے ۔ تلاوت قرآن سکون ، رحمت ، اطمینان قلب ، اجر و ثواب اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا ذریعہ ہے ۔ قرآن پاک سیکھنے والوں کے لئے فرشتے اپنے پر بچھا دیتے ہیں ۔ دینی مدارس سے اچھے اخلاق ، سچ ، ہمدردی ، محبت اور صبر کا درس ملتا ہے ۔
دینی اداروں کی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں ۔ جیسا کہ سید امجد حسین بخاری صاحب نے لکھا ہے کہ : ’’ آج پاکستان میں 25 لاکھ کے قریب دینی مدارس میں زیر تعلیم طلبہ مفت تعلیم ، طعام اور رہائش کی سہولتوں سے فیض یاب ہیں ۔ دینی مدارس دنیا کی سب سے بڑی این جی او ہے ۔ جس کا حکومت پر کوئی بوجھ نہیں ہے ۔ حکومت ان میں شوق سے اصلاحات کرے مدارس میں زیادہ تر طلبہ کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے ۔ جو بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر پا رہے ۔ غریبوں میں تعلیم کو عام کرنے میں سب سے بڑا کردار مدارس ہی کا ہے ، اگر سروے کیا جائے تو یہی نتیجہ نکلے گا کہ آج اسکولوں کی بہ نسبت مدارس میں غریب طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ گذشتہ برسوں میں ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی نے ملک کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے ۔ اس ساری تباہی کے ذمہ دار مدارس کو ٹھہرایا گیا حالانکہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی ملوث رہے ہیں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ صولت مرزا کس دارالعلوم سے فارغ ہے اور گلوبٹ یا فیصل موٹا کس دینی مدرسے کا سند یافتہ ہے ؟ کیا ملک میں پکڑے جانے والے مختلف دہشت گردوں کا تعلق بڑی بڑی یونیورسٹو ں سے نہیں ہے ؟ کیا اس بنیاد پر ہم انہیں بھی جاہل قرار دے دیں گے ۔ اس دہشت گردی ، انتہا پسندی اور نفرتوں کے ذمہ دار ہم خود ہیں معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس ، نوکریاں نہ ملنا ، معیاری اور پیشہ وارانہ تعلیم کا فقدان یہ تمام ایسے مسائل ہیں جو ہمارے ملک کی جڑوں کو کھو کھلا کر رہے ہیں ‘‘ ، ( عالم اور جاہل ) ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن ) کے ذریعے کچھ لوگوں کو بلند فرماتا ہے اور کچھ ( اس کے مخالف ) لوگوں کو اس کے ذریعے ذلیل کر دیتا ہے ‘‘ ، ( مسلم ) ۔ پرویز رشید تو اس حدیث کے مطابق ذلیل ہو گا ، (ان شاء اللہ ) ۔ ابو جہل کا نام عمرو بن ہشام تھا ۔ وہ اس قدر ذہین تھا کہ لوگ اسے ابوالحکم یعنی دانائی کا باپ کہتے تھے ۔ تکبر و غرور کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کیا تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ ابو جہل ہے یعنی جہالت کا باپ ہے ‘‘ ۔ ’’ پرویز رشید بھی جاہل ہے ‘‘ ، جس نے قرآن جیسی عظیم الشان اور لاریب کتاب کی تعلیم دینے والے اداروں کو ’’ جہالت کی یونیورسٹیاں ‘‘ ، کہا ہے ۔ جناب فیاض الحسن صاحب نے بھی ARY NEWS پر دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ : ’’ پرویز رشید قادیانی ہے ‘‘ ۔ ہمارا حکومت پاکستان سے مطالبہ ہے کہ : ’’ انتشار پھیلانے والے پرویز رشید کو جلد سے جلد معطل کر کے سزا دی جائے ‘‘ ۔
 

مون لائیٹ آفریدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 30، 2011
پیغامات
640
ری ایکشن اسکور
407
پوائنٹ
127
پرویز رشید تو اس حدیث کے مطابق ذلیل ہو گا ، (ان شاء اللہ )
ان شاءاللہ ۔
اس کے علاوہ بھی بہت سارے اس ملک میں اس جیسے موجود ہیں بعض کے منہ سے اور بعض کے افعال سے صادر ہوجاتا ہے مثلاََ جس طرح سیکولراے این پی والے کے ایک ممبر" بشیربلور" نے کہا تھا کہ اب " اللہ اکبر" کا دور چلاگیا ہے ۔ اب وہ سیاسی شہید ہے ۔
دوسری مثال پشتون قبیلہ کی ایک شخصیت ہے " غنی خان " جس کو ہمارے" شیخ صاحب امین اللہ پشاوری " کافر کے نام سے پکارتے ہیں ۔ کہ غنی خان کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر رحیم وکریم تھا اب اس دور میں نہیں ہے ۔
 
شمولیت
جون 14، 2015
پیغامات
1
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
2
تعجب ہے کہ ایسے جملے ادا کرنے کے باوجود پرویز کو پارٹی سے نکالا نہیں گیا۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,217
پوائنٹ
402
چند دن پہلے حامد میر کے پروگرام میں پرویز رشید نے اپنے قادیانی ہونے کی تردید کی ہے ۔
آج ایک تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ پرویز کسی مدرسے کے طلبہ کی دستار بندی کر رہا ہے ۔
سمجھ نہیں آرہی ، کہ یہ مدرسہ جعلی ہے یا پھر اس مدرسہ کا انتظام و انصرام کرنے والے غیرت سے خالی ہیں ۔
خضر حیات بھائی تقیہ صرف ایک فرقہ کی ملکیت نہیں بلکہ نام بدل بدل کر ہر فرقہ کی زینت آرائی اس سے ہوتی ہے
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,217
پوائنٹ
402
(بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرّٰحَیمَ)

پرویز رشید جاہل ہے

پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا۔ وطن لینے کا مقصد اسلامی قوانین کا نفاذ تھا ۔ لیکن ہوا اس کے متضاد ، نظام حکومت پر ایسے لوگوں نے قبضہ جما لیا جو قرآن کی بات سننا تو دور ، توہین کرنے پر تولے ہوئے ہیں ۔ جس کی جیتی جاگتی مثال ہمارے ملک کے موجودہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ہیں ۔
گذشتہ دنوں منسٹر پرویز رشید نے اسلامی عقائد اور دینی مدارس پر کھل کر تنقید کی ۔ انہوں نے کہا : ’’ اب کتاب تو وجود میں آ چکی ، جب پاکستان بنتا ہے سکول وجود میں آ چکے ہیں انگریز کا تحفہ ہے ۔ موجود ہیں ان کو بند نہیں کیا جا سکتا ، ان سے جان نہیں چھڑوائی جا سکتی ۔ تو اس کا پھر متبادل تلاش کیا گیا کہ کتاب چھپتی رہے لیکن وہ کتاب نہ چھپے جو آپ تحریر کرتے ہیں ۔ وہ فکر عام نہ ہو جس کی شمع آپ جلاتے ہیں ‘‘ ۔ لوگوں کو پڑھنے کے لیے کتاب دی جائے تو کونسی دی جائے ’’ موت کا منظر عرف مرنے کے بعد کیا ہو گا ‘‘ ۔ جہالت کا وہ طریقہ جو پنڈت جواہر لال نہرو کو سمجھ نہیں آیا وہ ہمارے حکمرانوں کو سمجھ آ گیا کہ لوگوں کو جاہل کیسے رکھا جا سکتا ہے ۔ ’’ کہ فکر کے متبادل فکر دو لیکن فکر کے متبادل مردہ فکر دے دو ‘‘ ۔ اور پھر منبہ جو فکر کو پھیلاتا ہے ، کیا ہو سکتا ہے ؟ لاوڈ سپیکر ! اور لاوڈ سپیکر بھی اس کے قبضے میں دے دو ۔ ’’ اور دن میں ایک دفعہ کے لیے نہیں پانچ دفعہ کے لیے دے دو ‘‘ ۔ اب آپ کے پاس اتنے سکول اور اتنی یونیورسٹیا ں نہیں ہیں جتنے ’’ جہالت کی یونیورسٹیاں ان کے پاس ہیں ‘‘ ۔ اور بیس ، پچیس لاکھ طالب علم ، جن کو وہ طالب علم کہتے ہیں ۔ مجھے یہ بتائیے یہ جو یونیورسٹیا ں ہیں جن کو ہم سب چندہ بھی دیتے ہیں عید ، بکر عید پہ فطرانے اور چندے اور کھالیں اور خود پالتی ہے ہماری سوسائٹی ان کو ۔ یہ جو جہالت کی یونیورسٹیاں ہیں ۔ یہ حاوی ہوا آپکی کتاب پر جہالت کا علم ، میری کتاب پر حاوی ہوا جہالت کا یہ علم ۔ پرویز رشید نے شعائر اسلام کی توہین کر کے اسلام دشمن قوتوں کا ایجنٹ ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔
قرآن کریم سیکھنے اور سیکھانے والے لوگ بہترین انسان ہیں ۔ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو بابرکت رات میں نازل ہوا ۔ قرآن کریم ہدایت ، رحمت ، نور ، شفا ء ، عروج کا ذریعہ ، عظیم نعمت اور لازوال معجزہ ہے ۔ تلاوت قرآن سکون ، رحمت ، اطمینان قلب ، اجر و ثواب اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا ذریعہ ہے ۔ قرآن پاک سیکھنے والوں کے لئے فرشتے اپنے پر بچھا دیتے ہیں ۔ دینی مدارس سے اچھے اخلاق ، سچ ، ہمدردی ، محبت اور صبر کا درس ملتا ہے ۔
دینی اداروں کی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں ۔ جیسا کہ سید امجد حسین بخاری صاحب نے لکھا ہے کہ : ’’ آج پاکستان میں 25 لاکھ کے قریب دینی مدارس میں زیر تعلیم طلبہ مفت تعلیم ، طعام اور رہائش کی سہولتوں سے فیض یاب ہیں ۔ دینی مدارس دنیا کی سب سے بڑی این جی او ہے ۔ جس کا حکومت پر کوئی بوجھ نہیں ہے ۔ حکومت ان میں شوق سے اصلاحات کرے مدارس میں زیادہ تر طلبہ کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے ۔ جو بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر پا رہے ۔ غریبوں میں تعلیم کو عام کرنے میں سب سے بڑا کردار مدارس ہی کا ہے ، اگر سروے کیا جائے تو یہی نتیجہ نکلے گا کہ آج اسکولوں کی بہ نسبت مدارس میں غریب طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ گذشتہ برسوں میں ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی نے ملک کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے ۔ اس ساری تباہی کے ذمہ دار مدارس کو ٹھہرایا گیا حالانکہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی ملوث رہے ہیں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ صولت مرزا کس دارالعلوم سے فارغ ہے اور گلوبٹ یا فیصل موٹا کس دینی مدرسے کا سند یافتہ ہے ؟ کیا ملک میں پکڑے جانے والے مختلف دہشت گردوں کا تعلق بڑی بڑی یونیورسٹو ں سے نہیں ہے ؟ کیا اس بنیاد پر ہم انہیں بھی جاہل قرار دے دیں گے ۔ اس دہشت گردی ، انتہا پسندی اور نفرتوں کے ذمہ دار ہم خود ہیں معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس ، نوکریاں نہ ملنا ، معیاری اور پیشہ وارانہ تعلیم کا فقدان یہ تمام ایسے مسائل ہیں جو ہمارے ملک کی جڑوں کو کھو کھلا کر رہے ہیں ‘‘ ، ( عالم اور جاہل ) ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن ) کے ذریعے کچھ لوگوں کو بلند فرماتا ہے اور کچھ ( اس کے مخالف ) لوگوں کو اس کے ذریعے ذلیل کر دیتا ہے ‘‘ ، ( مسلم ) ۔ پرویز رشید تو اس حدیث کے مطابق ذلیل ہو گا ، (ان شاء اللہ ) ۔ ابو جہل کا نام عمرو بن ہشام تھا ۔ وہ اس قدر ذہین تھا کہ لوگ اسے ابوالحکم یعنی دانائی کا باپ کہتے تھے ۔ تکبر و غرور کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کیا تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ ابو جہل ہے یعنی جہالت کا باپ ہے ‘‘ ۔ ’’ پرویز رشید بھی جاہل ہے ‘‘ ، جس نے قرآن جیسی عظیم الشان اور لاریب کتاب کی تعلیم دینے والے اداروں کو ’’ جہالت کی یونیورسٹیاں ‘‘ ، کہا ہے ۔ جناب فیاض الحسن صاحب نے بھی ARY NEWS پر دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ : ’’ پرویز رشید قادیانی ہے ‘‘ ۔ ہمارا حکومت پاکستان سے مطالبہ ہے کہ : ’’ انتشار پھیلانے والے پرویز رشید کو جلد سے جلد معطل کر کے سزا دی جائے ‘‘ ۔
صرف پرویز رشید ہی کیوں قربانی جیسی عظیم عبادت کا مذااق اڑانے والے کہ ہر قربانی پر دو تکبیریں پڑھی جائیں ، سود کے بغیر ہمارا نظام نہیں چل سکتا، تم کیا چاہتے ہو کہ میں اپنی آدھی انتظامیہ کے ہاتھ کٹوا دوں اور آدھی کو سنگسار کروا دوں، اور اور اور
اتنے جذبات اچھے نہیں ہوتے اور لکھ لیں کچھ دن بعد ہماری قوم اور لیڈر سب بھول جائیں گے کہ پرویز رشید نے کچھ کہا بھی تھا جیسا کہ پچھلی باتوں کو بھول گئے ہیں ویسے بھی ہمارے حافظے بہت کمزور ہیں ہم بار بار چوروں، ڈکیت، زانی وغیرہ کو ہی منتخب کرتے ہیں اور انہیں ووٹ بھی دیتے ہیں اور سب اس میں شریک ہیں اہل توحید اور اہل شرک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ایک پرویز رشید ہی کیوں
اور پرویز رشید تو ویسے بھی حلیف ہے ہمارا ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,403
پوائنٹ
964
”جہالت کی فیکٹریوں“ کے ٹاپ پوزیشن ہولڈرزطلبہ کا جاہل وزیر کو منہ توڑ جواب

تحریر : محمد عاصم حفیظ
وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے مدارس کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں جہالت کی فیکٹریاں قرار دیا تھا ۔ اہل مدارس نے اس پر بھرپور احتجاج کیا ، کئی مضامین لکھے گئے کہ مدارس میں کتاب وسنت کی تعلیم دی جاتی ہے اور ان کے خیالات تو خود یکسر جہالت و بدگمانی پر مشتمل ہیں ۔ ہمارے ملک میں روز بروز یہ روایت مضبوط ہو رہی ہے کہ جسے اسلام سے کوئی گلہ ہو ، کوئی ایسی آزادی چاہیے کہ جو دین میں موجود نہ ہو ، کسی کو فحاشی و عریانی کی اجازت قرآن و حدیث سے نہ مل سکے ، کسی کو نماز ، روزے اور دیگر عبادات اچھی نہ لگیں اور ان پر عمل کرنے کو دل نہ کرے تو وہ آسان حل ڈھونڈ تا ہے یعنی ” مولوی ، مدرسے اور اہل دین “ پر تنقید کرکے دل کی بھڑاس نکال لیتا ہے ۔ کسی نے کیا سچ کہا کہ لوگ اسلام کو گالی دینے سے گھبراتے ہیں اس لئے مولوی کو گالی دیکر کام چلا لیتے ہیں ۔ یہی حرکت وفاقی وزیر اطلاعات نے بھی کی تھی ۔ اس موضوع پر کئی مضامین لکھے گئے اور سوشل میڈیا پر بھی خوب بحث ہوئی ۔ لیکن میرے خیال میں اسلام مخالف سوچ رکھنے والوں کو منہ توڑ جواب ملا ہے گزشتہ دنوں سامنے آنیوالے میٹرک بورڈز کے امتحانات کے نتائج میں ۔ ملتان ، فیصل آباد اور ساہیوال بورڈ کے نتائج کے مطابق آرٹس گروپ کے پہلی تمام پوزیشنز مدارس کے طلبہ نے حاصل کی ہیں ۔ جی ہاں مدارس کے طلبہ نے عصری علوم میں بھی اپنی ذہانت کا لوہا منوایا ہے ۔ اب شرم سے ڈوب مرنا چاہیے توہین آمیز سوچ رکھنے والوں، سیکولر طبقے ، مدارس واہل دین پر تنقید کرنیوالے نام نہاد سکالرز کو ۔ مدارس کے طلبہ نے اربوں کے فنڈز استعمال کرتے سرکاری سکولز اورمہنگے پرائیوٹ سکولز کے طلبہ کو کہیں پیچھے چھوڑ ا ہے۔ شائد آپ کے علم میں ہو کہ مدارس میں سکول کی تعلیم سے متعلقہ انگریزی ، ریاضی اور دیگر مضامین جزو وقتی انداز میں پڑھائے جاتے ہیں ۔ یعنی مدارس کے طلبہ قرآن وحدیث کے اپنے نصاب کی تعلیم کے ساتھ ساتھ کچھ وقت عصری تعلیم کو دیتے ہیں بلکہ اکثر تو آخری ایک دو ماہ میں تیاری کرکے امتحانات میں بیٹھتے ہیں ۔ دوسری جانب سرکاری و پرائیوٹ سکولز میں طلبہ و طالبات کی مکمل توجہ اور وقت صرف اور صرف امتحان کی تیاری کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مدارس کے طلبہ کی ٹاپ پوزیشنز اس لئے بھی حیران کن ہیں کہ انہوں نے تھوڑے وقت ، کم وسائل ، اور اپنی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ یہ کاررنامے سرانجام دئیے ہیں ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دیگر بڑے سرکاری و پرائیوٹ سکولز کی طرح انہیں اعلی تعلیم یافتہ اور مہنگے استاذہ کی خدمات بھی میسر نہیں ہوتیں کیونکہ مدارس کچھ زیادہ معاوضہ بھی نہیں دے پاتے۔ دوسری جانب ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اکثر اوقات غریب گھرانوں کے بچے ہی مدارس میں زیر تعلیم ہوتے ہیں ۔ ساہیوال بورڈ میں اول پوزیشن حاصل کرنیوالے محمد مصعب کے والدمحمد سعید پھل کی ریڑھی لگاتے ہیں ۔ اس بچے کو تعلیمی اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے سکول سے ہٹوالیا گیا ۔ مدرسے میں داخل کرایا گیا تو اس بچے نے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر کم ترین وسائل میں ڈویژن بھر میں اول پوزیشن حاصل کی ۔مدارس کے باقی طلبہ کی کہانیاں بھی اس سے ملتی جلتی ہیں کہ ایسے غریب گھرانوں کے بچے کہ جن کے پاس سکول جانے کے وسائل تک نہیں تھے وہ مدارس میں تھوڑی سے توجہ اور کم ترین وسائل کے باوجود ٹاپ پوزیشنز حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔مدارس کے ان طلبہ نے حکومت کے بنائے گئے نظام تعلیم ، نصاب اور طریقہ امتحان میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوا کر ثابت کر دیا ہے کہ ان کا تعلق ” جہالت کی فیکٹریوں“ سے نہیں بلکہ علم وشعور کے سرچشموں سے ہے۔مدارس ، علمائے کرام اور اہل دین کے بارے میں غلط فہمیاں رکھنے والوں کی عقل بھی ٹھکانے آجانی چاہیے کہ وہ خود کو سکالر ثابت کرنے نام نہاد ماڈرن خیالات کی آڑ میں تنقید کو بند کریں بلکہ حکومت کو چاہیے کہ اپنی تعلیمی ماہرین کی مدارس کے ان استاذہ سے ملاقاتیں کرائیں جن کے شاگرد کم وسائل اور جزوقتی تیاری کے ساتھ ٹاپ پوزیشنز حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔حکومت اگر ملک میں معیار تعلیم کو بہتر بنانا چاہتی ہے تو مدارس کے ہونہار طلبہ کی بھی سرکاری سطح پر بھرپورسرپرستی کی جائے ۔ خاد م اعلی صاحب اکثر ذہین طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں ۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ذرا اس طرف بھی نظرڈالیں ۔ ہمارے معاشرے کی بہتری اور ملکی ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ اہل دین کے بارے غلط فہمیوں اور منفی پروپیگنڈے کی بجائے ان پراعتماد کرکے انہیں معاشرے کے فعال کارکن کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ محنت و لگن ، ذوق و شوق سے اعلی ترین پوزیشنز حاصل کرنیوالوں کو مبارکباد۔
 
Top