• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پیپر کرنسی چند اھم سوالات ؟ِ

شمولیت
جولائی 06، 2014
پیغامات
164
ری ایکشن اسکور
56
پوائنٹ
75
بعض حضرات کا یہ نظریہ ہے جو آپ نے بیان کیا ہے لیکن یہ نظریہ درست نہیں ہے۔


فلوس اپنی قیمت رکھتے تھے۔
علامہ مقریزیؒ نے اغاثۃ الامہ بکشف الغمہ صفحہ 141 پر فلوس کی تفصیل ذکر کی ہے۔ ان کے مطابق سونا یا چاندی چونکہ دینار اور درہموں کی شکل میں ڈھل چکی تھی اور ایک دینار یا درہم کی ایک خاص مقدار تھی جس سے کوئی چھوٹی موٹی چیز لینا ممکن نہیں تھا اس لیے فلوس بنائے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ بادشاہوں نے حقیر چیزوں کی لین دین کے لیے سیسے کے ٹکڑے بنائے جنہیں فلوس کہا جاتا تھا اور یہ فلوس سونے یا چاندی جیسی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔
ان کی اس تفصیل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلوس کو سونے چاندی کے حوالے کے طور پر نہیں بنایا گیا تھا بلکہ ایک الگ کرنسی کے طور پر بنایا گیا تھا جن سے چھوٹی موٹی چیزوں کی لین دین کی جاتی تھی۔ اسے ہم آج کی جدید معاشیات کی اصطلاح میں "باسکٹ آف گڈز" کہتے ہیں جس کے ذریعے کرنسی کی قیمت لگائی جاتی ہے۔

اسی طرح فقہاء کرام نے مختلف جگہوں پر فلوس کا ذکر کیا ہے تو وہاں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ یہ فلوس لوگوں کے استعمال کی وجہ سے نقدی سمجھے جاتے تھے۔ یعنی سب لوگ انہیں کرنسی سمجھتے تھے تو یہ کرنسی بن گئے تھے۔ اگر یہ کسی زمانے میں سونے چاندی کا حوالہ رہے ہوتے تو فقہاء نہ صرف اس کا ذکر کرتے بلکہ ان کے احکام بھی الگ سے بیان کرتے۔
مثال کے طور پر ایک فلس کی دو فلس کے بدلے خرید و فروخت جائز ہے یا نہیں؟ اس بارے میں دو مسلک ہیں:

  1. امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کا مسلک یہ ہے کہ یہ جائز ہے۔
  2. امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمدؒ اور امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد امام محمدؒ کا مسلک یہ ہے کہ ناجائز ہے۔
جو لوگ فقہ حنفی سے تعلق رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اگر یہ فلوس سونے یا چاندی کا حوالہ ہوتے تو امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کا فتوی کبھی بھی ایک کی دو کے بدلے خرید و فروخت کے جائز ہونے کا نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ ان کے اصول کے خلاف تھا۔ بلکہ سرے سے فلس کی فلس سے بیع ہی شاید کسی کے نزدیک جائز نہ ہوتی۔
اس سے پتا چلتا ہے کہ ان کی الگ قیمت تھی۔
اگر فلوس کی کی اپنی قیمت تھی تو پھر ہم ان فلوس کو آج کی کرنسی کی طرح نہیں کہیں گے کیوں کہ آج کی کرنسی کی کوئی اپنی قیمت نہیں اور نہ ہی اس کے پیچھے کوئی سونے یا چاندی کا حوالہ ہے.
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
اگر فلوس کی کی اپنی قیمت تھی تو پھر ہم ان فلوس کو آج کی کرنسی کی طرح نہیں کہیں گے کیوں کہ آج کی کرنسی کی کوئی اپنی قیمت نہیں اور نہ ہی اس کے پیچھے کوئی سونے یا چاندی کا حوالہ ہے.
فلوس کی اپنی قیمت اس لیے تھی کہ لوگ اس کو قیمت والا سمجھتے تھے۔
"أما عندنا فالفلوس الرائجة بمنزلة الأثمان؛ لاصطلاح الناس على كونها ثمنا للأشياء۔۔۔."
(السرخسی: المبسوط، 14/25، ن: دار المعرفۃ)
ترجمہ: "ہمارے نزدیک رائج فلوس ثمن کے مرتبے میں ہیں کیوں کہ لوگوں کی ان کو اشیاء کا ثمن ماننے پر اصطلاح قائم ہو چکی ہے۔"

آج ہم کرنسی کو اسی طرح قیمت والا اور چیزوں کا ثمن یا متبادل سمجھتے ہیں۔ اگر میری جیب میں ایک ہزار کا نوٹ ہے تو خود نوٹ کی تو کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن میں اور پاکستان میں موجود ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس نوٹ کی ایک قیمت ہے اور مجھے اس کے بدلے میں ایک ہزار روپے کے بقدر اشیاء مل جاتی ہیں۔ یہ قیمت اس اعتبار سے ہے اور فلوس کی قیمت بھی اسی لحاظ سے تھی ورنہ وہ تو صرف سیسے یا تانبے کے چند ٹکڑے تھے۔
 
شمولیت
جولائی 06، 2014
پیغامات
164
ری ایکشن اسکور
56
پوائنٹ
75
شکریہ اشماریہ بھائی ، دراصل ایک اور تھریڈ بھی زیر مشاہدہ تھا "اسلامی بینکاری کی حقیقت" جس میں کرنسی پر ہی بات ہو رہی تھی. اور اس تھریڈ کے لحاظ سے کرنسی ایک دھوکہ اور فریب ہے. اسی لئے اس پر بات چل نکلی.
اب میرا دوسرا سوال.۔۔۔۔"اگر کرنسی کا نظام اسلام قبول کرتا ہے تو اس کرنسی کی قیمت کو رائج کیسے اور کس کی ذمہ داری ہے؟ حکومت کی، تاجر کی یا عوام (خریدار) کی. اور قیمت کا تعین کیسے ہو گا؟ یعنی ١٠٠ روپے کی قدر کی طرح رائج کی جائے گی؟"

وجہ تدوین:
بہتر ہو گا اگر اس تھریڈ میں شامل لوگوں کو یہاں ٹیگ کر لوں.
@خضر حیات
@یوسف ثانی
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
بلا شبہ پیپر کرنسی بہت بڑا دھوکہ اور فریب ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا فریب ہے جسے عالمی سطح پر تمام حکومتوں نے "قانونی" قرار دے رکھا ہے ۔ بلکہ انہی عالمی طاقتوں نے یہ پابندی بھی عائد کر رکھی ہے کہ کوئی ملک سونے اور چاندی کے حقیقی سکے جاری نہیں کرسکتا۔ ایسے میں افراد تو درکنار مسلم ریاستیں بھی اس عالمی جبریہ قانون کو ماننے پر مجبور ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ان عالمی طاقتوں نے اپنی مرضی کی سرحدیں بنا کر کئی سو ممالک بنا کر ہر انسان کو ان سرحدوں کے اندر محصور کر دیا ہے۔ اب ہم مسلم ممالک چاہیں یا نہ چاہیں ان سرحدوں کو ماننے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح پیپر کرنسی کو "قبول" کئے بغیر آج کوئی ملک یا انسان اپنے معمولات زندگی برقرار ہی نہیں رکھ سکتا۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
پیپر کرنسی کی "قیمت" کرنسی چھاپنے والا ادارہ یعنی حکومت یا حکومتی بنک ہی مقرر کرتا ہے اور کرسکتا ہے۔ عوام یا تاجر برادری ایسا کیسے کرسکتی ہے۔ البتہ افراط زر، مہنگائی، بین الاقوامی منڈی میں کسی کرنسی کی مانگ میں کمی بیشی کے سبب ایک کرنسی کی دوسرے کرنسی میں تبادلہ کی شرح کی ویلیو کا تعین اوپن مارکیٹ کے حالات سے ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
اگر کرنسی کا نظام اسلام قبول کرتا ہے تو اس کرنسی کی قیمت کو رائج کیسے اور کس کی ذمہ داری ہے؟ حکومت کی، تاجر کی یا عوام (خریدار) کی. اور قیمت کا تعین کیسے ہو گا؟ یعنی ١٠٠ روپے کی قدر کی طرح رائج کی جائے گی؟
ہم فلوس کے بارے میں یہ جانتے ہی ہیں کہ انہیں اس لیے کرنسی سمجھا جاتا تھا کہ ان پر لوگوں کا تعامل ہو گیا تھا اور لوگوں نے انہیں قبول کر لیا تھا۔ اسی طرح لوگوں نے ان کی ایک قیمت سمجھنا شروع کر دی تھی۔
پیپر کرنسی کی قیمت بھی عوام متعین کرتے ہیں۔ یہ بات عجیب لگتی ہے نا؟ میں سمجھاتا ہوں۔
حکومت ایک نوٹ جاری کرتی ہے۔ اس پر لکھا ہوتا ہے 100 روپے۔ یہ اس سو روپے کی "فیس ویلیو" کہلاتی ہے۔
آپ کو معلوم ہے کہ کئی دن سے ٹماٹر 100 روپے کلو مل رہے ہیں۔ (مثلاً)
آپ ٹماٹر والے کے پاس جاتے ہیں اور اسے 100 روپے دے کر ایک کلو ٹماٹر لینا چاہتے ہیں۔ ٹماٹر والا اس پر راضی نہیں ہے۔ وہ اس 100 روپے کے نوٹ کی "فیس ویلیو" تو نہیں بدل سکتا نہ ہی اسے لینے سے انکار کر سکتا ہے لیکن وہ ایک اور کام کر سکتا ہے۔
وہ کہتا ہے میں ٹماٹر 125 روپے کلو دوں گا۔ آپ دوسرے، تیسرے، چوتھے ٹماٹر والے کے پاس جاتے ہیں۔ سب 125 روپے سے کم پر راضی نہیں ہوتے۔ اب آپ کو دینے ہیں 100 روپے اور ساتھ میں 25 روپے۔
یعنی حکومت نے جو نوٹ جاری کیا ہے اور اس پر لکھا ہے 100 روپے اس کی حیثیت مارکیٹ میں 75 روپے کی ہے۔ اسے کہتے ہیں "مارکیٹ ویلیو"۔
عوام "فیس ویلیو" کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ وہ اس کے مقابلے میں "مارکیٹ ویلیو" مقرر کرتی ہے۔ اب کسی نے نوٹ کو پکا کر کھانا تو ہے نہیں۔ اس پر 100 لکھا ہو یا 1000، اسے کیا فرق پڑتا ہے اگر اسے مارکیٹ میں اس کے مقابلے کی چیز نہ ملے؟ اگر 100 روپے میں 75 روپے کی چیز ملے تو اس پر 100 روپے لکھے ہونے کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔
اس لیے اصل قیمت "مارکیٹ ویلیو" ہوتی ہے اور یہ "مارکیٹ ویلیو" عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ان کے استعمال سے مقرر ہوتی ہے۔ اسی "مارکیٹ ویلیو" پر معاشیات کا مشہور قانون "طلب و رسد" اثر کرتا ہے۔

آج کل ایک اور کرنسی رواج پکڑ رہی ہے جسے ورچوئل کرنسی کہتے ہیں جیسے "بٹ کوئین"۔ یہ الیکٹرانک کرنسی ہے جو کمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتی ہے۔ اس نے عالمی طاقتوں کی ساری اجارہ داری ختم کر دی ہے۔ یہ پیپر کرنسی نہیں ہے نہ ہی اسے کوئی حکومت جاری کر تی ہے لیکن اسے کوئی حکومت نہیں روک سکتی۔ یہ بہت تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور دنیا بھر میں کئی اسٹور اس میں پیسوں کی ادائیگی کو قبول کر رہے ہیں۔
ہر چیز کا حل ہوتا ہے، بس طریقہ آنا چاہیے۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
یہ جو کہا جاتا ہے کہ پیپر کرنسی کو ختم کرکے سونے چاندی کو دوبارہ رواج دیا جائے، یہ ایک بہت عمدہ خیال ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ کیا یہ ممکن بھی ہے؟
1۔ سونا اور چاندی دونوں نایاب دھاتیں ہیں۔ ان کی قیمت ظاہر ہے زیادہ ہوگی۔ تو کم قیمت کی چیزوں کے لیے کیا چیز استعمال کی جائے گی؟ ماضی میں لوگوں نے فلوس استعمال کیے تھے۔ اگر ہم دوبارہ وہی استعمال کرتے ہیں تو پھر کرنسی نوٹ اچھے نہیں ہیں؟
2۔ پورے ملک کی کرنسی کو سونے اور چاندی سے بدلنے کے لیے کوئی بھی ملک اتنا سونا کیسے خریدے گا؟ ظاہر ہے مفت میں تو آئے گا نہیں اور اتنا سونا خریدنے کے لیے اسی قدر زر مبادلہ اور چیزیں چاہئیں۔ یہاں خسارہ پورا نہیں ہوتا تو اتنا بڑا اضافی خرچہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
3۔ اس سونے کو ملک سے باہر جانے سے روکنے کے لیے کیا کیا جائے گا؟ علامہ مقریزیؒ نے لکھا ہے کہ مصر کا سونا فرانسیسی اپنے ملک میں لے گئے تھے۔ یہی یہاں بھی ہوگا۔ اگر لوگوں کو سونا کرنسی کی شکل میں باہر لے جانے سے بالکل روکیں گے تو وہ اس کی شکل تبدیل کر کے لے جائیں گے۔ اگر بالکل باہر لے جانے پر پابندی لگے گی تو دوسرے ملکوں میں جانے کے لیے کیا استعمال کیا جائے گا؟ ان کی کرنسی کیسے خریدیں گے؟
اور بھی بہت سارے عملی مسائل ہیں سونے کی لین دین میں۔ کرنسی نوٹ انہی مسائل کی وجہ سے آہستہ آہستہ وجود میں آئے تھے۔ ہم واپسی انہی مسائل میں کریں گے تو کیا فائدہ ہوگا؟
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
"بٹ کوائن
ہم فلوس کے بارے میں یہ جانتے ہی ہیں کہ انہیں اس لیے کرنسی سمجھا جاتا تھا کہ ان پر لوگوں کا تعامل ہو گیا تھا اور لوگوں نے انہیں قبول کر لیا تھا۔ اسی طرح لوگوں نے ان کی ایک قیمت سمجھنا شروع کر دی تھی۔
پیپر کرنسی کی قیمت بھی عوام متعین کرتے ہیں۔ یہ بات عجیب لگتی ہے نا؟ میں سمجھاتا ہوں۔
حکومت ایک نوٹ جاری کرتی ہے۔ اس پر لکھا ہوتا ہے 100 روپے۔ یہ اس سو روپے کی "فیس ویلیو" کہلاتی ہے۔
آپ کو معلوم ہے کہ کئی دن سے ٹماٹر 100 روپے کلو مل رہے ہیں۔ (مثلاً)
آپ ٹماٹر والے کے پاس جاتے ہیں اور اسے 100 روپے دے کر ایک کلو ٹماٹر لینا چاہتے ہیں۔ ٹماٹر والا اس پر راضی نہیں ہے۔ وہ اس 100 روپے کے نوٹ کی "فیس ویلیو" تو نہیں بدل سکتا نہ ہی اسے لینے سے انکار کر سکتا ہے لیکن وہ ایک اور کام کر سکتا ہے۔
وہ کہتا ہے میں ٹماٹر 125 روپے کلو دوں گا۔ آپ دوسرے، تیسرے، چوتھے ٹماٹر والے کے پاس جاتے ہیں۔ سب 125 روپے سے کم پر راضی نہیں ہوتے۔ اب آپ کو دینے ہیں 100 روپے اور ساتھ میں 25 روپے۔
یعنی حکومت نے جو نوٹ جاری کیا ہے اور اس پر لکھا ہے 100 روپے اس کی حیثیت مارکیٹ میں 75 روپے کی ہے۔ اسے کہتے ہیں "مارکیٹ ویلیو"۔
عوام "فیس ویلیو" کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ وہ اس کے مقابلے میں "مارکیٹ ویلیو" مقرر کرتی ہے۔ اب کسی نے نوٹ کو پکا کر کھانا تو ہے نہیں۔ اس پر 100 لکھا ہو یا 1000، اسے کیا فرق پڑتا ہے اگر اسے مارکیٹ میں اس کے مقابلے کی چیز نہ ملے؟ اگر 100 روپے میں 75 روپے کی چیز ملے تو اس پر 100 روپے لکھے ہونے کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔
اس لیے اصل قیمت "مارکیٹ ویلیو" ہوتی ہے اور یہ "مارکیٹ ویلیو" عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ان کے استعمال سے مقرر ہوتی ہے۔ اسی "مارکیٹ ویلیو" پر معاشیات کا مشہور قانون "طلب و رسد" اثر کرتا ہے۔

آج کل ایک اور کرنسی رواج پکڑ رہی ہے جسے ورچوئل کرنسی کہتے ہیں جیسے "بٹ کوئین"۔ یہ الیکٹرانک کرنسی ہے جو کمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتی ہے۔ اس نے عالمی طاقتوں کی ساری اجارہ داری ختم کر دی ہے۔ یہ پیپر کرنسی نہیں ہے نہ ہی اسے کوئی حکومت جاری کر تی ہے لیکن اسے کوئی حکومت نہیں روک سکتی۔ یہ بہت تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور دنیا بھر میں کئی اسٹور اس میں پیسوں کی ادائیگی کو قبول کر رہے ہیں۔
ہر چیز کا حل ہوتا ہے، بس طریقہ آنا چاہیے۔
" بٹ کوائن" تازہ ترین فراڈ ہے۔ یہ جس تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی قیمت جس تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کے خریداروں کو ایک دن اچانک ہی اتنا ہی بڑا نقصان ہوگا
واللہ اعلم
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
یہ جو کہا جاتا ہے کہ پیپر کرنسی کو ختم کرکے سونے چاندی کو دوبارہ رواج دیا جائے، یہ ایک بہت عمدہ خیال ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ کیا یہ ممکن بھی ہے؟
1۔ سونا اور چاندی دونوں نایاب دھاتیں ہیں۔ ان کی قیمت ظاہر ہے زیادہ ہوگی۔ تو کم قیمت کی چیزوں کے لیے کیا چیز استعمال کی جائے گی؟ ماضی میں لوگوں نے فلوس استعمال کیے تھے۔ اگر ہم دوبارہ وہی استعمال کرتے ہیں تو پھر کرنسی نوٹ اچھے نہیں ہیں؟
2۔ پورے ملک کی کرنسی کو سونے اور چاندی سے بدلنے کے لیے کوئی بھی ملک اتنا سونا کیسے خریدے گا؟ ظاہر ہے مفت میں تو آئے گا نہیں اور اتنا سونا خریدنے کے لیے اسی قدر زر مبادلہ اور چیزیں چاہئیں۔ یہاں خسارہ پورا نہیں ہوتا تو اتنا بڑا اضافی خرچہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
3۔ اس سونے کو ملک سے باہر جانے سے روکنے کے لیے کیا کیا جائے گا؟ علامہ مقریزیؒ نے لکھا ہے کہ مصر کا سونا فرانسیسی اپنے ملک میں لے گئے تھے۔ یہی یہاں بھی ہوگا۔ اگر لوگوں کو سونا کرنسی کی شکل میں باہر لے جانے سے بالکل روکیں گے تو وہ اس کی شکل تبدیل کر کے لے جائیں گے۔ اگر بالکل باہر لے جانے پر پابندی لگے گی تو دوسرے ملکوں میں جانے کے لیے کیا استعمال کیا جائے گا؟ ان کی کرنسی کیسے خریدیں گے؟
اور بھی بہت سارے عملی مسائل ہیں سونے کی لین دین میں۔ کرنسی نوٹ انہی مسائل کی وجہ سے آہستہ آہستہ وجود میں آئے تھے۔ ہم واپسی انہی مسائل میں کریں گے تو کیا فائدہ ہوگا؟
جی ہاں یہ ممکن ہے۔ لیکن اس سے امریکی اور یہودی سامراج سمیت دنیا کی بڑی بڑی جعلی معیشتوں کا بیڑا غرق ہو جائے گا ۔ ان کے فراڈ کی قلعی کھل جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی قوتوں نے دنیا بھر کے ممالک پر پابندی لگائی ہوئی ہے کہ وہ سونے اور چاندی کے حقیقی سکے جاری نہیں کریں گے۔ شنید ہے کہ لیبیا نے اس جانب خاصی پیشرفت کی تھی۔ اسی لئے وہاں کی حکومت تباہ کی گئی۔
دھاتیں صرف سونا چاندی نہیں ہیں۔ سستے دھات بھی بہت سے ہیں جن سے حقیقی چھوٹی مالیت کے سکے ڈھا لے جاسکتے ہیں۔ ان حقیقی سکوں کی موجودگی اور چلن سے افراط زر کا مسئلہ کبھی پیدا نہیں ہوگا۔ اور مہنگائی اس تیزی سے نہیں بڑھے گی جیسا کہ پیپر کرنسی کے دور میں بڑھی ہے۔ پیپر کرنسی کا اصل مسئلہ جعلسازی، فراڈ ، افراط زر، مہنگائی ہے۔ جب یہ کنٹرول میں آجائیں گے تو بقیہ چھوٹے موٹے مسائل بھی حل کئے جاسکتے ہیں
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
"بٹ کوائن

" بٹ کوائن" تازہ ترین فراڈ ہے۔ یہ جس تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی قیمت جس تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کے خریداروں کو ایک دن اچانک ہی اتنا ہی بڑا نقصان ہوگا
واللہ اعلم
کہنا تو سب کچھ بہت آسان ہے لیکن۔۔۔ کسی جانب کوئی ترجیح کی وجہ موجود نہیں ہے۔
جو بھی ہے یہ ایک ایسا راستہ تو ہے جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے جنوں کی دسترس سے محفوظ ہے۔


جی ہاں یہ ممکن ہے۔ لیکن اس سے امریکی اور یہودی سامراج سمیت دنیا کی بڑی بڑی جعلی معیشتوں کا بیڑا غرق ہو جائے گا ۔ ان کے فراڈ کی قلعی کھل جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی قوتوں نے دنیا بھر کے ممالک پر پابندی لگائی ہوئی ہے کہ وہ سونے اور چاندی کے حقیقی سکے جاری نہیں کریں گے۔ شنید ہے کہ لیبیا نے اس جانب خاصی پیشرفت کی تھی۔ اسی لئے وہاں کی حکومت تباہ کی گئی۔
دھاتیں صرف سونا چاندی نہیں ہیں۔ سستے دھات بھی بہت سے ہیں جن سے حقیقی چھوٹی مالیت کے سکے ڈھا لے جاسکتے ہیں۔ ان حقیقی سکوں کی موجودگی اور چلن سے افراط زر کا مسئلہ کبھی پیدا نہیں ہوگا۔ اور مہنگائی اس تیزی سے نہیں بڑھے گی جیسا کہ پیپر کرنسی کے دور میں بڑھی ہے۔ پیپر کرنسی کا اصل مسئلہ جعلسازی، فراڈ ، افراط زر، مہنگائی ہے۔ جب یہ کنٹرول میں آجائیں گے تو بقیہ چھوٹے موٹے مسائل بھی حل کئے جاسکتے ہیں
سستی دھاتوں کی قیمت کون مقرر کرے گا؟ ان میں جعل سازی اور افراط زر کرنسی نوٹوں سے بھی زیادہ ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر ہم تانبے کے سکے بنانے کی بات کرتے ہیں تو جس کو جہاں تانبا ملے گا وہ اس کا سکہ بنا لے گا۔ لوگ سیسے اور لوہے کو بھی رنگ کر کے تانبے کی طرح کے سکے بنانا شروع کر دیں گے۔ اس کا سد باب کیا ہوگا؟ نوٹ کو کم از کم چیک تو کیا جا سکتا ہے لیکن انہیں چیک کیسے کیا جائے گا؟ نوٹ کو تو جعلی بنانا مشکل کام ہے لیکن سکہ تو کوئی بھی لوہار ڈھال سکتا ہے۔ اتنے زیادہ سکوں سے جو افراط زر ہوگا اس کا کیا حل ہوگا؟
میں کرنسی نوٹوں کا کوئی حامی نہیں ہوں، انہیں فراڈ سے بھی اعلی درجے کی کوئی چیز سمجھتا ہوں جس کے ذریعے پوری دنیا کو اپنا غلام بنا لیا گیا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ اس کا جو حل ہو وہ بھی قابل عمل ہونا چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ حل زیادہ نقصان دہ ہو جائے۔
سونے چاندی کے سکوں سے امریکی اور یہودی سامراجوں کا بیڑہ غرق ہونے کا جذبہ قابل قدر اور خیال دل خوش کن ہے۔ لیکن حقیقت کی دنیا کے جو مسائل ہیں انہیں بھی تو دیکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارا بیڑہ ان سے بھی پہلے غرق ہو جائے اور وہ اپنے نوٹوں پر خوش رہیں۔
 
Top