• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

چار سنتیں دو دو کر کے پڑھنا افضل ہے

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,633
پوائنٹ
791
چار سنتیں دو دو کر کے پڑھنا افضل ہے


.
سوال :محترم فضیلۃ الشیخ زبیر علی زئی صاحب کیا ظہر اور عصر کی چار سنت کو ایک سلام کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے؟ (ایک سائل)

الجواب:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“صلوۃ اللیل و النھار مثنیٰ مثنیٰ” رات اور دن کی (نفل، سنت) نماز دو دو (رکعتیں) ہے۔(سنن ابی داؤد : ۱۲۹۵ و سندہ حسن)
اسے ابن خزیمہ (۱۲۱۰) ابن حبان (۶۳۶) اور جمہور محدثین نے صحیح قرار دیا ہے ۔(دیکھئے میری کتاب نیل المقصود فی التعلیق علی سنن ابی داؤد ج ۱ ص ۳۷۱)
معرفۃ علوم الحدیث للحاکم (ص ۵۸ ح ۱۰۱) میں اس کی ایک مؤید روایت ہے جس کی سند حسن ہے، اس کے باوجود امام حاکم نے اسے “وھم” قرار دیا ہے !
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ : “صلوۃ اللیل و النھار مثنی مثنی“ رات اور دن کی (نفل) نماز دو دو(رکعتیں) ہے ۔ (السنن الکبری للبیہقی ج ۲ ص ۴۸۷وسندہ صحیح ولاعلۃ فیہ)
اس سے معلوم ہوا کہ سنن ابی داؤد والی حدیث سابق صحیح لغیرہ ہے ۔ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ چار سنتیں دو دو کر کے دو سلاموں کے ساتھ پڑھنی چاہئیں۔
نافع (تابعی) سے روایت ہے کہ (سیدنا) عبداللہ بن عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) دن کو چار چا ر رکعتیں (سنت) پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ج۲ ص ۲۷۴ح ۶۶۳۴ و سندہ صحیح )
عبداللہ بن عمر العمری (صدوق حسن الحدیث عن نافع، ضعیف عن غیرہ) عن نافع کی سند سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما رات کو دو دو رکعت اور دن کو چار رکعت (نوافل) پڑھتے تھے ، پھر سلام پھیرتے تھے۔(مصنف عبدالرزاق ۵۰۱/۲ ح ۴۲۲۵ و اسنادہ حسن)
اس روایت کی دوسری سند سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحیح لغیرہ ہے۔ (دیکھئے مصنف عبدالرزاق ح ۴۲۲۶)
امام ابن المنذر النیسابوری نے اسے “ثابت عن ابن عمر” قرار دیا ہے ۔ (الاوسط ۲۳۶/۵)

تنبیہ: عبداللہ بن عمر العمری کی مصنف عبدالرزاق والی روایت الاوسط میں “أخبرنا عبداللہ بن عمر عن نافع عن أبن عمر” إلخ کی سند سے چھپی ہوئی ہے !
اس اثر سے معلوم ہوا کہ ایک سلام میں چار سنتیں پڑھنا بھی جائز ہے ۔
لیکن بہتر یہی ہے کہ مرفوع حدیث کی وجہ سے وتر کے علاوہ تمام سنتیں اور نوافل دو دو کر کے پڑھے جائیں۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:“صلوۃالنھار رکعتان رکعتان” دن کی نماز دو دو رکعتیں ہے
(مسائل الإمام أحمد و إسحاق بن راھویہ، روایۃ إسحاق بن منصور الکوسج ۲۰۵/۱ فقرہ : ۴۳۳ وسندہ صحیح، الأشعث ھو ابن عبد الملک الحمرانی)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ دن کی نفل نماز دو دو کرکے پڑھتے تھے (ایضاً فقرہ: ۴۰۵)
لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ،
اس مضمون کا لنک
 
Last edited:
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
431
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
79
۔

ظہر کی پہلی چار سنتیں پڑھنے کا طریقہ

سوال (1060)


کیا ظہر کی پہلی چار سنتیں اکٹھی چار پڑھی جا سکتی ہیں یا دو دو کر کے پڑھنی لازم ہیں؟

جواب :
دونوں طرح درست ہے۔

فضیلۃ الباحث عبد الخالق سیف حفظہ اللہ



دن کے وقت چار رکعت نفل ایک سلام کے ساتھ پڑھنا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے. اور نبی علیہ السلام کے فرمان ” صلاة الليل مثني مثني ” کے مفہوم سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ دن کے وقت چار رکعت پڑھی جا سکتی ہیں ، یاد رہے کہ اس حدیث میں نهار کا لفظ شاذ اور منکر ہے۔

فضیلۃ الباحث واجد اقبال حفظہ اللہ



“صلاة الليل والنهار مثنى مثنى” رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔ یہ حدیث دن کے الفاظ کے ساتھ منکر ہے ، محفوظ الفاظ صلاة الليل مثنى مثنى ہیں ، چار رکعت نماز ایک سلام سے پڑھی جائے یا دو سلام سے یعنی الگ الگ (دن کی نمازوں کی سنتیں)۔
اسحاق بن راھویہ رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ چاروں اکھٹی پڑھی جائیں۔
دلیل:
وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا، يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، وَالنَّبِيِّينَ، وَالْمُرْسَلِينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ.
ترمذی و نسائی کی یہ حدیث ہے۔
چار رکعتیں قبل العصر پڑھتے اور فرشتوں نبیوں اور مسلمین و مومنین پر سلامتی کے ساتھ ان کے درمیان فاصلہ کرتے،
اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد تشہد ہے۔
(اس حدیث کو عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ نے کہا کہ یہ کذب ہے (معنی انہ خطاء) امام ترمذی،البزار اور الجوزجانی نے معلول قرار دیا، اس میں ابو اسحاق عن عاصم بن ضمرہ عن علی کی سند سے تفرد ہے
دوسرا ابو اسحاق سے روات نے اس روایت کے متن میں اختلاف کیا ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اس اختلاف کو سنن الکبری نسائی میں ذکر کیا ہے,ایک روایت میں صراحتا لفظ ہیں کہ سلام آخر پر پھیرتے واللہ اعلم)۔
امام احمد و شافعی کا موقف ہے دو دو کر کے پڑھی جائیں۔
عموما نماز نفل (جیسے فجر کی سنن،ظہر و مغرب و عشاء کے بعد) دو دو رکعت ہے۔
عبداللہ بن عمر سے (جیسے طحاوی رحمہ اللہ اور ابن المنذر رحمہ اللہ نے روایت کیا) ثابت ہے وہ ظہر سے قبل چار رکعت پڑھتے سلام آخر پر پھیرتے۔
امام ترمذی نے سنن میں سلف کا یہ اختلاف ذکر کیا [حدیث 424]
راجح یہ ہے دو دو کر کے یا چاروں اکٹھی دونوں طرح جائز ہے۔

فضیلۃ الباحث اسامہ شوکت حفظہ اللہ



سوال:
کیا بندہ ظہر اور عصر کی سنتیں دو دو کر کے پڑھ سکتا ہے؟

جواب: دن اور رات کی سنتیں دو دو کر کے پڑھنی چاہیں، لہذا ظہر ہو یا عصر، سنتیں دو دو کرکے پڑھیں یہ زیادہ افضل ہے، البتہ اگر ظہر والی پہلی جو چار رکعت سنتیں ہیں، وہ ایک سلام سے پڑھ لی جائیں تو ایک اور فضیلت حاصل ہو جائے گی، لیکن عام قائدہ یہ ہے کہ رات اور دن کی نفلی نماز دو دو رکعت ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



صلاة الليل مثنى، مثنى کے الفاظ ہی محفوظ ہیں جیسا کہ شیخین نے صحیحین میں روایت نقل کی ہے ائمہ حفاظ وٹقات کی جماعت اسے اسی طرح بیان کرتی ہے اور سائل نے صرف رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تھا جس پر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا۔
ﺻﻼﺓ اﻟﻠﻴﻞ ﻣﺜﻨﻰ ﻣﺜﻨﻰ، ﻓﺈﺫا ﺧﺸﻲ ﺃﺣﺪﻛﻢ اﻟﺼﺒﺢ ﺻﻠﻰ ﺭﻛﻌﺔ ﻭاﺣﺪﺓ ﺗﻮﺗﺮ ﻟﻪ ﻣﺎ ﻗﺪ ﺻﻠﻰ [صحیح البخاری: 990، صحیح مسلم: 749]
زیادت کے محفوظ اور غیر محفوظ ہونے کو معلوم کرنے کا مسئلہ نہایت دقیق ہے۔ اس النھار کی زیادت پر جو حدیث أبی ھریرہ کو شاہد کے طور پیش کیا جاتا ہے وہ بھی معلول ہے، میں نے اس روایت پر کچھ سال پہلے مفصل تحقیق پیش کی تھی مگر وہ میری دیگر سیکنڑوں تحقیقات کے ساتھ ڈلیٹ ہو چکی ہے۔ البتہ دو،دو کر کے پڑھنا جائز ہے مگر اسے افضل قرار دینا محل نظر ہے۔ هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ



سوال:
ظہر کی سنتیں چار رکعت اور عصر کی سنتیں چار اکٹھی پڑھنا کیسا ہے؟

جواب: پہلی بات ظہر کی چار رکعات ایک سلام سے پڑھنا اور دو سلام سے پڑھنا درست ہے البتہ خاص طور پہ دو، دو رکعت کر کے پڑھنا تو یہ علی الرجح سنت سے ثابت نہیں ہے۔
اگر کوئی کہے کہ حدیث میں صلاة الليل والنهار مثنی، مثنی آیا ہے کہ دن اور رات کی نفل نماز دو، دو رکعت ہے۔
تو عرض ہے کہ صحیح اور محفوظ حدیث صرف صلاة الليل مثنى، مثنى کے الفاظ سے ہے جیسا کہ صحیح البخاری :(472،473،993،1137)، صحیح مسلم: (749) وغیرہ میں حدیث موجود ہے۔
اگر النھار کی زیادت محفوظ ہوتی تو شیخین جیسے ناقد وعلل کے ماہر امام ضرور اس زیادت کو لے کر آتے۔
یعنی آپ النھار کی زیادت راوی کی خطا ہے اور جن ثقات حفاظ کرام نے اس زیادت کو بیان نہیں کیا انہی کی روایت والفاظ محفوظ ہیں۔
رہا بعض دیگر روایتیں جنہیں شاہد بنایا جاتا ہے تو وہ معلول ہیں۔
میں نے اس پر تفصیل کچھ سال پہلے لکھی اور نشر کی تھی مگر سینکڑوں تحقیقات کے ساتھ وہ ضائع وڈلیٹ ہو چکی ہے۔
دوسری بات عصر سے پہلے چار رکعات نماز ادا کرنے والی کوئی روایت ثابت نہیں ہے جیسا کہ طالب علم نے تحقیق مشکاۃ المصابیح میں قدرے تفصیل سے لکھا ہے۔ والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ



سائل:
عصر کی نماز سنت چار ثابت نہیں ہے شیخ؟

جواب: جی یہی لکھا ہے کہ ثابت نہیں جو روایت فضیلت والی معروف ہے وہ علی الراجح ضعیف ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ


Al-Ulama - تمام حقوق محفوظ ہیں 2025


۔
 
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
431
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
79
۔

چار رکعت سنت یا نفل اکٹھی ایک سلام سےپڑھنا کیسا ہے؟


ہ ےےےےےےہ


1 ۔
چار سنتیں دو دو کر کےپڑھنا افضل ہے

تحریر :
فضیلۃ الشیخ زبیر علی زئی ؒ



سوال :

محترم فضیلۃ الشیخ زبیر علی زئی صاحب کیا ظہر اور عصر کی چار سنت کو ایک سلام کےساتھ ادا کرنا جائز ہے؟



الجواب:

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سےروایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:
صلوة الليل و النهار مثنيٰ مثنيٰ
سنن ابي داؤد : ۱۲۹۵ و سنده حسن

” رات اور دن کی (نفل، سنت) نماز دو دو (رکعتیں) ہے۔“

اسےابن خزیمہ ۱۲۱۰، ابن حبان ۶۳۶ اور جمہور محدثین نےصحیح قرار دیا ہے۔
ديكهۓميري كتاب نيل المقصود فى التعليق على سنن ابي داؤد، ج۱، ص ۳۷۱

معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ، ص ۵۸ ح ۱۰۱، میں اس کی ایک مؤید روایت ہےجس کی سند حسن ہے، اس کےباوجود امام حاکم نےاسے “وھم” قرار دیا ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ فرماتےتھےکہ :
صلوة الليل و النهار مثني مثني۔
السنن الكبري للبيهقي ج ۲ ص ۴۸۷وسنده صحيح ولاعلة فيه۔

”رات اور دن کی (نفل) نماز دو دو(رکعتیں) ہے۔“

اس سےمعلوم ہوا کہ سنن ابی داؤد والی حدیث سابق صحیح لغیرہ ہے۔

اس صحیح حدیث سےمعلوم ہوا کہ یہ چار سنتیں دو دو کر کےدو سلاموں کےساتھ پڑھنی چاہئیں۔

نافع (تابعی) سےروایت ہےکہ (سیدنا) عبداللہ بن عمرؓ دن کو چار چا ر رکعتیں (سنت) پڑھتےتھے۔
مصنف ابن ابي شيبه، ج۲، ص ۲۷۴ ، ح ۶۶۳۴ و سنده صحيح

عبداللہ بن عمر العمری (صدوق حسن الحدیث عن نافع، ضعیف عن غیرہ) عن نافع کی سند سےروایت ہےکہ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ رات کو دو دو رکعت اور دن کو چار رکعت (نوافل) پڑھتےتھے، پھر سلام پھیرتےتھے۔
مصنف عبدالرزاق ۵۰۱/۲ ح ۴۲۲۵ و اسناده حسن

اس روایت کی دوسری سند سےمعلوم ہوتا ہےکہ یہ صحیح لغیرہ ہے۔
ديكهۓمصنف عبدالرزاق ح ۴۲۲۶

امام ابن المنذر النیسابوری نےاسےثابت عن ابن عمر قرار دیا ہے۔
الاوسط ۲۳۶/۵

تنبیہ:
عبداللہ بن عمر العمری کی مصنف عبدالرزاق والی روایت الاوسط میں :
أخبرنا عبدالله بن عمر عن نافع عن أبن عمر إلخ کی سند سےچھپی ہوئی ہے!

اس اثر سےمعلوم ہوا کہ ایک سلام میں چار سنتیں پڑھنا بھی جائز ہے۔

لیکن بہتر یہی ہےکہ مرفوع حدیث کی وجہ سےوتر کےعلاوہ تمام سنتیں اور نوافل دو دو کر کےپڑھےجائیں۔

حسن بصری ؒ فرماتےہیں:
صلوةالنهار ركعتان ركعتان۔

مسائل الإمام أحمد و إسحاق بن راهويه، رواية إسحاق بن منصور الكوسج ۲۰۵/۱ فقره : ۴۳۳ وسنده صحيح، الأشعث هو ابن عبد الملك الحمراني

”دن کی نماز دو دو رکعتیں ہے۔“

امام احمد بن حنبل ؒ دن کی نفل نماز دو دو کرکےپڑھتےتھے۔
ايضاً فقره: ۴۰۵


ہ ےےےےےے ہ


2 ۔
ظہر اور عصر سےقبل چار رکعت سنت ایک سلام سےپڑھنا



سوال :

ظہر اور عصر سےقبل چار رکعت سنت ایک سلام سےپڑھنا کیسا ہےجب کہ حدیث میں ہےکہ

"صَلٰوةُ اللَّیلِ وَالنَّهَارِ مَثنٰی مَثنٰی "

سنن الترمذی،بَابٌ: أَنَّ صَلاَةَ اللَّیلِ وَالنَّهَارِ مَثنَی مَثنَی ۵۹۷،
سنن أبی داؤدبَابٌ فِی صَلَاةِ النَّهَارِ ۱۲۹۵،
سنن ابن ماجه،بَابُ مَا جَاء َ فِی صَلَاةِ اللَّیلِ وَالنَّهَارِ مَثنَی مَثنَی ۱۳۲۲


دوسری حدیث ہےکہ
" کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُصَلِّی قَبلَ العَصرِ اَربَعَ رَکعَاتٍ یَفصِلُ بَینَهُنَّ بِالتَّسلِیمِ " ۔

سنن الترمذی،بَابُ مَا جَاءَ فِی الأَربَعِ قَبلَ العَصرِ ،رقم:۴۲۹ وحسنه والالبانی

کیا کسی حدیث میں چار رکعت اکٹھی پڑھنےکا بھی ذکر ہے؟



جواب :

ظہر اور عصر سےپہلےچار رکعات کو اکٹھا پڑھنا جائز ہے۔

چنانچہ ’’سنن ابی دائود‘‘ ، ’’نسائی‘‘ اور ’’ابن ماجہ‘‘ میں حضرت اُمّ حبیبہ ؓ سےمروی، کہ میں نےرسول اللہ ﷺ سےسنا۔ آپ ﷺ نےفرمایا:

’’جس نےظہر سےقبل چار رکعات اور اس کےبعد چار رکعات پر محافظت کی، اللہ اسےآگ پر حرام کر دیتا ہے۔‘‘

حدیث ہذا مجموعےکےاعتبار سےصحیح ہے۔

صحیح بخاری میں بَابُ الرَّکعَتَانِ قَبلَ الظُّھرِ کےتحت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےمروی ہے، کہ

أَنَّ النَّبِیَّﷺ لَا یَدَعُ أَربَعًا قَبلَ الظُّهرِ۔

صحیح البخاری،بَابُ الرَّکعَتَینِ قَبلَ الظُّهرِ ۱۱۸۲

’’نبی ﷺ ظہر سےپہلےچار رکعتیں نہیں چھوڑتےتھے۔‘‘

ظاہر یہ ہے، کہ آپ ﷺ چار رکعتیں اکٹھی پڑھتےتھے۔ جب کہ

سوال میں مشارٌ الیہ حدیث میں ہے، کہ رات اور دن کی نماز دو رکعتیں ہیں اور

صحیح بخاری میں امام بخاری ؒ نےبھی اسی پر زور دیا ہے۔

اس بارےمیں اولیٰ ( زیادہ بہتر ) بات یہ ہےکہ ان مختلف احادیث کو دو مختلف حالتوں پر محمول کیا جاۓ۔

یعنی بعض دفعہ آپ ﷺ دو پڑھتےاور بعض دفعہ چار۔

چنانچہ ’’فتح الباري‘‘(۳؍۵۸) میں ہے:

’ وَالأَولٰی اَن یُحمَلَ عَلٰی حَالَینِ۔ فَکَانَ تَارَةً یُصَلِّی ثِنتَینِ۔ وَ تَارَةً یُصَلِّی اَربَعًا۔‘

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنیؒ
کتاب الصلوٰۃ ، صفحہ 687 ۔


ہ ےےےےےے ہ


جوائین ان :

https://telegram.me/salafitehqiqikutub/320

۔
 
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
431
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
79
۔

چار رکعت دو تشہد ایک سلام سے پڑھنا

https://telegram.me/salafitehqiqikutub/3515


ہ ےےےےےے ہ


1 ۔
نماز تراویح چار رکعت ایک سلام سے پڑھی جائے یا دو


سوال :

نماز تراویح دو دو رکعت پڑھنے کا حکم یا چار چار رکعت اگر نماز تراویح چار رکعت ایک سلام سے پڑھی جائے تو دو رکعت کے بعد عمدا قعدہ یعنی تشہد پڑھنے کے لئے بیٹھیں تو کیا یہ نماز صحیح ہوگی۔



جواب :

حدیث شریف میں رات کی نماز دو دو رکعت آئی ہے۔ مگر چار بھی آپﷺ سےثابت ہیں۔ ایسا بھی آیا ہے کہ آپﷺ نے آخر میں قعدہ کیا ایسےمسائل میں نزاع نہیں کرنی چاہیے۔

فتاویٰ ثنائیہ امرتسری
جلد 01 ص 604
محدث فتوی


ہ ےےےےےے ہ


2 ۔
چار سنتوں کو دو تشہد سے پڑھنے کے بارے میں


سوال :

تین وتر کی نماز مغرب سے مشابہت بتشہد تین منع ہے۔
امر مطلوب یہ ہے کہ آیا چار سنتوں کو دو تشہدوں سے پڑھنے کے بارے میں کوئی نص موجو دہے یا نہیں اور کیا عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت بسلسلہ قیام اللیل «یُصَلِّیْ اَرْبَعًا الخ » سے استدلال کیا جا سکتا ہے ؟
اور کیا چار سنتوں کو ایک سلام سے پڑھنا جائز ہے ؟ اور کیا اس سے چار رکعت والی نماز سے مشابہت نہ ہے؟



جواب :

وتر کے سلسلہ میں تو نماز مغرب کے ساتھ مشابہت سے نہی وارد ہے البتہ مطلق نفل نماز کی مطلق فرض نماز کے ساتھ مشابہت سے نہی کا ثبوت درکار ہے مجھے تو اس نہی کا علم نہیں ۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت بسلسلہ قیام اللیل
«يُصَلِّیْ اَرْبَعًا الخ» سے بیک سلام دو تشہدوں پر استدلال درست نہیں کیونکہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا صحیح مسلم میں بیان ہے

يُسَلِّمُ مِنْ کُلِّ رَکْعَتَيْنِ

ہاں جامع ترمذی ’’ بَابٌ کَيْفَ کَانَ يَتْطَوَّعُ النَّبِیُّ ﷺ بِالنَّهَارِ‘‘ میں مرفوع حدیث ہے جس میں یہ بھی ہے:

«وَقَبْلَ الْعَصْرِ اَرْبَعًا يَفْصِلُ بَيْنَ کُلِّ رَکْعَتَيْنِ بِالتَّسلِيْمِ عَلَی الْمَلاَئِکَةِ الْمُقَرَّبِيْنَ وَالنَّبِيّنَ وَالْمُرْسَلِيْنَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْنَ»صحيح ترمذى للالبانى ج1 ص 489

مبارکپوری رحمہ اللہ تعالیٰ تحفۃ الاحوذی میں لکھتے ہیں:

«وَقَدْ ذَکَرَ التِّرْمِذِیُ هٰذَا الْحَدِيْثَ مُخْتَصَرًا فِیْ بَابِ مَا جَائَ فِی الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَذَکَرَ هُنَاکَ قَوْلَ إِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاهِيْمَ وَلاَ بُعْدَ عِنْدِیْ فِيْمَا اَوَّلَه عَلَيْهِ بَلْ هُوَ الظَّاهِرُ الْقَرِيْبُ بَلْ هُوَ الْمُتَعَيَّنُ اِذِ النَّبِيُّوْنَ وَالْمُرْسَلُوْنَ لاَ يَحْضُرُوْنَ الصَّلٰوةَ حَتّٰی يَنْوِيَهُمُ الْمُصَلِّیْ بِقَوْلِهِ اَلسَّلاَمُ عَلَيْکُمْ فَکَيْفَ يُرَادُ بِالتَّسْلِيْمِ تَسْلِيْمُ التَحَلُّلِ مِنَ الصَّلٰوةِ ‘‘

خلاصہ :
ایک سلام سے چار سنتیں اکٹھی پڑھی جا سکتی ہیں ۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل
نماز کا بیان ، ج1، ص 218
محدث فتویٰ


ہ ےےےےےے ہ


جوائن ان

https://telegram.me/salafitehqiqikutub/3515

۔
 
Top