• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا اسلام میں موسیقی حرام ہے؟

شمولیت
نومبر 04، 2012
پیغامات
82
ری ایکشن اسکور
351
پوائنٹ
36
(ا) وہ موسیقی جس میں کوئی اخلاقی قباحت جیسے شرک، بے حیائی یا اس قسم کی کوئی اور چیز پائی جائے۔ اس کے حرام ہونے پر سب علماء کا اتفاق ہے۔ موجودہ دور کی ۹۰ فیصد موسیقی اسی قسم کی ہے۔

(ب) وہ موسیقی جس میں کوئی اخلاقی قباحت نہ ہو اور نہ ہی سازوں کا استعمال ہو۔ اس کے جواز کے تمام علماء قائل ہیں۔ حمد و نعت، قومی ترانے اور اصلاحی نظمیں اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہیں۔

(ج) وہ موسیقی جس میں کوئی اخلاقی قباحت نہ ہو مگر سازوں کا استعمال کیا جائے۔ اس کے بارے میں قدیم و جدید علماء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ بعض کے نزدیک یہ جائز ہے اور بعض کے نزدیک سازوں کے استعمال کے باعث ناجائز۔ دونوں گروہوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ جو علماء اسے ناجائز سمجھتے ہیں، وہ ایسا اس حدیث کی بنیاد پر کہتے ہیں:

وقال هشام بن عمار: حدثنا صدقة بن خالد: حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر: حدثنا عطية بن قيس الكلابي: حدثنا عبد الرحمن بن غنم الأشعري قال: حدثني أبو عامر - أو أبو مالك - الأشعري، والله ما كَذَبَني: سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (ليكوننَّ من أمتي أقوام، يستحلُّون الْحِرَ والحرير، والخمر والمعازف، ولينزلنَّ أقوام إلى جنب عَلَم، يروح عليهم بسارحة لهم، يأتيهم - يعني الفقير - لحاجة فيقولوا: ارجع إلينا غداً، فيُبيِّتهم الله، ويضع العلم، ويمسخ آخرين قردة وخنازير إلى يوم القيامة). (بخاری ، کتاب الاشربہ، حدیث 5268)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے، جو بدکاری، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال ٹھہرا لیں گے۔ ان میں سے کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑوں کی چوٹیوں پر واقع اپنے بنگلوں میں رہائش رکھیں گے اور جب کوئی ضرورت مند آدمی ان کے پاس اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے جائے گا تو کل آنے کا کہہ کر ٹال دیں گے۔ اللہ تعالی رات کے وقت ہی ان پر پہاڑ کو گرا دے گا اور ایسے ہی کچھ اور لوگوں کو قیامت تک کےلئے بندر و خنزیر بنا دے گا۔"

جو علماء موسیقی کو جائز سمجھتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں اس موسیقی کی مذمت ہے جس میں بے حیائی اور فحاشی پائی جاتی ہو، جیسا کہ آج کل کی اکثر موسیقی میں ہے۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ حدیث میں موسیقی کا ذکر بدکاری، شراب اور ریشم کے ساتھ کیا گیا ہے۔ دور جاہلیت کے عربوں کے ہاں بھی ڈانس پارٹیاں ہوا کرتی تھیں جن میں رقاصائیں ریشمی لباس پہن کر آتیں، شراب کے دور چلتے اور موسیقی سنی و سنائی جاتی اور پھر نوبت بدکاری تک جا پہنچتی۔ ایسی موسیقی کی حرمت کے بارے میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے۔

ایسی موسیقی جس میں بے حیائی نہ ہو، اس کے جواز میں وہ یہ احادیث پیش کرتے ہیں:

حدثنا إسماعيل قال: حدثني ابن وهب: قال عمرو: حدثني أبو الأسود، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندي جاريتان تغنيان بغناء بعاث، فاضطجع على الفراش وحول وجهه، فدخل أبو بكر فانتهرني وقال: مزمارة الشيطان عند رسول الله صلى الله عليه وسلم. فأقبل عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: (دعهما). فلما غفل غمزتهما فخرجتا. وقالت: وكان يوم عيد، يلعب السودان بالدرق والحراب، فإما سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وإما قال: (تشتهين تنظرين). فقالت: نعم، فأقامني وراءه، خدي على خده، ويقول: (دونكم بني أرفدة). حتى إذا مللت، قال: (حسبك). قلت: نعم، قال: فاذهبي). (بخاری، کتاب الجہاد، حدیث 2750)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں داخل ہوئے تو میرے پاس دو بچیاں تھیں جو کہ جنگ بعاث کے گیت گا رہی تھیں۔ آپ آ کر میرے بستر پر لیٹ گئے اور رخ مبارک دوسری جانب کر لیا۔ ابوبکر گھر میں آئے تو بولے: رسول اللہ کے پاس شیطانی گیت؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی جانب رخ انور پھیر کر ارشاد فرمایا: "انہیں چھوڑ دو۔" پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسری جانب متوجہ ہوئے تو میں نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ چلی جائیں۔ آپ فرماتی ہیں کہ وہ عید کا دن تھا۔ سوڈانی لوگ اپنے نیزوں اور ڈھال کی مدد سے کھیل کھیل رہے تھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا آپ نے خود ہی فرمایا: "تم یہ دیکھنا چاہتی ہو؟" میں نے کہا، "جی ہاں۔" تو آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا اور میرا چہرہ آپ کے چہرے کے ساتھ تھا۔ آپ فرما رہے تھے: "بہت خوب، بنو ارفدہ۔" جب میں تھک گئی تو آپ نے فرمایا: "بس۔" پھر فرمایا: "جاؤ۔"

حدثنا مسدد: حدثنا بشر بن المفضل: حدثنا خالد بن ذكوان قال: قالت الربيع بنت معوذ بن عفراء: جاء النبي صلى الله عليه وسلم فدخل حين بني علي، فجلس على فراشي كمجلسك مني، فجعلت جويريات لنا، يضربن بالدف ويندبن من قتل من أبائي يوم بدر، إذ قالت إحداهن: وفينا نبي يعلم ما في غد، فقال: (دعي هذا، و قولي بالذي كنت تقولين). (بخاری ، کتاب النکاح، حدیث 4852)

ربیع بنت معوذ بن عفراء بیان کرتی ہیں کہ جب میں دلہن بنا کر بٹھائی گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ آپ یہاں میرے بستر پر ایسے بیٹھے جیسے تم لوگ بیٹھے ہو۔ پھر ہمارے یہاں کی کچھ لڑکیاں دف بجانے لگیں اور میرے والد اور چچا جو جنگ بدر کے دن شہید ہوئے تھے، ان کی تعریف کرنے لگیں۔ ان میں سے ایک نے کہا، "ہم میں وہ نبی ہیں جو آنے والے کل کی بات جانتے ہیں۔" آپ نے فرمایا: "اسے چھوڑو اور وہ گاؤ جو تم پہلے گا رہی تھیں۔"

ّآپ دونوں جانب کے دلائل کا مطالعہ کر کے اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں۔
 

عامر عدنان

مشہور رکن
شمولیت
جون 22، 2015
پیغامات
916
ری ایکشن اسکور
253
پوائنٹ
142
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
محترم شیوخ اس کا جواب دیں
FB_IMG_1484112303388.jpg

اس روایت کو امام ابو داود رحمہ اللہ نے منکر کہا ہے.
اس روایت کے متعلق شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اور شیخ شعیب ارناؤوط رحمہ اللہ فرماتے ہیں "حسن" اور علامہ البانی رحمہ اللہ صحیح فرماتے ہیں۔
ایک بھائی جو کہ اہل حدیث ہیں ان سے اس روایت کے متعلق بات چل رہی تھی انہوں نے کہا کہ امام ابو داود رحمہ اللہ نے اس کو منکر کہا ہے اس کے بعد میں نے علماء کی تحسین و تصحیح پیش کے تو انہوں نے کہا:
"امام ابوداؤد اور متقدمین محدثین کا حکم جو علل کے ماہر تھے ان کا حکم صحیح ہوتا ہے .... کیوں کہ بعد والے اس خفیہ علت تک نہیں پہنچ سکتے جس تک آئمہ علل پہنچے ...

اس متعلق وضاحت فرما دیں۔ جزاک اللہ خیراً
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,433
پوائنٹ
791
ایسی موسیقی جس میں بے حیائی نہ ہو، اس کے جواز میں وہ یہ احادیث پیش کرتے ہیں:

حدثنا إسماعيل قال: حدثني ابن وهب: قال عمرو: حدثني أبو الأسود، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندي جاريتان تغنيان بغناء بعاث، فاضطجع على الفراش وحول وجهه، فدخل أبو بكر فانتهرني وقال: مزمارة الشيطان عند رسول الله صلى الله عليه وسلم. فأقبل عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: (دعهما). فلما غفل غمزتهما فخرجتا. وقالت: وكان يوم عيد، يلعب السودان بالدرق والحراب، فإما سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وإما قال: (تشتهين تنظرين). فقالت: نعم، فأقامني وراءه، خدي على خده، ويقول: (دونكم بني أرفدة). حتى إذا مللت، قال: (حسبك). قلت: نعم، قال: فاذهبي). (بخاری، کتاب الجہاد، حدیث 2750)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں داخل ہوئے تو میرے پاس دو بچیاں تھیں جو کہ جنگ بعاث کے گیت گا رہی تھیں۔ آپ آ کر میرے بستر پر لیٹ گئے اور رخ مبارک دوسری جانب کر لیا۔ ابوبکر گھر میں آئے تو بولے: رسول اللہ کے پاس شیطانی گیت؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی جانب رخ انور پھیر کر ارشاد فرمایا: "انہیں چھوڑ دو۔" پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسری جانب متوجہ ہوئے تو میں نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ چلی جائیں۔ آپ فرماتی ہیں کہ وہ عید کا دن تھا۔ سوڈانی لوگ اپنے نیزوں اور ڈھال کی مدد سے کھیل کھیل رہے تھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا آپ نے خود ہی فرمایا: "تم یہ دیکھنا چاہتی ہو؟" میں نے کہا، "جی ہاں۔" تو آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا اور میرا چہرہ آپ کے چہرے کے ساتھ تھا۔ آپ فرما رہے تھے: "بہت خوب، بنو ارفدہ۔" جب میں تھک گئی تو آپ نے فرمایا: "بس۔" پھر فرمایا: "جاؤ۔"
چاروں اماموں اور دوسرے مجتہدین نے بھی موسیقی کے بارے میں واضح طور پر کہا ہے کہ یہ ناجائز ہے اور بعض نے کھل کر اسے حرام قرار دیا ہے۔ امام شافعی ؒ نے تو یہاں تک کہا کہ جو شخص گانے اور موسیقی کا دلدادہ ہو اس کی شہادت بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ امام ابو حنیفہؒ اور امام احمد بن حنبلؒ اور ان کے اصحاب سے بھی موسیقی کے حرام ہونے کے اقوال ثابت ہیں ۔ امام مالک کے بارے میں آتا ہے کہ ان سے مدینہ کے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا جو گانے بجانے کے رسیا تھے تو انہوں نے فرمایا یہ مدینہ کے فاسق لوگ ہیں۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ رسول اکرمﷺ کے زمانے میں گانے گائے جاتے تھے اور آپ نے انہیں سناتھا یا اجازت دی تھی یہ قطعی طورپر غلط ہے۔ شاید ان لوگوں کا اشارہ ان بچیوں کے شعر کے گانے سے ہے جو مختلف مناسبات سے ثابت ہیں جیسے ہجرت کے موقع پر اور پھر عید وغیرہ کی مناسبت سے ثابت ہے۔ لیکن ان لڑکیوں کی شعر گوئی پر موجودہ دور کے فحش اور بے ہودہ گانوں کو قیاس کرنا درج ذیل وجوہ کی بنا پر بالکل باطل ہے۔
۱۔جو بچیاں حضور اکرم ﷺ کے زمانے یا آپ کی موجودگی میں شعر گا کر پڑھتی تھیں ان کے بارے میں دلائل سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ وہ چھوٹی اور نابالغ بچیاں تھیں۔ ان معصوم بچیوں کے پاکیزہ اشعار پڑھنے کو موجودہ دور کی پیشہ رو گانے والیوں سے ملانا غلط ہے۔
۲۔ اس دور میں جو شعر گوئی یا گانے کے واقعات ملتے ہیں ان میں سے کسی میں بھی موسیقی کے آلات کا ذکر نہیں ہے اور آج کل کی موسیقی کے سامنے جو گانے کا لازی جزوبن چکی ہے اس کو جائز کرنے کے لئے کسی روایت یا حدیث میں ذرہ بھر بھی گنجائش نہیں۔ ہاں البتہ دف بجا کر اشعار پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے (دف و ڈھولک ہے جو صرف ایک طرف سے ہاتھ بجائی جاتی ہے) اس سے زیادہ کسی چیز کا ذکر تک نہیں۔
کیا حضورﷺ نے گانے کی اجازت دی تھی؟
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,433
پوائنٹ
791
اس روایت کے متعلق شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اور شیخ شعیب ارناؤوط رحمہ اللہ فرماتے ہیں "حسن" اور علامہ البانی رحمہ اللہ صحیح فرماتے ہیں۔
ایک بھائی جو کہ اہل حدیث ہیں ان سے اس روایت کے متعلق بات چل رہی تھی انہوں نے کہا کہ امام ابو داود رحمہ اللہ نے اس کو منکر کہا ہے اس کے بعد میں نے علماء کی تحسین و تصحیح پیش کے تو انہوں نے کہا:
"امام ابوداؤد اور متقدمین محدثین کا حکم جو علل کے ماہر تھے ان کا حکم صحیح ہوتا ہے ..
اس روایت کے متعلق علامہ شمس الحق عظیم آبادی نے عون المعبود میںفرمایا : ’’ وهذا سند جيد قوي ‘‘ یعنی اس کی اسناد قوی اور عمدہ ہے ‘‘‘
اور امام ابوداود کی جرح نقل کرکے فرماتے ہیں :
(قال أبو داود وهذا) الحديث (أنكرها) أي أنكر الرواية
قلت ولا يعلم وجه النكارة بل إسناده قوي وليس بمخالف لرواية الثقاة

کہ امام ابوداود اس کو منکر کہتے ہیں ، لیکن منکر کہنے کا سبب اور وجہ نامعلوم ہے ، حبکہ اس روایت کی سند بھی قوی ہے ، اور ثقہ رواۃ کی روایت کے خلاف بھی نہیں ،(تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے منکر کہا جائے )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور گانے بجانے کی حرمت پر یہ کوئی اکیلی روایت یا دلیل نہیں ، بلکہ کئی اور دلائل موجود ہیں ،
آپ مولانا ارشاد الحق حفظہ اللہ کی یہ کتاب پڑھیں
اسلام اور موسیقی
 

عبدالمنان

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 04، 2015
پیغامات
735
ری ایکشن اسکور
164
پوائنٹ
123
السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

شیخ کسی نے شیخ البانی رحمہ اللّٰہ کی کتاب "تحريم آلات الطرب" کا ترجمہ کیا ہے کیا؟
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,433
پوائنٹ
791
گانا ،بجانا اور رقص و سرود اسلام کی نظر میں


گانے بجانا اور موسیقی سننا شریعت اسلامیہ میں سختی سے منع ہے۔
لیکن امت کے اس دور زوال میں ناچ ،گانا اور رقص اب باقاعدہ عمومی دلچسپی کا فن بن چکا ،​
ان واہیات کاموں کو سیکھئے کیلئے اکیڈمیاں اور سکول قائم ہوچکے ہیں ، اور ان فنون خبیثہ کے پروڈکٹ اور مظاہر معاشرے میں وسیع پیمانے پر پھیلانے کیلئے باقاعدہ انڈسٹری ہوتی ہے ، اور حکومت اور دیگر ادارے ان فنون خبیثہ کی سرپرستی کرتے ہیں ، جدید ذرائع ابلاغ نے ان ناکارہ اور خبیث فنون کو گھر گھر اور ہر آدمی تک زبردستی پہنچایا ہے ۔ بلکہ موبائل فون نے ان خباثتوں کو ہر جیب تک پہنچادیا ہے ،
جس کی وجہ سے ان خباثتوں کے متاثرین کی تعداد ناقابل بیان حد تک بڑھ چکی ہے ، یہاں تک کہ موبائل فون کی گھنٹی کے عنوان سے مسجدوں میں بھی یہ شیطانی آوازیں سنائی دیتی ہیں.

اور پرانے دور کے
میراثی اب گلوکار، ادکار،موسیقار اور فنکار بلکہ سٹار، ہیرو جیسے دل فریب مہذب ناموں سے یاد کئے جاتے ہیں۔
مردوزَن کی مخلوط محفلوں کا انعقاد عروج پر ہے۔ بڑے بڑے شادی ہال، کلب، انٹرنیشنل ہوٹل اور دیگر اہم مقامات ا ن بیہودہ کاموں کے لئے بک کر دیئے جاتے ہیں جس کے لئے بھاری معاوضے ادا کئے جاتے اور شو کے لئے خصوصی ٹکٹ جاری ہوتے ہیں۔ چست اور باریک لباس، میک اَپ سے آراستہ لڑکیاں مجرے کرتی ہیں جسے ثقافت اور کلچر کا نام دیا جاتا ہے۔عاشقانہ اَشعار، ڈانس میں مہارت، جسم کی تھرتھراہٹ اور نسوانی آواز کی نغمگی اور ڈھول باجوں اور موسیقی کی دھن میں کمال دکھانے والوں اور کمال دکھانے والیوں،جنسی جذبات کو اُبھارنے والوں کو خصوصی ایوارڈز سے نوازا جاتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گانا بجانا سننا حرام ہے اور شیطانی افعال میں سے ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ (سورۃ لقمان 6)
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں ،جو اس لئے لہو الحدیث ( یعنی بیہودہ چیزیں)خریدتا ہے کہ (لوگوں کو ) بغیر علم کے اللہ کی راہ سے بہکا دے اور اس کا مذاق اڑائے ۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ "(لقمان)

اس آیت کی تفسیر میں امام محمد بن جریر الطبریؒ (المتوفی 310 ھ) نے اپنی تفسیر (جامع البيان ) میں
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تفسیری قول نقل فرمایا ہے:
عن أبي الصهباء البكري أنه سمع عبد الله بن مسعود وهو يسأل عن هذه الآية: (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِى لَهْوَ الحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ بغَيْرِ عِلْمٍ) فقال عبد الله: الغناء، والذي لا إله إلا هو، يردّدها ثلاث مرّات
یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (ومن النّاس من یّشتری لھو الحدیث)کے بارے میں تین مرتبہ قسم کھا کر کہا کہ لہو الحدیث سے مراد گانا بجانا ہے۔
اس طرح تفسیر طبریؒ میں مفسر قرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے لہو الحدیث کی تفسیر گانا بجانا اور گانا سننا منقول ہے۔( عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِى لَهْوَ الحَدِيثِ) قال: الغناء.)
سیدنا جابررضی اللہ عنہ، امام مجاہدؒ اور سیدنا عکرمہ جیسے جلیل القدر مفسرین نے بھی لہو الحدیث سے گانا بجانا وغیرہ ہی مراد لیا ہے۔
عن حبيب، عن مجاهد (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِى لَهْوَ الحَدِيثِ) قال: الغناء.


اور قرآن مجید نے بہت بڑی ایک حقیقت بیان کر رکھی ہے کہ : جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو مہلت دی تو اسے کہا: وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا (سورہ بنی اسرائیل )
یعنی انسانوں میں سے تو جسے بھی اپنی آواز سے بہکاسکتا ہے بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھالا ، اور ان کے مال اور اولاد میں سے اپنا بھی حصہ لگا ، اور انھیں (جھوٹے) وعدے دے لے ،ان سے جتنے بھی وعدے شیطان کے ہوتے ہیں سب کے سب سراسر فریب ہیں ۔
''اور ان میں سے جس کو بھی تو بہکا سکتاہے اپنی آواز سے بہکاتا رہے۔''(بنی اسرائیل :۶۴)
اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت سے مراد: عن ابن عباس (وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ) قال: صوته كلّ داع دعا إلى معصية الله.(تفسیر ابن جریرؒ )
'' یعنی شیطان کی آواز سے مراد ہر وہ آدمی ہے جو اللہ کی نافرمانی کی طرف دعوت دیتا ہے۔''
سیدنا مجاہد نے اس آیت کی تفسیر یہ مروی ہے کہ اس سے مراد گانا بجانا اور لہو و لعب ہے۔ (تفسیر ابنِ کثیر ٣۳/۴۰٤٠) یعنی وہ تمام آوازیں (جیسا کہ گانا بجانا، عشقیہ اشعار وغیرہ) جو اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کی طرف بلاتی ہیں، وہ اس آیت کا مصداق ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشہور سلفی محقق و مفسر علامہ صلاح الدین یوسف سورہ لقمان کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
سورۃ لقمان کی اس آیت میں ان بدنصیب و بدکردار لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ جو کلام الہی کے سننے سے تو اعراض کرتے ہیں۔ البتہ ساز و موسیقی، نغمہ و سرود اور گانے وغیرہ خوب شوق سے سنتے اور ان میں دلچسپی لیتے ہیں۔ خریدنے سے مراد یہی ہے کہ آلات طرب شوق سے اپنے گھروں میں لاتے اور پھر ان سے لذت اندوز ہوتے ہیں۔ لغوالحدیث سے مراد گانا بجانا، اس کا سازوسامان اور آلات، ساز و موسیقی اور ہر وہ چیز ہے جو انسانوں کو خیر اور معروف سے غافل کر دے۔ اس میں قصے کہانیاں، افسانے ڈرامے، اور جنسی اور سنسنی خیز لٹریچر، رسالے اور بے حیائی کے پرچار اخبارات سب ہی آجاتے ہیں اور جدید ترین ایجادات ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، ویڈیو فلمیں وغیرہ بھی۔ عہد رسالت میں بعض لوگوں نے گانے بجانے والی لونڈیاں بھی اسی مقصد کے لیے خریدی تھیں کہ وہ لوگوں کا دل گانے سنا کر بہلاتی رہیں تاکہ قرآن و اسلام سے وہ دور رہیں۔ اس اعتبار سے اس میں گلو کارائیں بھی آجاتی ہیں جو آج کل فن کار، فلمی ستارہ اور ثقافتی سفیر اور پتہ نہیں کیسے کیسے مہذب خوش نما اور دل فریب ناموں سے پکاری جاتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بخاری شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حدثني أبو عامر أو أبو مالك الأشعري، والله ما كذبني: سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " ليكونن من أمتي أقوام، يستحلون الحر والحرير، والخمر والمعازف، ولينزلن أقوام إلى جنب علم، يروح عليهم بسارحة لهم، يأتيهم - يعني الفقير - لحاجة فيقولون: ارجع إلينا غدا، فيبيتهم الله، ويضع العلم، ويمسخ آخرين قردة وخنازير إلى يوم القيامة "
ترجمہ :
ابو عامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اللہ کی قسم انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہوجائیں گے جو زنا کاری ، ریشم کا پہننا ، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنالیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے ۔ چرواہے ان کے مویشی صبح وشام لائیں گے اور لے جائیں گے ۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ان کو ( ان کی سرکشی کی وجہ سے ) ہلاک کردے گا پہاڑ کو ( ان پر ) گرادے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کردے گا ۔
(صحیح بخاری ،کتاب الاشربۃ ،حدیث 5590 )
وضاحت : یہ ساری برائیاں آج عام ہو رہی ہیں گانا بجانا، ریڈیو نے گھر گھر عام کردیا ہے۔ شراب نوشی عام ہے، زناکاری کی حکومتیں سرپرستی کرتی ہیں۔

یعنی زنا ، ریشم ، شراب اور باجے گاجے جن کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے، بعض لوگ انہیں حلال سمجھیں گے۔ اور آج وہ قومیں اکثر پائی جاتی ہیں جو گانا بجانا شراب وغیرہ کوئی عیب نہیں سمجھتیں بلکہ گانے بجانے کے آلات، ٹی وی ، وی سی آر اور گانوں کی کیسٹوں کی صورت میں ان کے گھروں میں موجود ہیں بلکہ شیطانیت اس قدر ترقی کر رہی ہے کہ ڈش انٹینا کی صورت میں اس برائی کو دن رات پھیلا یا جا رہا ہے اور مسلمانان عالم کی ذلت کے سبب بھی یہی ہے کہ انہوں نے اپنی اسلامی تہذیب ترک کر کے غیر مسلموں اور ہندوؤں وغیرہ کی تہذیب و تمدن کو اپنا لیا ہے اور ان کی پیروی میں گانا بجانا اور رقص وغیرہ کو اپنا لیا ۔ اللہ تعالیٰ حرام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے؛
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسیقی کی حرمت پر سنن ابی داود (4924 ) کی ایک روایت اور صحت

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے شاگرد خاص سیدنا نافع رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ :
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ مِزْمَارًا، قَالَ: فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ، وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَقَالَ لِي: يَا نَافِعُ! هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَرَفَعَ إِصْبَعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا، فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا.
قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْلُؤْلُؤِيُّ: سَمِعْت أَبَا دَاوُد يَقُولُ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.

ترجمہ : جناب نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بانسری کی آواز سنی تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر رکھ لیں اور اس راستے سے دور چلے گئے ۔ اور پھر مجھ سے پوچھا : اے نافع ! کیا بھلا کچھ سن رہے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں ، تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے اٹھا لیں اور کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ساتھ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا ۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا : یہ حدیث منکر ( ضعیف ) ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس روایت کے متعلق شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اور شیخ شعیب ارناؤوط رحمہ اللہ فرماتے ہیں "حسن" اور علامہ البانی رحمہ اللہ صحیح فرماتے ہیں۔
تنبیہ : امام ابو داؤدؒ کا قول صحیح نہیں ہے یہ روایت حسن اور بقول علامہ البانی ؒ صحیح ہے،
اس روایت کے متعلق علامہ شمس الحق عظیم آبادی نے عون المعبود میں فرمایا : ’’ وهذا سند جيد قوي ‘‘ یعنی اس کی اسناد قوی اور عمدہ ہے ‘‘‘
اور امام ابوداود کی جرح نقل کرکے فرماتے ہیں :
(قال أبو داود وهذا) الحديث (أنكرها) أي أنكر الرواية
قلت ولا يعلم وجه النكارة بل إسناده قوي وليس بمخالف لرواية الثقاة

کہ امام ابوداودؒ اس کو منکر کہتے ہیں ، لیکن منکر کہنے کا سبب اور وجہ نامعلوم ہے ، حالانکہ اس روایت کی سند بھی قوی ہے ، اور ثقہ رواۃ کی روایت کے خلاف بھی نہیں ،(تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے منکر کہا جائے )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور گانے بجانے کی حرمت پر یہ کوئی اکیلی روایت یا دلیل نہیں ، بلکہ کئی اور دلائل موجود ہیں ،
آپ مولانا ارشاد الحق حفظہ اللہ کی یہ کتاب پڑھیں
اسلام اور موسیقی
https://archive.org/details/IslamAurMosiqi

اور یہ کتاب بھی پڑھیں :
اسلام اور موسیقی‘‘ پر ’’اشراق‘‘ کے اعتراضات کا جائزہ
https://archive.org/details/Islam-Aur-Moseeki-Par-Ishraq-ke-Aitrazt-ka-Jaeza

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کئی احادیث اور اقوال سلفؒ سے ثابت ہے کہ (لهو الحديث۔۔ یعنی انسان کوذمہ داریوں سے غافل کردینے والے امور) سے مراد آلاتِ موسیقی ہیں جنکی قطعاََ اجازت نہیں ہے۔ اور بالخصوص اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے نام کو طبلے کی تھاپ پر بجانا انکی انتہائی توہیں ہے اور موسیقی کی تمام لغویات حرام ہیں سوائے دف کے ،وہ بھی مخصوص صورت میں ۔
سنن ابن ماجہ کی حدیث ہے کہ:
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ، يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا، يُعْزَفُ عَلَى رُءُوسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ، وَالْمُغَنِّيَاتِ، يَخْسِفُ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ، وَيَجْعَلُ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ»
(يعزف على رؤوسهم بالمعازف) في النهاية العزف اللعب بالمعازف وهي الدفوف وغيرها مما يضرب.

سیدنا ابی مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، البتہ میری اُمت میں سے لوگ ضرور شراب پئیں گے اور اس کے نام کے علاوہ کوئی اور نام رکھیں گے ۔ ان کے سروں پر باجے گاجے بجائے جائیں گے اور گانے والیاں (گانے گائیں گی) ۔ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا ان میں سے بندر اور سور بنا دے گا۔" (ابنِ ماجہ، کتاب الفتن،حدیث نمبر :4020 )
امام ابنِ قیم نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے اس طرح علامہ البانی نے بھی اس سلسلہ صحیحہ میں شمار کیا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
 

ہابیل

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 17، 2011
پیغامات
961
ری ایکشن اسکور
2,911
پوائنٹ
225
السلام علیکم جزاک اللہ



کیا حمدو نعت کسی گانے کی طرز پر پڑی جاسکتی جیسا کے آجکل بریلوی دیوبندی اور اب اہل حدیث بھی ایسا کرتے عام پائے جاتے ہیں
 
Top