محمد ارسلان
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 17,859
- ری ایکشن اسکور
- 41,102
- پوائنٹ
- 1,155
کیا اللہ تعالیٰ کو رب الارباب کہنا درست ہے؟
اگر رب سے مراد اس کائنات کا خالق و مالک اور مدبر و منتظم لیں تو اس معنی میں واقعتا اللہ کے علاوہ کوئی رب نہیں ہے اور توحید ربوبیت پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ اس معنی میں کسی کو رب نہ مانا جائے۔ لیکن رب الارباب میں ارباب مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں ارباب سے مراد اس کائنات کے خالق و مالک یا مدبر و منتظم مراد نہیں ہیں بلکہ اپنے خدام و غلاموں کے آقا و مالک مراد ہیں۔ ملک الملوک میں ملوک بھی مجازی معنی میں ہے ورنہ تو حقیقی معنی میں ملک صرف ایک ہی ہے اور وہ رب کی ذات ہے۔لیکن جب اللہ کو رب الارباب کہیں گے تو ربوں کا رب اس کا معنی بنتا ہے تو زمین میں تو اللہ کے سوا کوئی رب نہیں نا۔