• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا اللہ کو خدا لفظ کہنا صحیح ہے؟

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
خدا فارسی زبان کا لفظ ہے۔
خدا اللہ کے صفاتی ناموں میں سے نہیں ہے۔
لفظ خدا دراصل لفظ اللہ کا فارسی ترجمہ ہے جیسا کہ انگریزی ترجمہ God ہے۔
بہتر اور مستحسن امر یہی ہے کہ لفظ اللہ ہی استعمال کیا جائے لیکن لفظ خدا کا استعمال بھی جائز ہے۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ایک مرتبہ کسی صاحب سے بحث کرتے ہوئے اسی موضوع پر کچھ لکھا تھا، وہی کٹ پیسٹ کر دیتا ہوں:

اللہ تعالیٰ کا کیا نام درست ہے اور کیا نہیں؟کس نام کو اللہ تعالیٰ سے منسوب کیا جا سکتا ہے اور کس کو نہیں؟ اس کا فیصلہ درج ذیل آیتِ مبارکہ سے ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْۤ اَسْمَآىِٕهٖ١ؕ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۸۰ ﴾ ... سورة الأعراف: 180 کہ ’’اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو صرف انہی اچھے اچھے ناموں سے پکارنا چاہئے جنہیں اللہ نے خود اپنے لیے پسند فرمایا اور جو لوگ اللہ کے غلط سلط نام بیان کرتے ہیں ان کے طریقہ کار کو چھوڑ دینا چاہئے۔

کیا مخلوق کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کے نام رکھے؟ نہیں، ہر گز نہیں۔ سیدنا ابن مسعود﷜ سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: « مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجِلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي إِلَّا أَذْهَبَ اللهُ هَمَّهُ وَحُزْنَهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَهُ فَرَجًا » ’’کسی شخص کو اگر کوئی پریشانی یا تکلیف پہنچے تو وہ یوں دُعا کرے ’کہ اے اللہ میں آپ کا بندہ، آپ کے بندے کا بیٹا، آپ کی بندی کا بیٹا، میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں آپ کا حکم لاگو ہوتا ہے، میرے بارے میں آپ کا ہر فیصلہ عدل پر مبنی ہے، میں آپ کو آپ کے ہر اس نام کا - جو آپ نے خود اپنا نام رکھا یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا یا اپنی کتاب میں نازل کیا یا اسے اپنے علم غیب میں رکھا (یعنی کسی دوسرے کو نہ بتایا) - واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ قرآن پاک کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور ، میرے غم کو کھولنے اور میری پریشانی کو لے جانے کا ذریعہ بنادیں‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف اور پریشانی کو دور فرمادیں گے۔‘‘
صحابہ کرام﷢ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم اسے سیکھ نہ لیں؟ آپﷺ نے فرمایا: « بَلَىٰ يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَعَلَّمَهَا » ’’کیوں نہیں جو بھی اس دُعا کو سنے اس کو چاہئے کہ اسے یاد کر لے۔‘‘ [مسند احمد: 3704]

اس حدیث مبارکہ سے واضح طور پر علم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنےاچھے اچھے نام بذاتِ خود رکھے، اپنی کتاب میں نازل کیے، اپنے رسولوں کو خود سکھائے یا اپنے علم غیب میں محفوظ رکھے۔ ہمیں مخلوق کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں کہ اپنے رب، خالق اور مالک کے نام ہم رکھیں۔

جہاں تک ’الرحمٰن‘ کا معاملہ ہے، تو یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام بھی ہے جیسے فرمایا: ﴿ اَلرَّحْمٰنُۙ۰۰۱ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ۰۰۲ ﴾ ... الرحمٰن: 1،2 ’’رحمٰن نے قرآن سکھایا۔‘‘ اور صفاتی نام بھی، جیسے فرمایا: ﴿ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ۰۰۲۲ ﴾ ... الحشر: 22 ’’وہ (اللہ) رحمٰن ورحیم ہے۔‘‘ جب قریش مکہ نے - جن کیلئے اللہ کا نام ’الرحمٰن‘ غیر نامانوس تھا - الرحمٰن پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تو کہتا ہے کہ ایک اللہ کو پکارو اور خود دو معبودوں کو پکارتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل کردی ﴿ قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى ١ۚ ﴾ ... بنی إسرائیل: 110 ’’کہہ دیجئے! اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔‘‘

اس آیت سے یہ مسئلہ اخذ کرنا کہ ’ہر وہ اچھا نام جو اللہ کیلئے کسی زبان ، علاقے یا قوم میں رائج ہے اس سے اللہ کو پکارنا جائز ہے‘ صحیح نہیں، کیونکہ الرحمٰن تو پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے۔

جہاں تک اللہ تعالیٰ کو خدا کہنے کا معاملہ ہے، اس بارے میں میری رائے یہ ہے کہ جس طرح’آدمی‘ کسی انسان کا نام نہیں کسی مخصوص نوع کی طرف اشارہ ہے، اس کو عربی میں الرَّجُل اور انگریزی میں Man کہہ سکتے ہیں ليكن ’خالد‘ کسی آدمی کا نام ہے اس کو اردو اور انگریزی میں ان کا ترجمہ کرکے بلانے کی بجائے اصل نام خالد یا Khalid سے ہی پکاریں گے۔ اسی طرح ’زمین‘ کو تو عربی میں الأرض یا انگریزی میں Earth کہا جاتا ہے، لیکن ’پاکستان‘ کو ہر زبان میں پاکستان ہی کہا جائے گا۔ بالکل اسی طرح خدا سے مراد ’الٰہ‘ یا ’معبود‘ ہے جس کو ’دیوتا‘ یا ’God‘ کہا جا سکتا ہے لیکن اللہ یا الرحمٰن تو اس معبود کا نام ہے اگر کسی اور زبان میں بھی اسے نام سے ہی بلانا مقصود ہو تو کبھی اس کا ترجمہ کر کے نہیں بلکہ Allah (یا دیگر اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اسمائے حسنیٰ) کہہ کر ہی بلائیں گے۔ ہاں اگر مخلوق کے بالمقابل اس کا ذکر اصل نام کے علاوہ کرنا ہو تو اسے الٰہ، معبود، خدا، دیوتا اور God سب کچھ کہا جا سکتاہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم!
 
Top