1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا امام ابو حنیفہ کے اجتہادات علماء اہل الحدیث کے اجتہادات کےمقابلہ میں قابل ترجیح ہیں؟؟

'تقابلی فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن داود, ‏مارچ 15، 2012۔

  1. ‏اپریل 01، 2012 #11
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    سرخ رنگ کے الفاظ اگر راوی کا بتا رہے ہیں تو سرخ رنگ کے الفاظ یہ ہیں وأصحابه،
    کیا اصحاب کہ کر بات کی جائے تو روایت قابل اعتبار ہے ؟
    ان اصحاب کا نام کیا تھا تاکہ ہم جان سکیں کہ وہ ثقہ بھی تھے یہ نہ ۔۔۔
    گمنام اصحاب کی روایتوں سے اس طرح روایت نقل کرکے نتائج اخذ کرنا کیا آپ حضرات کے ہاں حجت ہے ؟؟؟؟
     
  2. ‏اپریل 02، 2012 #12
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    آپ کو یہ کس نے کہا ہے کہ یہ روایت ہے!!!

    ہم نے تو یہ کہا تھا کہ :
    تلمیذ صاحب!! ذرا سوچ بچار کر کے تحریر کریں!! اب پہلے روایت اور موقف کے ذرائع کا فرق سمجھ کر آگے اعتراض کیجئے گا!!
    ریختہ کے تم ہی استاد نہیں ہو غالب
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
     
  3. ‏اپریل 02، 2012 #13
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    تو کیا نامعلوم ذرائع کے حوالہ سے بات کی جائے تو وہ حجت ہوتی ہے ؟؟؟؟
    یعنی امام ابو حنیفہ کے خلاف نامعلوم ذرائع سے بات آپ کو مل جاتی ہے تو آپ کے ہاں معتبر ہوجاتی ہے ؟؟؟
    احناف کی ضد میں اتنے اندھے نہ ہوجائیں کہ طرز استدلال کو ہی بدل دیں اور امام ابو حنیفہ کو گمراہ ثابت کرنے لئیے پیمانہ ہی بدل لیں ۔
     
  4. ‏اپریل 02، 2012 #14
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    تلمیذ صاحب! میں نے آپ کو عرض کیا تھا کہ:
    مگر آپ غالبا بہت جذباتی واقع ہوئے ہیں!! آپ کو ایک دن کی مہلت ہے !سوچ بچار کر کے اپنے پیغام میں ترمیم کر لیں!! پھر بعد میں نہ کہنا کہ آگاہ نہیں کیا!!
     
  5. ‏اپریل 04، 2012 #15
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    تلمیذ صاحب! آپ بغیر کچھ سوچے سمجھے نا معلوم ذرائع کہہ دیتے ہو!!!آئیے ہم آپ کو ایک ذریعہ بتلا دیتے ہیں !! اب آپ بتلائیے کہ یہ معلوم ذریعہ ہے یا نامعلوم!!!!!!!!!
    آپ کی باقی تمام باتیں اسی غلط بنیاد پر قائم ہیں!! اسی میں آپ کی تمام باتوں کا رد بھی ہو جاتا ہے!!

    السنة لعبد الله بن أحمد
     
  6. ‏اپریل 04، 2012 #16
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    ابا اکر بن ابی راود السجستانی کا یہ قول پیش کیا گیا تھا ۔

    میں یہ کہا تھا

    جواب آیا کہ نامعلوم اصحاب اس سند کا حصہ ہیں
    اب آ پ کے لنک پر بھی دیکھا تو اس سند کے راوی نظر نہ آئے ۔ کیا کاپی پیسٹ کرکے بتادیں گے وہ راوی کون ہیں
    خوامخوا پہلیوں کا کیا فائدہ ؟؟؟
     
  7. ‏اپریل 05، 2012 #17
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    تلمیذ میاں! امام احمد بن حنبل کے بیٹے امام عبداللہ بن احمد بن حنبل کی کتاب السنۃ کا لنک ہے!!جناب من آپ نے اس کتاب کو پڑھا ہوتا تو آپ کو معلوم ہوتا کہ اس کتاب میں آپ کے امام اعظم کی گمراہی پر با سند اقوال موجود ہیں!! یہ تو ایک ذریعہ بتلایا ہے کہ جس کی بنیاد پر امام أبو بکر بن أبي داود السجستاني نےسے یہ فرما یا:
    یہ آپ کا جھوٹ ہے کہ ہم نے یہ جواب دیا ہے!! آپ علم الکلام پڑھ پڑھ کر کلام کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم معلوم ہوتے ہیں!!ہم نے جو جواب دیا تھا وہ یہ ہے!!
     
  8. ‏اپریل 06، 2012 #18
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    اور آپ امام ابو حنیفہ پر خوامخواہ بلادلیل اعتراض کرکے دلائل دینے سے محروم ہوگئے ہیں
    میں نے پوچھا تھا
    أبو بکر بن أبي داود السجستاني نے یہ بات امام مالک ، امام شافعی اور امام سفیان الثوری وغیرہ سے کس سند سے نقل کی وہ سند درکار ہے
    ایک سند لکھنے میں کتنا ٹائم لگتا ہے اس سے زیادہ ٹائم تو آپ آئیں بائیں شائیں کرنے میں لگا چکے ہیں
    اپنی پیش کردہ ویب سائٹ سے صرف کاپی پیسٹ ہی کردیں ۔
    مذید طعنہ بازیوں میں وقت صرف کرنے کے بجائے صرف سند لکھ دیں اگر ہے تو !!!!!
     
  9. ‏اپریل 07، 2012 #19
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    تلمیذ صاحب!نہ یہ اعتراض خوامخواہ ہے اور نہ بلا دلیل!!
    ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیئے گا کہ کبھی یہ خیال بھی نہ کرنا کہ اہل السنت والجماعت اہل الحدیث دلائل دنے سے محروم ہو سکتے ہیں، کیونکہ!!
    ایں خیال است و محال است و جنوں!!!

    جناب من! ہم نے آپ کو بتلایا کہ أبو بکر بن أبي داود السجستاني نے یہ بات امام مالک ، امام شافعی اور امام سفیان الثوری وغیرہ سے مختلف ذرائع کی بنا پرکی ہے۔ جس میں سے ایک ذریعہ آپ کو پیش بھی کیا!!
    وہ ہے امام عبداللہ بن احمد بن حنبل کی "کتاب السنة" جو أبو بکر بن أبي داود السجستاني کے زمانے میں موجود تھی ۔ اور اس کتاب میں امام عبداللہ بن احمد بن حنبل نے آپ کے امام اعظم کی گمراہی پر ائمہ محدثین کے باسند اقوال نقل کئے ہیں!!
    اب آپ کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی اور اسے طعنہ بازی سمجھ رہے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں!!
    چلیں آپ کو امام عبداللہ بن احمد بن حنبل کی "کتاب السنة" سے امام احمد بن حنبل کا ایک قول پیش کر تے ہیں! جو اس تھریڈ کے موضوع کے عین مطابق ہے!!!

     
  10. ‏اپریل 10، 2012 #20
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    آپ نے دعوی کیا تھا کہ
    اتفق عليها مالك وأصحابه، والشافعي وأصحابه، والأوزاعي وأصحابه، والحسن بن صالح وأصحابه، وسفيان الثوري وأصحابه، وأحمد بن حنبل وأصحابه
    اس میں مالک ،الشافعی ، الاوزاعی ، الحسن بن صالح ، سفیان الثوری اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے حوالہ سے ایک متفقہ بات نقل کی گئی نہ صرف یہ امام متفق تھے بلکہ ان کے اصحاب بھی (اصحاب میں ایک دو افراد نہیں ہوتے ) ، جبکہ آپ نے صرف احمد بن حنبل اور ان کے بیٹے عبداللہ رحمہما اللہ کے حوالہ سے بات کی
    بھائی پہلے اپنے دعوی هؤلاء كلهم اتفقوا على تضليل أبي حنيفة۔ کا ثبوت پیش کریں اور اس بات کا ابو بکر بن ابی داود السجستانی رحمہ اللہ تک پہنچنا ثابت کریں صرف ایک دو افراد کے قول سے یہ نتیجہ اخذ نہ کریں هؤلاء كلهم اتفقوا على تضليل أبي حنيفة۔
    اگر 100 افراد کا گروپ ہو اور ان میں سے دو افراد کچھ بات کریں تو یہ دو افراد کی بات کہلائے گي نہ کہ 100 افراد کے گروپ کی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں