• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا امام ابو حنیفہ کے اجتہادات علماء اہل الحدیث کے اجتہادات کےمقابلہ میں قابل ترجیح ہیں؟؟

شمولیت
فروری 01، 2012
پیغامات
34
ری ایکشن اسکور
85
پوائنٹ
54
یہ صرف امام مالک کے اقوال پیش کیے جاتے ہیں

قال عبد الله بن أحمد رحمه الله في «السنة» :
حدثني منصور بن أبي مزاحم سمعت مالك بن أنس ذكر أبا حنيفة فذكره بكلام سوء وقال: كاد الدين .
وقال مرة : من كاد الدين فليس من الدين
.
قال ابن عدي :
ثنا ابن أبي داود ثنا الربيع بن سليمان الحيري عن الحارث بن مسكين عن ابن القاسم قال: قال مالك: الداء العضال الهلاك في الدين وأبو حنيفة من الداء العضال .
* قال أحمد رحمه الله في «العلل» :
قال منصور: وسمعت مالك بن أنس وذكر أبا حنيفة فقال: كاد الدين
وفيه : كاد الدين كاد الدين
.
قال الإمام أحمد رحمه الله في «العلل:
حدثنا عبد الله بن إدريس قال: قلت لمالك بن أنس: كان عندنا علقمة والأسود فقال: قد كان عندكم من قلب الأمر هكذا .
قال عبد الله بن أحمد: وقلب أبي كفه على ظهرها.
* قال أبو نعيم رحمه الله في «الحلية»:
حدثنا سليمان بن أحمد ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني منصور بن أبي مزاحم قال: سمعت مالك بن أنس ، وذكر أبو حنيفة فقال: كاد الدين ومن كاد الدين فليس من أهله .
قال الإمام أبي عمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر رحمه الله في «جامع بيان العلم وفضله» :
حدثنا عبد الوارث بن سفيان ثنا قاسم بن أصبغ ووهب بن مسرة قالا نا ابن وضاح ثنا أبو جعفر بن سعيد بن الهيثم الأيلي قال أخبرنا عبد الله بن مسلمة القعنبي قال: سمعت مالكاً يقول: ما زال هذا الأمر معتدلاً حتى نشأ أبو حنيفة فأخذ فيهم بالقياس فما أفلح ولا أنجح .
قال ابن وضاح: وسمعت أبا جعفر الأيلي يقول: سمعت خالد بن نزار يقول: سمعت مالكاً يقول: لو خرج أبو حنيفة على هذه الأمة بالسيف كان أيسر عليهم مما أظهر فيهم من القياس والرأي .
* قال الخطيب رحمه الله:
أنبأنا علي بن محمد المعدل أخبرنا أبو علي بن الصواف أخبرنا عبد الله بن أحمد حدثنا منصور بن أبي مزاحم قال سمعت مالك بن أنس وذكر أبا حنيفة فقال: كاد الدين كاد الدين .
* وقال الخطيب رحمه الله:
أخبرنا رزق أخبرنا أبو بكر الشافعي حدثنا جعفر بن محمد بن الحسن القاضي قال سمعت منصور بن أبي مزاحم يقول: سمعت مالكاً يقول: إن أبا حنيفة كاد الدين ومن كاد الدين ليس له دين .
وقال جعفر: حدثنا الحسن بن علي الحلواني قال: سمعت مطرفاً يقول: سمعت مالكاً يقول: الداء العضال العضال الهلاك في الدين ، وأبو حنيفة من الداء العضال .
* قال الإمام أحمد في «العلل»:
حدثني أبو معمر عن الوليد بن مسلم قال: قال لي مالك بن أنس: أيذكر أبو حنيفة ببلدكم؟
قلت : نعم ، قال: ما ينبغي لبلدكم أن تسكن .
قال الحافظ أبو بكر الخطيب :
أخبرنا أحد بن محمد العتيقي والحسين بن جعفر السلماسي والحسن بن علي الجوهري قالوا أخبرنا علي بن عبد العزيز البرذعي أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن أبي حاتم الرازي حدثنا أبي حدثنا ابن أبي سريج قال سمعت الشافعي يقول: سمعت مالك بن أنس وقيل له: تعرف أبا حنيفة؟ فقال: نعم، ما ظنكم برجل لو قال هذه السارية من ذهب لقام دونها حتى يجعلها من ذهب وهي من خشب أو حجارة .
قال أبو محمد يعني أنه كان يثبت على الخطأ ويحتج دونه ولا يرجع إلى الصواب إذا بان له .
أنبأنا علي بن محمد المعدل أخبرنا أبو علي بن الصواف أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثنا منصور بن أبي مزاحم قال سمعت مالك بن أنس - وذكر أبا حنيفة - فقال: كاد الدين كاد الدين . اهـ .

(نشر الصحيفة)
 

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,505
پوائنٹ
191
بھائی پہلے اپنے دعوی هؤلاء كلهم اتفقوا على تضليل أبي حنيفة کو دیکھیں اور ثبوت کودیکھیں
اور اوپر والی پوسٹ کی فارمیٹنگ درست کردیں تا کہ پڑہنے میں سہولت ہو
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,366
ری ایکشن اسکور
2,666
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!!
بھائی پہلے اپنے دعوی هؤلاء كلهم اتفقوا على تضليل أبي حنيفة کو دیکھیں اور ثبوت کودیکھیں
اور اوپر والی پوسٹ کی فارمیٹنگ درست کردیں تا کہ پڑہنے میں سہولت ہو
تلمیذ صاحب! ہم موجود ہیں !! آپ کو انشاءاللہ بات سمجھانے میں کوئی کمی نہیں رہنے دیں گے، گو کہ آپ کو سمجھنے میں ذرا مشکل پیش آتی ہے!!
یہ تو فقير إلى الله بھائی نے چند حوالہ آپ کو تبرک کے طور پر دے دیئے ہیں! باقی اس میں ایسی کوئی بات نہیں!!
ان شاءاللہ کل تفصیل کے ساتھ تحریر کریں گے!!!
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,366
ری ایکشن اسکور
2,666
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
آپ نے دعوی کیا تھا کہ
اتفق عليها مالك وأصحابه، والشافعي وأصحابه، والأوزاعي وأصحابه، والحسن بن صالح وأصحابه، وسفيان الثوري وأصحابه، وأحمد بن حنبل وأصحابه
اس میں مالک ،الشافعی ، الاوزاعی ، الحسن بن صالح ، سفیان الثوری اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے حوالہ سے ایک متفقہ بات نقل کی گئی نہ صرف یہ امام متفق تھے بلکہ ان کے اصحاب بھی (اصحاب میں ایک دو افراد نہیں ہوتے )
جناب من! اصحاب صاحب کی جمع ہے اور ہم آپ کو ان اصحاب کے اقوال پیش کریں گے!!
جبکہ آپ نے صرف احمد بن حنبل اور ان کے بیٹے عبداللہ رحمہما اللہ کے حوالہ سے بات کی
جزاک اللہ!! کہ امام احمد بن حنبل کا قول پر تو آپ نقد نہ نہیں اور نہ ہی ان کے ایک صاحب جو ان کے بیٹے بھی ہیں ان کا موقف پر بھی آپ کوئی نقد نہیں کیا!! باقی امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ کے دو اصحاب کا قول اور نقل کر کے اسے جمع بھی کر دیں گے ۔ یہ کون سا مشکل کام ہے!!
بھائی پہلے اپنے دعوی هؤلاء كلهم اتفقوا على تضليل أبي حنيفة۔ کا ثبوت پیش کریں اور اس بات کا ابو بکر بن ابی داود السجستانی رحمہ اللہ تک پہنچنا ثابت کریں صرف ایک دو افراد کے قول سے یہ نتیجہ اخذ نہ کریں هؤلاء كلهم اتفقوا على تضليل أبي حنيفة۔
میرے بھائی! آپ کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آرہی ہے کہ جب کتاب السنة لعبد الله بن أحمد، ابو بکر بن ابی داود السجستانی رحمہ اللہ کے زمانے میں موجود ہے تو یہ ذریعہ ہی اس کتاب میں منقول با سند اقوال سے موقف اخذ کرنے کو کفایت کرتا ہے!! جیسا کہ آج امام بخاری کی کتاب تاریخ الکبیر آپ نے کسی استاد سے با سند تو نہیں پڑھی ہوگی!! جس میں امام بخاری نے امام ابو حنیفہ کو مرجئی کہا ہے!! لیکن چونکہ امام بخاری کی کتاب موجود ہے ، اس لئے امام بخاری کا یہ موقف بیان کرنا بلکل درست ہے!!! خواہ آپ نے امام بخاری کے اس قول کو اپنے استاد سے باسند نہیں بھی سنا ہو!!!
اگر 100 افراد کا گروپ ہو اور ان میں سے دو افراد کچھ بات کریں تو یہ دو افراد کی بات کہلائے گي نہ کہ 100 افراد کے گروپ کی
جناب من! امام مالک ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل ، امام سفیان الثوری، امام اوزاعی اور امام حسن بن صالح اور ان کے تین تین اصحاب کا موقف امام ابو حنیفہ کے گمراہ ہونے پر ہم نقل کردیتے ہیں تا کہ اصحاب کے لفظ کا اطلاق متحقق ہو جائے ، ان تمام کے باقی 97، 97 شاگردوں کا کے اقوال آپ پیش کر دیں!!! جو اس کی مخالفت میں ہو!!
 

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,505
پوائنٹ
191
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
جناب من! اصحاب صاحب کی جمع ہے اور ہم آپ کو ان اصحاب کے اقوال پیش کریں گے!!
جزاک اللہ ۔ ان اقوال کا انتظار ہے ۔ اور ایک بات اور اصحاب کم ازکم تین افراد پر بولا جاتا ہے ۔ کیون کہ عربی میں تثنیہ کا صیغہ بھی ہوتا ہے

جزاک اللہ!! کہ امام احمد بن حنبل کا قول پر تو آپ نقد نہ نہیں اور نہ ہی ان کے ایک صاحب جو ان کے بیٹے بھی ہیں ان کا موقف پر بھی آپ کوئی نقد نہیں کیا!! باقی امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ کے دو اصحاب کا قول اور نقل کر کے اسے جمع بھی کر دیں گے ۔ یہ کون سا مشکل کام ہے!!
اگر کسی کے ذمہ کام لگایا جائے کہ دس کلو وزن اٹھا کر سو کلومیٹر چلنا ہے اور ایک شخص صرف ایک کلومیٹر چلے اور کہے جب میں ایک کلومیٹر چل سکتا ہوں تو باقی بھی چل سکتا ہوں ۔ تو اس کا یہ ایک کلم میٹر چلنا کسی کھاتے میں نہیں اور وہ کسی میڈل کا حقدار نہیں ہوگآ ۔
آپ نے صرف امام احمد بن حنبل اور ان کے صاحبزادے عبداللہ رحمہما اللہ کا ذکر کیا ۔ باقی کہاں ہیں ۔ اور اس قول پر بھی اس لئیے نقد نہیں کیا کیوں کہ یہ تو ایک کلومیٹر بھی نہیں ۔ پہلے اپنا دعوی کی دلیل مکمل لائیں ۔ قسطوں میں بات نہ کریں
۔
میرے بھائی! آپ کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آرہی ہے کہ جب کتاب السنة لعبد الله بن أحمد، ابو بکر بن ابی داود السجستانی رحمہ اللہ کے زمانے میں موجود ہے تو یہ ذریعہ ہی اس کتاب میں منقول با سند اقوال سے موقف اخذ کرنے کو کفایت کرتا ہے!! جیسا کہ آج امام بخاری کی کتاب تاریخ الکبیر آپ نے کسی استاد سے با سند تو نہیں پڑھی ہوگی!! جس میں امام بخاری نے امام ابو حنیفہ کو مرجئی کہا ہے!! لیکن چونکہ امام بخاری کی کتاب موجود ہے ، اس لئے امام بخاری کا یہ موقف بیان کرنا بلکل درست ہے!!! خواہ آپ نے امام بخاری کے اس قول کو اپنے استاد سے باسند نہیں بھی سنا ہو!!!
تو آپ کا کہنا ہے کہ ان تمام ائمہ اور ان کے اصحاب جن کے نام ابوبکر داود سجستانی نے ذکر کیے اور کہا کہ کلہم اتفقوا علی تضلیل ابی حنیفہ تو ان تمام ائمہ کے اقوال اور ان کے اصحاب کے اقوال کتاب السنہ لامام عبداللہ میں موجود ہیں ۔ واضح جواب دیں


جناب من! امام مالک ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل ، امام سفیان الثوری، امام اوزاعی اور امام حسن بن صالح اور ان کے تین تین اصحاب کا موقف امام ابو حنیفہ کے گمراہ ہونے پر ہم نقل کردیتے ہیں تا کہ اصحاب کے لفظ کا اطلاق متحقق ہو جائے ، ان تمام کے باقی 97، 97 شاگردوں کا کے اقوال آپ پیش کر دیں!!! جو اس کی مخالفت میں ہو!!
پہلے آپ ائمہ اور ان کے تین تین اصحاب کے اقوال تو پیش کریں ۔ وہ اقوال سامنے کیوں نہیں آرہے ۔ کیا ان کو پردہ ہے ؟
 

ندوی

رکن
شمولیت
نومبر 20، 2011
پیغامات
152
ری ایکشن اسکور
328
پوائنٹ
57
یہ امت خرافات میں کھوگئی
حقیقت روایات میں کھوگئی

کیاکسی فرد واحد کے دعوی کرنے سے کہ اسے تمام شخصوں نے ایساکہاہے اس کا دعوی مان لیاجائے گا۔ کسی شخص کا بھی اپنے متعلق کوئی دعوی تو درست ماناجاسکتاہے لیکن دوسروں کے متعلق اس کا دعوی درست نہیں ماناجاسکتا۔بالخصوص اس وقت جب کوئی شخص اجماع کا دعویٰ کرے۔ یہ دعوی اس صورت میں اورزیادہ قابل اعتراض نظرآتاہے جب دعوی کرنے والے کی اپنی شخصیت مکمل طورپر قابل اعتماد نہ ہو۔
خداکرے کہ لوگ اپناوقت کسی اچھے کام میں صرف کریں جس کا کوئی مثبت فائدہ نظرآتاہو ۔
 
شمولیت
فروری 01، 2012
پیغامات
34
ری ایکشن اسکور
85
پوائنٹ
54
اگرچہ ابن ابی داود کا قول اکثر کے حق میں بلا سند ہے لیکن احناف کے نزدیک حجت هے جیسا کہ علامہ تهانوی إعلاء السنن میں فرماتے هیں

المجتهد لا يحكي عن السلف أمرا، وهو جازم به، إلا وله أصل صحيح عنده، فقول الشافعي " وإنا قد حفظنا " الخ حجة لا محالة،

ابو بکر بن ابی داود کے بارے میں علماء کی رائے

سير أعلام النبلاء
الإمام، العلامة، الحافظ، شيخ بغداد،
وكان من بحور العلم، بحيث إن بعضهم فضله على أبيه
قال الحافظ أبو محمد الخلال: كان ابن أبي داود إمام أهل العراق
الرجل فمن كبار علماء الإسلام، ومن أوثق الحفاظ

طبقات المحدثين بأصبهان - ابن حيان
كان عالما بالأنساب والأخبار والعلل والمغازي قد عمل في كل فن من العلوم
المقصد الأرشد في ذكر أصحاب الإمام أحمد لابن مفلح
صنف المسند والسنن والتفسير والقراءات والناسخ والمنسوخ وغير ذلك وكان فهما عالما حافظا


طبقات الحنابلة - ابن أبي يعلى
كان فهما عالماً حافظاً

لسان الميزان
الحافظ الثقة صاحب التصانيف
كان أبو بكر من كبار الحفاظ والأئمة الأعلام
وقال الخليلي حافظ إمام وقته عالم متفق عليه
وكان يقال أئمة ثلاثة في زمن واحد بن أبي داود وابن خزيمة وابن أبي حاتم رحمهم الله تعالى

المنتظم في تاريخ الأمم والملوك
محدث العراق وابن إمامها في عصره، ، وصنف الكتب، وَكَانَ عالما فهما من كبار الحفاظ

غاية النهاية في طبقات القراء
الإمام المشهور ثقة كبير مأمون

طبقات الحفاظ - السيوطي
الحافظ العلامة قدوة المحدثين

طبقات الشافعية الكبرى لتاج الدين السبكي
الحافظ ابن الحافظ أحد الأجلاء


اس ساری مدح کے بعد ابو بکر بن ابی داود کو علماء مجتہدین میں شمار کیا جا سکتا ہے جن کا بالجزم قول احناف کے ہاں بغیر سند کے ہی حجت ہے
 

ندوی

رکن
شمولیت
نومبر 20، 2011
پیغامات
152
ری ایکشن اسکور
328
پوائنٹ
57
بو بکر بن ابی داود کے بارے میں علماء کی رائے

سير أعلام النبلاء
الإمام، العلامة، الحافظ، شيخ بغداد،
وكان من بحور العلم، بحيث إن بعضهم فضله على أبيه
قال الحافظ أبو محمد الخلال: كان ابن أبي داود إمام أهل العراق
الرجل فمن كبار علماء الإسلام، ومن أوثق الحفاظ
ماشاء اللہ!اسم گرامی(فورم کا)توفقیرالی اللہ ہے لیکن حرکت الفرارمن اللہ جیسی ہے۔
حافظ ذہبی کی سیراعلام النبلاء سے ہی حوالہ جات اخذ کرنے تھے تو ابن ابی داؤد کے بارے میں حافظ ذہبی کایہ تبصرہ کیوں نظرانداز کردیا۔
وَابْنُ أَبِي دَاوُدَ إِنْ كَانَ حَكَى هَذَا، فَهُوَ خَفِيْفُ الرَّأْسِ، فَلَقَدْ بَقِيَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ ضَرْبِ العُنُقِ شِبْرٌ، لِكَوْنِهِ تَفَوَّهَ بِمِثْلِ هَذَا البُهتَانِ،
اب کوئی خفیف الراس کسی کے متعلق اجماع کی بات نقل کرےتواس کی بات کی کیاحیثیت ہوگی۔کمال تویہ ہے کہ ان پر خود ان کے بابانے جرح کررکھی ہے۔یعنی امام ابودادد نے۔بعض حضرات کاخیال ہے کہ امام ابوداؤد سے اپنے بیٹے کے حق میں جوجرح ہے اس کی سند میں مجہول روات ہیں۔لیکن افسوس کہ یہ روات کی جہالت کی بات نہ ابن عدی کو سوجھی اورنہ ہی حافظ ذہبی کو۔
بات صرف امام ابوداؤد کی ہی نہیں دوسروں نے بھی ان کے کذاب ہونے کی بات کہی ہے۔کہیں ایساتونہیں کہ ان کے اسی طرح کے بے سروپااقوال کہ "امام ابوحنیفہ کے گمراہ ہونے پر اجماع ہے "کچھ محدثین کو انہیں کذب سے متصف کرناپڑا۔
کیونکہ ان کایہ قول صراحتاکذب ہے۔
امام مالک کے شاگردوں میں اشھب ہیں۔ قاسم ہیں اوردیگر ہیں ان سے امام ابوحنیفہ کی گمراہی کے تعلق سے کوئی قول پیش کیاجاسکتاہے؟امام شافعی کے شاگردوں میں سب سے بڑے امام مزنی ہیں۔ان سے امام ابوحنیفہ کے تعلق سے ضلالت کی کوئی بات کسی کے پاس منقول ہے؟امام احمد کے شاگردوں میں امام ابوداؤد ہیں کیاانہوں نے کہیں کہاہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ گمراہ تھے؟
اگرنہیں توپھر ایسی بات کہناسوائے جھوٹ کے اورکچھ نہیں ہوسکتا۔خداان کی لغزش کو معاف کرے ۔
 
شمولیت
فروری 01، 2012
پیغامات
34
ری ایکشن اسکور
85
پوائنٹ
54
ماشاء اللہ!اسم گرامی(فورم کا)توفقیرالی اللہ ہے لیکن حرکت الفرارمن اللہ جیسی ہے۔
حافظ ذہبی کی سیراعلام النبلاء سے ہی حوالہ جات اخذ کرنے تھے تو ابن ابی داؤد کے بارے میں حافظ ذہبی کایہ تبصرہ کیوں نظرانداز کردیا۔
وَابْنُ أَبِي دَاوُدَ إِنْ كَانَ حَكَى هَذَا، فَهُوَخَفِيْفُ الرَّأْسِ، فَلَقَدْ بَقِيَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ ضَرْبِ العُنُقِ شِبْرٌ، لِكَوْنِهِ تَفَوَّهَ بِمِثْلِ هَذَا البُهتَانِ،
اب کوئی خفیف الراس کسی کے متعلق اجماع کی بات نقل کرےتواس کی بات کی کیاحیثیت ہوگی۔کمال تویہ ہے کہ ان پر خود ان کے بابانے جرح کررکھی ہے۔یعنی امام ابودادد نے۔بعض حضرات کاخیال ہے کہ امام ابوداؤد سے اپنے بیٹے کے حق میں جوجرح ہے اس کی سند میں مجہول روات ہیں۔لیکن افسوس کہ یہ روات کی جہالت کی بات نہ ابن عدی کو سوجھی اورنہ ہی حافظ ذہبی کو۔
میرے بهائی مجه پر فرار من اللہ کا الزام لگانے سے پہلے حافظ ذہبی کا قول پهر سے پڑه لیں
 
Top