جی ہاں، ضرورت کے تحت بنائی جا سکتی ہے اور بلاضرورت ممنوع ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے؛
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿١٢٨﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿١٢٩﴾
کیا تم ہر اونچی جگہ ایک عمارت بطور نشانی تعمیر کرتے ہو اور تم عبث کام کرتے ہو۔ اور تم اپنے گھر ایسے بناتے ہو جیسا کہ تم نے ان میں ہمیشہ رہنا ہو۔
أما إن كل بناء وبال على صاحبه إلا ما لا إلا ما لا يعني : ما لا بد منه(السلسلة الصحیحة ؛2830)
ہر عمارت اس کے بنانے والے پر وبال ہے سوائے اس عمارت کے کہ جو ضروری ہو یا جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔