• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا ضرورت کے تحت دو منزلہ ،تین منزلہ مکانات تعمیر کیے جا سکتے ہیں؟

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
جی ہاں، ضرورت کے تحت بنائی جا سکتی ہے اور بلاضرورت ممنوع ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے؛
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿١٢٨﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿١٢٩﴾
کیا تم ہر اونچی جگہ ایک عمارت بطور نشانی تعمیر کرتے ہو اور تم عبث کام کرتے ہو۔ اور تم اپنے گھر ایسے بناتے ہو جیسا کہ تم نے ان میں ہمیشہ رہنا ہو۔
أما إن كل بناء وبال على صاحبه إلا ما لا إلا ما لا يعني : ما لا بد منه(السلسلة الصحیحة ؛2830)
ہر عمارت اس کے بنانے والے پر وبال ہے سوائے اس عمارت کے کہ جو ضروری ہو یا جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
اہل تقویٰ کیلئے جنّت میں بھی کئی منزلہ بالا خانے ہوں گے،
فرمانِ باری ہے: ﴿ لٰكِنِ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ١ۙ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِيْعَادَ۰۰۲۰ ﴾ ... سورة الزمر: ١٧ کہ ’’ہاں وه لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے بالا خانے ہیں جن کے اوپر بھی بنے بنائے بالا خانے ہیں (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ رب کا وعده ہے اور وه وعده خلافی نہیں کرتا۔‘‘
اسی طرح صحیح احادیث مبارکہ میں کئی منزلہ کشتی (بحری حجاز) کا بھی تذکرہ ملتا ہے، فرمانِ نبویﷺ ہے:
« مثل القائم على حدود الله والواقع فيها ، كمثل قوم استهموا على سفينة ، فأصاب بعضهم أعلاها وبعضهم أسفلها ، فكان الذين في أسفلها إذا استقوا من الماء مروا على من فوقهم ، فقالوا : لو أنا خرقنا في نصيبنا خرقا ، ولم نؤذ من فوقنا ، فإن يتركوهم وما أرادوا هلكوا جميعا ، وإن أخذوا على أيديهم نجوا ونجوا جميعا » ... صحيح البخاري: ٢٤٩٣
واللہ تعالیٰ اعلم!
 
Top