• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا گھوڑے کی قربانی کی جا سکتی ہے؟

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,079
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
111
قربانی صرف بهيمة الأنعام سے کرنا جائز ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الأَنْعَامِ (الحج: 34)
’’اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔‘‘

بهيمة الأنعام سے مراد اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری ہے۔

سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنْ الضَّأْنِ (صحيح مسلم، الأضاحي: 1963)
’’صرف مسنہ (دودانتا) جانور کی قربانی کرو، ہاں! اگر تم کو دشوار ہو تو ایک سالہ دنبہ یا مینڈھا ذبح کر دو۔‘‘

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مُسِنَّةً جانور ذبح کرنے کا حکم دیا ہے اور اہل علم کے ہاں مُسِنَّةً اونٹ، گائے اور بھیڑ، بكرى كى جنس سے دو دانتے كو كہتے ہيں۔

  • قربانی کرنا عبادت ہے، یہ انہیں جانوروں سے کی جائے گی جن کی قربانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی نہیں کی، اس لیے گھوڑے کی قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔
والله أعلم بالصواب.
 
Top