haseeb123121
مبتدی
- شمولیت
- اگست 30، 2015
- پیغامات
- 13
- ری ایکشن اسکور
- 6
- پوائنٹ
- 2
کیا یہ بات درست ہے کہ فرشتے دو وقتوں میں انسان سے الگ رھتے ہیں ایک قضائے حاجت کے وقت اور مباشرت کے وقت اس کی صحت درکار ہے
اسحاق سلفی
ابن داؤد
اسحاق سلفی
ابن داؤد
یہ بات ایک حدیث میں بتائی گئی ہے ۔لیکن وہ حدیث ضعیف ہے اور اس کے ایک دو شواہد بھی بتائے جاتے ہیںکیا یہ بات درست ہے کہ فرشتے دو وقتوں میں انسان سے الگ رھتے ہیں ایک قضائے حاجت کے وقت اور مباشرت کے وقت اس کی صحت درکار ہے
جزاك الله خيرا يا أخي و بارك الله فيكقرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (18)سورہ ق
وہ کوئی بات منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران (فرشتہ ) موجود ہوتا ہے۔‘‘
یعنی انسان کا کوئی قول، کوئی فعل، کوئی حرکت، کوئی اشارہ ایسا نہیں ہوتا جسے ریکارڈ میں لانے والا فرشتہ ہروقت اس کے پاس موجود نہ رہتا ہو ۔
اور سور ’’انفطار ‘‘ میں فرمایا :
وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ (10) كِرَامًا كَاتِبِينَ (11) يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ (12)
حالانکہ تم پر نگران مقرر ہیں۔۔جو معزز ہیں اعمال لکھنے والے۔۔وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو ۔
ان دونوں آیتوں کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ ہر وقت جو کچھ ہم کرتے ہیں وہ جانتے ہیں ۔اور لکھتے ہیں ۔
اور علامہ ابن عثیمین فرماتے ہیں :
" هذان الاثنان – يعني الملكين - هل هما دائماً مع الإنسان ؟ نعم لقوله : ( إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ) ق/18 وقيل : إنهما يفارقانه إذا دخل الخلاء ، وإذا كان عند الجماع ، فإن صح ذلك عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فعلى العين والرأس ، وإن لم يصح فالأصل العموم ( إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ) ق/18 " انتهى.
" شرح العقيدة السفارينية " (3) .
وانتم فجزاكم الله كل خيرجزاك الله خيرا يا أخي و بارك الله فيك
جزاك الله خيراقرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (18)سورہ ق
وہ کوئی بات منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران (فرشتہ ) موجود ہوتا ہے۔‘‘
یعنی انسان کا کوئی قول، کوئی فعل، کوئی حرکت، کوئی اشارہ ایسا نہیں ہوتا جسے ریکارڈ میں لانے والا فرشتہ ہروقت اس کے پاس موجود نہ رہتا ہو ۔
اور سور ’’انفطار ‘‘ میں فرمایا :
وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ (10) كِرَامًا كَاتِبِينَ (11) يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ (12)
حالانکہ تم پر نگران مقرر ہیں۔۔جو معزز ہیں اعمال لکھنے والے۔۔وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو ۔
ان دونوں آیتوں کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ ہر وقت جو کچھ ہم کرتے ہیں وہ جانتے ہیں ۔اور لکھتے ہیں ۔
اور علامہ ابن عثیمین فرماتے ہیں :
" هذان الاثنان – يعني الملكين - هل هما دائماً مع الإنسان ؟ نعم لقوله : ( إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ) ق/18 وقيل : إنهما يفارقانه إذا دخل الخلاء ، وإذا كان عند الجماع ، فإن صح ذلك عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فعلى العين والرأس ، وإن لم يصح فالأصل العموم ( إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ) ق/18 " انتهى.
" شرح العقيدة السفارينية " (3) .