• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا یہ تقلید ہے؟

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
السلام علیکم

میرا سوال ہے کہ کسی مفتی سے مسئلہ پوچھنا، بغیر دلیل کا مطالبہ کیے۔ کیا یہ تقلید کہلاتی ہے؟
امام شوکانی اور دوسرے علماء نے کہا ہے کہ عامی کا مفتی سے مسئلہ پوچھنا اور قاضی کا لوگوں کی شہادت قبول کرنا تقلید میں شامل نہیں ہیں۔ {Muthalam uth Thubut p 289}

اگر عامی مفتی سے دلیل کا مطالبہ نہ کرے تو کیا وہ تقلید کہلائے گی؟ جبکہ اسے شک ہو کے مفتی کے پاس دلیل ہو گی!
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اگر عامی مفتی سے دلیل کا مطالبہ نہ کرے تو کیا وہ تقلید کہلائے گی؟ جبکہ اسے شک ہو کے مفتی کے پاس دلیل ہو گی!
جی ہاں!اگر وہ اس سے دلیل کا مطالبہ نہ کرے اور بغیر دلیل جانے عالم کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے اور اس کا مفتی یا عالم دین کے بارے یہ حسن ظن بھی نہ ہو کہ وہ کتاب وسنت سے مسئلہ بتلا رہا ہے تویہ تقلید ہے اور یہ شرعا جائز نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے؛
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ يَا عَدِيُّ اطْرَحْ عَنْكَ هَذَا الْوَثَنَ وَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ بَرَاءَةٌ{ اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ }قَالَ أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئًا اسْتَحَلُّوهُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئًا حَرَّمُوهُ۔(سنن الترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ التوبۃ)
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ’حسن‘ قرار دیا ہے۔
اوراگر مستفتی یا عامی پر یہ واضح ہو جائے کہ مفتی یا امام کا قول خلاف قرآن یا سنت ہے تو پھر اس کی تقلید حرام اور شرک ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قَدْ ذَمَّ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْقُرْآنِ مَنْ عَدَلَ عَنْ اتِّبَاعِ الرُّسُلِ إلَى مَا نَشَأَ عَلَيْهِ مِنْ دِينِ آبَائِهِ وَهَذَا هُوَ التَّقْلِيدُ الَّذِي حَرَّمَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَهُوَ : أَنْ يَتَّبِعَ غَيْرَ الرَّسُولِ فِيمَا خَالَفَ فِيهِ الرَّسُولَ وَهَذَا حَرَامٌ بِاتِّفَاقِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ ؛ فَإِنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ وَالرَّسُولُ طَاعَتُهُ فَرْضٌ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ مِنْ الْخَاصَّةِ وَالْعَامَّةِ فِي كُلِّ وَقْتٍ وَكُلِّ مَكَانٍ ؛ فِي سِرِّهِ وَعَلَانِيَتِهِ وَفِي جَمِيعِ أَحْوَالِهِ . وَهَذَا مِنْ الْإِيمَانِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : { فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا } وَقَالَ : { إنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إذَا دُعُوا إلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا } وَقَالَ : { وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ } وَقَالَ : { فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌأَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } وَقَالَ : { قُلْ إنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ } . وَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ طَاعَةَ الرَّسُولِ عَلَى جَمِيعِ النَّاسِ فِي قَرِيبٍ مِنْ أَرْبَعِينَ مَوْضِعًا مِنْ الْقُرْآنِ وَطَاعَتُهُ طَاعَةُ اللَّهِ : وَهِيَ : عِبَادَةُ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَذَلِكَ هُوَ دِينُ اللَّهِ وَهُوَ الْإِسْلَامُ وَكُلُّ مَنْ أَمَرَ اللَّهُ بِطَاعَتِهِ مِنْ عَالِمٍ وَأَمِيرٍ وَوَالِدٍ وَزَوْجٍ ؛ فَلِأَنَّ طَاعَتَهُ طَاعَةٌ لِلَّهِ . وَإِلَّا فَإِذَا أَمَرَ بِخِلَافِ طَاعَةِ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا طَاعَةَ لَهُ وَقَدْ يَأْمُرُ الْوَالِدُ وَالزَّوْجُ بِمُبَاحٍ فَيُطَاعَ وَكَذَلِكَ الْأَمِيرُ إذَا أَمَرَ عَالِمًا يَعْلَمُ أَنَّهُ مَعْصِيَةٌ لِلَّهِ وَالْعَالِمُ إذَا أَفْتَى الْمُسْتَفْتِيَ بِمَا لَمْ يَعْلَمْ الْمُسْتَفْتِي أَنَّهُ مُخَالِفٌ لِأَمْرِ اللَّهِ فَلَا يَكُونُ الْمُطِيعُ لِهَؤُلَاءِ عَاصِيًا وَأَمَّا إذَا عَلِمَ أَنَّهُ مُخَالِفٌ لِأَمْرِ اللَّهِ فَطَاعَتُهُ فِي ذَلِكَ مَعْصِيَةٌ لِلَّهِ ؛ وَلِهَذَا نَقَلَ غَيْرُ وَاحِدٍ الْإِجْمَاعَ عَلَى أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلْعَالِمِ أَنْ يُقَلِّدَ غَيْرَهُ إذَا كَانَ قَدْ اجْتَهَدَ وَاسْتَدَلَّ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْحَقُّ الَّذِي جَاءَ بِهِ الرَّسُولُ ؛ فَهُنَا لَا يَجُوزُ لَهُ تَقْلِيدُ مَنْ قَالَ خِلَافَ ذَلِكَ بِلَا نِزَاعٍ۔(مجموع الفتاوی، جلد ١٩، ص٢٦٠ تا٢٦١)
ایک اور جگہ شیخ الاسلام فرماتے ہیں:
وَلَكِنْ مَنْ عَلِمَ أَنَّ هَذَا خَطَأٌ فِيمَا جَاءَ بِهِ الرَّسُولُ ثُمَّ اتَّبَعَهُ عَلَى خَطَئِهِ وَعَدَلَ عَنْ قَوْلِ الرَّسُولِ فَهَذَا لَهُ نَصِيبٌ مِنْ هَذَا الشِّرْكِ الَّذِي ذَمَّهُ اللَّهُ لَا سِيَّمَا إنْ اتَّبَعَ فِي ذَلِكَ هَوَاهُ وَنَصَرَهُ بِاللِّسَانِ وَالْيَدِ مَعَ عِلْمِهِ بِأَنَّهُ مُخَالِفٌ لِلرَّسُولِ ؛ فَهَذَا شِرْكٌ يَسْتَحِقُّ صَاحِبُهُ الْعُقُوبَةَ عَلَيْهِ . وَلِهَذَا اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّهُ إذَا عَرَفَ الْحَقَّ لَا يَجُوزُ لَهُ تَقْلِيدُ أَحَدٍ فِي خِلَافِهِ ۔(مجموع الفتاوی، جلد٧، ص٧١)
اگر دلیل طلب کرے تو اتباع ہے اور یہ جائز ہے کیونکہ یہ کتاب وسنت کی پیروی ہے اور کتاب وسنت کی پیروی مطلوب ومقصود ہے۔
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
جواب کے لیے بہت شکریہ، لیکن شیخ محترم! کیا عامی کے لیے مفتی کی ہر کہی ہوئی بات پر دلیل طلب کرنا مشکل نہیں؟ مثلاً، اگر کوئی مفتی کسی نو مسلم کو وضوء کا طریقہ بتاتا ہے تو اس کے لیے بہت مشکل ہو گا کہ وہ ہر اعضاء کے دھونے سے پہلے ایک حدیث سنائے! یا ہر عمل پر ایک حدیث سنائے، اس طرح تو مفتی کو ہزاروں حدیثوں کا حافظ ہونا پڑے گا، کوئی بھی کام سیکھانے یا کرنے کے لیے!

براہ کرم جلد سے جلد جواب دیں، کیونکہ یہ سوال مجھ سے کافی بار پوچھے جاتے ہیں۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
١۔ماشاء اللہ!آپ نے ایک اچھی بات کی طرف توجہ دلائی جس سے مسئلہ کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔اگر کوئی مفتی یا عالم دین ایسا ہے جو کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیتا ہے اور آپ اس سے کوئی سوال کرتے ہیں اور آپ کا حسن ظن یہ ہے کہ اس نے کتاب وسنت کی روشنی میں ہی جواب دیا ہے تو اس کی بات مان لینا تقلید نہیں ہے کیونکہ آپ اس کی بات اس حسن ظن کے ساتھ مان رہے ہیں کہ اس نے کتاب وسنت سے آپ کو مسئلہ بتلایا ہے اور اس مفتی یا عالم کا عمومی طرزعمل یامنہج بھی اسی کا شاہد ہے کہ وہ کتاب وسنت سے مسئلہ بتلاتا ہے۔
٢۔لیکن اگر آپ نے کسی مفتی یا عالم سے کوئی مسئلہ پوچھ لیا اور اس نے آپ کو بتلا دیا اور آپ کا حسن ظن یہی ہے کہ اس نے کتاب وسنت سے بتلایا ہے تو آپ اس پر عمل کریں اور یہ تقلید نہیں ہے لیکن اگر آپ کے سامنے کسی دوسرے مفتی یا عالم دین کی طرف سے کتاب اللہ یا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات آ جاتی ہے جو اس پہلے مفتی یا عالم دین کے بتلائے ہوئے فتوی کے خلاف جا رہی ہو تو اب آپ پر اس پہلے مفتی کے فتوی کو چھوڑنا واجب اور اس دوسرے مفتی یا عالم دین کی بتلائی ہوئی دلیل کی اتباع لازم ہو جاتی ہے۔اور اگر آپ اس دلیل کے مقابلہ میں پہلے مفتی ہی کی بات کوترجیح دیتے ہیں تو یہ تقلید ہے۔
٣۔ہم اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ دلیل کے ساتھ بات کرنے والے مفتی یا عالم دین کی بات کو بغیر دلیل کے ساتھ بات کرنے والے مفتی یا عالم دین کی بات پر لازما ترجیح حاصل ہو گی۔اور اگر آپ دلیل سامنے آ جانے کے بعد بھی پہلے مفتی کی بات مانتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور پہلے مفتی یا عالم دین کا وہ فتوی کسی آیت یا حدیث کے خلاف جا رہا ہے توپھر یہ تقلید ہے اور حرام اور شرک ہے کیونکہ اب اس مفتی یا عالم دین کے بارے اس احتمال یا حسن ظن کی نفی ہو جاتی ہے کہ آپ اس کی بات کتاب وسنت کی بنیاد پر مان رہے ہیں ۔ اگر کتاب وسنت کی بنیاد پر اس مفتی یا عالم کی بات مان رہے تھے تو اب کتاب وسنت کے سامنے آ جانے کے بعد آپ اس مفتی کی بات چھوڑ دیتے لیکن آپ کا نہ چھوڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ایسی شخصیت کی فی نفسہ ایسی اتباع ہے جو پیغمبر کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔آپ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کی اس بات پر غور کریں:
وَلَكِنْ مَنْ عَلِمَ أَنَّ هَذَا خَطَأٌ فِيمَا جَاءَ بِهِ الرَّسُولُ ثُمَّ اتَّبَعَهُ عَلَى خَطَئِهِ وَعَدَلَ عَنْ قَوْلِ الرَّسُولِ فَهَذَا لَهُ نَصِيبٌ مِنْ هَذَا الشِّرْكِ الَّذِي ذَمَّهُ اللَّهُ لَا سِيَّمَا إنْ اتَّبَعَ فِي ذَلِكَ هَوَاهُ وَنَصَرَهُ بِاللِّسَانِ وَالْيَدِ مَعَ عِلْمِهِ بِأَنَّهُ مُخَالِفٌ لِلرَّسُولِ ؛ فَهَذَا شِرْكٌ يَسْتَحِقُّ صَاحِبُهُ الْعُقُوبَةَ عَلَيْهِ . وَلِهَذَا اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّهُ إذَا عَرَفَ الْحَقَّ لَا يَجُوزُ لَهُ تَقْلِيدُ أَحَدٍ فِي خِلَافِهِ ۔(مجموع الفتاوی، جلد٧، ص٧١)
لیکن جسے یہ معلوم ہو جائے کہ اس عالم دین نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی وحی کے مقابلہ میں خطا کی ہے اور پھر بھی اس نے اس خطا میں اس عالم کی پیروی کی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے پھر گیاتو اس شخص کے لیے اس شرک میں ایک حصہ ہے جس کی اللہ تعالی نے مذمت کی ہے، خاص طور پر جبکہ اس شخص نے اس مسئلہ میں اپنی خواہش کی پیروی کرتے ہوئے اس عالم دین کے فتوی کی یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ فتوی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے خلاف ہے، زبان وہاتھ سے حمایت کی ہوتو اس شرک پر سزا کا مستحق ہے۔اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے جب کسی نے حق کو پہچان لیا تو اس کے لیے حق کے مقابلہ میں کسی کی تقلید جائز نہیں ہے۔
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
شیخ ایک مسئلہ آن پڑا ہے۔
تقلید کے معنی ہیں، کسی کی بات کو بغیر دلیل کے ماننا۔ لیکن جب کوئی شخص حسن ظن کی بنیاد پر دلیل نہیں مانگتا، تو یہ تو تقلید کے معنی کے موافق ہی ہے نہ؟؟ کیونکہ وہ دلیل کا مطالبہ نہیں کرتا، اور تقلید بھی دلیل کا مطالبہ نا کرنا ہے!!
جلدی سے جواب دیں۔ جزاک اللہ خیرا
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
تقلید کے معنی ہیں، کسی کی بات کو بغیر دلیل کے ماننا۔ لیکن جب کوئی شخص حسن ظن کی بنیاد پر دلیل نہیں مانگتا، تو یہ تو تقلید کے معنی کے موافق ہی ہے نہ؟؟
اس بارے دو باتیں عرض کروں گا:
1۔ دیکھیں ایک عالم دین وہ ہے جو دلیل بتلاتا ہے یعنی بالفعل یا بتلانے کی صلاحیت رکھتا ہے یعنی بالقوۃ جسے ہم انگریزی میں پوٹینشل کہتے ہیں جبکہ دوسرا عالم دین وہ جو اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہے اس میں پوٹینشلی بھی دلیل بتلانے کی صلاحیت باقی نہیں ہے مثلا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ۔
مسئلہ میں فرق کہاں پڑے گا، اس کو یوں سمجھیں کہ ایک معاصر کتاب وسنت کے متبع عالم دین سے آپ نے مسئلہ پوچھا اور انہوں نے بتلایا اور آپ نے عمل کر لیا، اب کسی نے اس مسئلہ کے بارے آپ کو شک میں مبتلا کر دیا تو آپ ان عالم دین سے اس مسئلہ کی دلیل بعد ازاں معلوم کر سکتے ہیں اور اپنا شک رفع کر سکتے ہیں جبکہ امام ابو حنیفہ یا ان ائمہ دین کا معاملہ مختلف ہے جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، وہاں آپ ان سے وضاحت یا دلیل طلب کرنے کی کسی پوزیشن یا امکان میں ہی نہیں ہیں۔ پس مردہ شخصیتوں کی تقلید اور زندہ علماء اتباع میں بہت فرق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ حنفی میں بعض مسائل ایسے بھی ہیں کہ جن کی دلیل فقہ کی کتب میں منقول نہیں ہے اور جب دلیل کا تقاضا کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ دلیل امام صاحب رحمہ اللہ کے ذہن میں ہے اور وہ اب اس دنیا میں موجود نہیں ہے لہذا دلیل معلوم کرنا ناممکن امر بن چکا ہے۔
حنفیہ کے مرتب کردہ اصول فقہ میں ”استحسان“ کے نام سے باقاعدہ ایک اصول اور ضابطہ موجود ہے جس کا خلاصہ حنفیہ کے نزدیک یہی ہے کہ بعض مسائل میں دلیل کے خلاف فتوی دینا پڑتا ہے کیونکہ امام صاحب رحمہ اللہ کی رائے دلیل کے خلاف ہے۔ اب جو امام صاحب کا فتوی دلیل کے خلاف تھا تو خود اس فتوی کو ایک دلیل فراہم کرنے کے لیے ”استحسان" کا قاعدہ وضع کیا گیا ہے کہ اس خلاف دلیل مسئلہ کی دلیل استحسان ہے۔
2۔ دوسری اور اہم تر بات یہ ہے کہ اہل الرائے میں تو یہ منہج عام ہے کہ وہ کسی مسئلہ کی کتاب وسنت سے دلیل بتلانا پسند ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ کتاب وسنت سے دلیل کے مطالبہ پر ناراضگی کا بھی اظہار کیا جاتا ہے، اگرچہ کتب فقہ سے دلیل ضرور نقل کر دیتے ہیں جبکہ اہل الحدیث یا محدثین کے منہج پر چلنے والے علماء کا یہ طرز عمل نہیں ہے۔ ہاں یہ امکان موجود ہے کہ وہ بعض مسائل میں سائل کو دلیل بیان نہ کرتے ہوں لیکن اپنی تقاریر، خطبات یا تحریروں میں ان کا یہ عمومی منہج نہیں ہوتا ہے کہ وہ بس مسائل یا فتاوی کتاب وسنت کے دلائل کے بغیر بیان کرتے چلے جائیں۔ یعنی کسی عالم دین کی زندگی میں غالب منہج کے طور پر دلیل کو ذکر کر دینا اس کے ایک منہج کو متعین کر دیتا ہے لہذا اگر کسی وقت وہ دلیل نہ بھی بیان کرے تو حسن ظن کی بدولت اس کی اتباع جائز ہے لیکن کسی عالم دین کی زندگی کا طرز عمل ہی اگر یہ ہو کہ اس نے اپنی تحریر وتقریر میں کتاب وسنت کے دلائل کو بنیاد نہ بنایا ہو تو پھر ایسی صورت میں اس کی زندگی کے غالب منہج کو سامنے رکھتے ہوئے اس سے دلیل کا تقاضا لازم ہے کیونکہ اس صورت میں ایسے عالم دین کے ساتھ حسن ظن کے قرائن موجود نہیں ہیں۔
 
Top