تقلید کے معنی ہیں، کسی کی بات کو بغیر دلیل کے ماننا۔ لیکن جب کوئی شخص حسن ظن کی بنیاد پر دلیل نہیں مانگتا، تو یہ تو تقلید کے معنی کے موافق ہی ہے نہ؟؟
اس بارے دو باتیں عرض کروں گا:
1۔ دیکھیں ایک عالم دین وہ ہے جو دلیل بتلاتا ہے یعنی بالفعل یا بتلانے کی صلاحیت رکھتا ہے یعنی بالقوۃ جسے ہم انگریزی میں پوٹینشل کہتے ہیں جبکہ دوسرا عالم دین وہ جو اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہے اس میں پوٹینشلی بھی دلیل بتلانے کی صلاحیت باقی نہیں ہے مثلا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ۔
مسئلہ میں فرق کہاں پڑے گا، اس کو یوں سمجھیں کہ ایک معاصر کتاب وسنت کے متبع عالم دین سے آپ نے مسئلہ پوچھا اور انہوں نے بتلایا اور آپ نے عمل کر لیا، اب کسی نے اس مسئلہ کے بارے آپ کو شک میں مبتلا کر دیا تو آپ ان عالم دین سے اس مسئلہ کی دلیل بعد ازاں معلوم کر سکتے ہیں اور اپنا شک رفع کر سکتے ہیں جبکہ امام ابو حنیفہ یا ان ائمہ دین کا معاملہ مختلف ہے جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، وہاں آپ ان سے وضاحت یا دلیل طلب کرنے کی کسی پوزیشن یا امکان میں ہی نہیں ہیں۔ پس مردہ شخصیتوں کی تقلید اور زندہ علماء اتباع میں بہت فرق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ حنفی میں بعض مسائل ایسے بھی ہیں کہ جن کی دلیل فقہ کی کتب میں منقول نہیں ہے اور جب دلیل کا تقاضا کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ دلیل امام صاحب رحمہ اللہ کے ذہن میں ہے اور وہ اب اس دنیا میں موجود نہیں ہے لہذا دلیل معلوم کرنا ناممکن امر بن چکا ہے۔
حنفیہ کے مرتب کردہ اصول فقہ میں ”استحسان“ کے نام سے باقاعدہ ایک اصول اور ضابطہ موجود ہے جس کا خلاصہ حنفیہ کے نزدیک یہی ہے کہ بعض مسائل میں دلیل کے خلاف فتوی دینا پڑتا ہے کیونکہ امام صاحب رحمہ اللہ کی رائے دلیل کے خلاف ہے۔ اب جو امام صاحب کا فتوی دلیل کے خلاف تھا تو خود اس فتوی کو ایک دلیل فراہم کرنے کے لیے ”استحسان" کا قاعدہ وضع کیا گیا ہے کہ اس خلاف دلیل مسئلہ کی دلیل استحسان ہے۔
2۔ دوسری اور اہم تر بات یہ ہے کہ اہل الرائے میں تو یہ منہج عام ہے کہ وہ کسی مسئلہ کی کتاب وسنت سے دلیل بتلانا پسند ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ کتاب وسنت سے دلیل کے مطالبہ پر ناراضگی کا بھی اظہار کیا جاتا ہے، اگرچہ کتب فقہ سے دلیل ضرور نقل کر دیتے ہیں جبکہ اہل الحدیث یا محدثین کے منہج پر چلنے والے علماء کا یہ طرز عمل نہیں ہے۔ ہاں یہ امکان موجود ہے کہ وہ بعض مسائل میں سائل کو دلیل بیان نہ کرتے ہوں لیکن اپنی تقاریر، خطبات یا تحریروں میں ان کا یہ عمومی منہج نہیں ہوتا ہے کہ وہ بس مسائل یا فتاوی کتاب وسنت کے دلائل کے بغیر بیان کرتے چلے جائیں۔ یعنی کسی عالم دین کی زندگی میں غالب منہج کے طور پر دلیل کو ذکر کر دینا اس کے ایک منہج کو متعین کر دیتا ہے لہذا اگر کسی وقت وہ دلیل نہ بھی بیان کرے تو حسن ظن کی بدولت اس کی اتباع جائز ہے لیکن کسی عالم دین کی زندگی کا طرز عمل ہی اگر یہ ہو کہ اس نے اپنی تحریر وتقریر میں کتاب وسنت کے دلائل کو بنیاد نہ بنایا ہو تو پھر ایسی صورت میں اس کی زندگی کے غالب منہج کو سامنے رکھتے ہوئے اس سے دلیل کا تقاضا لازم ہے کیونکہ اس صورت میں ایسے عالم دین کے ساتھ حسن ظن کے قرائن موجود نہیں ہیں۔