• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا یہ ویڈیو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی گستاخی کے ذمرے میں آتی ہے؟ اہل علم روشنی ڈالیں!

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,561
پوائنٹ
791
ایک ازلی بد بخت کے سامنے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکا ذکر ہوا ۔تو اس بدنصیب شخص نے ام المومنین کے متعلق بدزبانی کی،
اسے کہا گیا ،کہ لعنتی آدمی کیوں زبان درازی کرتے ہو ؟ کیا وہ تمہاری ماں نہیں؟ کہنے لگا ،،وہ میری ماں نہیں ۔
یہ بات جب ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلی ،تو فرمایا:
اس بدبخت نے ٹھیک کہا (کہ میں اس کی ماں نہیں ) کیونکہ میں صرف ایمان والوں کی ماں ہوں ،کافروں کی نہیں ۔

فضل عائشة45.jpg
 
Last edited:
شمولیت
جون 20، 2014
پیغامات
675
ری ایکشن اسکور
55
پوائنٹ
93
میرا تمام بھائیوں سے یہ سوال ہے کہ جو بیان اآج کل امیر جماعت الدعوۃ سعید صاحب کا چل رہا ہے اس بارے میں کیا انکا موقف ٹھیک ہے ؟؟؟؟؟؟؟
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,561
پوائنٹ
791
امام اعظم جناب محمد رسول اللہ ﷺ

نے فرمایا
لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنَّ الْوَحْيَ لَمْ يَأْتِنِي وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلَّا عَائِشَةَ،
عائشہ کے بارے میں مجھے تکلیف نہ دو۔ عائشہ (رضی اللہ عنہا )کے سوا اپنی بیویوں میں سے کسی کے لحاف میں بھی مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی ہے۔(صحیح البخاری حدیث نمبر: 2581 )​
فضل عائشة 49.jpg
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,561
پوائنٹ
791
’‘ عائشہ ’

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے اسم گرامی ’‘ عائشہ ’‘ کا معنی
اور یہ اس ذات مقدسہ کا نام ہے ،جن کو مومنوں کی ماں ،اور پیارے نبی ﷺ کی سب سے محبوب زوجہ
اور خلیفہء اول سیدنا صدیق اکبر کی صاحبزادی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔
اور ’’ عائشہ ‘‘ عربی زبان کا بڑا ہی پیارا لفظ ہے ،
جو عربی ۔فعل ’’عاش ‘‘ سے ماخوذ ہے،
اور ۔العیش ۔ حیات و گذران ۔کو کہا جاتا ہے ،
اور اسی سے کسی کو دعائیہ کہا جاتاہے ۔اعاشہ اللہ عیشۃ راضیۃ ۔یعنی اللہ اس کو بہترین ،پسندیدہ زندگی عطا فرمائے ۔
اور خوشحال اور پرآسائش حالات میں زندگی گزارنے والے کو ’’ رجل عایش ‘‘کہا جاتا ہے۔
گویا آباد و شاد اور خوشحال ہونا اس لفظ کا مدلول ہے
The meaning of ‘Aa’ishah in Arabic is taken from the verb ‘aasha (to live, to be alive); ‘aysh means life. It is said in Arabic ‘a’aashahu Allaah ‘eesahatn raadiyan, meaning Allaah caused him to live a good life. The phrase rajul ‘aayish means a man who is in a good situation. The form ‘Aa’ishah is applied to women (i.e., it is the feminine form).

فضل عائشة اسمها.jpg
 
Last edited:

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
علی بہرام سے اتنا اچھلنے کی کیا ضرورت ہے اگر فاطمہ سلام اللہ علیھا ہو سکتی ہیں تو ام المومنین طاھرہ مطھرہ حب النبی صلی اللہ علیہ وسلم و زوجتہ فی الدنیا و الاخرۃ عائشہ سلام اللہ علیھا کیوں نہیں؟؟؟
یہ الفاظ جان بوجھ کر لکھے اگرچہ عادتا میں رضی اللہ عنھا ہی لکھتا ہوں مجھے ابو بکر کو بھی علیہ السلام کہنے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ عرف کا خیال رکھنا ضروری سمجھتا ہوں
ہاں اگر انتظامیہ کی طرف سے ایسی کوئی شرط ہے تو دکھا دی جائے آئندہ نہیں لکھوں گا
فاظمہ علیہا السلام کو فاطمہ علیہا السلام اس لئے کہا جاتا ہے کہ فاطمہ علیہا السلام کے لئے یہ القاب آپ کی اصح کتاب بعد کتاب اللہ میں بھی درج ہیں مثال کے طور پر محدیث یونیکوڈ کتب میں صحیح بخاری کا ایک باب ہے

29- بَابُ مَنَاقِبُ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ:
باب: فاطمہ علیہا السلام کے فضائل کا بیان

وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔

http://forum.mohaddis.com/threads/صحيح-البخاري-مولانا-محمد-داؤد-راز-رحمہ-اللہ-جلد-٤-احادیث-۲۷۸۲سے-۳۷۷۵.22116/page-39#post-197267

اگر ایسا کچھ امی عائشہ کے لئے کہیں کسی حدیث کی کتاب میں لکھا ہو تو پھر آپ کا اس انداز میں بات کرنا صحیح ہوگا
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,782
پوائنٹ
1,069
فاظمہ علیہا السلام کو فاطمہ علیہا السلام اس لئے کہا جاتا ہے کہ فاطمہ علیہا السلام کے لئے یہ القاب آپ کی اصح کتاب بعد کتاب اللہ میں بھی درج ہیں مثال کے طور پر محدیث یونیکوڈ کتب میں صحیح بخاری کا ایک باب ہے

29- بَابُ مَنَاقِبُ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ:
باب: فاطمہ علیہا السلام کے فضائل کا بیان

وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔

http://forum.mohaddis.com/threads/صحيح-البخاري-مولانا-محمد-داؤد-راز-رحمہ-اللہ-جلد-٤-احادیث-۲۷۸۲سے-۳۷۷۵.22116/page-39#post-197267

اگر ایسا کچھ امی عائشہ کے لئے کہیں کسی حدیث کی کتاب میں لکھا ہو تو پھر آپ کا اس انداز میں بات کرنا صحیح ہوگا
عائشہ رضي اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل !

کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ہمیں عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے کچھ فضائل بتائيں تاکہ ہم عورتیں ان کی اقتداکرسکیں ؟

دینی طلباء ہونے کے ناطے ہمارے لیے یہ بہت ہی اہم ہے ۔


الحمد للہ

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی عنہ کا قول ہے :

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی خصوصیات وفضائل میں کچھ کا ذکرکیا جاتا ہے :

- عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین زوجہ تھیں جس کا ثبوت بخاری کی حدیث میں ملتا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں آپ کوکون زیادہ محبوب ہے ؟ تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کا نام لیا پھرسوال کیا گيا کہ مردوں میں میں سے کون ؟ تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب تھا عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے والد ۔

- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے علاوہ کسی اور کنواری عورت سے شادی نہیں کی ۔

- ان یہ بھی خصوصیت ہے کہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے لحاف میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پروحی کا نزول ہوتا تھا ان کے علاوہ کسی اوربیوی کے لحاف میں کبھی وحی نازل نہیں ہوئ ۔

- عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی خصوصیت ہے کہ جب اللہ تعالی نے آيت تخيیر نازل فرمائ تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ابتدا عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے کرتے ہوۓ انہیں اختیار دیتے ہوۓ فرمایا :

( جلدبازی سے کام نہ لوبلکہ اپنے والدین سے مشورہ لے لو ، توعائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب میں کہا :

کیا میں اس معاملہ میں اپنے والدین سے مشورہ لوں ، میں توبلا شبہ اللہ تعالی اوراس رسول اوردارآخرت چاہتی ہوں ، توباقی ازواج مطہرات نے بھی عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی پیروی کی ) ۔

- ان کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ :

اللہ سبحانہ وتعالی نے اس اہل افق کے بہتان سے بری کرکے ان کی برات میں وحی نازل فرمادی جومسلمانوں کے گھروں اوران کی نمازوں میں قیامت تک پڑھی جاتی رہے گی ، اوراللہ تعالی نے یہ شھادت دی کہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا پاکازعورتوں میں سے ہیں ۔

اوراللہ تعالی نے عا‏ئشہ رضي اللہ تعالی عہنا سے مغفرت اوررزق کریم کا وعدہ فرمایا اوریہ بتایاکہ ان کے بارہ میں جوبہتان لگایا اس میں ان کی بہتری تھی نہ کہ کوئ شر اورعیب ، اورنہ ہی اس سے ان کی شان میں کوئ کمی ہو‏ئ بلکہ اللہ تعالی نے اس سے ان کی سان منزلت میں اضافہ فرمایا ، اوران کی قدرومنزلت اونچی فرما‏ئ ، اورآسمان وزمین میں بسنے والوں میں اس کی بنا پرکتنی فضیلت ومنقبت حاصل ہوئ اوراچھا ذکر باقی رہا ۔

- ان کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ :

جب اکابرصحابہ کرام میں سے کسی ایک پرکسی مسئلہ میں اشکال پیدا ہوتا تووہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے پوچھتے تووہ حل ہوجاتا ۔

- عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی خصوصیت ہے کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےعائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کےگھرمیں ان کی باری والے دن ان کی گود میں وفات پائ اور ان کے گھرمیں ہے دفن ہوۓ ۔

شادی سے قبل خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوفرشتے نے ‏عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی ایک ریشمی کپڑے میں لپٹی ہو‏ئ تصویر دکھائ تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ اگر یہ اللہ تعالی کی جانب سے ہے تو اللہ تعالی اسے پورا کرےگا ۔

- ان کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے :

لوگ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی باری والے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوتحفے تحا‏ئف بھیج کرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی حاصل کرتے تھے اس لیے کہ وہ اپنی محبوب ترین زوجہ کے گھر میں ہوتے ۔ ا ھـ جلاء الافھام ص( 237 - 241 ) ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد

http://islamqa.info/ur/7878
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,561
پوائنٹ
791
فاظمہ علیہا السلام کو فاطمہ علیہا السلام اس لئے کہا جاتا ہے کہ فاطمہ علیہا السلام کے لئے یہ القاب آپ کی اصح کتاب بعد کتاب اللہ میں بھی درج ہیں مثال کے طور پر محدیث یونیکوڈ کتب میں صحیح بخاری کا ایک باب ہے

29- بَابُ مَنَاقِبُ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ:
باب: فاطمہ علیہا السلام کے فضائل کا بیان

وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔

http://forum.mohaddis.com/threads/صحيح-البخاري-مولانا-محمد-داؤد-راز-رحمہ-اللہ-جلد-٤-احادیث-۲۷۸۲سے-۳۷۷۵.22116/page-39#post-197267

اگر ایسا کچھ امی عائشہ کے لئے کہیں کسی حدیث کی کتاب میں لکھا ہو تو پھر آپ کا اس انداز میں بات کرنا صحیح ہوگا
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>.
آپ نے صحیح بخاری سے جو حوالہ دیا ۔وہ تو مصنف یا ناسخ کا درج ’‘عنوان باب ’‘ ہے ۔
ہم آپ کو صحیح بخاری سے بزبان معصوم ۔۔۔قول معصوم۔۔ بتاتے ہیں ۔بس آپ ہمارا مضمون پڑھتے ہی محبت و عقیدت سے ۔سیدہ ام المومنین ؑ ۔پر ایک دفعہ سلام پڑھ دیں ۔

إن عائشة رضي الله عنها قالت:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما:‏‏‏‏ " يا عائش هذا جبريل يقرئك السلام " فقلت:‏‏‏‏ وعليه السلام ورحمة الله وبركاته ، ترى ما لا ارى ، تريد رسول الله صلى الله عليه وسلم ".
’‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا ”اے عائش یہ جبرائیل علیہ السلام تشریف فرما ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں“ میں نے اس پر جواب دیا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ وہ چیز ملاحظہ فرماتے ہیں جو مجھ کو نظر نہیں آتی (آپ کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی)۔
فضل عائشة 48.jpg
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,561
پوائنٹ
791
فاظمہ علیہا السلام کو فاطمہ علیہا السلام اس لئے کہا جاتا ہے کہ فاطمہ علیہا السلام کے لئے یہ القاب آپ کی اصح کتاب بعد کتاب اللہ میں بھی درج ہیں مثال کے طور پر محدیث یونیکوڈ کتب میں صحیح بخاری کا ایک باب ہے

29- بَابُ مَنَاقِبُ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ:
باب: فاطمہ علیہا السلام کے فضائل کا بیان

وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔

http://forum.mohaddis.com/threads/صحيح-البخاري-مولانا-محمد-داؤد-راز-رحمہ-اللہ-جلد-٤-احادیث-۲۷۸۲سے-۳۷۷۵.22116/page-39#post-197267

اگر ایسا کچھ امی عائشہ کے لئے کہیں کسی حدیث کی کتاب میں لکھا ہو تو پھر آپ کا اس انداز میں بات کرنا صحیح ہوگا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آپ کا تو مجھے پتہ نہیں ۔البتہ ہم جب نماز میں ’‘تشہد ’‘ پڑھتے ہیں ۔
تو ام المومنین سیدہ طاہرہ ،اور ان کے والد مکرم خلیفہ اول ،یعنی خلیفۃ الرسول ، سمیت تمام صحابہ کرام پر سلام بھیجتے ہیں ،
صحیح بخاری میں تشہد کے الفاظ موجود ہیں :
التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمُوهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "
تمام آداب بندگی، تمام عبادات اور تمام بہترین تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ آپ پر سلام ہو اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں۔
ہم پر سلام اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر سلام۔ جب تم یہ کہو گے تو تمہارا سلام آسمان و زمین میں جہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ ہے اس کو پہنچ جائے گا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔
التشهد.jpg
 
Top