• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گاڑیوں پہ ماشاء اللہ وغیرہ لکھنا

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,400
ری ایکشن اسکور
497
پوائنٹ
209
آج کل دیکھا جاتا ہے کہ مسلمان لوگ اپنی گاڑیوں پہ اللہ کا نام لکھتے ہیں ۔ موٹرسائیکل ، گاڑی اور بسوں پہ اللہ کے ذکر کے مختلف جملے ہوتے ہیں ۔
(1) اللہ حافظ
(2)سبحان اللہ
(3) ماشاء اللہ
(4) ماشاء اللہ تبارک اللہ
(5) ھذا من فضل ربی
(6) اللہ ، محمد
(7) لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ
(8) بسم اللہ الرحمن الرحیم
(9) باسمہ تعالی
(10) 786
بعض لوگ ان اشیاء کو تختی کی شکل میں اپنی گاڑیوں پہ لٹکاتے ہیں ۔

اس مسئلے پہ دو طرح سے بات ہوگی ۔

اولا: مذکورہ بالا دس جملے کا عام استعمال کیساہے ؟
جواب : دس جملوں میں سے دو پہ اعتراض ہے ۔
بسم اللہ کی جگہ "باسمہ تعالی" لکھنا جائز نہیں ہے کیونکہ قرآن و حدیث میں بسم اللہ الرحمن الرحیم آیا ہے جس کی صریح مخالفت ہوتی ہے ۔ اس میں خرابی کا ایک بڑا پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں اللہ کا ذکر نہیں ہے جس سے باسمہ کی ضمیر کا مرجع کچھ بھی مراد لیا جاسکتا ہے خصوصا اہل بدعت اس کا مرجع اولیاء بھی لے سکتے ہیں۔
786 کا استعمال بھی بسم اللہ کی جگہ جائز نہیں کیونکہ یہ قرآن و حدیث کی مخالفت کے ساتھ ساتھ یہ ہندؤں کے بھگوان ہری کرشنا کا نمبر ہے۔ نبی ﷺ نے اور آپ کے متبعین نے بسم اللہ کا استعمال کیا اس لئے بسم اللہ ہی کہنا چاہئے۔
اللہ ، محمد بھی اکٹھے نہ لکھے جائیں ، بلکہ دونوں کو فاصلے کے ساتھ لکھے جائیں تاکہ پتہ چلے اللہ ایک الگ ذات ہے اور محمد ایک الگ ذات ہے ۔

ثانیا: گاڑی پہ ان کا ستعمال کیسا ہے ؟
جواب : بعض لوگ حادثات سے محفوظ رہنے کے لئے چپل یا کالا دھاگہ گاڑی میں لٹکادیتے ہیں ، کچھ لوگ اسی عقیدے سے اپنی گاڑیوں پہ اللہ کا نام لکھتے ہیں ۔
اگر عقیدہ ایسا ہی ہے تو یہ تعویذ کی شکل ہوگی اور تب یہ شرک کے قبیل سے ہوگا ، اس لئے فورا اپنے عقیدے کی اصلاح کرنی چاہئے ۔
اگر یونہی شوقیہ یا زینت کے طور پر گاڑی پہ اللہ کا نام لکھا ہے تو بھی جائز نہیں ہے کیونکہ قرآن کی آیات یا اللہ کے اسماء دیوار پہ یا گاڑی پہ لکھنا اور لٹکانا ممنوع ہے۔ لوگ سامان وغیرہ پہ بھی برکت کے لئے ایسا کرتے ہیں جبکہ اس میں قرآن کی اور لفظ جلالہ کی توہین ہوتی ہے ۔
باسمہ تعالی اور 786 کے متعلق بتاچکا ہوں کہ مطلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے ۔

مشورہ :
جو لوگ تختی لٹکاتے ہیں یا گاڑیوں پہ اللہ کا نام لکھتے ہیں انہیں وہی مشورہ دیتا ہوں جو نبی ﷺ کی سنت سے ثابت ہے۔
آپ جب گاڑی پہ بیٹھیں تو بسم اللہ پڑھیں اور سواری پہ بیٹھنے کی دعا پڑھیں :
سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون ، الحمد للہ ، الحمدللہ ، الحمدللہ ،اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت(صحیح سنن ابوداؤد: 2602)
اگر سفر پہ جارہے ہیں تو سفر کی بھی دعا پڑھ لیں، نہیں تو اتنا کافی ہے ۔ اس کے علاوہ جس قدر چاہیں گاڑی میں بیٹھے ، سبحان اللہ ، الحمد للہ ، اللہ اکبر، لاالہ الااللہ کا ذکر کرتے رہیں اس قدر ثواب ملے گا اور اللہ کی نصرت حاصل ہوگی ۔
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,697
ری ایکشن اسکور
764
پوائنٹ
290
جنکا عمل جس ارادہ سے ہو ۔
مثلا میں نے اپنی کار کی پیچہے والی گلاس پر سٹیکر کٹ کر کے چسپاں کیا تہا : سبحان اللہ وبحمدہ ، سبحان اللہ العظیم۔ ارادہ قلب کا یہ کہ راستے پر جنکی نظر پڑ جائے وہ پڑہینگے اور یہ انکے پڑهنے کیخاطر ہے ۔
دعاء السفر ثابت ہے ، اکثریت اس پر عمل کرتی ہے ۔
آپکی دیگر تمام باتوں سے جن میں ارادے عقیدہ اسلام سے ہٹکر ہوں وہ درست ہیں ۔
اگر میرے سٹکر لگانے میں خطاء هے تو مجہے آگاہ کیا جائے تاکہ میں اپنی اصلاح کر سکوں اور مالک حقیقی سے عفو کا طلبگار بن جاوں ۔
جزاک اللہ خیرا
 

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,400
ری ایکشن اسکور
497
پوائنٹ
209
جنکا عمل جس ارادہ سے ہو ۔
مثلا میں نے اپنی کار کی پیچہے والی گلاس پر سٹیکر کٹ کر کے چسپاں کیا تہا : سبحان اللہ وبحمدہ ، سبحان اللہ العظیم۔ ارادہ قلب کا یہ کہ راستے پر جنکی نظر پڑ جائے وہ پڑہینگے اور یہ انکے پڑهنے کیخاطر ہے ۔
دعاء السفر ثابت ہے ، اکثریت اس پر عمل کرتی ہے ۔
آپکی دیگر تمام باتوں سے جن میں ارادے عقیدہ اسلام سے ہٹکر ہوں وہ درست ہیں ۔
اگر میرے سٹکر لگانے میں خطاء هے تو مجہے آگاہ کیا جائے تاکہ میں اپنی اصلاح کر سکوں اور مالک حقیقی سے عفو کا طلبگار بن جاوں ۔
جزاک اللہ خیرا
فتاوى اللجنة الدائمة
تصفح برقم المجلد > المجموعة الثانية > المجلد الثالث (التفسير وعلوم القرآن والسنة) > التفسير وعلوم القرآن والسنة > كتابة لفظ الجلالة على مؤخرة السيارة
الفتوى رقم ( 19691 )
س: يقوم بعض الخطاطين الذين يكتبون اللافتات بعمل لا يحمدون عليه، ألا وهو كتابة لفظ الجلالة على مؤخرات السيارات، مما يؤدي إلى تعرضها للقاذورات . أرجو من سماحتكم الإفتاء في ذلك حتى نكون على بينة.
ج : لا يجوز للخطاطين والرسامين وغيرهم كتابة لفظ الجلالة ( الله ) أو غيره من أسماء الله الحسنى أو صفاته على مؤخرة السيارات أو غيرها، ولا يجوز لصاحب السيارة اتخاذ ذلك، سواءً اتُخذت للزينة أو التبرك أو وسيلة للتذكير والاتعاظ ونحو ذلك مما يعتقده بعض العامة والجهلة؛ لأن ذلك بدعة لا أصل له في كتاب الله ولا سنة نبيه صلى الله عليه وسلم، ولم يتعبدنا الله بذلك، ولما في ذلك من امتهان أسماء الله وصفاته، وعدم تنزيهها عما لا يليق بها وإهانتها، وقد تؤول بصاحبها إلى الشرك باتخاذها حرزًا، واعتقاد جلب النفع ودفع الضر بمجرد كتابتها.
وأسماء الله وصفاته لم ينزلها الله لتجعل رسومًا على أجهزة أو لافتات أو سيارات، ولو كان ذلك مشروعًا لدلنا إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وأرشدنا إلى فعله.
فالله سبحانه وتعالى أنزل أسماءه وصفاته ليعرف عباده بنفسه فيثبتوها له، كما جاء عنه وعن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويؤمنوا بما تضمنته من الكمال والجلال ويثنوا عليه بما هو أهله، ويتوجهوا له بها عند دعائه في السراء والضراء.
فالواجب على كل مؤمن أن يؤمن بها ويصدق بها ويحصيها عقيدة وعملاً، ويحافظ عليها لفظًا ومعنى، فيثبتها كما يليق بجلاله، وكما جاءت من غير تحريف ولا تعطيل ولا تمثيل ولا تكييف ولا تشبيه، ويحافظ على حرمتها من الامتهان وينزهها عما لا يليق بها، قال الله تعالى: وَلِلَّهِ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ .
وبالله التوفيق، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.
اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,697
ری ایکشن اسکور
764
پوائنٹ
290
جزاك الله خيرا
خليني افعل اللازم ۔ الله سلمك ولوالدينك ۔
والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته
 
Top