• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہینڈ پریکٹس یا مشت زنی

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,960
ری ایکشن اسکور
5,796
پوائنٹ
354
”حنفیہ“ کے نزدیک اگرچہ یہ ”حرام “ہے ، لیکن وہ کہتے ہیں کہ اگر” شدید“ غلبۂ جذبات کی حالت میں” آدمی“ سے ”احیاناً“ اس فعل کا ”صدور“ ہو جائے تو ”امید“ ہے کہ ”معاف “کر دیا جائے گا۔
۔چونکہ اس ”معاملے“ میں کوئی ”صریح نص“ موجود نہیں لہذا ”حنفیہ “ کی رائے کچھ ” معقول“ لگتی ہے۔
ایک طرف فعل حرام اور اس پر تاویل ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,232
پوائنٹ
402
”مشت زنی “کے بارے میں مندرجہ ذیل ”مؤقف“ پائے جاتے ہیں:-
”امام احمد بن حنبلؒ“ اس کو” جائز“ قرار دیتے ہیں ۔
”امام مالکؒ“ اور” امام شافعیؒ“ اس کو ”قطعی حرام“ ٹھیراتے ہیں ۔
”حنفیہ“ کے نزدیک اگرچہ یہ ”حرام “ہے ، لیکن وہ کہتے ہیں کہ اگر” شدید“ غلبۂ جذبات کی حالت میں” آدمی“ سے ”احیاناً“ اس فعل کا ”صدور“ ہو جائے تو ”امید“ ہے کہ ”معاف “کر دیا جائے گا۔
”امام احمد بن حنبلؒ“ کا ”مؤقف“”امام مالک“ ؒ اور”امام شافعیؒ“ کے ”مؤقف“ کے ”خلاف“ ہے،چونکہ اس ”معاملے“ میں کوئی ”صریح نص“ موجود نہیں لہذا ”حنفیہ “ کی رائے کچھ ” معقول“ لگتی ہے۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,232
پوائنٹ
402
مشت زنی کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ حرام ہے تو زیادہ مناسب ہو گا جس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے :
اورجولوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ، سوائے اپنی بیویوں اوراملکیت کی لونڈیوں کے یقینا یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں ، لھذا جواس کے سوا کچھ اورچاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں } المومنون ( 5 - 7 ) ۔
اوراس لیے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :
اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جوبھی شادی کرنے کی استطاعت رکھے اسے شادی کرنی چاہیے ، اورجوطاقت نہيں رکھتا وہ روزے رکھے اس لیے کہ یہ اس کے لیے ڈھال ہیں ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5065 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1400 ) ۔
اوراگر مشت زنی جائز ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی راہنمائی فرماتے ، اس لیے مکلف کےلیے ایسا کرنا آسان ہے ، اور اس لیے بھی کہ انسان اس میں لذت متعہ پاتا ہے ، لیکن روزے میں مشقت ہے ، توجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے کی راہنمائی فرمائي تویہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشت زنی کرنا حرام ہے اورجائز نہيں ۔ ا ھ
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,090
ری ایکشن اسکور
6,752
پوائنٹ
1,069
مشت زنی کے حکم سے لاعلمی میں ارتکاب

اللہ تعالی نے مجھ پراحسان کیا میں نے ایک برس قبل توبہ کرلی ۔۔۔ آج ميں نے سنا کہ مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، مجھے پہلے اس کا علم نہیں تھا ۔۔ میں گزشتہ رمضان سے قبل اس کا ارتکاب بھی کیا تھا ۔۔ اب مجھے علم نہیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ؟

آپ کے علم میں یہ بھی ہونا چاہیے کہ میں نہيں جانتا کہ یہ گناہ کتنے ایام کیا ہے ۔۔ مجھے معلومات سے نواز کرمستفید فرمائیں کہ مجھے اپنے فعل پر کیا کرنا ہوگا ؟

الحمد للہ

اول :

اس اللہ کی تعریف ہے جس نے آپ کوتوبہ کرنے کی توفیق دی اوراحسان کیا ہم اللہ تعالی سے دعا گوہيں کہ وہ آپ کی توبہ قبول فرمائے اورآپ کے گناہ معاف کرے اورآپ کورشدوھدایت سے نوازے ۔

دوم :

روزے کوتوڑنے والی اشیاء کےحکم سے جاہل ہوتےہوئے ارتکاب کرنے والے کے بارہ میں علماء کرام کا اختلاف ہے کہ آيا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں ؟ اس میں دوقول ہیں :

پہلا قول :

اس سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا ، امام شافعی ، امام احمد کا یہی مذھب ہے ، لیکن امام شافعی نے اس سے نئے مسلمان کومستثنی کیا ہے یا پھر ایسے شخص کو جودیھاتی ہو اوروہیں پرورش پائي ہو اوراہل علم سے دور رہتا ہوتواس کا روزہ فاسد نہيں ہوگا ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی المجموع میں کہتے ہیں :

جب روزہ دارکھانے پینے اورجماع کے حکم سے جاہل ہونے کی بنا پرکھا پی لیے یا جماع کرلے ، اگر تو وہ نیا مسلمان ہو یا پھر دو دیہات میں پرورش والا ہو جس پریہ مخفی ہوکہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا ، اس لیے وہ بھول جانے والے شخص کے مشابہ ہونے کی بنا پرگنہگار نہيں ہوگا ، اس میں نص بھی وارد ہے ۔

اوراگر وہ شخص مسلمانوں سے میل جول رکھنے والا ہوکہ اس پر اس کے حرام ہونے کا حکم مخفی نہ ہو تواس کا روزہ ٹوٹ جائے گا ، کیونکہ وہ کوتاہی کا مرتکب ہوا ہے ۔ اھـ المجموع للنووی ( 6 / 352 ) ۔

دیکھیں المغنی لابن قدامۃ المقدسی ( 4 / 368 ) اور الکافی ( 2 / 244 ) ۔

مستقل فتوی کمیٹی ( اللجنۃ الدائمۃ ) کے علماءکرام نے بھی یہی قول اختیار کیا ہے ، لجنۃ الدائمۃ مندرجہ ذیل سوال کیا گيا کہ :

جس نے رمضان میں دن کے وقت مشت زنی کرلی اوراسے اس کے حرام کا ہونے کا علم نہ ہو اورنہ ہی اسے ان ایام کا علم ہوجس میں وہ اس کا مرتکب ہوا تھا اس کا کیا حکم ہے ؟

کمیٹی کا جواب تھا :

اس گندی عادت کی بنا پرتوڑے ہوئے روزں کی قضاء کرنی واجب ہے کیونکہ مشت زنی سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے ، اوراسے ان ایام کی کوجاننے کی کوشش کرنی چاہیے جس میں روزہ توڑا تھا ۔ اھـ

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 10 / 258 ) ۔

دوسرا قول :

اس سے روزہ فاسد نہيں ہوتا جس طرح کہ بھولنے والے کا روزہ فاسد نہيں ہوتا ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ اورحافظ ابن قیم رحمہمااللہ تعالی نے بھی یہی قول اختیارکیا ہے :

شیخ الاسلام " الفتاوی الکبری " میں کہتے ہیں :

روزے دارنے اگر کوئي روزہ توڑنے والا کام اس کی حرمت سے جاہل ہونے کی بنا پر کرلیا توکیا اسے روزہ دوبارہ رکھنا ہوگا ؟

امام احمد کے مسلک میں دو قول ہیں :

زيادہ صحیح اورظاہریہی ہے کہ اس سے قضاءواجب نہیں ہوگي ، اورخطاب توابلاغ کے بعدہوتا ہے اس لے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ تا کہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈراؤں اورجسے یہ پہنچے } ۔

اورایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا :

{ ہم اس وقت تک عذاب نہيں دیتے جب تک کہ رسول نہ مبعوث کردیں}

اوراس لیے بھی کہ اللہ تعالی نے فرمایا :

{ تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ تعالی کے خلاف کوئي دلیل نہ رہے } ۔

اس طرح کی کئی ایک آيات قرآن مجید میں موجود ہیں جن میں اللہ تعالی نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کسی ایک کواس وقت تک سزا نہيں دیتا اورنہ ہی اس کا محاسبہ کرتا ہے جب تک کہ اس کے پاس رسول کا لایا ہوا دین نہ پہنچ جائے ۔

اورجس کویہ علم ہوکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کےرسول ہیں اوروہ اس پر ایمان لے آيا لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائي ہوئي اکثر اشیاء کا علم نہ رکھے تواللہ تعالی اسے اس چيزکی سزا نہيں دے گا جواسے پہنچی ہی نہیں ۔

کیونکہ جب اللہ تعالی بلوغت کےبعد ترک ایمان پراسے سزا نہيں دیتا توپھر اس کی بعض شرائط پربھی ابلاغ سے قبل سزانہ دینا اولی ہوگا ، اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بھی اس جیسی مثالیں ملتی ہیں ۔

صحیحین میں یہ بات ثابت ہے کہ صحابہ کرام میں سے کچھ نے اللہ تعالی کے مندرجہ ذیل فرمان :

{ سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے } سے سفید اورسیاہ رسی گمان کی اوران میں ایک صحابی اپنی ٹانگ سے یہ رسی باندھ کرکھاتا پیتا تھا حتی کہ سفید سیاہ سے ظاہر ہوجاتا ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کےلیے یہ بیان کیا کہ اس سے مراد دن کی سفیدی اور رات کی سیاہی ہے ، لیکن اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ روزہ رکھنے کا حکم نہیں دیا ۔اھـ

دیکھیں : الفتاوی الکبری لابن تیمیہ ( 2 / 19 ) ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب " اعلام الموقعین " میں کہتے ہیں :

اورانہوں ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم )نے رمضان میں دن کے وقت عمدا کھانے پینے والے شخص جس نے سفید اورسیاہ دھاگے کی تاویل رسی سے کی تھی اورسفید رسی کے ظاہر ہونے تک کھاتا رہا حالانکہ دن طلوع ہوچکا تھا لیکن اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کردیا اوراس کی تاویل کی وجہ سے قضاء کا نہیں کہا ۔ اھـ

دیکھیں اعلام الموقعین لابن قیم ( 4 / 66 ) ۔

شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی سے ایسے نوجوان کے بارہ میں میں سوال کیا گيا جس نے رمضان میں شھوت غالب آنے پرمشت زنی کرلی کیونکہ وہ اس کے حکم سے جاہل تھا کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، تواس کا حکم کیا ہوگا ؟

شیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

حکم یہ ہے کہ اس کےذمہ کچھ نہیں ، اس لیے کہ ہم گزشتہ سطور میں یہ بیان کیا ہے کہ روزہ دار کا روزہ تین شروط سے ٹوٹتا ہے : علم ہونا چاہیے ، یاد ہو ، اورارادہ ہونے پر ۔

آپ مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر ( 28023 ) کے جواب کا مطالعہ ضرور کریں ۔

لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ : انسان کومشت زنی کرنے سے صبر کرنا چاہیے اس لیے کہ مشت زنی حرام ہے جس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اورجولوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ، سوائے اپنی بیویوں اوراملکیت کی لونڈیوں کے یقینا یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں ، لھذا جواس کے سوا کچھ اورچاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں } المومنون ( 5 - 7 ) ۔

اوراس لیے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :

( اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جوبھی شادی کرنے کی استطاعت رکھے اسے شادی کرنی چاہیے ، اورجوطاقت نہيں رکھتا وہ روزے رکھے اس لیے کہ یہ اس کے لیے ڈھال ہیں ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5065 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1400 ) ۔

اوراگر مشت زنی جائز ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی راہنمائی فرماتے ، اس لیے مکلف کےلیے ایسا کرنا آسان ہے ، اور اس لیے بھی کہ انسان اس میں لذت متعہ پاتا ہے ، لیکن روزے میں مشقت ہے ، توجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے کی راہنمائی فرمائي تویہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشت زنی کرنا حرام ہے اورجائز نہيں ۔ ا ھـ

دیکھیں مجموع الفتاوی لابن ‏عثیمین رحمہ اللہ تعالی ( 19 / 981 ) ۔


آپ کے لیے احتیاط اسی میں ہے کہ ان ایام کی قضاء میں روزے رکھیں ، اوران ایام کی تحدید میں کوشش میں ظن غالب پر عمل کریں ۔

شیخ ابن بازرحمہ اللہ تعالی مجموع الفتاوی میں کہتے ہيں :

جس نے رمضان میں دن کےوقت جماع کیا اوراس پرروزہ فرض بھی تھا یعنی وہ مقیم اورصحیح اوربالغ تھا ، لیکن جماع جہالت کی بنا پرکربیٹھا تواس کے بارہ میں اہل علم کا اختلاف پایا جاتا ہے :

کچھ کا کہنا ہے کہ : اس پرکفارہ ہوگا ، کیونکہ اس نے سوال نہیں کیا اورنہ ہی دین کی سمجھ حاصل کی ہے اوریہ کوتاہی ہے ۔

دوسرے اہل علم کہتے ہیں : جہالت کی بنا پراس پر کفارہ لازم نہیں ، تواس سے آپ کویہ علم ہوا ہوگا کہ آپ کے لیے احتیاط اسی میں ہے کہ کفارہ ادا کریں ، کیونکہ آپ نے کوتاہی کی ہے اورحرام کام کرنے سے قبل سوال بھی نہیں کیا ۔

اھـ دیکھیں مجموع الفتاوی لابن باز ( 15 / 304 ) ۔

اس معاملہ میں احتیاط یہی ہے کہ کفارہ ادا کیا جائے ، اوریہاں کفارہ واجب اس لیے کہ اس نے جماع کے ساتھ روزہ توڑا ہے ، اوررمضان میں دن کے وقت روزہ کی حالت میں جماع کے علاوہ باقی کسی بھی روزہ توڑنے والی چيز سےکفارہ واجب نہيں ہوتا اس کا بیان گزر بھی چکا ہے ۔

آپ اس کی تفصیل کےلیے سوال نمبر ( 28023 ) کے جواب کا مطالعہ ضرور کریں ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب

http://islamqa.info/ur/50017
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,090
ری ایکشن اسکور
6,752
پوائنٹ
1,069
عورت كا انزال تك شہوت انگيزى كرنا

اگر عورت اپنے جنسى جذبات كو اتنا انگيخت كرے كہ انزال بھى ہو جائے تو كيا يہ فعل اسے جماع كى طرح جنبى كر ديگا ؟

الحمد للہ:

اگر عورت شہوت انگيزى كرے حتى كہ انزال ہو جائے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے، اور اس طرح وہ جنبى شمار ہوگى، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" پانى پانى سے ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 151 ).

يعنى منى كے انزال سے غسل واجب ہوتا ہے.

ليكن يہ فعل ـ عورت كا يا مرد كا جنسى جذبات انگيخت كرنا حتى كہ انزال ہو جائے ـ اسے مشت زنى كہتے ہيں، يہ مرد اور عورت دونوں كے ليے حرام عمل ہے، اس ميں دونوں كا كوئى فرق نہيں.

مزيد تفصيل اور دلائل معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 329 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد

http://islamqa.info/ur/search?key=مشت
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,109
ری ایکشن اسکور
325
پوائنٹ
156
ایک طرف فعل حرام اور اس پر تاویل ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
یہ ایک ”اجتہادی مسئلہ“ ہےاور اس فعل“ کی”حرمت“کسی ”صریح نص“سے ثابت نہیں اسی لیے ”ائمہ اربعہؒ“کے درمیان ”اختلاف“واقع ہونا ”فطری“ تھا ایک اور بات نگاہ میں رہے کہ ”استمنا بالید“کی ”شدت“ ”زنا ولواطت“کی ”شدت“ سے” کم تر“ کر ہے ”زنا ولواطت“ کی ”حرمت و سزا “ پر سب ”متفق“ ہیں مگر ”استمنا بالید“ کی کوئی ”سزا “ مقرر نہیں کی گئی اسی لیے ”حنفیہ“کی رائے کسی حد تک ”قابلِ قبول“ ہے ۔لہذا اس بارے میں ”زیادہ سے زیادہ“ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسا ”فعل“ ”کمال تقوٰی“ کے ”خلاف “ضرور ہے اور اس میں ”ملوث“ ہو جانا ”زنا و لواطت“ میں ”ملوث“ ہو جانے سے بہرحال ”بہتر“ ہے۔ واللہ اعلم !
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
”مشت زنی “کے بارے میں مندرجہ ذیل ”مؤقف“ پائے جاتے ہیں:-
”امام احمد بن حنبلؒ“ اس کو” جائز“ قرار دیتے ہیں ۔
”امام مالکؒ“ اور” امام شافعیؒ“ اس کو ”قطعی حرام“ ٹھیراتے ہیں ۔
”حنفیہ“ کے نزدیک اگرچہ یہ ”حرام “ہے ، لیکن وہ کہتے ہیں کہ اگر” شدید“ غلبۂ جذبات کی حالت میں” آدمی“ سے ”احیاناً“ اس فعل کا ”صدور“ ہو جائے تو ”امید“ ہے کہ ”معاف “کر دیا جائے گا۔
”امام احمد بن حنبلؒ“ کا ”مؤقف“”امام مالک“ ؒ اور”امام شافعیؒ“ کے ”مؤقف“ کے ”خلاف“ ہے،چونکہ اس ”معاملے“ میں کوئی ”صریح نص“ موجود نہیں لہذا ”حنفیہ “ کی رائے کچھ ” معقول“ لگتی ہے۔
اگر اس کا حوالہ بھی ہو جائے تو کافی مناسب ہوگا۔ وگرنہ میں تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
آج کسی صاحب نے واٹس ایپ پر ایک پرائیویٹ گروپ میں یہ مضمون بھیجا ہے جس میں "بدلائل" مشت زنی کو مباح قرار دیا گیا ہے۔

20160118220627.jpg


20160118220627 (1).jpg


20160118220627 (2).jpg


اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی درج ذیل حدیث:

( اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جوبھی شادی کرنے کی استطاعت رکھے اسے شادی کرنی چاہیے ، اورجوطاقت نہيں رکھتا وہ روزے رکھے اس لیے کہ یہ اس کے لیے ڈھال ہیں ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5065 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1400 )

کا جواب یہ دیا ہے کہ:
"
اس لیے کے مشت زنی شادی کا متبادل نہیں. شادی کے بعد جنسی عمل کا متبادل صرف زنا ہے. اور اس حدیث میں اس سے روکا گیا ہے۔"
نیز یہ کہ:
اگر یہ اتنا ہی برا فعل ہوتا جتنا آج علمائے کرام نوجوانوں کو باور کروا رہے ہیں، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برائی کی واضح الفاظ میں مذمت کیوں نہیں کی۔ معاملہ اتنا مشکوک کیوں ہے کہ اس موضوع پر فقط ایک ہی آیت اور ایک ہی حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے اور دونوں ہی اپنے موضوع پر واضح ہیں، نا ہی صریح۔

اہل علم سے توجہ کی درخواست ہے۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,444
پوائنٹ
964
پہلی بات :
و الذین ہم لفروجہم حفظون إلا علی أزواجہم أو ما ملکت أیمانہم ۔۔۔ کی جو تاویل کرکے استمنا کو جائز قرار دیا گیا ہے ، اس کی تردید بعد والی آیت میں ہی موجود ہے ، بيويوں اور لونڈیوں کے دو جائز طریقے بیان کرنے کےبعد واضح الفاظ میں ارشاد باری تعالی ہے :
فمن ابتغى وراء ذلك فأؤلئك هم العادون
جو ان کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرتے ہیں وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔
دوسری بات :
رہا اس فعل کی ممانعت میں صحیح احادیث کا وارد نہ ہونا ، تو یہ بات اگر درست بھی ہو تو پھر بھی اس کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتی ، کیونکہ قرآن کے عمومی آیات سے اس کی اس تحریم ثابت ہورہی ہے ، دوسرا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی مختلف مواقع پر صحابہ کرام کو فطری خواہش کے علاج کے لیے شادی کی ترغیب ، یا روزے رکھنے کی ترغیب پر اکتفا کرنا ، اور استمنا جیسے آسان ، سہل اور سستے اور مشقت سے خالی طریقے کی طرف رہنمائی نہ کرنا ، اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ فعل ناجائز ہے ۔
اس فعل کی شناعت میں زنا ، لواطت وغیرہ گناہوں کی طرح صحیح و صریح احادیث کے وارد نہ ہونے کی توجیہ یہ پیش کی جاسکتی ہے ، کہ اس دور میں لوگ اس فعل شنیع کا ارتکاب کرتے ہی نہیں تھے ، کہ اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرنے کی ضرورت پیش آتی ۔

اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی درج ذیل حدیث:
( اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جوبھی شادی کرنے کی استطاعت رکھے اسے شادی کرنی چاہیے ، اورجوطاقت نہيں رکھتا وہ روزے رکھے اس لیے کہ یہ اس کے لیے ڈھال ہیں ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5065 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1400 )
کا جواب یہ دیا ہے کہ:
"
اس لیے کے مشت زنی شادی کا متبادل نہیں. شادی کے بعد جنسی عمل کا متبادل صرف زنا ہے. اور اس حدیث میں اس سے روکا گیا ہے۔"
پتہ نہیں صاحب تحریر اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ، بہر صورت یہ حدیث بالکل واضح ہے کہ شہوت کا توڑ عورتوں سے حلال طریقے سے استمتاع یا روزے رکھ کر صبر کرنا ، اور تیسرا کوئی طریقہ نہیں ہے ، اگر ہوتا تو بیان کردیا جاتا ۔
نیز یہ کہ:
اگر یہ اتنا ہی برا فعل ہوتا جتنا آج علمائے کرام نوجوانوں کو باور کروا رہے ہیں، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برائی کی واضح الفاظ میں مذمت کیوں نہیں کی۔ معاملہ اتنا مشکوک کیوں ہے کہ اس موضوع پر فقط ایک ہی آیت اور ایک ہی حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے اور دونوں ہی اپنے موضوع پر واضح ہیں، نا ہی صریح۔
اہل علم سے توجہ کی درخواست ہے۔
یہ آج کے علماء کرام ہی نہیں ، اس فعل کی حرمت پر اوپر قدیم علماء کے حوالے گزر چکے ہیں ، اور پھر اس موضوع پر صرف ایک آیت یا حدیث ہی نہیں ہے ، بلکہ دیگر آیات بھی ہیں ، اور احادیث بھی اگرچہ احادیث کی صحت میں کلام ہے ۔ تفصیل یہاں دیکھی جاسکتی ہے ۔
 
Last edited:
Top