• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یہ تقیہ باز شیعہ ہے ثبوت کے ساتھ

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,986
ری ایکشن اسکور
1,552
پوائنٹ
304
حضرت علی رضی الله عنہ کے بھائی حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے قریبی ساتھی تھے اور دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے بھائی زیاد بن ابی سفیان ، حضرت علی رضی الله عنہ کے قریبی ساتھی تھے اور آپ نے انہیں ایران و خراسان کا گورنر مقرر کر رکھا تھا۔ ایک بار عقیل رضی الله عنہ، معاویہ رضی الله عنہ کے پاس بیٹھے تھے تو معاویہ رضی الله عنہ نے جی کھول کر علی رضی الله عنہ کی تعریف کی اور انہیں بہادری اور چستی میں شیر ، خوبصورتی میں موسم بہار ، جود و سخا میں دریائے فرات سے تشبیہ دی اور کہا: ’’اے ابن ابی طالب (عقیل)! میں علی رضی الله عنہ کے بارے میں یہ کیسے نہ کہوں۔ علی قریش کے سرداروں میں سے ایک ہیں اور وہ نیزہ ہیں جس پر قریش قائم ہیں۔ علی رضی الله عنہ میں بڑائی کی تمام علامات موجود ہیں۔‘‘ عقیل بن ابی طالب رضی الله عنہ نے یہ سن کر کہا: ’’امیر المومنین! آپ نے فی الواقع صلہ رحمی کی۔‘‘ [ ابن عساکر۔ 42/416]-

یزید بن اصم کہتے ہیں کہ جب (جنگ صفین کے بعد) علی رضی الله عنہ اور معاویہ رضی الله عنہ کے درمیان صلح ہو گئی تو علی رضی الله عنہ اپنے مقتولین کی جانب نکلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ جنت میں ہوں گے۔‘‘ پھر معاویہ کے مقتولین کی طرف چلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ بھی جنت میں ہوں گے۔ (روز قیامت) یہ معاملہ میرے اور معاویہ رضی الله عنہ کے درمیان ہو گا۔ فیصلہ میرے حق میں دیا جائے گا اور معاویہ کو معاف کر دیا جائے گا۔ مجھے میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بتایا تھا۔ [ ابن عساکر۔ 59/139]
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,788
پوائنٹ
1,069
محترم یہ بھی یہ کہہ سکتا ہو کہ آپ ناصبی ہیں اور تقیہ کرتے ہیں. اب آپ کو میری بات سمجھ آئی ہو گی.
اللہ کی قسم جو شخص بھی ! چاھے وہ اہل بیت یا پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہماء کی شان میں ادنی سے بھی گستاخی کرے ھم اسے مسلمان ہی نہیں سمجھتے -

اگر اس کے بعد بھی آپ مجھے ناصبی کہے تو واقعی میں ناصبی ہو -

امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنے قصیدے کے شروع میں کہا ہے:

’’اگر صحابہ رضوان اللہ علیہم سے محبت رکھنی ناصبیت ہو تو ثقلین گواہ رہیں کہ میں ناصبی ہوں
 
Last edited:
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,788
پوائنٹ
1,069
محترم یہ بھی یہ کہہ سکتا ہو کہ آپ ناصبی ہیں اور تقیہ کرتے ہیں. اب آپ کو میری بات سمجھ آئی ہو گی.
اب آپ فیصلہ کر لے کہ آپ ان میں سے کون ہیں


‫#‏ناصبی_اور_رافضی‬
=============​


قال امير المؤمنين علي بن ابي طالب :

(( ليحبنی قوم حتی يدخلوا النار في ، وليبغضنی قوم حتی يدخلوا النار في بغضی . ))

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :

" بلاشبہ ایک قوم مجھ سے محبت کرے گی حتی کہ میری محبت میں وہ جہنم میں داخل ہو جائیں گے ، اور ایک قوم بلاشبہ مجھ سے بغض رکھے گی حتی کہ میرے بغض میں جہنم میں داخل ہو جائیں گے ___ "

★ ناصبی علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والے اور رافضی علی رضی اللہ کی محبت میں صحابہ کی تنقیص کرنے والے _____

_______________________


[ فضائل الصحابة : ٩٥٢ ]
( سنده صحيح )
 

razijaan

رکن
شمولیت
جولائی 21، 2015
پیغامات
37
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
35
عظمتِ صحابہ کے بارے میں آحادیثِ نبویۃ :

نبی مکرّم علیہ السلام نےاپنے کسی بھی صحابی کو گالی دینے، بُرا کہنے و سمجھنے سے سخت منع فرمایا ہے،اور یہ بھی فرمایا کہ کوئی بھی مسلمان اپنا سارا مال خرچ کرکے بھی میرے (رسول اکرمﷺکے) کسی بھی ادنیٰ سے صحابی کے رتبہ اور فضیلت کو نہیں پہنچ سکتا، حدیث یہ ہے:

«لا تسبُّوا أصحابي؛ فلو أن أحدَكم أنفقَ مثلَ أُحدٍ ذهبًا ما بلغَ مُدَّ أحدهم ولا نصيفَه»؛ أخرجه الشيخان في "صحيحيهما".

ترجمہ: میرے صحابہ کو گالی یا بُرا نہ کہنا، (جان لو کہ )تم میں سے کوئی بھی اُحد پہاڑ کے برابر سونابھی(صدقہ و خیرات میں ) خرچ کرلے تووہ اُن(صحابہ)میں سے کسی بھی ایک کے مکمل یا آدھے مُد (آدھا کلو یا ایک پاؤاناج کےخرچ کرنے کی فضیلت و مقام) تک بھی نہیں پہنچ سکتا

(بخاری و مسلم)۔

دوسری حدیث میں ہے:

و
في "الصحيحين" أيضًا من حديث عمران بن حُصين - رضي الله عنه - أن رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «خيرُ الناس قرني، ثم الذين يلُونَهم، ثم الذين يلُونَهم». قال عمران: فلا أدري أذَكَر بعد قرنِه قرنَيْن أم ثلاثة.

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہیں۔


اور بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ان کی فضیلت اس طرح بیان ہوئی ہے:

وأخرج الشيخان عن أبي سعيد الخُدري - رضي الله عنه - أنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «يأتي على الناس زمانٌ فيغزُو فِئامٌ من الناس، فيقولون: هل فيكم من صاحبَ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم -؟ فيقولون: نعم، فيُفتحُ لهم. ثم يأتي على الناس زمانٌ فيغزُو فِئامٌ من الناس، فيقال: هل فيكم من صاحبَ أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ فيقولون: نعم، فيُفتَحُ لهم. ثم يأتي على الناس زمانٌ فيغزُو فِئامٌ من الناس، فيقال: هل فيكم من صاحبَ من صاحبَ أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ فيقولون: نعم، فيُفتَحُ لهم».

ترجمہ: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کچھ لوگ جنگ کریں گےاور پوچھیں گے: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جسے اللہ کے رسول ﷺکی صحبت نصیب ہوئی ہو؟ (یعنی کوئی صحابی رسولﷺہے؟)وہ کہیں گے: جی، تو انہیں فتح نصیب ہوگی۔ پھر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کچھ لوگ جنگ کریں گےاور یہ پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جسے اللہ کے رسول ﷺکے کسی صحابی کی صحبت نصیب ہوئی ہو؟ (یعنی کوئی تابعی ہے؟)وہ کہیں گے: جی، تواُنہیں بھی فتح نصیب ہوگی۔ پھر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کچھ لوگ جنگ کریں گےاور پوچھیں گے: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جسے اللہ کے رسول ﷺکے صحابی کی صحبت پانے والے کی صحبت نصیب ہوئی ہو؟ (یعنی کوئی تبع تابعی ہے؟)وہ کہیں گے: جی، تو ان کے ہاتھ پر بھی فتح ہوگی۔


(یعنی جنگ میں صحاباء ، تانعین و اتباعِ تابعین میں سے کسی کی بھی موجودگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت کے نزول اور لوگوں کی فتح کا سبب ہوگا، اور تاریخ شاہد ہے ایسا ہی ہوا اسلام کے شروع کے تین سو سال کہ جوصحاباء ، تانعین و اتباعِ تابعین کے زمانے تھے اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلاگیا)

اور پیارے نبی علیہ السلام نے یہ بات بھی بیان فرمادی کہ انصار سے محبت کرنا سچے ایمان کی نشانی ہے ، اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔اس بارے میں صحیح بخاری و مسلم میں نبی علیہ السلام کا فرمان ہے۔

«آية الإيمان حبُّ الأنصار، وآية النفاق بُغضُ الأنصار»؛ أخرجه الشيخان في "صحيحيهما".

ترجمہ: انصار سے محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے ، اور انصار سے بغض رکھنا منافق کی علامت ہے۔
تمام حوالات کے پورے پورے واقعات پوسٹ کریں
 

razijaan

رکن
شمولیت
جولائی 21، 2015
پیغامات
37
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
35
اللہ کی قسم جو شخص بھی ! چاھے وہ اہل بیت یا پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہماء کی شان میں ادنی سے بھی گستاخی کرے ھم اسے مسلمان ہی نہیں سمجھتے -

اگر اس کے بعد بھی آپ مجھے ناصبی کہے تو واقعی میں ناصبی ہو -

امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنے قصیدے کے شروع میں کہا ہے:

’’اگر صحابہ رضوان اللہ علیہم سے محبت رکھنی ناصبیت ہو تو ثقلین گواہ رہیں کہ میں ناصبی ہوں
بالکل اسی طرح میں بھی امام شافعی رحمہ اللہ کی طرح کہتا ہو کہ اگر اھل بیت سے محبت رکھنا رافضیت ہے تو بے شک میں رافضی ہو...
 
Top