بنت عبد الحق
مبتدی
- شمولیت
- دسمبر 26، 2025
- پیغامات
- 3
- ری ایکشن اسکور
- 1
- پوائنٹ
- 5
اللہ کے لیے اپنی زبانوں کی حفاظت کیجیے۔
یزید کے بارے میں بات کرنا نہ ہمارا عقیدہ سنوارتا ہے اور نہ ہی ہماری نجات کا ضامن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، اور ہم اس کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب بعض لوگ یزید کا ذکر کرتے کرتے براہِ راست حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تک پہنچ جاتے ہیں اور ان پر زبان درازی شروع کر دیتے ہیں۔
یاد رکھیے! حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کوئی عام شخصیت نہیں تھے، بلکہ کاتبِ وحی، جلیل القدر صحابی، اور امت کے عظیم رہنما تھے۔ ان کے فضائل، خدمات اور اسلام کے لیے قربانیاں تاریخ کے روشن ابواب ہیں۔ ایک صحابی کے بارے میں زبان کھولنا معمولی بات نہیں۔
مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کوحضرت حسین رضی اللہ عنہ کے احترام کی نصیحت کی تھی اور ان کے ساتھ تصادم سے بچنے کی تاکید کی تھی۔ لیکن بعد میں جو کچھ پیش آیا، وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد پیش آیا۔ اپنی زندگی میں خود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حسنین کریمیں رضی اللہ عنہما کے سلوک کرتے تھے.....انہیں خوش آمدید اور مرحبا کہتے، عطایا دیتے، دو لاکھ درہم تک ان کی خدمت میں پیش کرتے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ وفات پاگئے تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ ہر سال وفد کے ساـتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آـتے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی خوب خدمت اور عزت کرـتے، خلافتِ معاویہؓ میں ہونے والے غزوہ ٔ قسطنطنیہ میں بھی آپ شریک تھے۔‘(البدایۃ والنہایۃ: ۸/۱۶۲) کو وفات کے وقت ان سے حسن سلوک وصیتیں فرمائیں تھیں،اب یزید نے والد کی وصیت کا خیال نہ کیا تو اس میں والد کا کیا قصور...یہ الفاظ ملتے ہیں انکی وصیت میں: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے حقِ احترام کو پہچاننا اور انہیں جو قرب اور درجہ حضور ِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاصل ہے اُسے یاد رکھنا، ان کے کسی عمل پر ان سے مواخذہ نہ کرنا اور وہ تعلقات جو میں نے اب تک ان سے نہایت مضبوط کر رکھے ہیں انہیں ہرگز قطع نہ کرنا۔‘‘ (عبقات: ۱/۱۸۵)..یہ الفاظ بھی ملتے ہیں:اگر تم ان پر غالب آجاؤ تو در گذر کرنا ان کو نبی کریمﷺ کی قرابت حاصل ہے اس وجہ سے اور بہت بڑا حق رکھتے ہیں..........مفھوم
اور حضرت کا وصال ہو چکا تھا، وہ اپنے رب کے حضور جا چکے تھے۔ کیا انہیں غیب کا علم تھا کہ آنے والے برسوں میں کیا کیا واقعات پیش آئیں گے؟ جو کچھ کربلا میں ہوا، وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ہوا۔ اگر کوئی شخص بعد میں کوئی غلط فیصلہ کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار اس شخص کو کیسے بنایا جا سکتا ہے جو دنیا سے جا چکا ہو؟
آخر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو غیب کا علم کہاں تھا کہ وہ آنے والے تمام واقعات کو جان لیتے؟ کیا کسی شخص کو بعد میں ہونے والے ہر عمل کا ذمہ دار ٹھہرانا انصاف ہے؟کیا دنیا میں کسی باپ کو اس کی اولاد کے ہر عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے؟ اگر اولاد غلطی کرے تو کیا اس کا سارا بوجھ باپ پر ڈال دینا انصاف ہے؟
اللہ کے لیے اپنی بے لگام زبانوں کو قابو میں رکھیے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام بہت بلند ہے۔
اگر کل کسی کی اولاد غلط راستہ اختیار کر لے تو کیا آپ اس کے مرحوم والد کو گالیاں دینا شروع کر دیں گے؟
اگر نہیں، تو پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ ناانصافی کیوں؟
قرآن کا اصول تو یہ ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
افسوس! بعض لوگ یزید تک پہنچتے پہنچتے اپنی زبانوں کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم تک لے جاتے ہیں، حالانکہ صحابہ کا مقام بہت بلند ہے۔ ان کے بارے میں بولنے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حق یہ ہے کہ ان کے فضائل، ان کی صحابیت، ان کی خدمات اور ان کے مقام کو یاد رکھا جائے، نہ کہ انہیں ان معاملات کا ذمہ دار بنایا جائے جن کا وہ نہ حکم دے سکتے تھے، نہ روک سکتے تھے، اور نہ ہی اپنے وصال کے بعد ان سے متعلق تھے۔