• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میری اصلاح فرمایں۔ جزاک اللہ

شمولیت
مارچ 03، 2013
پیغامات
255
ری ایکشن اسکور
470
پوائنٹ
77
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں محدث فورم میں بالکل نیا ہوں اورفورم کو استعمال کرنے کے طریقہ کار سے بھی آشنا نہیں ہوں ا س لیے امید ہی میرے اس طرح موضوع شروع کرنے پر درگزر اختیار کیا جاے گا۔ اصل میں محدث فتوی میں ایک فتوی کو پڑھتے ہوے ایک حدیث پر نظر پڑی جو کہ فتوی میں تو بطور حدیث درج ہے لیکن میری ناقص عقل کے مطابق شاید کسی جگہ میں اس کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے طور پر پڑھ چُکا ہوں۔
فتوی میں حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی عورتوں کو سورہ نور کی تعلیم کی خصوصی ”ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ’’ علمو انساءكم سورة النور ‘‘ اپنی عورتوں کو سورة نور کی تعلیم دو۔
فتوی اس لنک پر دستیاب ہے۔
/http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/2402/9
جب کہ جو تحریر میں نے پڑھی ہوئی ہے اُس میں الفاظ یہ ہیں۔۔
حضرت عمر بن خطاب نے اپنی مملکت کے تمام اطراف میں یہ فرمان جاری کردیا تھا :
«علِّموا نساوٴکم سورة النور...» ( الدر المنثور:۵/۱۸)
" اپنی خواتین کو سورة النور ضرور سکھاوٴ کہ اس میں خانگی زندگی اور معاشرتی زندگی کے متعلق بے شمار مسائل واَحکام موجود ہیں۔"
اب یہ قول ہے یا حدیث اس ضمن میں آپ سے گذارش ہے کہ میری اصلاح فرما دیں۔ جزاک اللہ
 
شمولیت
مارچ 03، 2013
پیغامات
255
ری ایکشن اسکور
470
پوائنٹ
77
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرے اس سوال پر مجھے داد دینے اور دعائیہ کلمات سے نوازنے کا شکریہ۔ کیا کوئی ساتھی اس سوال پر میری اصلاح بھی فرمائیں گے؟
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,425
پوائنٹ
521
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!

حضرت عمر رضی اللہ تعالی بن خطاب نے اپنی مملکت کے تمام اطراف میں یہ فرمان جاری کر دیا تھا :

«علِّموا نساوٴکم سورة النور ...»
( الدر المنثور: ۵/۱۸)
" اپنی خواتین کو سورة النور ضرور سکھاوٴ کہ اس میں خانگی زندگی اور معاشرتی زندگی کے متعلق بے شمار مسائل واَحکام موجود ہیں۔"

اب یہ قول ہے یا حدیث اس ضمن میں آپ سے گذارش ہے کہ میری اصلاح فرما دیں۔ جزاک اللہ

[SUP]السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ[/SUP]

وأما عن سورة النور , فقد جاء في تعليمها للنساء هذه الرواية :

( علموا رجالكم سورة المائدة وعلموا نساءكم سورة النور )
[SUP]وقال عنها الشيخ الألباني حديث ضعيف[/SUP]۔

[SUP]والسلام[/SUP]
 

Muhammad Waqas

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 12، 2011
پیغامات
356
ری ایکشن اسکور
1,597
پوائنٹ
139
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرے اس سوال پر مجھے داد دینے اور دعائیہ کلمات سے نوازنے کا شکریہ۔ کیا کوئی ساتھی اس سوال پر میری اصلاح بھی فرمائیں گے؟

أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا عتاب بن بشير عن خصيف عن مجاهد قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
علموا رجالكم سورة المائدة علموا نساءكم سورة النور
(شعب الایمان للبیھقی:2428 )

- علموا رجالكم سورة المائدة و علموا نساءكم سورة النور
( ص هب ) عن مجاهد مرسلا .
قال الشيخ الألباني : ( ضعيف ) انظر حديث رقم : 3729 في ضعيف الجامع
(صحیح و ضعیف الجامع الصغیر:8168 )

أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا فضيل بن عياض و هشيم و خالد بن عبد الله عن حصين بن عبد الرحمن عن أبي عطية الهمداني قال Y كتب عمر بن الخطاب تعملوا سورة براءة و علموا نساءكم سورة النور و حلوهن الفضة
(شعب الایمان للبیھقی:2437 )

و روينا عن حصين عن أبي عطية قال Y كتب عمر أو قال عمر تعلموا سورة براءه و علموا نساءكم سورة النور
(شعب الایمان للبیھقی:2452 )
یہ روایت مرفوعا اور موقوفا دونوں طرح ہی مروی ہے۔
مرفوع روایت تو مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے اور شیخ البانی نے بھی اس کو ضعیف ہی کہا ہے۔
آخری دونوں روایات موقوف ہیں۔
ان کی استنادی حیثیت معلوم کرنے کے لئے تحقیق حدیث سے متعلق سوالات والے سیکشن میں اپنا سوال پوسٹ کردیں ۔
 
Top