Aamir
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 16، 2011
- پیغامات
- 13,382
- ری ایکشن اسکور
- 17,099
- پوائنٹ
- 1,033
باب۔ تمتع، قران اور حج کا مفرد کا بیان اور جس کے پاس قربانی نہ ہو اسے حج فسخ کر کے عمرہ بنا دینے کی اجازت ہے۔
(۷۹۱)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ ہی سے ایک روایت میں ہے کہ ہم نبیﷺ کے ساتھ مدینہ سے چلے اور ہمیں صرف حج کا خیال تھا (یعنی حج کا احرام باندھا تھا) پھر جب ہم مکہ پہنچے اور کعبہ کا طواف کر چکے تو نبیﷺ نے حکم دیا کہ جس کے ساتھ قربانی نہیں وہ (حج کے) احرام سے باہر ہو جائے پس جن لوگوں کے پاس قربانی نہیں تھی وہ احرام سے باہر ہو گئے اور آپﷺ کی ازواج کے پاس بھی قربانی نہیں تھی لہٰذا وہ احرام سے باہر ہو گئیں۔ ام المومنین عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہو جانے کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی جب محصب کی رات آئی تو میں نے کہا یا رسول اللہ ! لوگ تو عمرہ اور حج دونوں کر کے لوٹیں گے اور میں صرف حج کر کے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' تو جب مکہ آئی تھی تو طواف نہیں کیا تھا؟ '' میں نے کہا نہیں تو آپﷺ نے فرمایا :'' تو اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم تک جا، وہاں سے عمرے کا احرام باندھ لے پھر عمرے سے فارغ ہو کر فلاں جگہ پر ہمیں ملنا۔ ''ام المومنین صفیہؓ نے کہا کہ میں اپنے آپ کو تم سب کا روکنے والا سمجھتی ہوں تو آپﷺ نے فرمایا :'' بانجھ، کیا تم نے قربانی والے دن طواف نہیں کیا؟ ''کہتی ہیں کہ میں نے عرض کہ ہاں کیا تھا تو آپﷺ نے فرمایا پھر کچھ حرج نہیں چلو۔
(۷۹۲)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ ہی سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ حجۃالوداع کے سال (مکہ کی طرف) چلے تو ہم میں سے بعض لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور بعض لوگوں نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا اور بعض لوگوں نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور رسول اللہﷺ نے حج کا احرام باندھا تھا پس جس نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا وہ احرام سے باہر نہیں ہوا، یہاں تک کہ قربانی کا دن آگیا۔
(۷۹۳)۔ سیدنا عثمانؓ (اپنی خلافت میں) تمتع اور قران (حج اور عمرہ کے اکھٹا) کرنے سے منع کرتے تھے چنانچہ جب سیدنا علیؓ نے یہ دیکھا تو حج و عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھا اور کہا لَبیّکَ بعُمْرَۃٍ وَحَجَۃٍ(یعنی قران کیا) اور کہا کہ میں نبیﷺ کی سنت کسی کے کہنے سے ترک نہیں کر سکتا۔
(۷۹۴)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ (دور جاہلیت میں) لوگ یہ سمجھتے تھے کہ حج کے دنوں میں عمرہ کرنا تمام دنیا کی برائیوں سے بڑھ کر ہے اور وہ لوگ ماہ محرم کو ماہ صفر قرار دے لیتے تھے اور کہتے تھے کہ جب اونٹ کی پیٹھ کا زخم (جو سفر حج میں اس پر کجاوا باندھنے سے اکثر آ جاتا ہے) اچھا ہو جائے اور نشان بالکل مٹ جائے اور صفر گزر جائے تو اس وقت عمرہ حلال ہے اس شخص کے لیے جو عمرہ کرنا چاہے۔ پس جب نبیﷺ اور صحابہ ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کی صبح کو حج کا احرام باندھے ہوئے مکہ تشریف لائے تو آپﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اس احرام کو (توڑ کر اس کی بجائے) عمرہ (کا احرام) کر لیں پس یہ بات ان لوگوں کو بری معلوم ہوئی اور وہ لوگ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! کونسی بات احرام سے باہر ہونے کی کریں؟ تو آپﷺ نے فرمایا :'' سب باتیں۔ ''
(۷۹۵)۔ ام المومنین حفصہؓ زوجہ نبیﷺ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ عمرہ کر کے احرام سے باہر ہو گئے اور آپﷺ عمرہ کر کے احرام سے باہر نہیں ہوئے تو نبیﷺ نے فرمایا :'' میں نے اپنے سر کے بال جمائے اور اپنی قربانی کے گلے میں ہار ڈال دیا، لہٰذا میں جب تک قربانی نہ کر لوں احرام سے باہر نہیں آسکتا۔ ''
(۷۹۶)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان سے تمتع کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا پس ابن عباسؓ نے اسے حکم دیا کہ تم اطمینان سے تمتع کر و۔ اس آدمی نے کہا کہ پس میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا کوئی شخص مجھ سے کہہ رہا ہے کہ'' حج بھی عمدہ ہے اور عمرہ بھی مقبول ہے۔ '' پس میں نے یہ خواب سیدنا ابن عباسؓ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ نبیﷺ کی سنت ہے (شوق سے کرو)۔
(۷۹۷)۔ سیدنا جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کے ہمراہ حج کیا جب کہ آپﷺ اپنے ہمراہ قربانی لے گئے تھے اور سب صحابہ نے حج مفرد کا احرام باندھا تھا تو آپﷺ نے ان سے فرمایا :'' تم لوگ کعبہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر کے احرام سے باہر آ جاؤ اور بال کتروا ڈالو پھر احرام سے باہر ہو کر ٹھہرے رہو یہاں تک کہ جب آٹھویں تاریخ ہو تو تم لوگ حج کا احرام باندھا لینا اور یہ احرام جس کے ساتھ تم آئے ہو اس کو تمتع کر دو۔ '' صحابہ نے عرض کی کہ ہم اس کو تمتع کر دیں حالانکہ ہم حج کا نام لے چکے؟ تو آپﷺ نے فرمایا :'' جو کچھ میں تم کو حکم دیتا ہوں وہی کرو اگر میں قربانی نہ لایا ہو تا تو میں بھی ویسا ہی کرتا جس طرح تم کو حکم دیتا ہوں لیکن اب مجھ سے احرام علیحدہ نہیں ہو سکتا جب کہ قربانی اپنی اپنی قربان گاہ پر نہ پہنچ جائے۔ ''
(۷۹۱)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ ہی سے ایک روایت میں ہے کہ ہم نبیﷺ کے ساتھ مدینہ سے چلے اور ہمیں صرف حج کا خیال تھا (یعنی حج کا احرام باندھا تھا) پھر جب ہم مکہ پہنچے اور کعبہ کا طواف کر چکے تو نبیﷺ نے حکم دیا کہ جس کے ساتھ قربانی نہیں وہ (حج کے) احرام سے باہر ہو جائے پس جن لوگوں کے پاس قربانی نہیں تھی وہ احرام سے باہر ہو گئے اور آپﷺ کی ازواج کے پاس بھی قربانی نہیں تھی لہٰذا وہ احرام سے باہر ہو گئیں۔ ام المومنین عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہو جانے کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی جب محصب کی رات آئی تو میں نے کہا یا رسول اللہ ! لوگ تو عمرہ اور حج دونوں کر کے لوٹیں گے اور میں صرف حج کر کے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' تو جب مکہ آئی تھی تو طواف نہیں کیا تھا؟ '' میں نے کہا نہیں تو آپﷺ نے فرمایا :'' تو اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم تک جا، وہاں سے عمرے کا احرام باندھ لے پھر عمرے سے فارغ ہو کر فلاں جگہ پر ہمیں ملنا۔ ''ام المومنین صفیہؓ نے کہا کہ میں اپنے آپ کو تم سب کا روکنے والا سمجھتی ہوں تو آپﷺ نے فرمایا :'' بانجھ، کیا تم نے قربانی والے دن طواف نہیں کیا؟ ''کہتی ہیں کہ میں نے عرض کہ ہاں کیا تھا تو آپﷺ نے فرمایا پھر کچھ حرج نہیں چلو۔
(۷۹۲)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ ہی سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ حجۃالوداع کے سال (مکہ کی طرف) چلے تو ہم میں سے بعض لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور بعض لوگوں نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا اور بعض لوگوں نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور رسول اللہﷺ نے حج کا احرام باندھا تھا پس جس نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا وہ احرام سے باہر نہیں ہوا، یہاں تک کہ قربانی کا دن آگیا۔
(۷۹۳)۔ سیدنا عثمانؓ (اپنی خلافت میں) تمتع اور قران (حج اور عمرہ کے اکھٹا) کرنے سے منع کرتے تھے چنانچہ جب سیدنا علیؓ نے یہ دیکھا تو حج و عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھا اور کہا لَبیّکَ بعُمْرَۃٍ وَحَجَۃٍ(یعنی قران کیا) اور کہا کہ میں نبیﷺ کی سنت کسی کے کہنے سے ترک نہیں کر سکتا۔
(۷۹۴)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ (دور جاہلیت میں) لوگ یہ سمجھتے تھے کہ حج کے دنوں میں عمرہ کرنا تمام دنیا کی برائیوں سے بڑھ کر ہے اور وہ لوگ ماہ محرم کو ماہ صفر قرار دے لیتے تھے اور کہتے تھے کہ جب اونٹ کی پیٹھ کا زخم (جو سفر حج میں اس پر کجاوا باندھنے سے اکثر آ جاتا ہے) اچھا ہو جائے اور نشان بالکل مٹ جائے اور صفر گزر جائے تو اس وقت عمرہ حلال ہے اس شخص کے لیے جو عمرہ کرنا چاہے۔ پس جب نبیﷺ اور صحابہ ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کی صبح کو حج کا احرام باندھے ہوئے مکہ تشریف لائے تو آپﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اس احرام کو (توڑ کر اس کی بجائے) عمرہ (کا احرام) کر لیں پس یہ بات ان لوگوں کو بری معلوم ہوئی اور وہ لوگ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! کونسی بات احرام سے باہر ہونے کی کریں؟ تو آپﷺ نے فرمایا :'' سب باتیں۔ ''
(۷۹۵)۔ ام المومنین حفصہؓ زوجہ نبیﷺ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ عمرہ کر کے احرام سے باہر ہو گئے اور آپﷺ عمرہ کر کے احرام سے باہر نہیں ہوئے تو نبیﷺ نے فرمایا :'' میں نے اپنے سر کے بال جمائے اور اپنی قربانی کے گلے میں ہار ڈال دیا، لہٰذا میں جب تک قربانی نہ کر لوں احرام سے باہر نہیں آسکتا۔ ''
(۷۹۶)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان سے تمتع کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا پس ابن عباسؓ نے اسے حکم دیا کہ تم اطمینان سے تمتع کر و۔ اس آدمی نے کہا کہ پس میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا کوئی شخص مجھ سے کہہ رہا ہے کہ'' حج بھی عمدہ ہے اور عمرہ بھی مقبول ہے۔ '' پس میں نے یہ خواب سیدنا ابن عباسؓ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ نبیﷺ کی سنت ہے (شوق سے کرو)۔
(۷۹۷)۔ سیدنا جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کے ہمراہ حج کیا جب کہ آپﷺ اپنے ہمراہ قربانی لے گئے تھے اور سب صحابہ نے حج مفرد کا احرام باندھا تھا تو آپﷺ نے ان سے فرمایا :'' تم لوگ کعبہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر کے احرام سے باہر آ جاؤ اور بال کتروا ڈالو پھر احرام سے باہر ہو کر ٹھہرے رہو یہاں تک کہ جب آٹھویں تاریخ ہو تو تم لوگ حج کا احرام باندھا لینا اور یہ احرام جس کے ساتھ تم آئے ہو اس کو تمتع کر دو۔ '' صحابہ نے عرض کی کہ ہم اس کو تمتع کر دیں حالانکہ ہم حج کا نام لے چکے؟ تو آپﷺ نے فرمایا :'' جو کچھ میں تم کو حکم دیتا ہوں وہی کرو اگر میں قربانی نہ لایا ہو تا تو میں بھی ویسا ہی کرتا جس طرح تم کو حکم دیتا ہوں لیکن اب مجھ سے احرام علیحدہ نہیں ہو سکتا جب کہ قربانی اپنی اپنی قربان گاہ پر نہ پہنچ جائے۔ ''