- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
بادشاہوں اور اُمراء کے نام خطوط
۶ھ کے اخیر میں جب رسول اللہ ﷺ حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو آپ نے مختلف بادشاہوں کے نام خطوط لکھ کر انہیں اسلام کی دعوت دی۔
آپ نے ان خطوط کے لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے کہا گیا کہ بادشاہ اسی صورت میں خطوط قبول کریں گے جب ان پر مہر لگی ہو۔ اس لیے نبی ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس پر محمد رسول اللہ نقش تھا۔ یہ نقش تین سطروں میں تھا۔ محمد ایک سطر میں، رسول ایک سطر میں، اور اللہ ایک سطر میں، شکل یہ تھی :(صحیح بخاری ۲/۸۷۲، ۸۷۳)
پھر آپ ﷺ نے معلومات رکھنے والے تجربہ کار صحابہ کو بطور قاصد منتخب فرمایا۔ اور انہیں بادشاہوں کے پاس خطوط دے کر روانہ فرمایا۔ علامہ منصور پوری نے جزم کے ساتھ بیان کیا ہے کہ آپ نے یہ قاصد اپنی خیبر روانگی سے چند دن پہلے یکم محرم ۷ھ کو روانہ فرمائے تھے۔ (رحمۃ للعالمین ۱/۱۷۱) اگلی سطور میں وہ خطوط اور ان پر مرتّب ہونے والے کچھ اثرات پیش کیے جا رہے ہیں۔
۱۔ نجاشی شاہ حبش کے نام خط:
اس نجاشی کا نام اَصْحَمہ بن اَبْجَر تھا۔ نبی ﷺ نے اس کے نام جو خط لکھا اسے عَمرو بن امیہ ضمری کے بدست ۶ھ کے اخیر یا ۷ھ کے شروع میں روانہ فرمایا۔ طبری نے اس خط کی عبارت ذکر کی ہے، لیکن اسے بنظر غائر دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وہ خط نہیں جسے رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ کے بعد لکھا تھا بلکہ یہ غالباً اس خط کی عبارت ہے جسے آپ نے مکی دور میں حضرت جعفر کو ان کی ہجرت حبشہ کے وقت دیا تھا۔ کیوں کہ خط کے اخیر میں ان مہاجرین کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
وقد بعثت إلیکم ابن عمی جعفراً ومعہ نفر من المسلمین، فإذا جاءک فاقرہم ودع التجبر
''میں نے تمہارے پاس اپنے چچیرے بھائی جعفر کو مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ کیا ہے