• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم بادشاہوں اور اُمراء کے نام خطوط

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بادشاہوں اور اُمراء کے نام خطوط

۶ھ کے اخیر میں جب رسول اللہ ﷺ حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو آپ نے مختلف بادشاہوں کے نام خطوط لکھ کر انہیں اسلام کی دعوت دی۔
آپ نے ان خطوط کے لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے کہا گیا کہ بادشاہ اسی صورت میں خطوط قبول کریں گے جب ان پر مہر لگی ہو۔ اس لیے نبی ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس پر محمد رسول اللہ نقش تھا۔ یہ نقش تین سطروں میں تھا۔ محمد ایک سطر میں، رسول ایک سطر میں، اور اللہ ایک سطر میں، شکل یہ تھی :(صحیح بخاری ۲/۸۷۲، ۸۷۳)
پھر آپ ﷺ نے معلومات رکھنے والے تجربہ کار صحابہ کو بطور قاصد منتخب فرمایا۔ اور انہیں بادشاہوں کے پاس خطوط دے کر روانہ فرمایا۔ علامہ منصور پوری نے جزم کے ساتھ بیان کیا ہے کہ آپ نے یہ قاصد اپنی خیبر روانگی سے چند دن پہلے یکم محرم ۷ھ کو روانہ فرمائے تھے۔ (رحمۃ للعالمین ۱/۱۷۱) اگلی سطور میں وہ خطوط اور ان پر مرتّب ہونے والے کچھ اثرات پیش کیے جا رہے ہیں۔
۱۔ نجاشی شاہ حبش کے نام خط:
اس نجاشی کا نام اَصْحَمہ بن اَبْجَر تھا۔ نبی ﷺ نے اس کے نام جو خط لکھا اسے عَمرو بن امیہ ضمری کے بدست ۶ھ کے اخیر یا ۷ھ کے شروع میں روانہ فرمایا۔ طبری نے اس خط کی عبارت ذکر کی ہے، لیکن اسے بنظر غائر دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وہ خط نہیں جسے رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ کے بعد لکھا تھا بلکہ یہ غالباً اس خط کی عبارت ہے جسے آپ نے مکی دور میں حضرت جعفر کو ان کی ہجرت حبشہ کے وقت دیا تھا۔ کیوں کہ خط کے اخیر میں ان مہاجرین کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
وقد بعثت إلیکم ابن عمی جعفراً ومعہ نفر من المسلمین، فإذا جاءک فاقرہم ودع التجبر
''میں نے تمہارے پاس اپنے چچیرے بھائی جعفر کو مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ کیا ہے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جب وہ تمہارے پاس پہنچیں تو انہیں اپنے پاس ٹھہرانا اور جبر اختیار نہ کرنا۔''
بیہقی نے ابن عباسؓ سے ایک اور خط کی عبارت روایت کی ہے جسے نبی ﷺ نے نجاشی کے پاس روانہ کیا تھا۔ اس کا ترجمہ یہ ہے:
''یہ خط ہے محمد نبی کی طرف سے نجاشی اصحم شاہِ حبش کے نام، اس پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اس نے نہ کوئی بیوی اختیار کی نہ لڑکا۔ اور (میں اس کی بھی شہادت دیتاہوں کہ) محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔ اور میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں کیوں کہ میں اس کا رسول ہوں۔ لہٰذا تم اسلام لاؤ سلامت رہو گے۔'' اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور ہم میں سے بعض بعض کو اللہ کے بجائے رب نہ بنائے۔ پس اگر وہ منہ موڑ یں تو کہہ دو کہ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں۔'' اگر تم نے (یہ دعوت) قبول نہ کی تو تم پر اپنی قوم کے نصاریٰ کا گناہ ہے۔'' (دلائل النبوۃ، بیہقی ۲/۳۰۸، مستدرک حاکم ۲/۶۲۳)
ڈاکڑ حمید اللہ صاحب (پاریس) نے ایک اور خط کی عبارت درج فرمائی ہے۔ جو ماضی قریب میں دستیاب ہوا ہے اور صرف ایک لفظ کے اختلاف کے ساتھ یہی خط علامہ ابن قیم کی کتاب زاد المعاد میں بھی موجود ہے۔ ڈاکٹرصاحب موصوف نے اس خط کی عبارت کی تحقیق میں بڑی عرق ریزی سے کام لیا ہے۔ دَورِ جدید کے اکتشافات سے بہت کچھ استفادہ کیا ہے اور اس خط کا فوٹو کتاب کے اندر ثبت فرمایا ہے۔
اس کا ترجمہ یہ ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ کی جانب سے نجاشی عظیم حبشہ کے نام!!
اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ امابعد! میں تمہاری طرف اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو قدوس اور سلام ہے۔ امن دینے والا محافظ و نگراں ہے۔ اور میں شہادت دیتا ہوں کہ عیسیٰ ابن مریم اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ اللہ نے انہیں پاکیزہ اور پاکدامن مریم بتول کی طرف ڈال دیا۔ اور اس کی روح اور پھونک سے مریم عیسیٰ کے لیے حاملہ ہوئیں۔ جیسے اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ میں اللہ وحدہ لا شریک لہ کی جانب اور اس کی اطاعت پر ایک دوسرے کی مدد کی جانب دعوت دیتا ہوں۔ اور اس بات کی طرف (بلاتا ہوں) کہ تم میری پیروی کرو اور جو کچھ میرے پاس آیا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ کیونکہ میں اللہ کا رسول (ﷺ) ہوں۔ اور میں تمہیں اور تمہارے لشکر کو اللہ عزوجل کی طرف بلاتا ہوں۔ اور میں نے تبلیغ و نصیحت کر دی۔ لہٰذا میری نصیحت قبول
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کرو۔ اور اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔'' (دیکھئے: رسول اکرم کی سیاسی زندگی، مولفہ ڈاکٹر حمید اللہ ص ۱۰۸، ۱۰۹، ۱۲۲، ۱۲۳، ۱۲۴، ۱۲۵، زاد المعاد میں آخری فقرہ والسلام علی من اتبع الہدی کے بجائے أسلم أنت ہے۔ دیکھئے: زاد المعاد ۳/۶۰)
ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے بڑے یقینی انداز میں کہا ہے کہ یہی وہ خط ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے بعد نجاشی کے پاس روانہ فرمایا تھا۔ جہاں تک اس خط کی استنادی حیثیت کا تعلق ہے تو دلائل پر نظر ڈالنے کے بعد اس کی صحت میں کوئی شبہ نہیں رہتا، لیکن اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ نبی ﷺ نے حدیبیہ کے بعد یہی خط روانہ فرمایا تھا۔ بلکہ بیہقی نے جو خط ابن عباس ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے اس کا انداز ان خطوط سے زیادہ ملتا جُلتا ہے جنہیں نبی ﷺ نے حدیبیہ کے بعد عیسائی بادشاہوں اور اُمراء کے پاس روانہ فرمایا تھا کیونکہ جس طرح آپ نے ان خطوط میں آیت کریمہ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّـهَ وَلَا نُشْرِ‌كَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْ‌بَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (۳: ۶۴) درج فرمائی تھی، اسی طرح بیہقی کے روایت کردہ خط میں بھی یہ آیت درج ہے۔ علاوہ ازیں اس خط میں صراحتاً اصحمہ کا نام بھی موجود ہے۔ جبکہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کے نقل کردہ خط میں کسی کا نام نہیں ہے۔ اس لیے میرا گمان غالب یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا نقل کردہ خط درحقیقت وہ خط ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے اصحمہ کی وفات کے بعد اس کے جانشین کے نام لکھا تھا اور غالباً یہی سبب ہے کہ اس میں کوئی نام درج نہیں۔
اس ترتیب کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ اس کی بنیاد صرف وہ اندرونی شہادتیں ہیں جو ان خطوط کی عبارتوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ البتہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب پر تعجب ہے کہ موصوف نے ادھر ابن عباسؓ کی روایت سے بیہقی کے نقل کردہ خط کو پورے یقین کے ساتھ نبی ﷺ کا وہ خط قرار دیا ہے جو آپ نے اصحمہ کی وفات کے بعد اس کے جانشین کے نام لکھا تھا۔ حالانکہ اس خط میں صراحت کے ساتھ اصحمہ کا نام موجود ہے۔ والعلم عند اللّٰہ۔ (دیکھئے: ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی کتاب ''حضور اکرم کی سیاسی زندگی از ص ۱۰۸ تا ۱۱۴ و از ص ۱۲۱ تا ۱۳۱)
بہرحال جب عَمرو بن امیہ ضمریؓ نے نبی ﷺ کا خط نجاشی کے حوالے کیا تو نجاشی نے اسے لے کر آنکھ پر رکھا اور تخت سے زمین پر اتر آیا۔ اور حضرت جعفر بن ابی طالب کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اور نبی ﷺ کے پاس اس بارے میں خط لکھا جو یہ ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ کی خدمت میں نجاشی اصحمہ کی طرف سے!!
اے اللہ کے نبی! آپ پر اللہ کی طرف سے سلام اور اس کی رحمت اور برکت ہو۔ وہ اللہ جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اما بعد!
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اے اللہ کے رسول! مجھے آپ کا گرامی نامہ ملا۔ جس میں آپ نے عیسیٰ ؑ کا معاملہ ذکر کیا ہے۔ رب آسمان و زمین کی قسم! آپ نے جو کچھ فرمایا ہے حضرت عیسیٰ اس سے ایک تنکا بڑھ کر نہ تھے۔ وہ ویسے ہی ہیں جیسے آپ نے ذکر فرمایا ہے۔ (حضرت عیسیٰ کے متعلق یہ فقرے ڈاکٹر حمید اللہ کی اس رائے کی تائید کرتے ہیں کہ ان کا ذکر کردہ خط اصحمہ کے نام تھا۔ واللہ اعلم) پھر آپ نے جو کچھ ہمارے پاس بھیجا ہے ہم نے اسے جانا اور آپ کے چچیرے بھائی اور آپ کے صحابہ کی مہمان نوازی کی۔ اور میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے اور پکے رسول ہیں۔ اور میں نے آپ سے بیعت کی اور آپ کے چچیرے بھائی سے بیعت کی۔ اور ان کے ہاتھ پر اللہ رب العالمین کے لیے اسلام قبول کیا۔ (زادا لمعاد ۳/۶۱)
نبی ﷺ نے نجاشی سے یہ بھی طلب کیا تھا کہ وہ حضرت جعفر اور دوسرے مہاجرین حبشہ کو روانہ کر دے۔ چنانچہ اس نے حضرت عمرو بن امیہ ضمری کے ساتھ دو کشتیوں میں ان کی روانگی کا انتظام کر دیا۔ ایک کشتی کے سوار جس میں حضرت جعفر اور حضرت ابو موسیٰ اشعری اور کچھ دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے، براہ راست خیبر پہنچ کر خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے۔ اور دوسری کشتی کے سوار جن میں زیادہ تر بال بچے تھے سیدھے مدینہ پہنچے۔ (ابن ہشام ۲/۳۵۹ وغیرہ)
مذکورہ نجاشی نے غزوہ تبوک کے بعد رجب ۹ھ میں وفات پائی۔ نبی ﷺ نے اس کی وفات ہی کے دن صحابہ کرام کو اس کی موت کی اطلاع دی۔ اور اس پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔ اس کی وفات کے بعد دوسرا بادشاہ اس کا جانشین ہو کر سریرآرائے سلطنت ہوا تو نبی ﷺ نے اس کے پاس بھی ایک خط روانہ فرمایا لیکن یہ نہ معلوم ہو سکا کہ اس نے اسلام قبول کیا یا نہیں۔ (یہ بات کسی قدر صحیح مسلم کی روایت سے اخذ کی جا سکتی ہے جو حضرت انس سے مروی ہے۔ ۲/۹۹)
۲۔ مقوقس شاہ مصر کے نام خط:
نبی ﷺ نے ایک گرامی نامہ جریج بن متی (یہ نام علامہ منصور پوری نے رحمۃ للعالمین ۱/۱۷۸ میں ذکر فرمایا ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے اس کا نام بنیامین بتلایا ہے۔ دیکھئے رسول اکرم کی سیاسی زندگی، ص ۱۴۱) کے نام روانہ فرمایا جس کا لقب مقوقس تھا۔ اور جو مصر و اسکندریہ کا بادشاہ تھا۔ نامۂ گرامی یہ ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد کی طرف سے مقوقس عظیم قِبط کی جانب!!
اس پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد:
میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لاؤ سلامت رہو گے۔ اور اسلام لاؤ اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لیکن اگر تم نے منہ موڑا تو تم پر اہل قبط کا بھی گناہ ہو گا۔ ''اے اہل قبط! ایک ایسی بات کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور ہم میں سے بعض، بعض کو اللہ کے بجائے رب نہ بنائیں۔ پس اگر وہ منہ موڑ یں تو کہہ دو کہ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں۔'' (زاد المعاد لابن قیم ۳/۶۱ ماضی قریب میں یہ خط دستیاب ہوا ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے اس کا جو فوٹو شائع کیا ہے اس میں اور زاد المعاد کی عبارت میں صرف دو حرف کا فرق ہے۔ زاد المعاد میں ہے اسلم تسلم۔ اسلم یوتک اللہ...الخ اور خط میں ہے فاسلم تسلم یوتک اللّٰہ، اسی طرح زاد المعاد میں ہے اثم اہل القبط اور خط میں ہے اثم القبط۔ دیکھئے: رسول اکرم کی سیاسی زندگی ص ۱۳۶، ۱۳۷)
اس خط کو پہنچانے کے لیے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کا انتخاب فرمایا گیا۔ وہ مقوقس کے دربار میں پہنچے تو فرمایا کہ (اس زمین پر) تم سے پہلے ایک شخص گزرا ہے جو اپنے آپ کو رب اعلیٰ سمجھتا تھا۔ اللہ نے اسے آخر و اوّل کے لیے عبرت بنا دیا۔ پہلے تو اس کے ذریعے لوگوں سے انتقام لیا۔ پھر خود اس کو انتقام کا نشانہ بنایا۔ لہٰذا دوسرے سے عبرت پکڑو۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے تم سے عبرت پکڑیں۔
مقوقس نے کہا: ہمارا ایک دین ہے جسے ہم چھوڑ نہیں سکتے جب تک کہ اس سے بہتر دین نہ مل جائے۔
حضرت حاطب نے فرمایا: ہم تمہیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے تمام ماسوا (ادیان) کے بدلے کافی بنا دیا ہے۔ دیکھو! اس نبی نے لوگوں کو (اسلام کی) دعوت دی تو اس کیخلاف قریش سب سے زیادہ سخت ثابت ہوئے۔ یہود نے سب سے بڑھ کر دشمنی کی۔ اور نصاریٰ سب سے زیادہ قریب رہے۔ میری عمر کی قسم! جس طرح حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت عیسیٰ ؑکے لیے بشارت دی تھی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ نے محمد ﷺ کے لیے بشارت دی ہے۔ اور ہم تمہیں قرآن مجید کی دعوت اسی طرح دیتے ہیں جیسے تم اہلِ تورات کو انجیل کی دعوت دیتے ہو۔ جو نبی جس قوم کو پا جاتا ہے وہ قوم اس کی امت ہو جاتی ہے۔ اور اس پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اس نبی کی اطاعت کرے اور تم نے اس نبی کا عہد پا لیا ہے۔ اور پھر ہم تمہیں دین مسیح سے روکتے نہیں ہیں بلکہ ہم تو اسی کا حکم دیتے ہیں۔
مقوقس نے کہا: میں نے اس نبی کے معاملے پر غور کیا تو میں نے پایا کہ وہ کسی ناپسندیدہ بات کا حکم نہیں دیتے۔ اور کسی پسندیدہ بات سے منع نہیں کرتے۔ وہ نہ گمراہ جادوگر ہیں نہ جھوٹے کاہن۔ بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان کے ساتھ نبوت کی یہ نشانی ہے کہ وہ پوشیدہ کو نکالتے اور سرگوشی کی خبر دیتے ہیں میں مزید غور کروں گا۔
مقوقس نے نبی ﷺ کا خط لے کر (احترام کے ساتھ) ہاتھی دانت کی ایک ڈبیہ میں رکھ دیا اور مہر لگا کر اپنی ایک لونڈی کے حوالے کر دیا۔ پھر عربی لکھنے والے ایک کاتب کو بلا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حسب ذیل خط لکھوایا:
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد بن عبد اللہ کے لیے مقوقس عظیم قبط کی طرف سے۔
آپ پر سلام! اما بعد میں نے آپ کا خط پڑھا۔ اور اس میں آپ کی ذکر کی ہوئی بات اور دعوت کو سمجھا۔ مجھے معلوم ہے کہ ابھی ایک نبی کی آمد باقی ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ وہ شام سے نمودار ہو گا۔ میں نے آپ کے قاصد کا اعزاز و اکرام کیا۔ اور آپ کی خدمت میں دو لونڈیاں بھیج رہا ہوں جنہیں قبطیوں میں بڑا مرتبہ حاصل ہے۔ اور کپڑے بھیج رہا ہوں۔ اور آپ کی سواری کے لیے ایک خچر بھی ہدیہ کر رہا ہوں، اور آپ پر سلام۔''
مقوقس نے اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا اور اسلام نہیں لایا۔ دونوں لونڈیاں ماریہ اور سیرین تھیں۔ خچر کا نام دُلدل تھا۔ جو حضرت معاویہؓ کے زمانے تک باقی رہا۔ (زاد المعاد ۳/۶۱) نبی ﷺ نے ماریہ کو اپنے پاس رکھا۔ اور انہی کے بطن سے نبی ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم پیدا ہوئے۔ اور سیرین کو حضرت حسان بن ثابت انصاری کے حوالے کر دیا۔
۳۔ شاہ فارس خسرو پرویز کے نام خط:
نبی ﷺ نے ایک خط بادشاہِ فارس کسریٰ (خسرو) کے پاس روانہ کیا جو یہ تھا :
''بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ کی طرف سے کِسریٰ عظیم فارس کی جانب!!
اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ اور گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی لائق ِ عبادت نہیں۔ وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ کیونکہ میں تمام انسانوں کی جانب اللہ کا فرستادہ ہوں تاکہ جو شخص زندہ ہے اسے انجام بد سے ڈرایا جائے۔ اور کافرین پر حق بات ثابت ہو جائے۔ (یعنی حجت تمام ہو جائے) پس تم اسلام لاؤ، سالم رہو گے۔ اور اگر اس سے انکار کیا تو تم پر مجوس کا بھی بارِ گناہ ہو گا۔''
اس خط کو لے جانے کے لیے آپ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمیؓ کو منتخب فرمایا۔ انہوں نے یہ خط سربراہ بحرین کے حوالے کیا۔ اب یہ معلوم نہیں کہ سربراہ بحرین نے یہ خط اپنے کسی آدمی کے ذریعہ کسریٰ کے پاس بھیجا یا خود حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی کو روانہ کیا۔ بہرحال جب یہ خط کسریٰ کو پڑھ کر سنایا گیا تو اس نے چاک کر دیا۔ اور نہایت متکبرانہ انداز میں بولا: میری رعایا میں سے ایک حقیر غلام اپنا نام مجھ سے پہلے لکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس واقعے کی جب خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا: اللہ اس کی بادشاہت کو پارہ پارہ کرے۔ اور پھر وہی ہوا جو آپ نے فرمایا تھا۔ چنانچہ اس کے بعد کسریٰ نے اپنے یمن کے گورنر باذان کو لکھا کہ یہ شخص جو حجاز میں
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ہے اس کے یہاں اپنے دو توانا اور مضبوط آدمی بھیج دو کہ وہ اسے میرے پاس حاضر کریں۔ باذان نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے دو آدمی منتخب کیے۔ ایک اسکا قہرمان بانویہ جو حساب داں تھا اور فارسی میں لکھتا تھا۔ دوسرا خرخسرو۔ یہ بھی فارسی تھا۔ (تاریخ ابن خلدون ۲/۳۷) اور انھیں ایک خط دے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس روانہ کیا جس میں آپ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ ان کے ساتھ کسریٰ کے پاس حاضر ہو جائیں۔ جب وہ مدینہ پہنچے اور نبی ﷺ کے روبرو حاضر ہوئے تو ایک نے کہا: شہنشاہ کسریٰ نے شاہ باذان کو ایک مکتوب کے ذریعہ حکم دیا ہے کہ وہ آپ کے پاس ایک آدمی بھیج کر آپ کو کسریٰ کے روبرو حاضر کرے اور باذان نے اس کام کے لیے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ میرے ساتھ چلیں۔ ساتھ ہی دونوں نے دھمکی آمیز باتیں بھی کہیں۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ کل ملاقات کریں۔
ادھر عین اسی وقت جبکہ مدینہ میں یہ دلچسپ ''مہم'' درپیش تھی۔ خود خسرو پرویز کے گھرانے کے اندر اس کے خلاف ایک زبردست بغاوت کا شعلہ بھڑک رہا تھا جس کے نتیجے میں قیصر کی فوج کے ہاتھوں فارسی فوجوں کی پے در پے شکست کے بعد اب خسرو کا بیٹا شیرویہ اپنے باپ کو قتل کر کے خود بادشاہ بن بیٹھا تھا۔ یہ منگل کی رات ۱۰ جمادی الاولیٰ ۷ھ کا واقعہ ہے۔ (فتح الباری ۸/۱۲۷ تاریخ ابن خلدون ۲/۳۷)
رسول اللہ ﷺ کو اس واقعہ کا علم وحی کے ذریعہ ہوا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی اور دونوں فارسی نمائندے حاضر ہوئے تو آپ نے انہیں اس واقعے کی خبر دی۔ ان دونوں نے کہا: کچھ ہوش ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ ہم نے اس سے بہت معمولی بات بھی آپ کے جرائم میں شمار کی ہے۔ تو کیا آپ کی یہ بات ہم بادشاہ کو لکھ بھیجیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اسے میری اس بات کی خبر کر دو۔ اور اس سے یہ بھی کہہ دو کہ میرا دین اور میری حکومت وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک کسریٰ پہنچ چکا ہے۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے اس جگہ جا کر رُکے گی جس سے آگے اونٹ اور گھوڑے کے قدم جا ہی نہیں سکتے۔ تم دونوں اس سے یہ بھی کہہ دینا کہ اگر تم مسلمان ہو جاؤ تو جو کچھ تمہارے زیر اقتدار ہے وہ سب میں تمہیں دے دوں گا اور تمہیں تمہاری قوم ابناء کا بادشاہ بنا دوں گا۔ اس کے بعد وہ دونوں مدینہ سے روانہ ہو کر باذان کے پاس پہنچے اور اسے ساری تفصیلات سے آگاہ کیا۔ تھوڑے عرصہ بعد ایک خط آیا کہ شیرویہ نے اپنے باپ کو قتل کر دیا ہے۔ شیرویہ نے اپنے اس خط میں یہ بھی ہدایت کی تھی کہ جس شخص کے بارے میں میرے والد نے تمہیں لکھا تھا اسے تا حکم ثانی برانگیختہ نہ کرنا۔
اس واقعہ کی وجہ سے باذان اور اس کے فارسی رفقاء (جو یمن میں موجود تھے) مسلمان ہو گئے۔ (محاضرات خضری ۱/۱۴۷ فتح الباری ۸/۱۲۷ ، ۱۲۸)
۴۔ قیصر شاہ روم کے نام خط:
صحیح بخاری میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں اس گرامی نامہ کی نص مروی ہے، جسے رسول اللہ ﷺ نے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ہِرَقْل شاہ روم کے پاس روانہ فرمایا تھا۔ وہ مکتوب یہ ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد کی جانب سے ہرقْل عظیم روم کی طرف!
اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ تم اسلام لاؤ سالم رہو گے۔ اسلام لاؤ اللہ تمہیں تمہارا اجر دوبار دے گا۔ اور اگر تم نے روگردانی کی تو تم پر اَرِیْسییوں (رعایا) کا (بھی) گناہ ہو گا۔ اے اہل کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پوجیں۔ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں۔ اور اللہ کے بجائے ہمارا بعض بعض کو رب نہ بنائے۔ پس اگر لوگ رخ پھیریں تو کہہ دو کہ تم لوگ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں۔ (صحیح بخاری ۱/۴، ۵)
اس گرامی نامہ کو پہنچانے کے لیے دِحْیَہ بن خلیفہ کلبی کا انتخاب ہوا۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہ خط سربراہ بصری کے حوالے کر دیں۔ اور وہ اسے قیصر کے پاس پہنچا دے گا۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا اس کی تفصیل صحیح بخاری میں ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ ابو سفیان بن حرب نے ان سے بیان کیا کہ ہِرَقل نے اس کو قریش کی ایک جماعت سمیت بلوایا۔ یہ جماعت صلح حدیبیہ کے تحت رسول اللہ ﷺ اور کفار قریش کے درمیان طے شدہ عرصہ امن میں ملک شام کی تجارت کے لیے گئی ہوئی تھی۔ یہ لوگ ایلیاء (بیت المقدس) میں اس کے پاس حاضر ہوئے۔ (اس وقت قیصر اس بات پر اللہ کا شکر بجا لانے کے لیے حمص سے ایلیاء (بیت المقدس) گیا ہوا تھا کہ اللہ نے اس کے ہاتھو ں اہل فارس کو شکست فاش دی۔ (دیکھئے صحیح مسلم ۲/۹۹) اس کی تفصیل یہ ہے کہ فارسیوں نے خسرو پرویز کو قتل کرنے کے بعد رومیوں سے ان کے مقبوضہ علاقوں کی واپسی کی شرط پر صلح کر لی۔ اور وہ صلیب بھی واپس کر دی جس کے متعلق نصاریٰ کا عقیدہ ہے کہ اسی پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دی گئی تھی۔ قیصر اس صلح کے بعد صلیب کو اصل جگہ نصب کرنے اور اس فتح مبین پر اللہ کا شکر بجا لانے کے لیے ۶۲۹ء یعنی ۷ھ میں ایلیاء (بیت المقدس) گیا تھا) ہرقل نے انھیں اپنے دربار میں بلایا۔ اس وقت اس کے گردا گرد روم کے بڑے بڑے لوگ تھے۔ پھر اس نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلا کر کہا کہ یہ شخص جو اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے اس سے تمہارا کونسا آدمی سب سے زیادہ قریبی نسبی تعلق رکھتا ہے؟ ابو سفیان کا بیان ہے کہ میں نے کہا: میں اس کا سب سے زیادہ قریب النسب ہوں۔ ہرقل نے کہا: اسے میرے قریب کر دو۔ اور اس کے ساتھیوں کو بھی قریب کرکے اس کی پیٹھ کے پیچھے بٹھا دو۔ اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ میں اس شخص سے اس آدمی (نبی ﷺ) کے متعلق سوالات کروں گا۔ اگر یہ جھوٹ بولے تو تم لوگ اسے جھٹلا دینا۔ ابو سفیان کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اگر جھوٹ بولنے کی بدنامی کا خوف نہ ہوتا تو میں آپ کے متعلق یقینا جھوٹ بولتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ابو سفیان کہتے ہیں کہ اس کے بعد پہلا سوال جو ہرقل نے مجھ سے آپ کے بارے میں کیا وہ یہ تھا کہ تم لوگوں میں اس کا نسب کیسا ہے؟
میں نے کہا: وہ اونچے نسب والا ہے۔
ہرقل نے کہا: تو کیا یہ بات اس سے پہلے بھی تم میں سے کسی نے کہی تھی؟
میں نے کہا: نہیں۔
ہرقل نے کہا: کیا اس کے باپ دادا میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے؟
میں نے کہا: نہیں۔
ہرقل نے کہا: اچھا تو بڑے لوگوں نے اس کی پیروی کی ہے یا کمزوروں نے؟
میں نے کہا: بلکہ کمزوروں نے۔
ہرقل نے کہا: یہ لوگ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں؟
میں نے کہا: بلکہ بڑھ رہے ہیں۔
ہرقل نے کہا: کیا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص اس دین سے برگشتہ ہو کر مرتد بھی ہوتا ہے؟
میں نے کہا: نہیں۔
ہرقل نے کہا: اس نے جو بات کہی ہے کیا اسے کہنے سے پہلے تم لوگ اس کو جھوٹ سے متہم کرتے تھے؟
میں نے کہا: نہیں۔
ہرقل نے کہا: کیا وہ بد عہدی بھی کرتا ہے؟
میں نے کہا: نہیں۔ البتہ ہم لوگ اس وقت اس کے ساتھ صلح کی ایک مدت گزار رہے ہیں معلوم نہیں اس میں وہ کیا کرے گا۔ ابو سفیان کہتے ہیں کہ اس فقرے کے سوا مجھے اور کہیں کچھ گھُسیڑنے کا موقع نہ ملا۔
ہرقل نے کہا: کیا تم لوگوں نے اس سے جنگ کی ہے؟
میں نے کہا: جی ہاں۔
ہرقل نے کہا: تو تمہاری اور اس کی جنگ کیسی رہی؟
میں نے کہا: جنگ ہمارے اور اس کے درمیان ڈول ہے۔ وہ ہمیں زک پہنچا لیتا ہے اور ہم اسے زک پہنچا لیتے ہیں۔
ہرقل نے کہا: تمہیں کن باتوں کا حکم دیتا ہے؟
میں نے کہا: وہ کہتا ہے: صرف اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ تمہارے باپ دادا جو کچھ کہتے تھے اسے چھوڑ دو۔ اور وہ ہمیں نماز، سچائی، پرہیز، پاک دامنی اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے۔
اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا: تم اس شخص (ابو سفیان) سے کہو کہ میں نے تم سے اس شخص (نبی ﷺ) کا نسب پوچھا تو تم نے بتایا کہ وہ اونچے نسب کا ہے۔ اور دستور یہی ہے کہ پیغمبر اپنی قوم کے اونچے نسب میں بھیجے جاتے ہیں۔
اور میں نے دریافت کیا کہ کیا یہ بات اس سے پہلے بھی تم میں سے کسی نے کہی تھی؟ تم نے بتلایا کہ نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ بات اس سے پہلے کسی اور نے کہی ہوتی تو میں یہ کہتا کہ یہ شخص ایک ایسی بات کی نقالی کر رہا ہے جو اس سے پہلے کہی جا چکی ہے۔
اور میں نے دریافت کیا کہ کیا اس کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ تم نے بتلایا کہ نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اس کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو میں کہتا کہ یہ شخص اپنے باپ کی بادشاہت کا طالب ہے۔
اور میں نے یہ دریافت کیا کہ کیا جو بات اس نے کہی ہے اسے کہنے سے پہلے تم لوگ اسے جھوٹ سے مُتّہم کرتے تھے؟ تو تم نے بتایا کہ نہیں۔ اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ بولے اور اللہ پر جھوٹ بولے۔
میں نے یہ بھی دریافت کیا کہ بڑے لوگ اس کی پیروی کر رہے ہیں یا کمزور؟ تو تم نے بتایا کہ کمزورں نے اس کی پیروی کی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ پیغمبر وں کے پیروکار ہوتے ہیں۔
میں نے پوچھا کہ کیا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص برگشتہ ہو کر مرتد بھی ہوتا ہے؟ تو تم نے بتلایا کہ نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی بشاشت جب دلوں میں گھس جاتی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
اور میں نے دریافت کیا کہ کیا وہ بد عہدی بھی کرتا ہے؟ تو تم نے بتلایا کہ نہیں۔ اور پیغمبر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ وہ بد عہدی نہیں کرتے۔
میں نے یہ بھی پوچھا کہ وہ کن باتوں کا حکم دیتا ہے؟ تو تم نے بتایا کہ وہ تمہیں اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے کا حکم دیتا ہے۔ بت پرستی سے منع کرتا ہے۔ اور نماز، سچائی اور پرہیز گاری و پاک دامنی کا حکم دیتا ہے۔
تو جو کچھ تم نے بتایا ہے اگر وہ صحیح ہے تو یہ شخص بہت جلد میرے ان دونوں قدموں کی جگہ کا مالک ہو جائے گا۔ میں جانتا تھا کہ یہ نبی آنے والا ہے، لیکن میرا یہ گمان نہ تھا کہ وہ تم میں سے ہو گا۔ اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں اس کے پاس پہنچ سکوں گا تو اس سے ملاقات کی زحمت اٹھاتا۔ اور اگر اس کے پاس ہوتا تو اس کے دونوں پاؤں دھوتا۔
اس کے بعد ہرقل نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگا کر پڑھا۔ جب خط پڑھ کر فارغ ہوا تو وہاں آوازیں بلند ہوئیں اور بڑا شور مچا۔ ہرقل نے ہمارے بارے میں حکم دیا اور ہم باہر کر دیے گئے۔ جب ہم لوگ باہر لائے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابو کبشہ (ابو کبشہ کے بیٹے سے مراد نبی ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ ابو کبشہ رجز بن غالب خزاعی کی کنیت ہے۔ یہ وہب بن عبد مناف کا نانا تھا۔ اور وہب نبی ﷺ کے نانا تھے۔ ابو کبشہ مشرک تھا۔ شام گیا تو نصرانی ہو گیا۔ جب نبی ﷺ نے قریش کے دین کی مخالف کی، اور حنیفیہ لے کر آئے تو آپ کی تنقیص کے لیے اس کے ساتھ تشبیہ دی۔ اور اس کی طرف منسوب کیا۔ (دلائل النبوۃ بیہقی ۱/۸۲، ۸۳، سیرت نبویہ لابی حاتم ص ۴۴) بہرحال ابو کبشہ غیر معروف شخص ہے۔ اور عرب کا دستور تھا کہ جب کسی کی تنقیص کرنی ہوتی تو اسے اس کے آباء و اجداد میں سے کسی غیر معروف شخص کی طرف منسوب کر دیتے) کے بیٹے کا معاملہ بڑا زور پکڑ گیا۔ اس سے تو بنو اَصْفَرْ (رومیوں) (بنوالاصفر (اصفر کی اولاد۔ اور اصفر کے معنی زرد، یعنی پیلا) رومیوں کو بنو الاصفر کہا جاتا ہے۔ کیونکہ روم کے جس بیٹے سے رومیوں کی نسل تھی وہ کسی وجہ سے اصفر (پیلے) کے لقب سے مشہور ہو گیا تھا۔) کا بادشاہ ڈرتا ہے۔ اس کے بعد مجھے برابر یقین رہا کہ رسول اللہ ﷺ کا دین غالب آ کر رہے گا۔ یہاں تک کہ اللہ نے میرے اندر اسلام کو جاگزیں کر دیا۔ (صحیح بخاری ۱/۴، صحیح مسلم ۲/۹۷- ۹۹)
یہ قیصر پر نبی ﷺ کے نامہ مبارک کا وہ اثر تھا جس کا مشاہدہ ابو سفیان نے کیا۔ اس نامۂ مبارک کا ایک اثر یہ بھی ہوا کہ قیصر نے رسول اللہ ﷺ کے اس نامہ مبارک کو پہنچانے والے، یعنی دِحْیہ کلبیؓ کو مال اور پارچہ جات سے نوازا، لیکن حضرت دِحیہؓ یہ تحائف لے کر واپس ہوئے تو حُسْمیٰ میں قبیلہ جذام کے کچھ لوگوں نے ان پر ڈاکہ ڈال کر سب کچھ لوٹ لیا۔ حضرت دِحیہ مدینہ پہنچے تو اپنے گھر کے بجائے سیدھے خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ تفصیل سن کر رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ کی سرکردگی میں پانچ سو صحابہ کرام کی ایک جماعت حُسمیٰ روانہ فرمائی۔ حضرت زید نے قبیلہ جذام پر شبخون ما رکر ان کی خاصی تعداد کو قتل کر دیا۔ اور اس کے چوپایوں اور عورتوں کو ہانک لائے۔ چوپایوں میں ایک ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریاں تھیں۔ اور قیدیوں میں ایک سو عورتیں اور بچے تھے۔
چونکہ نبی ﷺ اور قبیلہ جذام میں پہلے سے مصالحت کا عہد چلا آ رہا تھا، اس لیے اس قبیلہ کے ایک سردار زیدبن رفاعہ جذامی نے جھٹ نبی ﷺ کی خدمت میں احتجاج و فریاد کی۔ زید بن رفاعہ اس قبیلے کے کچھ مزید افراد سمیت پہلے ہی مسلمان ہو چکے تھے۔ اور جب حضرت دِحیہ پر ڈاکہ پڑا تھا تو ان کی مدد بھی کی تھی، اس لیے نبی ﷺ نے ان کا احتجاج قبول کرتے ہوئے مالِ غنیمت اور قیدی واپس کر دیے۔
عام اہل مغازی نے اس واقعہ کو صلح حدیبیہ سے پہلے بتلایا ہے۔ مگر یہ فاش غلطی ہے۔ کیونکہ قیصر کے پاس نامۂ مبارک کی روانگی صلح حدیبیہ کے بعد عمل میں آئی تھی۔ اسی لیے علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ بِلا شُبہہ حدیبیہ کے بعد کا ہے۔ (دیکھئے: زاد المعاد ۲/۱۲۲ حاشیہ تلقیح الفہوم ص ۲۹)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۵۔ منذر بن ساوی کے نام خط:
نبی ﷺ نے ایک خط منذر بن ساوی حاکم بحرین کے پاس لکھ کر اسے بھی اسلام کی دعوت دی، اور اس خط کو حضرت علاء بن الحضرمیؓ کے ہاتھوں روانہ فرمایا۔ جواب میں منذر نے رسول اللہ ﷺ کو لکھا۔ امابعد: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کا خط اہل بحرین کو پڑھ کر سنا دیا۔ بعض لوگوں نے اسلام کو محبت اور پاکیزگی کی نظر سے دیکھا اور اس کے حلقہ بگوش ہوئے۔ اور بعض نے پسند نہیں کیا۔ اور میری زمین میں یہود اور مجوس بھی ہیں۔ لہٰذا آپ اس بارے میں اپنا حکم صادر فرمایئے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے یہ خط لکھا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ کی جانب سے منذر بن ساوی کی طرف!!
تم پر سلام ہو۔ میں تمہاری طرف اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔''
اما بعد: میں تمہیں اللہ عزوجل کو یاد دلاتا ہوں۔ یاد رہے کہ جو شخص بھلائی اور خیر خواہی کرے گا وہ اپنے ہی لیے بھلائی کرے گا۔ اور جو شخص میرے قاصدوں کی اطاعت اور ان کے حکم کی پیروی کرے اس نے میری اطاعت کی اور جو ان کے ساتھ خیر خواہی کرے اس نے میرے ساتھ خیر خواہی کی اور میرے قاصدوں نے تمہاری اچھی تعریف کی ہے اور میں نے تمہاری قوم کے بارے میں تمہاری سفارش قبول کر لی ہے۔ لہٰذا مسلمان جس حال پر ایمان لائے ہیں انھیں اس پر چھوڑ دو۔ اور میں نے خطا کاروں کو معاف کر دیا ہے، لہٰذا ان سے قبول کر لو۔ اور جب تک تم اصلاح کی راہ اختیار کیے رہو گے ہم تمہیں تمہارے عمل سے معزول نہ کریں گے اور جو یہودیت یا مجوسیت پر قائم رہے اس پر جزیہ ہے۔'' (زادالمعاد ۳/۶۱، ۶۲ یہ خط ماضی قریب میں دستیاب ہوا ہے۔ اور ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے اس کا فوٹو شائع کیا ہے زادالمعاد کی عبارت اور اس فوٹو والی عبارت میں صرف ایک لفظ کا فرق (یعنی فوٹو میں) ہے لا الہ الا ھو کے بجائے لا الہ غیرہ ہے)
۶۔ ہوذہ بن علی صاحبِ یمامہ کے نام خط:
نبی ﷺ نے ہوذہ بن علی حاکم یمامہ کے نام حسب ذیل خط لکھا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ کی طرف سے ہوذہ بن علی کی جانب !!
اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میرا دین اونٹوں اور گھوڑوں کی رسائی کی آخری حد تک غالب آ کر رہے گا۔ لہٰذا اسلام لاؤ سالم رہو گے اور تمہارے ماتحت جو کچھ ہے اسے تمہارے لیے برقرار رکھوں گا۔''
 
Top