- شمولیت
- مارچ 08، 2011
- پیغامات
- 2,521
- ری ایکشن اسکور
- 11,557
- پوائنٹ
- 641
افکار اور نظریات
ڈاکٹر طہٰ حسین کا اکثر و بیشتر تحقیقی کام عربی ادب اور تاریخ پر ہے۔ان کی معروف کتابوں میں الأیام' فی الشعر الجاھلی' اور الأدب الجاھلی ہیں۔ اس کے علاوہ کتب اور مقالات میں الفتنة الکبریٰ عثمان' الفتنة الکبریٰ علی وبنوہ' علی ھامش السیرة' حدیث الأربعاء' من حدیث الشعر والنثر' مستقبل الثقافة فی مصر' أدیب' شجرة السعادة' الوعد الحق' الشیخان' مع المتنبی اور ذکری أبی العلاء کے نام سے ہیں۔
١٩٢٦ء میں طہ حسین نے 'فی الشعر الجاھلی' کے نام سے ایک کتا ب لکھی۔ اس کتاب میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ جاہلی شاعری یا جاہلی ادب اسلام کے ظہور کے بعد مرتب ہوا ہے اور اس کی نسبت ماقبل اسلام دور جاہلیت کی طرف کر دی گئی ہے۔ ان کے اس نقطہ نظر پرفلسفہ اورعلم لغت کے ماہرین میں سے مصطفی صادق رافعی' خضر حسین' شیخ محمد خضری اور محمد لطفی جمعہ نے نقد کی۔ اسی طرح جامعہ ازہر کے بعض علماء نے بھی ان کی اس کتاب پر مذہبی پہلو سے نقد کی اور چار مقامات پر اعتراضات وارد کیے' جن کا تذکرہ 'فی الشعر الجاھلی' کے نئے ایڈیشن کے آخر میں کیا گیا ہے:
پہلا اعتراض
(ا) ان میں سے ایک اعتراض تو یہ تھا کہ طہ حسین نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے وجود اور ان کے بیت اللہ کی تعمیر والے واقعے کے ثبوت میں تاریخی روایات نہ ہونے کی وجہ سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ اس کا جواب طہٰ حسین کے بعض شاگردوں کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ انہوں نے بعض دوسرے مقامات پر اس واقعے کے ثبوت سے متعلق اپنے یقین کا اظہار بھی کیا ہے۔
دوسرا اعتراض
(ب) دوسرا اعتراض یہ تھا کہ طہٰ حسین نے سبعہ و عشرہ قراء ات کو منزل من اللہ ماننے سے انکار کیا ہے ' ان کے خیال میں''سبعة احرف'' سے مراد لغات کا اختلاف ہےــــ انہوں نے اپنی ایک دوسری کتاب میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ قراء ات کے منکر نہیں ہیں اور اس کے ساتھ ہی ابن جریر طبری کا موقف تفصیل سے نقل کر دیا اور کہا کہ اس پر غور کریں' کیا یہ قراء ات کا انکار ہے؟۔
تیسرا اعتراض
(ج) تیسرا اعتراض یہ واردکیا گیا کہ انہوں نے اپنی اس کتاب میں نبی اکرم ۖ کے نسب نامے کی توہین کی ہے۔
چوتھا اعتراض
(د) چوتھا اعتراض یہ وارد کیا گیا کہ انہوں نے اس بات کا انکار کیا ہے کہ دین اسلام' دین ابراہیمی ہی کا ایک تسلسل ہے اور وہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ عرب کا اصل دین' دین ابراہیمی تھا ۔
ہم ان اعتراضات کو بغور جانچنے کے بعد اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ ان چار مقامات میں طہٰ حسین کی عبارت میں تسامح موجود ہے' اگرچہ یہ ان کے کوئی پختہ عقائد معلوم نہیں ہوتے' کیونکہ یہ چاروں مقامات اس کتاب کے بنیادی موضوع سے متعلق نہیں ہیں بلکہ ذیلی بحث اور مناظرانہ اسلوب کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔ بہر حال مصری حکومت نے ان چار مقامات کو حذف کرنے کے بعد اس کتاب کی اشاعت کی اجازت دے دی ہے۔ جہاں تک طہٰ حسین کے ادب جاہلی یا اس کی تاریخ پر نقد کا معاملہ ہے تو ہمارے خیال میں یہ کوئی دین کا مسئلہ نہیں ہے کہ اس پر نقد نہ ہو سکے اور نہ ہی ادب جاہلی کو قرآن یا حدیث کی طرح کوئی تقدس حاصل ہے یا اس کی حفاظت کی ذمہ داری ربّ سبحانہ و تعالیٰ نے لی ہے۔ پس جس علمی اسلوب میں طہٰ حسین نے ادب جاہلی کو مشکوک قرار دیا ہے' اگر کسی کو ا س بحث سے اتفا ق نہیں ہے تو اسی علمی اسلوب میں اس کا جواب دینا چاہیے اور مصر کے معروف شعراء' ادباء اور ماہرین لغت نے طہٰ حسین کی اس تحقیق کا مسکت جواب دیا بھی ہے۔
اس کتاب کے بعد ڈاکٹر طہٰ حسین نے 'الأدب الجاھلی' کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اپنی اس کتاب میں انہوں نے مصرمیں عربی زبان و ادب کے نصاب اور طریقہ تدریس پر کڑی نقد کی ہے۔ ان کے بقول فقہ کی طرح عربی ادب میں بھی تقلیدی جمود کی وجہ سے پہلی تین صدیوں کے بعد کوئی تخلیقی کام نہیں ہواہے۔ طہٰ حسین کا خیال ہے کہ عربی ادب اور اس کی تاریخ کی تعلیم سے پہلے یہ ضرور جانچ لینا چاہیے کہ جو شے ہم عربی ادب کے نام پرپڑھانا چاہتے ہیں' وہ عربی ادب ہے بھی یا نہیں۔
انہوں نے عربی ادب اورتاریخ کی حقیقت جانچنے کے لیے مغربی طریقہ ٔتحقیق کو بہترین طریق کار قراردیا ہے جس کے مطابق کسی چیز پر تحقیق کرنے سے پہلے اپنے ذہن کو اس سے خالی کر لیا جاتا ہے' یعنی اس کے وجود کو عدم سمجھتے ہوئے اسے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں معروف فلسفی ڈیکارٹ کا بھی یہی طریقہ تحقیق تھا۔ طہٰ حسین کا کہنا یہ ہے کہ ادب جاہلی کے نام سے جو ادب ہمارے ہاں پایا جاتا ہے یا پڑھایا جاتا ہے' وہ مشکوک ہے اور اس کی نسبت جاہلی شعراء کی طرف صحیح نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان کے بقول اس جاہلی ادب کا اکثر حصہ گھڑا گیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر مجھے دورِ جاہلیت کی تہذیب او ر کلچر معلوم کرنا ہو گا تو میں قرآن کی طرف رجوع کروں گا نہ کہ جاہلی شعرا ء امرؤ القیس' نابغہ' اعشی' زہیر' قس بن ساعدہ اور اکثم بن ضیفی کے معلقات یا اشعار کی طرف' کیونکہ ان اشعار کی نسبت ان شعراء کی طرف ثابت نہیں ہے۔
طہٰ حسین کا کہنا یہ بھی ہے کہ ادب جاہلی میں جو شعراء مشہور ہیں' وہ اکثر و بیشتر یمنی قحطانی عرب ہیں یا پھر عدنانی ہیں اور ان دونوں قبیلوں کی زبان ان کے بقول عربی زبان نہیں ہے بلکہ یہ زبان عربی کی نسبت حبشی زبان کے زیادہ قریب ہے' لہٰذا ادب جاہلی یا ان قبیلوں کے شعراء کا کلام' عربی زبان کا ادب کیونکر قرار پا سکتاہے؟ ان کا کہنا یہ ہے کہ عربی زبان کا اصل ادب قرآن مجید میں ہے ۔ قرآن کا نزول لغت قریش میں ہوا اور قریش نے عرب کے بقیہ لہجات کو ختم کر دیا۔ پس اب اگر کسی نے ادب جاہلی کا مطالعہ کرنا ہو تو وہ قرآن کی نصوص کی روشنی میں اُس وقت کی جاہلی تہذیب اور کلچر کا مطالعہ کرے۔ ا س کتاب کا ترجمہ اردو زبان میں مولوی محمد رضا انصاری صاحب نے کیا ہے جسے انجمن ترقی اردو دہلی نے شائع کیا ہے۔
اپنی کتاب 'مستقبل الثقافة فی مصر' میں انہوں نے کہا ہے کہ مصری تہذیب 'بحر ابیض' کی تہذیب کا ایک حصہ ہے اور اس کا تعلق جزیرہ عرب اور سوڈان کی نسبت لاطینی تہذیب سے زیادہ قریبی ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے حاکم مصر خدیوی اسماعیل پر یہ زور دیا کہ مصر کو یورپ کا حصہ بنایا جائے۔اسی کتاب میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ہمیں اہل مغرب کی تہذیب کی تقلید کرنی چاہیے تا کہ ہم ان کے بالمقابل کھڑے ہو سکیں۔انہوں نے اس کتاب میں مصر میں قومیت پرستی کی بنیادوں پر ایک ایسی حکومت تشکیل دینے کی ترغیب دی ہے جس میں دین کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ اس کتاب پر محمد کمال حسین' استاذ ساطع حصری' ڈاکٹر زکی مبارک' ڈاکٹر محمد بہی' ڈاکٹر محمد حسین اور سید قطب نے عمدہ نقد کیا ہے۔
طہٰ حسین کی کتاب 'الشیخان' پر استاذ محمد عمر توفیق نے نقد کی ہے۔ علاوہ ازیں ان کی کتاب 'علی ھامش السیرة' پر استاذ غازی التوبہ نے نقد کی ہے۔ ان کی کتاب 'حدیث الأربعاء' پر شیخ رفیق العظم نے نقد کی ہے۔ استاذ ابراہیم عبد القادر مازنی نے بھی اس کتاب پر نقد کی ہے۔ان کی کتاب 'مع المتنبی' پر شیخ محمود محمد شاکر نے نقد کی ہے۔ ان کی کتاب 'ذکری أبی العلاء' پر استاذ محمد سلیم جندی نے نقد کی ہے۔ اسی طرح طہٰ حسین کی کتاب 'الفتنة الکبریٰ' کے دونوں حصوں اور 'من بعید' پر استاذ غازی التوبہ نے نقد کی ہے۔
ڈاکٹر زکی مبارک نے طہٰ حسین پر اپنی نقد میں یہ الزام عائد کیا کہ 'ابن خلدون' پر ان کا پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ مستشرق 'میسوکازانوافا' کے افکار کا سرقہ ہے۔مستشرق 'میسو ماسنیون' کا کہنا ہے کہ جب میں نے طہٰ حسین کا پی۔ ایچ۔ڈی کا مقالہevaluation کے لیے پڑھا تو کہا: 'ھٰذِہ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا' یعنی یہ ہمارا ہی فکر ہے جو ہمیں لوٹا دیا گیا ہے اور جب میں ڈاکٹر زکی مبارک کی ابحاث پڑھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک جدید شخصیت ہے( ڈاکٹر زکی مبارک طہٰ حسین کے کلاس فیلو ہیں اور انہوں نے بھی مصر اور فرانس دونوں جگہ سے پی۔ایچ۔ڈی کی ہے)۔ ڈاکٹر زکی مبارک نے طہٰ حسین پر یہ بھی الزام لگایا کہ یہ ایک خالی ڈھول کی مانند ہے اور اسے عربی ادب کی تاریخ کاکچھ پتا نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہناہے کہ سیاسی تعلقات کی بنا پر طہٰ حسین کو شہرت حاصل ہوئی ہے۔
ڈاکٹر محمد احمد غمراوی نے 'جھل طہ حسین بمنھج دیکارت' کے نام سے ایک مقالہ لکھا ہے جس میں دعویٰ کیا ہے کہ طہٰ حسین ڈیکارٹ کے منہج تحقیق کی اتباع کے دعویدار ہیں حالانکہ انہیں اس کے منہج تحقیق کا پتا ہی نہ تھا۔ استاذانور جندی نے 'طہ حسین فی أحضان الاستشراق' کے نام سے ان پر نقد کی ہے۔ اس مقالے میں انہوں نے یہ الزام عائدکیا ہے کہ طہٰ حسین نے اپنی کتاب 'الشعر الجاھلی' کا مرکزی خیال مستشرق 'مرجلیوث' سے لیاہے۔ اسی طرح 'مع المتنبی' نامی کتاب میں طہٰ حسین نے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے وہ مستشرق 'بلاشیر' کا ہے۔ ابن خلدو ن پر اپنے پی ۔ایچ۔ڈی کے مقالے میں انہوں نے مستشرق 'دورکایم' سے استفادہ کیا ہے۔ تنقید کا طریق کار انہوں نے 'تین' اور 'برودنیر' سے لیا ہے۔ 'حدیث الأربعاء' نامی کتاب کا مرکزی خیال انہوں نے 'سانت بیف' سے اخذ کیا ہے۔ تاریخ ادب کے مصادر پر بحث میں طہٰ حسین نے 'نلینو' سے استفادہ کیا ہے۔ اسی طرح علم نحو کے ارتقاء میں ان کے افکار 'براجستیر' اور علم لغت میں 'جویدی' اور فقہ اللغہ میں 'لیتمان' سے ماخوذ ہیں۔ قرآن کے بارے میں طہٰ حسین نے اپنے خیالات 'کازنوفا' سے لیے ہیں۔
ڈاکٹرطہٰ حسین نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ انہیں جامعہ ازہر میں قرآن نہیں سمجھ آیا بلکہ انہوں نے فرانس میں عیسائی مستشرق 'کازنوفا' سے قرآن سمجھا ہے۔ طہٰ حسین کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی میں 'نیلنو' اور'لیتمان' کا بہت اثر ہے اور 'لیتمان' تو انہیں اپنا بیٹا سمجھتا تھا۔ استاذ عباس فضلی' محمود مہدی' ڈاکٹرفواد حسنین علی' استاذ احمد محمد جمال اور حسن البناء نے بھی طہٰ حسین پر نقد کی ہے۔
ان کی کتاب 'فی الشعر الجاھلی' پر محمد لطفی جمعہ' استاذ محمد خضر حسین' محمد فرید وجدی' محمد خضری اور ڈاکٹر محمد احمد غمراوی نے نقد کی ہے۔ ان سب حضرات کی طہٰ حسین پر تنقیدیں 'نقد کتاب الشعر الجاھلی' کے نام سے شائع ہو چکی ہیں۔ ان حضرات نے طہٰ حسین پر یہ نقد کی ہے کہ انہوں نے اپنے منہج تحقیق میں معروف فلسفی ڈیکارٹ کی اتباع کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ انہوں نے اس مسئلے میں اس کی اتباع نہیں کی۔ ان حضرات کا کہنا یہ بھی ہے کہ طہٰ حسین ایک بات فرض کرتے ہیں اور اس کے اوپر پھر ایک اور مفروضہ قائم کرتے ہیں اور اس طرح مفروضہ در مفروضہ کے نتیجے میں ایک حتمی اور قطعی نتیجے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ پس طہٰ حسین 'فلیس یبعد!' یا 'فلیس ما یمنع!' یا 'فما الذی یمنع!' کے الفا ظ سے ایک بات کا آغاز کرتے ہیں اور 'أمر ھذہ القصة ذا واضح' کے الفاظ میں حتمی فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ مثلاً قرآن کی لغت میں شعر جاہلی سے استفادہ کرنے میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بہت معروف ہے کہ ان سے ان کے ایک شاگرد نافع بن ازرق نے قرآن کے تقریباً ٨٠ مقامات سے متعلق الفاظ کے معانی دریافت کیے توحضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان مقامات کے معانی بتلاتے ہوئے ادب جاہلی سے اشعار پڑھ کر سنائے۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے نقل کیا ہے' تفصیل کے لیے امام سیوطی کی کتاب 'الاتقان' کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر طہٰ حسین اس واقعے کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں: الیس من الممکن أن تکون قصة ابن عباس ونافع بن الأزرق قد وضعت فی تکلف و تصنع؟'' کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ عبد اللہ بن عباس اور نافع بن ازرق کا یہ قصہ تکلف اورتصنع سے گھڑلیا گیا ہو؟'' اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا ممکن ہے لیکن کسی شے کے امکان سے وہ چیز ثابت نہیں ہو جاتی ' بلکہ اس کو ثابت کرنا پڑتاہے ۔ اگر ایک واقعہ میں جھوٹ کا امکان ہے تو اس واقعے کی تحقیق' اس کے راویوں کی جانچ پڑتال اور قرائن کی چھان پھٹک ہو گی تو تب ہی اس واقعے کے بارے کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر طہٰ حسین نے اس کتاب میں جاہلی شعر کے من گھڑت ہونے پر جتنے اعتراضات وارد کیے ہیں' ان حضرات نے جاہلی شعرہی کے بیان کے ذریعے ان تمام اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ مثلاً ڈاکٹر طہٰ حسین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جاہلی شعر میں دین اور اخلاق سے متعلقہ تصورات موجود نہیں ہیں ۔ ان حضرات نے اس کے جواب میں جاہلی ادب کے وہ اشعار پیش کر دیے جن میں اعلیٰ اخلاقی اقدار یا دینداری کا تذکرہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان حضرات کی تنقید نے طہٰ حسین کے نکتہ نظر کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ ان حضرات نے جا بجا یہ بھی واضح کیا ہے کہ جاہلی شعر سے متعلق ڈاکٹر طہٰ حسین کا کون سا موقف کس مستشرق کی فکر سے ماخوذ ہے۔ امیر شکیب ارسلان نے بھی طہٰ حسین کی اس کتاب کا 'الشعر الجاھلی و الاسلام' کے نام سے رد کیا ہے۔ اس کے علاوہ استاذ مصطفی صادق رافعی نے 'نقد الشعر الجاھلی' کے نام سے طہٰ حسین کا رد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر طہٰ حسین نے اپنے خلط مبحث کو علم کا نام دے دیا اورمستشرقین کی تقلید کو اجتہاد سمجھ لیا اور عربی ادب کے مجدد ہونے کے دعوے دار بن گئے۔ ڈاکٹر محمد بہی نے بھی 'فکرة کتاب الشعر الجاھلی' کے نام سے اس کتاب کا رد کیا ہے۔
ڈاکٹر طہٰ حسین کا اکثر و بیشتر تحقیقی کام عربی ادب اور تاریخ پر ہے۔ان کی معروف کتابوں میں الأیام' فی الشعر الجاھلی' اور الأدب الجاھلی ہیں۔ اس کے علاوہ کتب اور مقالات میں الفتنة الکبریٰ عثمان' الفتنة الکبریٰ علی وبنوہ' علی ھامش السیرة' حدیث الأربعاء' من حدیث الشعر والنثر' مستقبل الثقافة فی مصر' أدیب' شجرة السعادة' الوعد الحق' الشیخان' مع المتنبی اور ذکری أبی العلاء کے نام سے ہیں۔
١٩٢٦ء میں طہ حسین نے 'فی الشعر الجاھلی' کے نام سے ایک کتا ب لکھی۔ اس کتاب میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ جاہلی شاعری یا جاہلی ادب اسلام کے ظہور کے بعد مرتب ہوا ہے اور اس کی نسبت ماقبل اسلام دور جاہلیت کی طرف کر دی گئی ہے۔ ان کے اس نقطہ نظر پرفلسفہ اورعلم لغت کے ماہرین میں سے مصطفی صادق رافعی' خضر حسین' شیخ محمد خضری اور محمد لطفی جمعہ نے نقد کی۔ اسی طرح جامعہ ازہر کے بعض علماء نے بھی ان کی اس کتاب پر مذہبی پہلو سے نقد کی اور چار مقامات پر اعتراضات وارد کیے' جن کا تذکرہ 'فی الشعر الجاھلی' کے نئے ایڈیشن کے آخر میں کیا گیا ہے:
پہلا اعتراض
(ا) ان میں سے ایک اعتراض تو یہ تھا کہ طہ حسین نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے وجود اور ان کے بیت اللہ کی تعمیر والے واقعے کے ثبوت میں تاریخی روایات نہ ہونے کی وجہ سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ اس کا جواب طہٰ حسین کے بعض شاگردوں کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ انہوں نے بعض دوسرے مقامات پر اس واقعے کے ثبوت سے متعلق اپنے یقین کا اظہار بھی کیا ہے۔
دوسرا اعتراض
(ب) دوسرا اعتراض یہ تھا کہ طہٰ حسین نے سبعہ و عشرہ قراء ات کو منزل من اللہ ماننے سے انکار کیا ہے ' ان کے خیال میں''سبعة احرف'' سے مراد لغات کا اختلاف ہےــــ انہوں نے اپنی ایک دوسری کتاب میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ قراء ات کے منکر نہیں ہیں اور اس کے ساتھ ہی ابن جریر طبری کا موقف تفصیل سے نقل کر دیا اور کہا کہ اس پر غور کریں' کیا یہ قراء ات کا انکار ہے؟۔
تیسرا اعتراض
(ج) تیسرا اعتراض یہ واردکیا گیا کہ انہوں نے اپنی اس کتاب میں نبی اکرم ۖ کے نسب نامے کی توہین کی ہے۔
چوتھا اعتراض
(د) چوتھا اعتراض یہ وارد کیا گیا کہ انہوں نے اس بات کا انکار کیا ہے کہ دین اسلام' دین ابراہیمی ہی کا ایک تسلسل ہے اور وہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ عرب کا اصل دین' دین ابراہیمی تھا ۔
ہم ان اعتراضات کو بغور جانچنے کے بعد اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ ان چار مقامات میں طہٰ حسین کی عبارت میں تسامح موجود ہے' اگرچہ یہ ان کے کوئی پختہ عقائد معلوم نہیں ہوتے' کیونکہ یہ چاروں مقامات اس کتاب کے بنیادی موضوع سے متعلق نہیں ہیں بلکہ ذیلی بحث اور مناظرانہ اسلوب کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔ بہر حال مصری حکومت نے ان چار مقامات کو حذف کرنے کے بعد اس کتاب کی اشاعت کی اجازت دے دی ہے۔ جہاں تک طہٰ حسین کے ادب جاہلی یا اس کی تاریخ پر نقد کا معاملہ ہے تو ہمارے خیال میں یہ کوئی دین کا مسئلہ نہیں ہے کہ اس پر نقد نہ ہو سکے اور نہ ہی ادب جاہلی کو قرآن یا حدیث کی طرح کوئی تقدس حاصل ہے یا اس کی حفاظت کی ذمہ داری ربّ سبحانہ و تعالیٰ نے لی ہے۔ پس جس علمی اسلوب میں طہٰ حسین نے ادب جاہلی کو مشکوک قرار دیا ہے' اگر کسی کو ا س بحث سے اتفا ق نہیں ہے تو اسی علمی اسلوب میں اس کا جواب دینا چاہیے اور مصر کے معروف شعراء' ادباء اور ماہرین لغت نے طہٰ حسین کی اس تحقیق کا مسکت جواب دیا بھی ہے۔
اس کتاب کے بعد ڈاکٹر طہٰ حسین نے 'الأدب الجاھلی' کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اپنی اس کتاب میں انہوں نے مصرمیں عربی زبان و ادب کے نصاب اور طریقہ تدریس پر کڑی نقد کی ہے۔ ان کے بقول فقہ کی طرح عربی ادب میں بھی تقلیدی جمود کی وجہ سے پہلی تین صدیوں کے بعد کوئی تخلیقی کام نہیں ہواہے۔ طہٰ حسین کا خیال ہے کہ عربی ادب اور اس کی تاریخ کی تعلیم سے پہلے یہ ضرور جانچ لینا چاہیے کہ جو شے ہم عربی ادب کے نام پرپڑھانا چاہتے ہیں' وہ عربی ادب ہے بھی یا نہیں۔
انہوں نے عربی ادب اورتاریخ کی حقیقت جانچنے کے لیے مغربی طریقہ ٔتحقیق کو بہترین طریق کار قراردیا ہے جس کے مطابق کسی چیز پر تحقیق کرنے سے پہلے اپنے ذہن کو اس سے خالی کر لیا جاتا ہے' یعنی اس کے وجود کو عدم سمجھتے ہوئے اسے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں معروف فلسفی ڈیکارٹ کا بھی یہی طریقہ تحقیق تھا۔ طہٰ حسین کا کہنا یہ ہے کہ ادب جاہلی کے نام سے جو ادب ہمارے ہاں پایا جاتا ہے یا پڑھایا جاتا ہے' وہ مشکوک ہے اور اس کی نسبت جاہلی شعراء کی طرف صحیح نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان کے بقول اس جاہلی ادب کا اکثر حصہ گھڑا گیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر مجھے دورِ جاہلیت کی تہذیب او ر کلچر معلوم کرنا ہو گا تو میں قرآن کی طرف رجوع کروں گا نہ کہ جاہلی شعرا ء امرؤ القیس' نابغہ' اعشی' زہیر' قس بن ساعدہ اور اکثم بن ضیفی کے معلقات یا اشعار کی طرف' کیونکہ ان اشعار کی نسبت ان شعراء کی طرف ثابت نہیں ہے۔
طہٰ حسین کا کہنا یہ بھی ہے کہ ادب جاہلی میں جو شعراء مشہور ہیں' وہ اکثر و بیشتر یمنی قحطانی عرب ہیں یا پھر عدنانی ہیں اور ان دونوں قبیلوں کی زبان ان کے بقول عربی زبان نہیں ہے بلکہ یہ زبان عربی کی نسبت حبشی زبان کے زیادہ قریب ہے' لہٰذا ادب جاہلی یا ان قبیلوں کے شعراء کا کلام' عربی زبان کا ادب کیونکر قرار پا سکتاہے؟ ان کا کہنا یہ ہے کہ عربی زبان کا اصل ادب قرآن مجید میں ہے ۔ قرآن کا نزول لغت قریش میں ہوا اور قریش نے عرب کے بقیہ لہجات کو ختم کر دیا۔ پس اب اگر کسی نے ادب جاہلی کا مطالعہ کرنا ہو تو وہ قرآن کی نصوص کی روشنی میں اُس وقت کی جاہلی تہذیب اور کلچر کا مطالعہ کرے۔ ا س کتاب کا ترجمہ اردو زبان میں مولوی محمد رضا انصاری صاحب نے کیا ہے جسے انجمن ترقی اردو دہلی نے شائع کیا ہے۔
اپنی کتاب 'مستقبل الثقافة فی مصر' میں انہوں نے کہا ہے کہ مصری تہذیب 'بحر ابیض' کی تہذیب کا ایک حصہ ہے اور اس کا تعلق جزیرہ عرب اور سوڈان کی نسبت لاطینی تہذیب سے زیادہ قریبی ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے حاکم مصر خدیوی اسماعیل پر یہ زور دیا کہ مصر کو یورپ کا حصہ بنایا جائے۔اسی کتاب میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ہمیں اہل مغرب کی تہذیب کی تقلید کرنی چاہیے تا کہ ہم ان کے بالمقابل کھڑے ہو سکیں۔انہوں نے اس کتاب میں مصر میں قومیت پرستی کی بنیادوں پر ایک ایسی حکومت تشکیل دینے کی ترغیب دی ہے جس میں دین کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ اس کتاب پر محمد کمال حسین' استاذ ساطع حصری' ڈاکٹر زکی مبارک' ڈاکٹر محمد بہی' ڈاکٹر محمد حسین اور سید قطب نے عمدہ نقد کیا ہے۔
طہٰ حسین کی کتاب 'الشیخان' پر استاذ محمد عمر توفیق نے نقد کی ہے۔ علاوہ ازیں ان کی کتاب 'علی ھامش السیرة' پر استاذ غازی التوبہ نے نقد کی ہے۔ ان کی کتاب 'حدیث الأربعاء' پر شیخ رفیق العظم نے نقد کی ہے۔ استاذ ابراہیم عبد القادر مازنی نے بھی اس کتاب پر نقد کی ہے۔ان کی کتاب 'مع المتنبی' پر شیخ محمود محمد شاکر نے نقد کی ہے۔ ان کی کتاب 'ذکری أبی العلاء' پر استاذ محمد سلیم جندی نے نقد کی ہے۔ اسی طرح طہٰ حسین کی کتاب 'الفتنة الکبریٰ' کے دونوں حصوں اور 'من بعید' پر استاذ غازی التوبہ نے نقد کی ہے۔
ڈاکٹر زکی مبارک نے طہٰ حسین پر اپنی نقد میں یہ الزام عائد کیا کہ 'ابن خلدون' پر ان کا پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ مستشرق 'میسوکازانوافا' کے افکار کا سرقہ ہے۔مستشرق 'میسو ماسنیون' کا کہنا ہے کہ جب میں نے طہٰ حسین کا پی۔ ایچ۔ڈی کا مقالہevaluation کے لیے پڑھا تو کہا: 'ھٰذِہ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا' یعنی یہ ہمارا ہی فکر ہے جو ہمیں لوٹا دیا گیا ہے اور جب میں ڈاکٹر زکی مبارک کی ابحاث پڑھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک جدید شخصیت ہے( ڈاکٹر زکی مبارک طہٰ حسین کے کلاس فیلو ہیں اور انہوں نے بھی مصر اور فرانس دونوں جگہ سے پی۔ایچ۔ڈی کی ہے)۔ ڈاکٹر زکی مبارک نے طہٰ حسین پر یہ بھی الزام لگایا کہ یہ ایک خالی ڈھول کی مانند ہے اور اسے عربی ادب کی تاریخ کاکچھ پتا نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہناہے کہ سیاسی تعلقات کی بنا پر طہٰ حسین کو شہرت حاصل ہوئی ہے۔
ڈاکٹر محمد احمد غمراوی نے 'جھل طہ حسین بمنھج دیکارت' کے نام سے ایک مقالہ لکھا ہے جس میں دعویٰ کیا ہے کہ طہٰ حسین ڈیکارٹ کے منہج تحقیق کی اتباع کے دعویدار ہیں حالانکہ انہیں اس کے منہج تحقیق کا پتا ہی نہ تھا۔ استاذانور جندی نے 'طہ حسین فی أحضان الاستشراق' کے نام سے ان پر نقد کی ہے۔ اس مقالے میں انہوں نے یہ الزام عائدکیا ہے کہ طہٰ حسین نے اپنی کتاب 'الشعر الجاھلی' کا مرکزی خیال مستشرق 'مرجلیوث' سے لیاہے۔ اسی طرح 'مع المتنبی' نامی کتاب میں طہٰ حسین نے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے وہ مستشرق 'بلاشیر' کا ہے۔ ابن خلدو ن پر اپنے پی ۔ایچ۔ڈی کے مقالے میں انہوں نے مستشرق 'دورکایم' سے استفادہ کیا ہے۔ تنقید کا طریق کار انہوں نے 'تین' اور 'برودنیر' سے لیا ہے۔ 'حدیث الأربعاء' نامی کتاب کا مرکزی خیال انہوں نے 'سانت بیف' سے اخذ کیا ہے۔ تاریخ ادب کے مصادر پر بحث میں طہٰ حسین نے 'نلینو' سے استفادہ کیا ہے۔ اسی طرح علم نحو کے ارتقاء میں ان کے افکار 'براجستیر' اور علم لغت میں 'جویدی' اور فقہ اللغہ میں 'لیتمان' سے ماخوذ ہیں۔ قرآن کے بارے میں طہٰ حسین نے اپنے خیالات 'کازنوفا' سے لیے ہیں۔
ڈاکٹرطہٰ حسین نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ انہیں جامعہ ازہر میں قرآن نہیں سمجھ آیا بلکہ انہوں نے فرانس میں عیسائی مستشرق 'کازنوفا' سے قرآن سمجھا ہے۔ طہٰ حسین کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی میں 'نیلنو' اور'لیتمان' کا بہت اثر ہے اور 'لیتمان' تو انہیں اپنا بیٹا سمجھتا تھا۔ استاذ عباس فضلی' محمود مہدی' ڈاکٹرفواد حسنین علی' استاذ احمد محمد جمال اور حسن البناء نے بھی طہٰ حسین پر نقد کی ہے۔
ان کی کتاب 'فی الشعر الجاھلی' پر محمد لطفی جمعہ' استاذ محمد خضر حسین' محمد فرید وجدی' محمد خضری اور ڈاکٹر محمد احمد غمراوی نے نقد کی ہے۔ ان سب حضرات کی طہٰ حسین پر تنقیدیں 'نقد کتاب الشعر الجاھلی' کے نام سے شائع ہو چکی ہیں۔ ان حضرات نے طہٰ حسین پر یہ نقد کی ہے کہ انہوں نے اپنے منہج تحقیق میں معروف فلسفی ڈیکارٹ کی اتباع کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ انہوں نے اس مسئلے میں اس کی اتباع نہیں کی۔ ان حضرات کا کہنا یہ بھی ہے کہ طہٰ حسین ایک بات فرض کرتے ہیں اور اس کے اوپر پھر ایک اور مفروضہ قائم کرتے ہیں اور اس طرح مفروضہ در مفروضہ کے نتیجے میں ایک حتمی اور قطعی نتیجے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ پس طہٰ حسین 'فلیس یبعد!' یا 'فلیس ما یمنع!' یا 'فما الذی یمنع!' کے الفا ظ سے ایک بات کا آغاز کرتے ہیں اور 'أمر ھذہ القصة ذا واضح' کے الفاظ میں حتمی فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ مثلاً قرآن کی لغت میں شعر جاہلی سے استفادہ کرنے میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بہت معروف ہے کہ ان سے ان کے ایک شاگرد نافع بن ازرق نے قرآن کے تقریباً ٨٠ مقامات سے متعلق الفاظ کے معانی دریافت کیے توحضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان مقامات کے معانی بتلاتے ہوئے ادب جاہلی سے اشعار پڑھ کر سنائے۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے نقل کیا ہے' تفصیل کے لیے امام سیوطی کی کتاب 'الاتقان' کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر طہٰ حسین اس واقعے کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں: الیس من الممکن أن تکون قصة ابن عباس ونافع بن الأزرق قد وضعت فی تکلف و تصنع؟'' کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ عبد اللہ بن عباس اور نافع بن ازرق کا یہ قصہ تکلف اورتصنع سے گھڑلیا گیا ہو؟'' اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا ممکن ہے لیکن کسی شے کے امکان سے وہ چیز ثابت نہیں ہو جاتی ' بلکہ اس کو ثابت کرنا پڑتاہے ۔ اگر ایک واقعہ میں جھوٹ کا امکان ہے تو اس واقعے کی تحقیق' اس کے راویوں کی جانچ پڑتال اور قرائن کی چھان پھٹک ہو گی تو تب ہی اس واقعے کے بارے کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر طہٰ حسین نے اس کتاب میں جاہلی شعر کے من گھڑت ہونے پر جتنے اعتراضات وارد کیے ہیں' ان حضرات نے جاہلی شعرہی کے بیان کے ذریعے ان تمام اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ مثلاً ڈاکٹر طہٰ حسین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جاہلی شعر میں دین اور اخلاق سے متعلقہ تصورات موجود نہیں ہیں ۔ ان حضرات نے اس کے جواب میں جاہلی ادب کے وہ اشعار پیش کر دیے جن میں اعلیٰ اخلاقی اقدار یا دینداری کا تذکرہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان حضرات کی تنقید نے طہٰ حسین کے نکتہ نظر کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ ان حضرات نے جا بجا یہ بھی واضح کیا ہے کہ جاہلی شعر سے متعلق ڈاکٹر طہٰ حسین کا کون سا موقف کس مستشرق کی فکر سے ماخوذ ہے۔ امیر شکیب ارسلان نے بھی طہٰ حسین کی اس کتاب کا 'الشعر الجاھلی و الاسلام' کے نام سے رد کیا ہے۔ اس کے علاوہ استاذ مصطفی صادق رافعی نے 'نقد الشعر الجاھلی' کے نام سے طہٰ حسین کا رد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر طہٰ حسین نے اپنے خلط مبحث کو علم کا نام دے دیا اورمستشرقین کی تقلید کو اجتہاد سمجھ لیا اور عربی ادب کے مجدد ہونے کے دعوے دار بن گئے۔ ڈاکٹر محمد بہی نے بھی 'فکرة کتاب الشعر الجاھلی' کے نام سے اس کتاب کا رد کیا ہے۔