• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تحریک تجدد اور متجددین

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
افکار اور نظریات
ڈاکٹر طہٰ حسین کا اکثر و بیشتر تحقیقی کام عربی ادب اور تاریخ پر ہے۔ان کی معروف کتابوں میں الأیام' فی الشعر الجاھلی' اور الأدب الجاھلی ہیں۔ اس کے علاوہ کتب اور مقالات میں الفتنة الکبریٰ عثمان' الفتنة الکبریٰ علی وبنوہ' علی ھامش السیرة' حدیث الأربعاء' من حدیث الشعر والنثر' مستقبل الثقافة فی مصر' أدیب' شجرة السعادة' الوعد الحق' الشیخان' مع المتنبی اور ذکری أبی العلاء کے نام سے ہیں۔

١٩٢٦ء میں طہ حسین نے 'فی الشعر الجاھلی' کے نام سے ایک کتا ب لکھی۔ اس کتاب میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ جاہلی شاعری یا جاہلی ادب اسلام کے ظہور کے بعد مرتب ہوا ہے اور اس کی نسبت ماقبل اسلام دور جاہلیت کی طرف کر دی گئی ہے۔ ان کے اس نقطہ نظر پرفلسفہ اورعلم لغت کے ماہرین میں سے مصطفی صادق رافعی' خضر حسین' شیخ محمد خضری اور محمد لطفی جمعہ نے نقد کی۔ اسی طرح جامعہ ازہر کے بعض علماء نے بھی ان کی اس کتاب پر مذہبی پہلو سے نقد کی اور چار مقامات پر اعتراضات وارد کیے' جن کا تذکرہ 'فی الشعر الجاھلی' کے نئے ایڈیشن کے آخر میں کیا گیا ہے:

پہلا اعتراض
(ا) ان میں سے ایک اعتراض تو یہ تھا کہ طہ حسین نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے وجود اور ان کے بیت اللہ کی تعمیر والے واقعے کے ثبوت میں تاریخی روایات نہ ہونے کی وجہ سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ اس کا جواب طہٰ حسین کے بعض شاگردوں کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ انہوں نے بعض دوسرے مقامات پر اس واقعے کے ثبوت سے متعلق اپنے یقین کا اظہار بھی کیا ہے۔

دوسرا اعتراض
(ب) دوسرا اعتراض یہ تھا کہ طہٰ حسین نے سبعہ و عشرہ قراء ات کو منزل من اللہ ماننے سے انکار کیا ہے ' ان کے خیال میں''سبعة احرف'' سے مراد لغات کا اختلاف ہےــــ انہوں نے اپنی ایک دوسری کتاب میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ قراء ات کے منکر نہیں ہیں اور اس کے ساتھ ہی ابن جریر طبری کا موقف تفصیل سے نقل کر دیا اور کہا کہ اس پر غور کریں' کیا یہ قراء ات کا انکار ہے؟۔

تیسرا اعتراض
(ج) تیسرا اعتراض یہ واردکیا گیا کہ انہوں نے اپنی اس کتاب میں نبی اکرم ۖ کے نسب نامے کی توہین کی ہے۔

چوتھا اعتراض
(د) چوتھا اعتراض یہ وارد کیا گیا کہ انہوں نے اس بات کا انکار کیا ہے کہ دین اسلام' دین ابراہیمی ہی کا ایک تسلسل ہے اور وہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ عرب کا اصل دین' دین ابراہیمی تھا ۔

ہم ان اعتراضات کو بغور جانچنے کے بعد اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ ان چار مقامات میں طہٰ حسین کی عبارت میں تسامح موجود ہے' اگرچہ یہ ان کے کوئی پختہ عقائد معلوم نہیں ہوتے' کیونکہ یہ چاروں مقامات اس کتاب کے بنیادی موضوع سے متعلق نہیں ہیں بلکہ ذیلی بحث اور مناظرانہ اسلوب کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔ بہر حال مصری حکومت نے ان چار مقامات کو حذف کرنے کے بعد اس کتاب کی اشاعت کی اجازت دے دی ہے۔ جہاں تک طہٰ حسین کے ادب جاہلی یا اس کی تاریخ پر نقد کا معاملہ ہے تو ہمارے خیال میں یہ کوئی دین کا مسئلہ نہیں ہے کہ اس پر نقد نہ ہو سکے اور نہ ہی ادب جاہلی کو قرآن یا حدیث کی طرح کوئی تقدس حاصل ہے یا اس کی حفاظت کی ذمہ داری ربّ سبحانہ و تعالیٰ نے لی ہے۔ پس جس علمی اسلوب میں طہٰ حسین نے ادب جاہلی کو مشکوک قرار دیا ہے' اگر کسی کو ا س بحث سے اتفا ق نہیں ہے تو اسی علمی اسلوب میں اس کا جواب دینا چاہیے اور مصر کے معروف شعراء' ادباء اور ماہرین لغت نے طہٰ حسین کی اس تحقیق کا مسکت جواب دیا بھی ہے۔

اس کتاب کے بعد ڈاکٹر طہٰ حسین نے 'الأدب الجاھلی' کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اپنی اس کتاب میں انہوں نے مصرمیں عربی زبان و ادب کے نصاب اور طریقہ تدریس پر کڑی نقد کی ہے۔ ان کے بقول فقہ کی طرح عربی ادب میں بھی تقلیدی جمود کی وجہ سے پہلی تین صدیوں کے بعد کوئی تخلیقی کام نہیں ہواہے۔ طہٰ حسین کا خیال ہے کہ عربی ادب اور اس کی تاریخ کی تعلیم سے پہلے یہ ضرور جانچ لینا چاہیے کہ جو شے ہم عربی ادب کے نام پرپڑھانا چاہتے ہیں' وہ عربی ادب ہے بھی یا نہیں۔

انہوں نے عربی ادب اورتاریخ کی حقیقت جانچنے کے لیے مغربی طریقہ ٔتحقیق کو بہترین طریق کار قراردیا ہے جس کے مطابق کسی چیز پر تحقیق کرنے سے پہلے اپنے ذہن کو اس سے خالی کر لیا جاتا ہے' یعنی اس کے وجود کو عدم سمجھتے ہوئے اسے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں معروف فلسفی ڈیکارٹ کا بھی یہی طریقہ تحقیق تھا۔ طہٰ حسین کا کہنا یہ ہے کہ ادب جاہلی کے نام سے جو ادب ہمارے ہاں پایا جاتا ہے یا پڑھایا جاتا ہے' وہ مشکوک ہے اور اس کی نسبت جاہلی شعراء کی طرف صحیح نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان کے بقول اس جاہلی ادب کا اکثر حصہ گھڑا گیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر مجھے دورِ جاہلیت کی تہذیب او ر کلچر معلوم کرنا ہو گا تو میں قرآن کی طرف رجوع کروں گا نہ کہ جاہلی شعرا ء امرؤ القیس' نابغہ' اعشی' زہیر' قس بن ساعدہ اور اکثم بن ضیفی کے معلقات یا اشعار کی طرف' کیونکہ ان اشعار کی نسبت ان شعراء کی طرف ثابت نہیں ہے۔

طہٰ حسین کا کہنا یہ بھی ہے کہ ادب جاہلی میں جو شعراء مشہور ہیں' وہ اکثر و بیشتر یمنی قحطانی عرب ہیں یا پھر عدنانی ہیں اور ان دونوں قبیلوں کی زبان ان کے بقول عربی زبان نہیں ہے بلکہ یہ زبان عربی کی نسبت حبشی زبان کے زیادہ قریب ہے' لہٰذا ادب جاہلی یا ان قبیلوں کے شعراء کا کلام' عربی زبان کا ادب کیونکر قرار پا سکتاہے؟ ان کا کہنا یہ ہے کہ عربی زبان کا اصل ادب قرآن مجید میں ہے ۔ قرآن کا نزول لغت قریش میں ہوا اور قریش نے عرب کے بقیہ لہجات کو ختم کر دیا۔ پس اب اگر کسی نے ادب جاہلی کا مطالعہ کرنا ہو تو وہ قرآن کی نصوص کی روشنی میں اُس وقت کی جاہلی تہذیب اور کلچر کا مطالعہ کرے۔ ا س کتاب کا ترجمہ اردو زبان میں مولوی محمد رضا انصاری صاحب نے کیا ہے جسے انجمن ترقی اردو دہلی نے شائع کیا ہے۔

اپنی کتاب 'مستقبل الثقافة فی مصر' میں انہوں نے کہا ہے کہ مصری تہذیب 'بحر ابیض' کی تہذیب کا ایک حصہ ہے اور اس کا تعلق جزیرہ عرب اور سوڈان کی نسبت لاطینی تہذیب سے زیادہ قریبی ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے حاکم مصر خدیوی اسماعیل پر یہ زور دیا کہ مصر کو یورپ کا حصہ بنایا جائے۔اسی کتاب میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ہمیں اہل مغرب کی تہذیب کی تقلید کرنی چاہیے تا کہ ہم ان کے بالمقابل کھڑے ہو سکیں۔انہوں نے اس کتاب میں مصر میں قومیت پرستی کی بنیادوں پر ایک ایسی حکومت تشکیل دینے کی ترغیب دی ہے جس میں دین کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ اس کتاب پر محمد کمال حسین' استاذ ساطع حصری' ڈاکٹر زکی مبارک' ڈاکٹر محمد بہی' ڈاکٹر محمد حسین اور سید قطب نے عمدہ نقد کیا ہے۔

طہٰ حسین کی کتاب 'الشیخان' پر استاذ محمد عمر توفیق نے نقد کی ہے۔ علاوہ ازیں ان کی کتاب 'علی ھامش السیرة' پر استاذ غازی التوبہ نے نقد کی ہے۔ ان کی کتاب 'حدیث الأربعاء' پر شیخ رفیق العظم نے نقد کی ہے۔ استاذ ابراہیم عبد القادر مازنی نے بھی اس کتاب پر نقد کی ہے۔ان کی کتاب 'مع المتنبی' پر شیخ محمود محمد شاکر نے نقد کی ہے۔ ان کی کتاب 'ذکری أبی العلاء' پر استاذ محمد سلیم جندی نے نقد کی ہے۔ اسی طرح طہٰ حسین کی کتاب 'الفتنة الکبریٰ' کے دونوں حصوں اور 'من بعید' پر استاذ غازی التوبہ نے نقد کی ہے۔

ڈاکٹر زکی مبارک نے طہٰ حسین پر اپنی نقد میں یہ الزام عائد کیا کہ 'ابن خلدون' پر ان کا پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ مستشرق 'میسوکازانوافا' کے افکار کا سرقہ ہے۔مستشرق 'میسو ماسنیون' کا کہنا ہے کہ جب میں نے طہٰ حسین کا پی۔ ایچ۔ڈی کا مقالہevaluation کے لیے پڑھا تو کہا: 'ھٰذِہ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا' یعنی یہ ہمارا ہی فکر ہے جو ہمیں لوٹا دیا گیا ہے اور جب میں ڈاکٹر زکی مبارک کی ابحاث پڑھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک جدید شخصیت ہے( ڈاکٹر زکی مبارک طہٰ حسین کے کلاس فیلو ہیں اور انہوں نے بھی مصر اور فرانس دونوں جگہ سے پی۔ایچ۔ڈی کی ہے)۔ ڈاکٹر زکی مبارک نے طہٰ حسین پر یہ بھی الزام لگایا کہ یہ ایک خالی ڈھول کی مانند ہے اور اسے عربی ادب کی تاریخ کاکچھ پتا نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہناہے کہ سیاسی تعلقات کی بنا پر طہٰ حسین کو شہرت حاصل ہوئی ہے۔

ڈاکٹر محمد احمد غمراوی نے 'جھل طہ حسین بمنھج دیکارت' کے نام سے ایک مقالہ لکھا ہے جس میں دعویٰ کیا ہے کہ طہٰ حسین ڈیکارٹ کے منہج تحقیق کی اتباع کے دعویدار ہیں حالانکہ انہیں اس کے منہج تحقیق کا پتا ہی نہ تھا۔ استاذانور جندی نے 'طہ حسین فی أحضان الاستشراق' کے نام سے ان پر نقد کی ہے۔ اس مقالے میں انہوں نے یہ الزام عائدکیا ہے کہ طہٰ حسین نے اپنی کتاب 'الشعر الجاھلی' کا مرکزی خیال مستشرق 'مرجلیوث' سے لیاہے۔ اسی طرح 'مع المتنبی' نامی کتاب میں طہٰ حسین نے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے وہ مستشرق 'بلاشیر' کا ہے۔ ابن خلدو ن پر اپنے پی ۔ایچ۔ڈی کے مقالے میں انہوں نے مستشرق 'دورکایم' سے استفادہ کیا ہے۔ تنقید کا طریق کار انہوں نے 'تین' اور 'برودنیر' سے لیا ہے۔ 'حدیث الأربعاء' نامی کتاب کا مرکزی خیال انہوں نے 'سانت بیف' سے اخذ کیا ہے۔ تاریخ ادب کے مصادر پر بحث میں طہٰ حسین نے 'نلینو' سے استفادہ کیا ہے۔ اسی طرح علم نحو کے ارتقاء میں ان کے افکار 'براجستیر' اور علم لغت میں 'جویدی' اور فقہ اللغہ میں 'لیتمان' سے ماخوذ ہیں۔ قرآن کے بارے میں طہٰ حسین نے اپنے خیالات 'کازنوفا' سے لیے ہیں۔

ڈاکٹرطہٰ حسین نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ انہیں جامعہ ازہر میں قرآن نہیں سمجھ آیا بلکہ انہوں نے فرانس میں عیسائی مستشرق 'کازنوفا' سے قرآن سمجھا ہے۔ طہٰ حسین کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی میں 'نیلنو' اور'لیتمان' کا بہت اثر ہے اور 'لیتمان' تو انہیں اپنا بیٹا سمجھتا تھا۔ استاذ عباس فضلی' محمود مہدی' ڈاکٹرفواد حسنین علی' استاذ احمد محمد جمال اور حسن البناء نے بھی طہٰ حسین پر نقد کی ہے۔

ان کی کتاب 'فی الشعر الجاھلی' پر محمد لطفی جمعہ' استاذ محمد خضر حسین' محمد فرید وجدی' محمد خضری اور ڈاکٹر محمد احمد غمراوی نے نقد کی ہے۔ ان سب حضرات کی طہٰ حسین پر تنقیدیں 'نقد کتاب الشعر الجاھلی' کے نام سے شائع ہو چکی ہیں۔ ان حضرات نے طہٰ حسین پر یہ نقد کی ہے کہ انہوں نے اپنے منہج تحقیق میں معروف فلسفی ڈیکارٹ کی اتباع کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ انہوں نے اس مسئلے میں اس کی اتباع نہیں کی۔ ان حضرات کا کہنا یہ بھی ہے کہ طہٰ حسین ایک بات فرض کرتے ہیں اور اس کے اوپر پھر ایک اور مفروضہ قائم کرتے ہیں اور اس طرح مفروضہ در مفروضہ کے نتیجے میں ایک حتمی اور قطعی نتیجے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ پس طہٰ حسین 'فلیس یبعد!' یا 'فلیس ما یمنع!' یا 'فما الذی یمنع!' کے الفا ظ سے ایک بات کا آغاز کرتے ہیں اور 'أمر ھذہ القصة ذا واضح' کے الفاظ میں حتمی فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ مثلاً قرآن کی لغت میں شعر جاہلی سے استفادہ کرنے میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بہت معروف ہے کہ ان سے ان کے ایک شاگرد نافع بن ازرق نے قرآن کے تقریباً ٨٠ مقامات سے متعلق الفاظ کے معانی دریافت کیے توحضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان مقامات کے معانی بتلاتے ہوئے ادب جاہلی سے اشعار پڑھ کر سنائے۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے نقل کیا ہے' تفصیل کے لیے امام سیوطی کی کتاب 'الاتقان' کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر طہٰ حسین اس واقعے کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں: الیس من الممکن أن تکون قصة ابن عباس ونافع بن الأزرق قد وضعت فی تکلف و تصنع؟'' کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ عبد اللہ بن عباس اور نافع بن ازرق کا یہ قصہ تکلف اورتصنع سے گھڑلیا گیا ہو؟'' اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا ممکن ہے لیکن کسی شے کے امکان سے وہ چیز ثابت نہیں ہو جاتی ' بلکہ اس کو ثابت کرنا پڑتاہے ۔ اگر ایک واقعہ میں جھوٹ کا امکان ہے تو اس واقعے کی تحقیق' اس کے راویوں کی جانچ پڑتال اور قرائن کی چھان پھٹک ہو گی تو تب ہی اس واقعے کے بارے کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر طہٰ حسین نے اس کتاب میں جاہلی شعر کے من گھڑت ہونے پر جتنے اعتراضات وارد کیے ہیں' ان حضرات نے جاہلی شعرہی کے بیان کے ذریعے ان تمام اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ مثلاً ڈاکٹر طہٰ حسین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جاہلی شعر میں دین اور اخلاق سے متعلقہ تصورات موجود نہیں ہیں ۔ ان حضرات نے اس کے جواب میں جاہلی ادب کے وہ اشعار پیش کر دیے جن میں اعلیٰ اخلاقی اقدار یا دینداری کا تذکرہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان حضرات کی تنقید نے طہٰ حسین کے نکتہ نظر کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ ان حضرات نے جا بجا یہ بھی واضح کیا ہے کہ جاہلی شعر سے متعلق ڈاکٹر طہٰ حسین کا کون سا موقف کس مستشرق کی فکر سے ماخوذ ہے۔ امیر شکیب ارسلان نے بھی طہٰ حسین کی اس کتاب کا 'الشعر الجاھلی و الاسلام' کے نام سے رد کیا ہے۔ اس کے علاوہ استاذ مصطفی صادق رافعی نے 'نقد الشعر الجاھلی' کے نام سے طہٰ حسین کا رد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر طہٰ حسین نے اپنے خلط مبحث کو علم کا نام دے دیا اورمستشرقین کی تقلید کو اجتہاد سمجھ لیا اور عربی ادب کے مجدد ہونے کے دعوے دار بن گئے۔ ڈاکٹر محمد بہی نے بھی 'فکرة کتاب الشعر الجاھلی' کے نام سے اس کتاب کا رد کیا ہے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
خلاصۂ کلام
ڈاکٹر طہٰ حسین پر عربی زبان و ادب' آزادی ٔفکر اور آزادانہ اسلوب تحقیق کے حوالے سے تجدد کا الزام لگایا جاتا ہے۔ جہاں تک عربی زبان و ادب میں تجدد کا معاملہ ہے تو ہمارے خیال میں یہ کوئی مستند اعتراض نہیں ہے کیونکہ یہ دینی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر اس مسئلے میں کسی کو ان کی تحقیق سے اتفاق نہیں ہے تو وہ اس کا علمی جواب دے۔ مصری ماہرین لغت' شعراء اور ادباء نے اس کا مسکت جواب دیا ہے اور یہی طرز عمل درست ہے۔

آزادی ٔفکر ان کے ہاں تھی۔ اگر تویہ مذہب یا دین کی حدود کوپامال نہ کر رہی ہو تو اس وقت تک اس پر بھی کوئی عیب نہیں لگایا جا سکتا' لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ طہٰ حسین نے علوم شریعت سے لاعلمی کے باوجود کئی دینی مسائل میں اپنی نام نہاد علمی آراء کا اظہار کیاہے اور عربی زبان و ادب میں رسوخ رکھنے والے مصری علماء نے ان کا تتبع بھی کیا ہے' جیسا کہ ہم سابقہ صفحات میں بعض علماء کے نام ذکر چکے ہیں۔

جہاں تک ان کے طریق تحقیق کا معاملہ ہے کہ جس میں انہوں نے معروف فلسفی ڈیکارٹ کی اتباع کی ہے' تو ہمیں اس اندازِ تحقیق سے اتفاق نہیں ہے۔ یہ انداز تحقیق در حقیقت یونانیوں کا ہے جن سے معتزلہ نے لیا اور بنو عباس کے دور میں اس پر خوب بحثیں کیں۔ اس انداز تحقیق کے مطابق اگر آپ خدا کو ماننے والوں میں سے ہیں اور اس کا اثبات کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے ذہن کو خدا کے ہر قسم کے تصورات سے پاک کریں' یہاں تک کہ خدا کے وجود اور عدم وجود میں سے آپ کسی بھی عقیدہ کے حامل نہ ہوں اور اب تحقیق کریں' اور آپ کی تحقیق جہاں آپ کو پہنچا دے آپ اس کو مان لیں' اور یہ خدا کے وجود کا یقین بھی ہو سکتا ہے اور عدم وجود کا شک بھی۔ کچھ اشیاء کے ثبوت میں تو یہ اندازِ تحقیق درست معلوم ہوتا ہے لیکن اگر قطعی اوریقینی چیزوں کے ثبوت کے لیے بھی یہ طریقہ تحقیق استعمال کیا جانے لگے تو سوائے گمراہی کے اور کچھ ہاتھ نہ لگے گا۔ علاوہ ازیں یہ بھی ایک سوال ہے کہ انہوں نے واقعتا ڈیکارٹ کے منہج تحقیق کی پیروی کی بھی ہے یا نہیں؟
واللہ اعلم بالصواب
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
توفیق الحکیم

توفیق الحکیم معروف ترین مصری ادیب ناول نگار اور ڈرامہ نویس ہیں۔ وہ ٩ اکتوبر ١٨٩٨ء کو اسکندریہ کے علاقہ میں پیدا ہوئے اور ان کی وفات ٢٦ جولائی ١٩٨٧ء میں ہوئی۔ انہوں نے ١٩٢١ء میں اپنی گریجویشن مکمل کی اور اس کے بعد اپنے والد کی خواہش پرقانون کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ ١٩٢٥ء میں قانون کی تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے بطور وکیل پریکٹس شروع کر دی۔ ١٩٢٥ء میں ہی ان کے والد نے اپنے سیاسی تعلقات کی بنیاد پر قانون میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری کے حصول کے لیے پیرس میں ان کا داخلہ کروا دیا۔ ان کے پیرس جانے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ بعض معاصرین نے جب ان پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے ڈرامہ 'عودة الروح' میں فرعونی مصری تہذیب کی طرف اپنے میلان کا اظہار کیا ہے تو ان کے والد نے ان کو مصر سے فرانس بھیج دیا تا کہ وہ ڈرامہ نویسی کو خیر باد کہہ دیں اور قانون کی تعلیم حاصل کریں۔

لیکن پیرس میں اپنے تین سالہ قیام کے دوران انہوں نے قانون کی تعلیم کی طرف توجہ دینے کی بجائے فرانسیسی سینما اور تھیٹر کے چکر لگانے شروع کیے۔ فرانسیسی، یورپین اور یونانی لٹریچر، لوک کہانیوں جنگوں اور ڈراموں کے علوم و فنون اور اصول و ضوابط کا قریب اور گہرائی سے مشاہدہ کیا۔ ١٩٢٨ء میں توفیق الحکیم بغیر کسی ڈگری کے حصول کے مصر واپس آگئے۔١٩٢٩ ء میں وزارتِ عدل و انصاف میں دوبارہ وکالت کے شعبہ سے منسلک ہو گئے لیکن اس پیشے میں ان کا دل نہ لگ سکا۔ ١٩٣٤ء میںوزارت تعلیم میں تحقیقاتی کمیٹی کے صدر بن گئے۔ بعد ازاں انہوں نے ١٩٣٧ء میں موسیقی اور ڈرامہ وغیرہ سے متعلقہ وزارت میں بطور ڈائریکٹر کام کیا۔ ١٩٤٧ء میں 'دار الکتب المصریة' کے مدیر مقرر ہوئے اور١٩٥٤ء میں انہیں 'مجمع اللغة العربیة' کے لیے بطور رکن منتخب کیا گیااور وہ تا حیات اس کے ممبر رہے۔ ١٩٥٦ء میں ثقافت اور کلچر وغیرہ کی وزارت کے وکیل کے عہدے کے لیے سینٹ کے رکن کے طور پر ان کا انتخاب کیا گیا۔ ١٩٥٩ء میں پیرس میں یونیسکو تنظیم کے لیے مصری حکومت کی طرف سے مندوب مقرر ہو ئے۔١٩٦٠ء میں پھر مصر واپس آ گئے اور اپنے سابقہ عہدے پر دوبارہ کام شروع کر دیا۔ بعد ازاں معروف مصری اخبار 'الأہرام' میں بطور مشیر کام کرتے رہے یہاں تک کہ١٩٧١ء میں اس اخبار کی مجلس ادارت کے رکن بھی مقرر ہوئے۔

ان کی شہرت کا سبب اصحابِ کہف کے بارے میں ان کا لکھا ہوا ڈرامہ بنا جو ١٩٣٣ء میں شائع ہوا۔ ان کے ڈراموں میں مصری تہذیب اور تاریخ کو نمایاں کیا گیا ہے چاہے وہ فرعونی و قبطی ہو یا عربی و اسلامی۔ توفیق الحکیم جدید عربی ادب کے ستونوں میں سے طہٰ حسین' عباس عقاد' احمد امین' سلامہ موسیٰ' احمد شوقی اور حافظ ابراہیم وغیرہ کے ہم عصر تھے۔ انہوں نے تقریباً ٩٠ سال کی عمر پائی۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
والدین
توفیق الحکیم پر نقد کرنے والوں نے ان کے والدین کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔ ناقدین کے بقول توفیق الحکیم کے والدین ان کی مناسب تربیت نہ کر سکے جس کی وجہ سے دینی اعتبار سے ان کی شخصیت میں بہت سی کمیاں اور کوتاہیاں رہ گئی تھیں۔ توفیق الحکیم نے اپنی کتاب 'سجن العمر' میں لکھا ہے کہ ان کی والدہ کی ایک بہن تھی اور ان کی والدہ اور خالہ کے مابین ہمیشہ لڑائی ہوتی رہتی تھی' یہاں تک کہ انہوں نے ان دونوں بہنوں کے مابین کبھی بھی اتحاد و اتفاق نہ دیکھا۔ توفیق الحکیم نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کی والدہ مزاج کی تیز اور اپنی ضد کی پکی تھیں۔ علاوہ ازیں ان کی والدہ انہیں ہمیشہ یہ جتلاتی رہتی تھیں کہ وہ ان کے والد سے زیادہ ذہین ہیں۔ توفیق الحکیم نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کی والدہ نے جب پکی قسم کھانی ہوتی تھی تو معروف صوفی اور زاہد ابو یزید بسطامی کی قسم کھاتی تھیں اور اپنے بچوں کو بھی اسی کی تعلیم دیتی تھیں۔ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ اگر میری والدہ حیاتِ نبی ۖ کی قسم اٹھا لیتیں تو اس میں تو جھوٹ کا احتمال ہو نے کا امکان ہوتا تھا لیکن جب وہ ابو یزید بسطامی کی قسم اٹھاتی تھیں تو ہر قسم کے جھوٹ کا احتمال رفع ہو جاتا تھا۔یہ ساری باتیں توفیق الحکیم نے اپنی آب بیتی 'سجن العمر' میں بیان کی ہیں۔ اپنے احوال و ظروف پر توفیق الحکیم نے دو کتابیں تصنیف کی ہیں' ایک 'سجن العمر' اور دوسری 'زھرة العمر'۔

بعض ناقدین کا کہناہے کہ توفیق الحکیم اپنی والد ہ سے متاثر ہو کر عمر بھر اس قسم کے فاسد عقائد کے حامل رہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب'عصفور من الشرق' کا انتساب لکھتے ہوئے 'الی حامیتی الطاھرة السیدة زینب' کے الفاظ استعمال کیے' یعنی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو انہوں نے حامیہ ( بچانے والی اور دوسرے الفاظ میں بیڑا پار لگانے والی ) قرار دیا ہے۔ توفیق الحکیم نے 'سجن العمر' میں ایسے واقعات بھی بیان کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی والدہ کو اپنی اولاد کی نسبت اپنی ذات اور خواہشات سے زیادہ محبت تھی۔

اپنے والد کی دینی حالت کے بارے میں توفیق الحکیم نے لکھا ہے کہ دین کے بارے میں ان کے خیالات میں تناقض اور تضاد تھا۔ وہ بظاہر نماز روزے کے پابند تھے لیکن ا س کے ساتھ ساتھ مجھ سے جنت و جہنم کے وجود او ر عدم وجود پر فلسفیانہ گفتگو بھی فرما لیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد اپنی نوجوانی میں شراب نوشی بھی کرتے تھے بعد ازاں ان کی والدہ کو علم ہو جانے کے بعد انہوں نے اس قبیح عادت کو ترک کر دیا۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
توفیق الحکیم کی فکری نشوونما
توفیق الحکیم کی فکری نشوونما میں پانچ چیزوں کا کردار بہت نمایاں رہا ہے جو درج ذیل ہیں:
(١) سب سے پہلی شے جس نے توفیق الحکیم کی فکری بلوغت میں اہم کردار ادا کیاوہ لوک کہانیاں ہیں۔ ان کے بقول ان کی والدہ ان کو بچپن سے ہی ابو زید ہلالی اور الف لیلہ کی کہانیاں بہت زیادہ سنایا کرتی تھیں۔ جب وہ کچھ بڑے ہوئے تو انہوں نے عربی میں ترجمہ شدہ یورپین ادب کا مطالعہ بھی شروع کر دیا۔ توفیق الحکیم کا کہنا ہے کہ انہیں بچپن میں اس قسم کی کہانیاں پڑھنے کا شوق جنون کی حد تک تھا' یہاں تک کہ والد کے منع کرنے کے باوجود وہ چارپائی کے نیچے گھس کر لالٹین کی روشنی میں کہانیاں پڑھا کرتے تھے۔

(٢) دوسرے مرحلے میں ہائی سکول کی تعلیم کے دوران توفیق الحکیم کی توجہ عربی ادب کی طرف ہوئی اور انہوں نے معروف معتزلی عربی ادیب جاحظ اور دیگر شعراء اور ادباء کی کتب کا مطالعہ شروع کیا۔

(٣) تیسرے مرحلے میں ان کا تعلق سینما اور ڈرامہ سے قائم ہوا۔ ہائی سکول کے زمانے ہی سے انہوں نے سینما کے چکر لگانے شروع کر دیے تھے او ر اسی تعلق کی نسبت سے بعد ازاں وہ مصر کے سب سے بڑے ڈرامہ نگار کے طور پر معروف ہوئے۔

(٤) قاہرہ میں قانون کی تعلیم کے دوران ان کا تعلق گلوکاروں اور تھیٹر شو والوں کے ساتھ بھی قائم ہوا' جس نے ان کے اخلاق اور دین پر آئندہ کی زندگی میں برے اثرات چھوڑے۔

(٥) فرانس میں قانون کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے دوران ان کا تعلق یورپین اور فرانسیسی کلچر سے قائم ہوا اور انہوں نے یہاں معروف فلسفی سپنسر کی عربی میں ترجمہ شدہ کتابوں کا مطالعہ کیا۔اس کے بعد انہوں نے ڈکشنری کی مدد سے براہ راست فرانسیسی زبان میں بھی فرانسیسی ادب کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کے بقول فرانسیسی ثقافت نے ان کے فکر کی اٹھان میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

(٦) دینی کتب کے مطالعہ نے بھی ان کے فکر پر گہرا تاثر چھوڑا۔ ان کے بقول انہوں نے اپنی تحریروں میں قرآن' تورات اور انجیل وغیرہ سے کافی استفادہ کیا ہے۔ اپنے معروف ڈرامہ 'سلمان الحکیم' کے بارے انہوں نے کہا کہ میں نے اس کی بنیاد قرآن' تورات اور الف لیلہ پر رکھی ہے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
شخصیت کی پیچیدگی
توفیق الحکیم پر نقد کرنے والے اہل علم ان کی شخصیت کو ایک انتہائی گنجلک اور پیچیدہ شخصیت قرار دیتے ہیں' جیسا کہ توفیق الحکیم نے خود اپنے بارے میں یہ لکھا ہے : انی أعیش فی الظاھر کما یعیش الناس فی ھذہ البلاد أما فی الباطن فما زالت آلھتی وعقائدی ومثلی العلیا کل آلامی مرجعھا ھذا التناقض بین حیاتی الظاھرة وحیاتی الباطنة یعنی میں ظاہری طور پر تو ایسے ہی زندگی گزار رہا ہوں جیسا کہ عام لوگ شہروں میں رہتے ہیں لیکن میرے باطن میں میرے کچھ معبود' عقائد اور بلند آئیڈیلز ہیں ۔ میرا سارا درد سر میری ظاہری اور باطنی زندگی کا یہ تناقض ہے۔

اسی تناقض کی جھلک ا ن کی دینی زندگی میں بھی نظر آتی ہے۔ ان کے بقول وہ نوجوانی کے زمانے میں اپنے باپ کے ڈر سے صبح افطاری کر لیتے تھے لیکن بعد میں چپکے سے روزہ توڑ دیتے تھے۔ انہوں نے اپنے سے متعلق عورتوں کے ساتھ چھیڑ خوانی' استمناء بالید' زنا اور شراب نوشی کے بعض واقعات کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب 'زھرة العمر' میں لکھا ہے کہ وہ تین مہینے تک ایک جرمن رقاصہ کے ساتھ ایک ہی کمرے میں ایک ہی چارپائی پر سوتے رہے۔ ناقدین نے لکھا ہے کہ گناہ گار تو ہر انسان ہوتا ہے لیکن توفیق الحکیم 'مجاہر' تھے ۔ مجاہر حدیث کی اصطلاح ہے اور اس سے مراد وہ شخص ہے جو گناہ کرے اور پھر اسے فخر سے بیان کرے اور اس پر کسی ندامت اور پشیمانی کا اظہار نہ کرے۔ مجاہرین کے لیے حدیث رسول میں وعید بھی منقول ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ معاف نہ کرے گا۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
کتب اور ادبی کام
توفیق الحکیم کا اصل اور زیادہ تر کام مصری ڈرامہ اور افسانہ پر ہے۔ انہیں مصر کا سب سے بڑا ڈرامہ اور افسانہ نویس شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے معروف ڈراموں میں أھل الکھف' شھرزاد' مشکلة الحکم' بجمالیون' سلیمان الحکیم' الملک أو دیب' الأیدی الناعمة' الصفقة اور لعبة الموت ہیں۔

ان کے معروف ناولوں میں عودہ الروح' عصفور من الشرق' حمار الحکیم' الرباط المقدس اور وأشعب ہیں۔ انہوں نے سیاست پر بھی بعض کتابیں لکھیں' جیسا کہ ان کی کتاب 'عودة الوعی' اور 'مصر بین عھدین' ہے۔ اپنی ذاتی زندگی پر انہوں نے 'سجن العمر' اور 'زھرة العمر' کے نام سے دو کتابیں لکھی ہیں۔

فکر اسلامی پر ان کی کتابوں میں التعادلیة' التعادلیة مع الاسلام' أرنی اللّٰہ' تحت شمس الفکر اور الأحادیث الأربعة کے نام سے ہیں۔ ان کتب پر بعض علماء نے دینی اعتبار سے نقد کی ہے اور ان کے عقائد کو فاسد اور خلافِ اسلام قرار دیا ہے۔ انہوں نے 'مختار تفسیر القرطبی' کے نام سے تفسیر قرطبی کی ایک تلخیص بھی کی ہے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
افکار و آراء
توفیق الحکیم پر ان کے بعض افکار کی وجہ سے تجدد پسندی اور مغرب کی تقلید کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ ایک اعتراض تو ان پر یہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے بعض ڈراموں مثلاً 'أصحاب الکھف' اور 'سلیمان الحکیم' میں قرآن وحدیث میں بیان شدہ قصص اور تفصیلات کی بجائے بائبل کی عبارات کوبنیاد بنایا ہے' جس سے یہ محسوس ہوتاہے کہ وہ سابقہ اقوام کے قصص اور تاریخ کے بیان میں ضعیف،موضوع منکر اور ہر قسم کی روایات کو بنیاد بنانے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے ہیں۔ دوسرا الزام یہ ہے کہ وہ قدیم مصری فرعونی اور قبطی تہذیب اور فکر سے متاثر تھے اور اس تاثر کی جھلک ان کے ڈراموں 'أصحاب الکھف' اور 'عودة الروح' میں صریحا ً نظر آتی ہے۔ بعض سلفی علماء نے ان پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ انہوں نے اپنی بعض تحریروں اور ڈراموں کو وحدت الوجود کا عقیدہ پھیلانے اور عام کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔

ان پر ایک اعتراض یہ بھی عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی عمر کے آخری حصے میں مصری اخبار 'الأہرام' میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ 'حدیث مع و الی اللّٰہ' کے عنوان سے ایک تخیلاتی مکالمہ شائع کرنا شروع کیا جس میں وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضورسوئے ادب کے مرتکب ہوئے ہیں۔ بعض مصری علماء اور شیوخ نے ان پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ اس مکالمے میں وہ خود ہی اللہ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور پھر اللہ کی طرف سے جواب بھی اپنے تخیلات اور افکار کے مطابق دیتے ہیں۔ علماء کا کہنا یہ تھا کہ اگر کوئی شخص دعا اور مناجات میں اللہ سے ہم کلام ہو تو اس کی گنجائش توموجود ہے لیکن اللہ سے کلام کے دوران اپنی ہی بات اور جواب کو اللہ کا جواب اور کلام قرار دیتے ہوئے اسے بطور مکالمہ شائع کرنا اللہ پر بہتان کے مترادف ہے۔ چونکہ توفیق الحکیم نے اپنے مکالمے میں اللہ کی طرف سے جو جواب دیا ہے وہ اللہ کا کلام یا جواب نہیں ہے لہٰذا اس کی نسبت بھی اللہ کی طرف درست نہیں ہے۔

توفیق الحکیم کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا کہنا یہ تھا کہ مغرب میں سائنسی علوم کے ماہرین اور موجدین کو کائنات میں غور و فکرکی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی حقیقی معرفت حاصل ہے اور اس کے عوض وہ جنت میں داخل ہوں گے اور جنت میں داخلے کے لیے کلمہ شہادت کا اقرار کوئی لازمی شرط نہیں ہے۔ ان پر یہ اعتراض بھی عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے آخرت میں اللہ کی رؤیت کا انکار کیا ہے۔ توفیق الحکیم کا کہنا یہ بھی تھا کہ عربی اور یہودی فکر میں ثقافتی تعاون بڑھانا چاہیے اور امن وسلامتی کے حصول کی خاطر ایک عرب اسرائیل جمعیت کا قیام عمل میں لانا چاہیے جس کا صدر دفتر فرانس میں ہو۔

ان پر ایک اعتراض یہ بھی عائد کیا جاتا ہے کہ ان کے بقول مذہب کی ابتدا کا سبب انسانی خوف بنا ہے اور عامة الناس نے اپنے خوف کے خاتمے کے لیے شریر ارواح سے رابطے کیے اور کہانت کا مذہب وجود میں آ گیا۔ اس کے بعد اسلام کی ابتدا ہوئی اور اس نے اللہ رسول اور کتب سماویہ کی تعلیمات سے متعارف کروایا۔ ان پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ ان کے بقول تمام ادیان نسبی اور اضافی (relative) ہیں لہٰذا اپنی اپنی جگہ تمام ادیان صحیح ہیں۔ اسی فکر کی بنیاد پر انہوں نے سماوی ادیان کے اتحاد و اتفاق کی دعوت دی۔ ان پر یہ اعتراض بھی وارد کیا گیا ہے کہ وہ اسلام اور اشتراکیت میں موافقت کے قائل تھے۔ اسی طرح وہ شریعت اسلامیہ کی تشکیل جدید کے بھی داعی تھے۔ انہوں نے فرشتوں اور جنات کے عالم کے بارے بھی میں کچھ عجیب وغریب خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے اس قسم کے افکار پر ڈاکٹر علی سید احمد سید نے اپنی ایک کتاب 'فکر توفیق الحکیم فی میزان الاسلام' میں مفصل نقد کیا ہے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
خلاصہ کلام
توفیق الحکیم کی کتب کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دین اور اسلام کے بارے میں ان کی معلومات انتہائی ابتدائی اور سطحی تھیں لہٰذا وہ کسی طور بھی اس بات کے اہل نہیں تھے کہ فکر اسلامی جیسے دقیق اور نازک موضوع پر اپنی آراء وافکار کا اظہار فرماتے۔ اگر وہ اپنی خدمات عربی زبان وادب تک ہی محدود رکھتے تو شاید علماء کو ان پر نقد کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ایسی شخصیات اور اعلام پر علماء کی طرف سے اسی وقت نقد سامنے آتی ہے جب یہ حضرات اپنے ادبی' سیاسی' معاشرتی یا دنیاوی مقام کو بنیاد بناتے ہوئے اُمت ِمسلمہ کے رہنمابننے کی کوشش کرتے ہیں اور فکر اسلامی جیسے نازک موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے عوام الناس میں فکری انتشار اور عقیدے کے بگاڑ کا باعث بن جاتے ہیں۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
مصادر و مراجع
(١) طہٰ حسین فی میزان العلماء والأدباء' محمود مھدی ستنبولی' المکتب السلامی' الطبعة الأولی' ١٩٨٣ء۔
(٢) فی الشعر الجاھلی' الدکتور طہ حسین' مکتبة دار الندوة الألکترونیة۔
(٣) فکر توفیق الحکیم فی میزان الاسلام، لدکتورعلی سید احمد السید الفرسیسی
(٤) أعلام وأقزام فی میزان الاسلام' الدکتور سید بن حسین العفانی' دار ماجد عیری' جدة
(5)-http://ar.wikipedia.org
Wikipedia, the free encyclopedia -(6
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top